View RSS Feed

XBOY

قربانی اور معاشی پہلو

Rate this Entry
[RIGHT][SIZE=4][COLOR="#0000CD"][FONT=Arial]
قربانی کی ادائیگی کے بارے اس کے معاشی اورسماجی پہلو کو بھی ایک نظر دیکھ لیں۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے۔
۔
۔ معاشی پہلو اور اس سے وابسطہ سرگرمیاں
دور دراز دیہاتوں اور پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگ ٹرانسپورٹ، تعلیم صحت اور دگر بنیادی ضروریات کی کمی کی وجہ سے جدید معاشی اور سماجی سرگومیوں سے مستفید نہیں ہو پاتے۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر سوچئیے
۔
وہ 2 سے چارسال ایک جانور کی خدمت کرتے ہیں اس کو پالتے ہیں اور پھرمنڈی لے کرآتے ہیں۔ آپ ذبح کئیے جانے والے جانوروں کی تعداد کے حساب سے نظر دوہرائیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ دیہاتوں اور پہاڑوں میں مقیم ہزاروں افراد کی روزی کو دارو مدار اس صنعت سے وابستہ ہے۔ لڑکی کے شادی بیاہ، لڑکے کو کاروبار کروانے، صحت اور تعلیم کے مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لئے ان کی نظرعید پر لگی رئتی ہے۔ مزے کا بات ہے کی شہریوں ہی کی طرح اب وہاں بھی بڑے بڑے گروپ تشکیل پا چکے ہیں جو کاروباری پیمانے پر جانوروں کی پرورش کو ایک نفع بخش کاروبار کی شکل میں لیتے ہیں ۔ میں نے پہاڑی علاقوں میں ایک خاندان کر 6 چھ ہزارجاروروں کا ایک وقت میں پالتے دیکھا ہے اور اس لے لئے انہوں نے سینکڑوں ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ گویا لاکھوں لوگ کی روٹی روزی اس کام سے وابسطہ ہے۔
۔
اسلام نے جہاں زکوٰۃ کو اہمہت دی ہے کہ سرمایا نچلے طبقے تک پہنچے یہ بھی اسی قسم کی ایک کوشش ہے کہ لاکھوں افراد اپنی محنت کی اکائیاں صرف کرکے اپنی روٹی روزی چلا رہے ہیں۔ قوم ملت اور معاشرے پر بوجھ نہیں۔

۔ بار بردار اور اس سے وابسطہ افراد
دیہاتوں سے جانور میڈیوں تک لانا ایک علیحدہ شعبہ ہے اوراس سے بھی ہزاروں افراد وابسطہ ہیں۔ ٹرکوں، ویگنوں اوردیگرکئی ایک زرائع سے جانور منڈیوں تک لائے جاتے ہیں، پہاڑی علاقوں سے جانوروں کو منڈی لانے کو مرحلہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں جانور لے کر خاندان کے خاندان شہروں کا رخ کرتے ہیں ان کا یہ سفر ہفتوں کا اور بعض حالات میں مہینوں پر محیط ہوتا ہے۔ وہ عارضی رہائش کی تمام ضروریات کے ساتھ اپنے علاقوں سے نکلتے ہیں سارا دن سفر کرتے ہیں اور رات کو جھونپڑی کھولتے ہیں خاتون خانہ کھانے پکانے میں لگ جاتی ہے اور مرد جانوروں کی حفاظت کے انتظامات میں۔۔ المختصر یہ کہ سادہ سی باربرداری ہی نہیں یوں سیاحت کے ضمن میں بھی راستے کے مکینوں کوروزگار ملتا ہے۔
۔
۔ خریدوفروخت اور مقامی افراد
وہ احباب جو اپنی من پسند کا جاتور خریدنے منڈی جاتے ہیں بچوں کر ساتھ کے کروہ اس حقیقت کو بہتر جانتے ہیں کہ کتنے افراد کی روٹی روزی ان کی اس خریداری سے وابسطہ ہے۔ الغرض اللہ پاک کا نظام ہے ہزاروں لاکھوں کے لئے یہ عید روزگار اورمالی فوائد لےکرآتی ہے۔ لوگ اہنے اللہ کی رضا کے لئے، اپنے بچوں کی ضد نبھانے کے لئے، اپنی آنا کی تسکین کے لئے جانور ذنح کرتے ہیں مگر حکمت الہٰی ان کے وسیلے سے ان کے بھائی بندوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہوتی ہے۔

۔ رزق، پروٹین اورتوانائی تک عام آدمی کی رسائی۔
یون وہ مرحلہ آتا ہے کہ لوگ گوشت لے کرخود گھرگھر جاتے ہیں تمام کی نہیں تواکثریت کی خواہش ہوتی ہے کہ ضرورت مند افراد تک ان کا گوشت پہنچ جاوے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو خصوصی گاڑیوں کا اہتمام کر کے دوردوازدیہاتوں میں جا کر گوشت تقسیم کرتے ہیں۔ یوں یقین جانئے ہزاروں ایسےافراد تک بھی پروٹین اورتوانائی پہنچتی ہے جو اپنے خون پسینہ کی کماائی سے سارا سال گوشت خرید کر کھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اوران لوگوں تک بھی جو قصاب کی دوکانوں سے چھچھڑے اکٹھے کر کے لے جاتے ہیں اور پکانے کے لئے۔
[/FONT][/COLOR][/SIZE][/RIGHT]



از: ایم جے رجی

Submit "قربانی  اور معاشی پہلو" to Digg Submit "قربانی  اور معاشی پہلو" to del.icio.us Submit "قربانی  اور معاشی پہلو" to StumbleUpon Submit "قربانی  اور معاشی پہلو" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Sajidcompk's Avatar
    good analysis