دل بہر طور دیکھ بھال کے رکھ
آئینہ ہے اسے اجال کے رکھ


آگیا ہوں پلٹ کے پھر ترے پاس
مجھ کو اک بار پھر سنبھال کے رکھ


ر نگ رنگوں میں کھو نہ جائیں کہیں
رنگ مدّھم ذرا سے شال کے رکھ


آتے جاتے بھی مسکرا کر دیکھ
سب کا سب وصل پر نہ ٹال کے رکھ


خوش روؤں سے کلام کرنے کو
لفظ دامن میں کچھ کمال کے رکھ


ہجر صحرا کی خاک چھان کے آ
خواب آنکھوں میں پھر وصال کے رکھ


افتخار اس کی یوں بنا تصویر
آنکھ میں زاویے غزال کے رکھ



افتخار حیدر