Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  6
Results 1 to 14 of 14

Thread: جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل

  1. #1
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل

    اہل علم کا کہنا ہے کہ جرنیلی سڑک کو جرنیلی سڑک اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فوجیوں کی آمدورفت کے لیے بنائی گئی تھی ۔ ہمیں مگر اعتراض ہے ۔ پھر یہ فوجی سڑک کہلاتی جیسا کہ فوجی سیمنٹ، اورفوجی دلیہ ۔ حالانکہ فوجی دلیہ کھاتے نہیں ۔صرف بناتے ہیں ۔ پھر بھی اس کو فوجی دلیہ کہتے ہیں، شاید اس لیے کہ بہت سے فوجیوں کا دال دلیہ اس سے چلتا ہے ۔ لیکن جرنیلی سڑک ۔۔۔؟ اہلِ علم مگر بضد ہیں کہ کسی بھی جرنیلی چیز پر زیادہ سوال نہیں اٹھاتے ۔ چاہے وہ منطق ہو یا پینشن اور ویسے بھی چیزیں جرنیلی ہو کر زیادہ زود ہضم اور قابلِ قبول ہو جاتی ہے ۔ جیسا کہ اپنی جرنیلی جمہوریت اور احتساب وغیرہ ۔ سب جانتے ہیں کہ جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ شیر شاہ کے مگر اپوزیشن لیڈر کا بیان پروفیسر ڈاکٹر رادھے شام نے کہیں سے ڈھونڈ کر نکالا ہے ۔کہتے ہیں یہ اس کی تعمیر اصل میں بلبن نے شروع کروائی لیکن شیر شاہ تیز نکلا ۔ تختی لگا کر اپنے نام کر گیا ۔ گو ماضی انتہائی قریب میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن پھر بھی ہم شیر شاہ کو ہی اس کا معمار تسلیم کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ شیر کا سڑکوں سے کوئی نہ کوئی واسطہ ضرور ہے ۔چاہے نام ہو یا انتخابی نشان ۔ انسان حاکم بن کرسڑکیں ضرور بناتا ہے ۔ اب شیر کے نشان والی گولی دیکھیں بڑی ہو کر یہ روایت قائم رکھتی ہے یا نہیں۔اہل علم کے مطابق جرنیلی سڑک کولکتہ سے شروع ہو کر پشاور پر ختم ہوتی ہے۔ جبکہ اہل پشاور کا دعویٰ ہے کہ یہ پشاور سے شروع ہوتی ہے ۔ اہل علم ،ان کی اس الٹ پھیر سے نالاں ہیں کہ یہ پشاور والے عمومی طور پر الٹے سیدھے کے معاملہ میں بے احتیاط ہیں۔ ہمارے خیال میں جرنیلی سڑک واہگہ سے شروع ہوتی ہے جب تک کہ کوئی زید حامد صاحب ایسا دھرتی کا لعل، لال قلعہ پر سبز ہلالی نہیں لہرادیتا۔ شروع میں یہ سڑک کچی ہوا کرتی تھی کہ مٹی وغیرہ سے بنی ہوتی۔ مگر آج کل پتھروں کو کوٹ کر پکی بنائی جاتی ہے ۔ باقی تمام سڑک پر پتھروں کو کوٹنے کا کام بلڈوزروں اور بھاری مشینوں سے لیا جاتا ہے مگر واہگہ بارڈر پر دونوں طرف یہ کارِ خیر لحیم فوجیوں سے لیا جاتا ہے جو پوری استعداد سے ٹانگ اٹھا کر پورے زور سے زمین پر مار مار کر یہ فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ ہماری طرح آپ بھی حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں، تو ہماری ناقص رائے میں جس طرح آج کل کے مشینی دور میں بھی ہاتھ کی بنی سویاں اور جوتے الگ ہی مزا دیتے ہیں اسی طرح پاؤں کی کوٹی جرنیلی بھی الگ مزا دیتی ہو گی ۔باقی غیر ناقص رائے کے لیے آپ کسی جرنیل سے رابطہ کرلیں تو زیادہ بہتر ہے ۔ واہگہ سے شروع ہو کر یہ سڑک لاہور میں داخل ہوتی ہے ۔ مگر یہ لاہور میں ناشتہ نہیں کرتی کیونکہ اس نے دیکھ رکھا ہے کہ واہگہ کے راستے داخل ہو کر لاہور میں ناشتہ کرنے کی خواہش کس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے ۔داروغہ والا سے ہوتی ہوئی یہ شالامار کے سامنے سے گذرتی ہے۔ اس دوران اپنے دونوں اطراف اس کا واسطہ لوہے اور اس کا سامان بنانے والے سینکڑوں چھوٹے بڑے کارخانوں سے پڑتا ہے. جہاں لوہے کے چنوں اور آہنی ہاتھوں کے سوا لوہے کا ہر مال بنتا ہے ۔ مذکورہ بالا ہر دو شاید راولپنڈی میں کہیں بنتے ہیں ۔ اس کے بعد لاہور سے ہوتی ہوئی لاہور کو جاتی ہے ۔ پھر لاہور میں چلتے چلتے، لاہور میں رہتے ہوئے دریائے راوی پر سے گذرتی ہوئی لاہور کی طرف جانکلتی ہے ۔ اور بالآخر لاہور سے گذر کر آخر کار لاہور سے نکلتی ہوئی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہوتی ہے۔ گو کہ راوی اس بابت خاموش ہے تاہم ایسا لگتا ہے اپنے راوی اور جرنیلی سڑک کا خاص دوستانہ رہا ہے ۔ اور شاید راوی نے ہمیشہ اس کو دور جانے سے روکا ہوگا ۔ لیکن وہ نہیں رکتی ۔ ہربار اپنی مجبوریوں کا رونا رو کر نکل جاتی۔ ایک دن فرطِ جذبات میں روای نے اس سے کہہ دیا اگر جانا ہے تو میری لاش پر سے گذر کر جانا ہوگا ۔ وہ دن اور آج کا دن یہ راوی کی لاش پر سےہی گذر کر جاتی ہے۔لاہور کے بعد یہ مریدکے میں سے گذرتی ہے۔ “مرید کے” شاید “کےمرید” کی سہل ہوئی شکل ہے۔ اور جو شاید “رن کے مرید” کا اختصاریہ ہے ۔اس حوالے سے یہ آفاقی نام ہے جو انسانوں کی کسی بھی بستی کو دیا جا سکتا ہے ۔ مریدکے اور اس کے نواح میں چمڑا رنگنے اور اس سے بنی اشیاء کے کارخانے ہیں۔ اس لیے یہاں پر بہت سی جوتوں کی بڑی چھوٹی درجنوں دکانیں ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ معیاری جوتے ارزاں نرخوں پر بیچتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہمارا تجربہ بھی کچھ ایسا ہے۔ جو جوتا شہرمیں دو ہزار کا بکتا ہے وہ یہاں محض انیس سو نوے روپے میں مل جاتا ہے ۔ مریدکے سے نکل کر گوجرانوالہ کی طرف جاتے ہوئے قابل خرگوشوی نے نوٹ کیا کہ دورویہ سڑک کے بائیں جانب یعنی جانے والے حصے کے کنارے باقاعدہ الٹی سمت میں ٹریفک رواں ہے۔ گویا پورے طمطراق سے، چڑھے دن ون وے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اور اس غیر قانونی ٹریفک میں موٹر سائیکل، گدھا گاڑیوں سے لیکر ٹریکٹر ٹرالی تک سب حسبِ توفیق شامل ہیں ۔ اور پھر ہم نے مشاہدہ کیا کہ ایسا کسی ایک علاقے میں نہیں بلکہ ساری جرنیلی سڑک پر ہے یہ معمول ہے۔ہمارے خیال میں اس کی ایک وجہ تو سروس روڈز کی عدم دستیابی، اور دوسری ہماری روایتی قانون شکنی کی عادت ہے۔ تاہم قابل خرگوشوی کے خیال میں یہ حکومت کی رٹ کو سرِ عام چیلنج کیا جا رہا ہے اور سرکار کو چاہیے کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے والے ان قانون شکنوں کے خلاف بالکل ویسے ہی سخت اور فوری نوٹس لے جیسے وہ لوڈشیڈنگ اور دیگر اہم قومی امورپر لیتی رہی ہے ۔ ہمار تیسرے ہمسفر مایوس دقیانوسی کا خیال ہے سرکار کو فوری طورپر یہ سڑک اکھاڑ کر یہاں گندم کاشت کرنی چاہیے، اس سے نہ صرف ملک گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہو گا، بلکہ شیر شاہ سوری قیامت تک گناہِ جاریہ سے بچا رہے گا کیونکہ ان کے خیال میں جتنا گناہ خلاف ورزی کرنے والوں کو ہوتا ہے اتنا ہی گناہ اس علت کے موجد کو بھی برابر پہنچتا رہتا ہے ۔مریدکے کے بعد قصبہ”کامونکی” یا “کامونکے” آتا ہے۔ لفظ کامونکے سن کر فوراً خیال کوندتا ہے جیسے کوئی کہہ رہا ہو ہم آپ کے “کاموں کے” بارے میں، ہم بہت نہیں جانتے یا یہ کہ ” ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کو شاید اپنے “کاموں کی” اتنی لگن ہے کہ یہ مداری “کا ‘مونکی” کا تماشہ بھی نہیں دیکھتے”۔ یا جیسے کوئی اپنے مددگار کو ندا دے رہا ہو نی ‘کامو نِکی’ ایدر آ۔ کامونکی کی خاص نشانی اونچی پانی کی ٹینکی جس پر ایک بین الاقوامی مشروب کا اشتہار لگا ہوتا ہے ،عرصہ دراز تک، دور سے مسافروں کے کامونکی پہنچے کا گویا اعلامیہ ہوتی ۔ اب تغیر زمانہ کی نذر ہو کر دیگر اونچی عمارتوں کے جھرمٹ میں کہیں غائب ہو گئی ہے ۔ جو بذات خود ایک پیغام ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔کامونکی کے چاول ، لوہا کوٹنے والے پریس اور محصول چونگی پورے ملک میں مشہور ہیں ۔جاری ہے۔۔
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  2. #2
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    لاہور کے بعد گوجرانوالہ اگلا قابل دید و ذکر شہر ہے جرنیلی سڑک پر۔ اسے پہلوانوں کا شہر بھی کہتے ہیں ۔ اس کے باسی بسیار خوری میں یکتا ہیں۔ ساری دنیا میں اپنی خوش خوراکی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔ ویسے تو زیادہ کھانے کے معاملہ میں بٹ مشہور ہیں، لیکن اہلِ گوجرانوالہ کی اکثریت جٹ ہو کر بھی اس معاملہ میں ان سے چار “حرف” آگے ہیں۔ یہ کھانے کے معاملہ میں کسی اِف اور کسی بٹ سے قائل نہیں ۔ ابھی تک یہ علم نہیں ہوسکا کہ زیادہ کھانے کی وجہ سے ان میں پہلوانوں کی کثرت ہے۔ یا پہلوانوں کی کسرت کی وجہ سے زیادہ کھاتے ہیں ۔ پہلوان ان میں اس قدر ہیں کہ سڑک پر سے بھینس بھی گذر رہی ہو تو کہیں گے “پہلوان جی ذرا سیڈ تے ہونا ” حالانکہ بھینسیں کبھی سیڈ نہیں ہوتیں۔ کھانے کے معاملے میں ان کا پیمانہ ہی علیحدہ ہے۔ سارے ملک میں ایسا کہا جاتا ہے ۔ زید نے دو روٹی اور ایک پلیٹ سالن کھایا ۔ گوجرانوالہ میں ایسا کہا جائےگا “پہلوان جی نے ایک گھنٹہ اور چالیس منٹ تک کھایا ۔یہ جو دعوت ناموں پر”تناول ماحضر: دوپہر دو بجے سے چار بجے تک “. لکھا ہوتا ہے وہ انہی کے خوف سے لکھا ہوتا ہے ۔ بلکہ ان کے دعوت ناموں پر تو تناول ماحضر کی جگہ یوں لکھنا چاہیے ۔ تناول: الحذر الحذر۔۔کھانے کے معاملے میں بہت سی ایجادات ہیں۔ چڑے تک کھا جاتے ہیں حالانکہ ان بیچاروں میں کھانے کو ہوتا بھی کچھ نہیں ۔بزرگ چڑوں نے ان کے خوف سے اپنے بچوں پر گوجرانوالہ کی حدود میں داخل ہونے پر دفعہ ایک سو چوالیس لگا رکھی ہے ۔ ان بیچاروں کے تو شناختی کارڈز پر لکھا ہوتا ہوگا “بازوں ،دھوکہ بازوں اور گوجرانوالہ سے دور رہیں ” ۔ گوجرانوالہ کی تو بلیاں اور مکھیاں شکر کرتی ہوں گی کہ وہ حلال نہیں۔ کریلوں میں قیمہ بھرنے اور ان کریلوں سے پھر پیٹ بھرنے میں طاق ہیں۔ بلکہ ہر وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ بھرے پیٹ کو کیسے بھریں۔ دھنکنا تکیہ کیا بھرتا ہوگا جیسے یہ پیٹ بھرتے ہیں ۔ کنڈکٹر منی بس کیا بھرتا ہوگا جیسا یہ پیٹ بھرتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی، جیالوں سے پی آئی اے کیا بھرتی ہوگی جیسا یہ پیٹ بھرتے ہیں ۔ گوجرانوالہ والوں کے ماتھوں پہ درجنوں بل ہوں گے مگر پیٹ پر ایک بل بھی نہیں ہوگا ۔ پھولے غبارہ پر بل ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ تو شاید سوچتے بھی پیٹ کے بل ہیں۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ باقی سارے ملک کے لوگ سوچتے وقت سر کھجاتے ہیں۔ یہ مگر سوچتے وقت بھی پیٹ کھجلا رہے ہوتے ہیں ۔ ویسے تو بڑے پیٹ کے کئی فائدے ہیں۔ انسان ڈوب نہیں سکتا ۔ چھت سے گرے تو آہستہ سے گرتا ہے ہلکی سی دھپ کی آواز کے ساتھ. بارش میں بنا چھتری کے بھی گھومنے سے پینٹ گیلی نہیں ہوتی ۔ وغیرہ ۔جینیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ موٹاپا انسان کے جینز میں ہوتا ہے ۔ ان کی مگر قسمت میں ہے اور قسمت بھی یہ خود بناتے ہیں ۔ ویسے ہو سکتا ہے انہوں نے بھی یہ بات سن رکھی ہو اور اسی وجہ سے یہ جینز نہ پہنتے ہوں کیونکہ زیادہ تر پہلوان دھوتی ہی باندھتے ہیں ۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اڑسٹھ انچ کی جینز ابھی ایجاد نہ ہوئی ہو۔ گوجرانوالہ میں قسما قسم کھانوں کی اتنی دکانیں ہیں کہ جتنی پشاور میں نسوار کی ہوں گی، یا جتنے فیس بُک پر دانشور، یا جتنے کراچی میں پان بیچنے والے ۔ حال ہی میں کسی دانا کا قول نظر سے گذرا ۔ لکھتے ہیں کہ اہلیانِ گوجرانوالہ کھانے کے اس قدر شوقین ہیں کہ اس شہر کے نام کا حصہ ہے نوالا ۔ گجرا ‘نوالا ‘ بھئی واہ کیا نکتہ آفرینی ہے۔ ویسے اگر آپ ان سے کہیں گے کہ کسی دانا کا قول ہے ۔ تو یہ فوراً سے پوچھیں گے “کس اناج کا دانہ” ۔ اہل لاہور کو کسی وجہ سے زندہ دلان لاہور کہا جاتا ہے ۔سوچتا ہوں کہ کیا گوجرانوالیوں کو “زندہ معدگانِ گوجرانوالہ ” کہا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ ایک ماہر غذایات سے پوچھا زیادہ کھانا کیسا ہے۔ بولے اچھا ہے۔ حیرت ابھی طاری ہوا ہی چاہتی تھی کہ جملہ مکمل کیا “بہت زیادہ کھانے سے” ۔ اندازہ ہوا کہ موصوف بھی شہر مذکور سے ہیں۔گوجرانوالہ پاکستان کا شاید سب سے زیادہ صنعتی شہر ہے۔ اس میں لوہے، ایلومینیم، تانبے اور دیگر دھاتوں اور ان سے بنے سامان کے ہزاروں چھوٹے بڑے کارخانے ہیں۔ جن میں موٹر سائیکل، رکشہ پنکھے، کپڑے دھونے کی مشینیں، بجلی کی موٹریں اور ان کے پرزے، برتن، دھاتوں اور پلاسٹک کا فرنیچر، سینٹری کا سامان، چینی کے برتن اور ٹائیلیں اور اس طرح کی درجنوں دیگر اشیاء شامل ہیں ۔ اتنی مختلف اور کثیر مقدار میں صنعتوں کے باوجود یہاں پر ہنرمندوں کا علم اور ہنر عالمی معیار سے بہت پیچھے ہے۔ جس کی وجہ سے نہ تو یہاں عالمی معیار کی اشیاء بن پاتی ہیں اور اس کے ساتھ کام کرنے کا ماحول بھی بہت خراب اور خطرناک ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم بالعموم اور سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم بالخصوص کی شدید کمی ہے۔ اگر بہت سے ٹیکنیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں کھول دی جائیں اور صنعتکاروں کی تربیت کے لیے مختلف ادارے بنا دیے جائیں تو یقینی طور پر یہاں عالمی معیار کی اشیاء بنائی جا سکتی ہیں ۔جس سے نہ صرف درآمدات میں کمی ہوگی بلکہ ان کو برآمد کر کے ڈھیروں زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں حکومتی نمائندوں اور صنعتی تنظیموں کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے مثبت تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے ۔جاری ہے۔۔۔
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  3. #3
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    گوجرانوالہ سے نکلتے ہی یوں لگتا ہے جیسے اجمیر شریف میں داخل ہو رہے ہوں ۔ یا پھر جیسے مسلمانوں کا ویٹی کن سٹی ہو۔ سفید ریش بزرگان دین کی یہ قد آدم تصاویر سڑک کے دونوں اطراف ۔ ایک دفعہ تو انسان سمجھتا ہے کہ شاید یہ اسلام کا صدر مقام ہے ۔ اور تمام بہتر فرقوں کے موجد و مالکان کی بڑی بڑی تصاویر تعارف کے لئے لب سڑک آویزاں کر دی گئی ہیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ اختلاف کام آویں۔ مگر جستجو کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو راہولی کا علاقہ ہے جہاں بہت اچھی قلفی بنائی اور بڑی تعداد میں بیچی جاتی ہے اور یہ بڑے بڑے بورڈ قلفی بیچنے کے اشتہارات ہیں۔ اور باریش بزرگان اس تشہیری مہم کے ماڈل ۔ وطنِ عزیز میں رمضان نشریات کے بعد قلفی واحد چیز ہے جس کی تشہیر کے لیے باریش بزرگ ماڈلز کا استعمال کیا جاتا ہے وگرنہ تو ٹریکٹر کے ٹائر سے دھان کے سنڈی مار زہر تک اور داڑھی مونڈنے والے استرے سے لے کر بھینس کے دودھ تک کوئی اشتہارنازک اندام حسیناؤں کی جلوہ گری کے بغیر نا مکمل ہے ۔ راہوالی نام کس ‘راہ والی ‘ کا رہین منت ہے اور یہ تمام عمر ‘راہولی’ ہی کیوں رہی اور گھر والی کیوں نہ بن سکی اس پر ہمارا ایک علیحدہ سے ‘تحقیقی مقالہ ‘ بہ نام ‘راہولی کی قلفی’ موجود ہے ۔ ایک زمانہ تھا راہولی میں بہت بڑا چینی بنانے کاسرکاری کارخانه ہوا کرتا جو حوادثِ زمانہ اور ہوس حکام کی نذر ہو گیا ۔آج کل شاید قلفی، اس کے تیلے اور سفیدریش بزرگ ہی راہوالی کی سب سے اہم پیداوار ہیں۔راہوالی سے گجرات کی طرف جاتے ہوئے ایک مشاہدہ عجب ہوتا ہے ۔ گاہے نوجوانوں کی ایک فوج جرنیلی سڑک پر موٹر سائیکلوں کو ایک پہیہ پر اڑاتے ہوئے سوئے وزیر آباد جاتی ہے اور پھر وزیر آباد سے واپس راہوالی کی طرف ۔ کوئی لیٹ کر موٹر سائیکل چلا رہا ہوتا ہے تو کوئی ہاتھ چھوڑ کر ۔ بہت عقلِ سلیم کے گھوڑے دوڑائے ۔کہ اے خدایا یہ کیا معاملہ ہے ۔ بہت دوڑائے ،دوڑ دور کر تھک گئے بیچارے پر کچھ سمجھ نہ آیا۔ سوائے اس کے کہ یہ بندگانِ خدا اس سڑک کے خالق شیرشاہ کو اپنے اندازمیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں ۔ اُدھر ہماری عقلِ سلیم کے گھوڑے دوڑتے دوڑتے تھک ہار کر ایک ہوٹل پر سانس لینے کو رکے تو ہم بھی ان کے ساتھ ٹھہر گئے ۔ ہوٹل کا مالک ہمیں جہان دیدہ لگا جبکہ قابل خرگوشوی کو محض “نورجہاں” دیدہ ۔ پھر بھی ہم نے اس کو موٹر سائیکل والے نوجوانوں کی بابت سوال داغ دیا ۔ وہ تو خوب رہی کہ اس نے “داغ تو اچھے ہوتے ہیں”والا اشتہار دیکھ رکھا تھا سو بالکل نہ گھبرایا ۔بولا اس علاقہ کے بہت سے لوگ حصولِ رزق کی خاطر دوسرے ملکوں میں گئے ہیں ۔یہ ان محنت کش آسودہ حال تارکین وطن کی ناخلف اولادیں ہیں۔ اوہ ہو ۔۔ سارا معاملہ ہماری سمجھ میں آگیا۔ “جو بیچارے محنتی باپ بیرونِ مُلک بارہ بارہ گھنٹے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر اپنوں کے لئے آسودگی کما رہے ہیں ۔ان کے آسودہ حال اپنے یہاں ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلا رہے “۔ لیکن یقیناََ اس معاملہ میں سارا قصور ان نوجوانوں ہی کا نہیں کچھ چوک ہم سے بھی ہوئی ہے ۔ اگر نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب مواقع مہیا کیے جائیں تو نہ صرف یہ کہ اس طرح اپنی اور دوسروں کی زندگیاں خطرہ میں ڈال کر وہ اپنی ذہنی تطہیر نہ کریں ۔بلکہ شاید باقاعدہ تربیت سے یہ موٹر سائیکلنگ اور ایسے دیگر کھیلوں میں نام بھی پیدا کریں۔ اور ان کاموں کے لیے وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بھی چنداں ضرورت نہیں، جس طرح بڑے بڑے مدرسے اور مسجدیں اپنی مدد آپ کے تحت بنائے اور چلائے جاتے ہیں اسی طرز پر کھیلوں کے میدان اور سٹیڈیم وغیرہ بھی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے تعاون سے بنائے اور چلائے جا سکتے ہیں ۔ اور یقیناً یہ بھی مدرسوں ہی کی طرح معاشرہ کے لئے مفید اور ثواب کا کام ہے۔راہوالی کے بعد قصبہ گکھڑ آتا ہے ۔ ہم بچپن سے اس نام سے بہت متاثر ہیں ۔اور بہت متحیر بھی ۔ عجیب نام ہے ۔گکھڑ ، پتہ نہیں کسی شخص کے نام پر ہے یا کسی شے کے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کہیں کوریا یا ہالینڈ سے درآمد کرکے لگا دیا گیا ہے ۔ ویسے ہم نے کبھی چیزوں پر غور ہی نہیں کیا ۔ ہمیں بالکل عادت ہی نہیں غور کرنے کی ۔حالانکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑا سا غور کرنے سے اس کی وجہ تسمیہ سامنے آجائے ۔ تو پھر غور شروع کرتے ہیں ۔ پہلے سادہ غور کریں ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔۔کچھ سمجھ آیا ۔۔۔۔۔۔نہیں۔ اب عینک آنکھوں سے ہٹا کر سر پر ٹکا دیں۔ اب غور کریں ۔۔۔۔گکھڑ ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔۔ نہیں کچھ پلے نہیں پڑا ۔ اچھا بیٹے اتنی جلدی مایوس نہیں ہوتے۔ اب ایک کوشش آنکھیں موندھ کے کر کے دیکھ لیں۔ چلیں۔ شاباش آنکھیں بند۔۔۔۔گکھڑ ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔ اوہ ہو ۔ابھی بھی بات نہیں بنی۔ ایک دفعہ دایاں مُکہ دائیں گال کے نیچے ٹکائیں ۔اور آنکھیں بند کریں ۔بھئی واہ کیا مفکر لگ رہے ہیں زبردست ۔ اب غور کریں ۔ گکھڑ ۔۔۔کھگڑ ۔۔۔۔۔گاکھڑ ۔۔۔۔۔۔گوکھڑ ۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آیا ۔اس کا مطلب صرف غور ہی کافی نہیں ساتھ ساتھ علم کا حصول بھی ضروری ہے ۔لیکن بہرحال غور ہی بنیاد ہے حصول علم کی۔ اگر ہم اس لفظ پر غور ہی نہ کرتے تو ہمیں اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی جستجو کبھی پیدا ہی نہ ہوتی۔ جیسا کہ آج تک نہیں ہوئی ۔ تو پھر قابل خرگوشوی سے پوچھتے ہیں ۔ گکھڑ اصل میں پوٹھوہار کے علاقہ میں ہزاروں سال سے بسنے والی ایک جنگجو قوم ہے۔ مشہور ہے کہ جاٹوں کی ایک قسم ہے۔ پوٹھوہار کے علاقہ میں انہوں نے باقاعدہ حکمرانی کا نظام وضع کیا ۔ گیارہویں صدی عیسوی سے اٹھارویں صدی تک اس علاقہ میں ان کی باقاعدہ حکومت رہی جس کا صدر مقام موجودہ تحصیل کہوٹہ کا ایک مقام پھروالہ تھا جہاں آج بھی قلعہ پھروالہ کے کھنڈرات موجود ہیں۔ گکھڑ واحد قوم ہے کہ جس نے بیرونی حملہ آوروں کا بساط بھر مقابلہ کیا ۔ کھاریاں اور جہلم سے جو قوم کے بہادر سپوت جوق در جوک فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اکثریت گکھڑ ہی ہیں۔ بطور خاص کیانی۔ اور یہ قصبہ انہیں کے نام سے ہے۔ گکھڑ کی مشہور پیداوار دریاں ہیں جو بچھانے کے کام آتی ہیں۔ ویسے بچھائی جا سکنے والی دوسری مشہور چیزیں پلکیں، کلیاں و پھول، دیدہ و دل سڑکوں کا جال اور غریب دا بال ہیں۔ جس طرح کلیاں اور پھول وغیرہ اگر نہ بھی بچھائیں جائیں تو یہ کلیاں اور پھول ہی رہتے ہیں اسی طرح اگر دریاں نہ بھی بچھائی جائیں تو بھی دریاں ہی کہلائیں گی۔ گکھڑ کی دری کے علاوہ کامران کی دری بھی مشہور ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ بارہ دری ہے۔ویسے اگر کسی پٹھان نے درجن دریاں خریدنا ہوں تو وہ یوں بھی کہ سکتا ہے ۔۔خوچہ ‘بارہ دری’ کا کیا بھاؤ ہے۔ اور یہ گکھڑ ہی وہ جگہ ہے جہاں چوہدری عصمت صاحب دریوں کی نئی دکان کھولنا چاہتے تھے اور انہوں نے اپنے پروفیسر دوست سے پوچھا بھئی ہماری دکان کے لئے اچھا سا نام تجویز کیجیے ۔ پروفیسر صاحب ایک لمحہ کے توقف کے بغیر بولے ‘عصمت دری ہاؤس ‘ سنا ہے آج تک چوہدری عصمت صاحب اپنے پروفیسر دوست سے نالاں ہیں ۔
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  4. #4
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    گکھڑ سے ذرا آگے وزیر آباد ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیرآباد کسی وزیر نے آباد نہیں کیا تھا ۔ بلکہ یہ پہلے سے آباد تھا ۔ اور نگزیب عالمگیر کے وزیر حکیم لمودین نے یہاں محض ایک کسی قدر خوبصورت عمارت ،شیش محل ،تعمیر کروائی تھی ۔ ہوسکتا ہے کوئی دو چار سڑکیں وغیرہ بھی بنوا دی ہوں ۔بس اسی سے متاثر ہو کر اہلیانِ وزیر آباد نے علاقہ کا نام ‘وزیر آباد’ رکھ لیا ۔ دوستوں کی اس فیاضی کا اپنے خادمِ اعلیٰ کو شاید علم نہ ہو سکا ورنہ ایک آدھ حرم تو یہ بھی وہاں بنا ہی سکتے تھے ۔یوں یہ کب کا ‘وزیرِاعلیٰ آباد ‘ ہوا ہوتا ۔ ویسے اگر اہلِ لاہور والوں میں وزیرآباد والوں سے آدھی بھی ‘سمجھ’ ہوتی تو کم از کم لاہور تو اب تک ‘خادمِ اعلیٰ آباد’ ضرور ہوتا ۔ وزیر آباد چاقو چھریاں اور دیگر آلاتِ غذا خوری کی صناعی کے لیے مشہور ہے اوراسقدر مشہور ہے کہ بیشتر اوقات اس شہر کے باسیوں کےعروفِ عام (nicknames )بھی انہی کے نام پر ہوتے ہیں ۔ہمارے ساتھ یونیورسٹی میں جو دوست وزیر آباد سے تھے ان کو پیار سے استرا، گول متھے والا چاقو وغیرہ کے تکنیکی ناموں سے پکارا جاتا تھا ۔ وزیر آباد کے محنت کش بھی گوجرانوالہ کے باسیوں کی مانند بہت محنتی اور اختراع وابدا کے شوقین ہیں مگر یہاں بھی جدید ٹیکنالوجی سے کم آشنائی ترقی کی راہ میں حاجز ہے۔ اس کے باوجود عالمی منڈی میں وزیر آباد کی اشیاء کا نام اور مانگ ہے۔ اس کے ساتھ ہی نالہ پلہو ہے جس کی تازہ شکار شدہ مچھلی وزیر آباد میں خاص انداز سے پکائی جاتی تھی جس کی بڑی دھوم تھی۔ گمانِ فاضل ہے کہ صنعتی فضلے کے باعث اب پلہو میں حیاتِ آبی ناپید ہے۔وزیرآباد کے بعد جرنیلی سڑک دریائے چناب سے گذرتی ہوئی گجرات میں داخل ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ یہی چناب ہے جس کو کچے گڑھے پر پار کرنے کی آرزو میں سوہنی اور اس کو بچاتے ہوئے مہینوال دونوں موت کے پار اتر گئے ۔ ہمیں کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ جناب عزت بیگ المشہور مہینوال صاحب بخارا کے اتنے بڑے بین الاقوامی تاجر تھے جو ہندوستان کے مختلف شہروں سے مختلف اشیاء خرید کر بخارا اور ایشاءِ کوچک میں فروخت کیا کرتےتھے ، سےاتنا نہ ہو سکا بیچاری سوہنی کو بشیر پنکچر والے سے ٹریکٹر کی اک پرانی ٹیوب ہی لے دیتے ۔غریب بھری جوانی میں جان سے تو نہ جاتی ۔ اور کچھ نہیں تو جیسے خود بخارا کا ہوتے ہوئے سوہنی سے گپیں لگانے کے لیے پنجابی زبان کا کورس کیا تھا اس بیچاری کو بھی کہیں سے سوئمنگ کورس کروا دیتے ۔ لیکن یہ عشق واقعی اندھا ہوتا ہے عقل کا ۔مزید حماقت دیکھیے کہ روزانہ معصوم بچی کو مچھلی پکڑ کر کھلاتا ۔وہ تو شکر ہے کہ جلد ڈوب مری ورنہ اس کے سارے نازک جسم پر روزانہ مچھلی کھانے سے گرمی دانے وغیرہ نکل آتے ۔ ستم بالائے ستم دیکھیے کہ ایک دن مچھلی نہ ملی تو اپنی ران کی مچھلی نکال لی اور بھون کر پیش کردی۔ جیسے بیچاری معصوم کمہارن نہ ہو افریقہ کے کسی آدم خور قبیلہ سے ہو۔ ویسے احتیاطاً صاحبانِ علم وواقفان قانون سے التماس ہے کہ انسانی ران کی مچھلی خوری کی بابت کچھ قانونی وآئینی حیثیت واضح کر دیں تاکہ مستقبل کے مہینوالوں کو آسانی ہو ۔ ادھربیحد مصروف کہانی نویس شاید مصروفیت کے باعث یہ نہیں بتا سکا کہ محترمہ سوہنی صاحبہ نے دریائی مچھلی کی جگہ اچانک انسانی ران کی مچھلی دیکھ کرکیا ردِ عمل ظاہر کیا ۔نیز یہ کہ اس مچھلی میں کانٹوں کی عدم موجودگی کے متعلق مہینوال نے کیا عذر تراشا یا وہ بھی عشق میں اندھی ہو چکی تھی آنکھوں سے ۔ اور ظالم کہانی نویس کی مزید بے حسی دیکھیے کہ پاس کھڑا یہ تک دیکھتا رہا کہ نند نے گھڑا بدل دیا ہے ۔ اور پھر یہ بھی کہ گھڑا بیچ دریا کے گھل گیا تھا اور سوہنی ڈوبتے ہوئے چیخ و پکار کر رہی ہے ۔یہاں تک عزت بیگ صاحب اس کی چیخیں سن کر اسے بچانے آگئے اور اس کے سنگ ڈوب مرے لیکن یہ پاس کھڑا گانے کے بول نوٹ کرتا رہا جو سوہنی ڈوبتے ڈوبتے گنگنا رہی تھی۔ لیکن ان کو بچانے کی کوشش نہ کی۔ ظاہر ہے اگر یہ اس وقت پاس موجود نہ ہوتا تو پھر کون اس کو یہ ساری جزیات بتاتا ۔ کیوں کہ اس کے سوا وقوعہ کا واحد گواہ کچا گڑھا تو پہلے ہی گھل چکا تھا ۔اور رہی نند تو اس نے تاحال اعترافی بیان ریکارڈ نہیں کروایا ۔ویسے ہماری ذاتی رائے میں کسی عورت کا یوں شادی شدہ ہوتے ہوئے راتوں کو چوری چھپے غیر آدمی سے ملنا ایسا ہی قبیح عمل ہے کہ ان دونوں کا ڈوب مرنا ہی بنتا تھا ۔ وہ الگ بات ہے کہ کہانی نویس اور دورِ حاضر کے ٹیلیوژن ڈرامہ نویسوں کے نزدیک یہ قابلِ رشک بات ہے ۔ لیکن اس ساری کہانی میں ایک بات قابلِ غور ضرور ہے کہ تلا کمہار یعنی سوہنی کا باپ اس وقت بھی اتنے خوبصورت برتن بناتا تھا جو کہ ترکی تک برآمد ہوتے تھے ۔اور آج بھی اس خطہ میں کراکری کے بہت سے کارخانے ہیں ۔گویا اس علاقہ میں یہ ہنر صدیوں سے ہے۔ جدید علم کے ساتھ اس قدیم ہنر کی پیوندکاری سے ترقیوں کے بہت سے در وا کیے جا سکتے ہیں ۔گجرات شہر دریائے چناب کے کنارے واقع ہے ۔ اس جگہ پر کسی باقاعدہ آبادی کے آثارتو قبل مسیح سے ملتے ہیں ۔ لیکن شنید و پڑھید ہے کہ گجرات کے نام سے بستی جلال الدین اکبر نے تعمیر کرائی ۔ کہ ایک روز وہ کشمیر کی سیر کے لیے جارہا تھا کہ چناب سے گذرتے ہوئے اس کا جی کیا کہ کیوں نہ یہاں ایک قلعہ بنا دیا جائے اور پھراس نے وہا ں قلعہ بنا دیا ۔ اور تھوڑا آگے جا کے اس کے من میں آئی کہ ادھر ایک شہر ہونا چاہیے ۔تو اس نے علاقے کے گوجروں کو وہا ں اکٹھا کر کے گجرات کی بنیاد رکھ دی ۔ اب یہ تاریخ دانوں نے نہیں بتایا کہ اگر اس وقت فوری طور پر وہا ں گجر دستیاب نہ ہوتے تو اس جگہ کا نام کونسی رات ہوتا ۔ تاریخ کی کتابیں پڑھتے ہوئے اکثر گمان ہوتا ہے کہ بادشاہوں کے لیے شہر بسانا اور قلعے بنانا ایسا ہی تھا جیسے ہمارے لیے پکوڑے بنانا ۔ یا سست الوجود لوگوں کے لیے بہانے بنانا ۔جاری ہے۔۔
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  5. #5
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    گجرات کے باسی طبعاً بچوں ایسے ہیں یعنی بہت معصوم اور ضدی ہیں۔ اب دیکھیے نا کہ کسی بھی محفل سے جاتے ہوئے انسان معصومیت کی بنیاد پر اپنا جوتا بھول جائے اور جاتے ہوئے کسی اور کا تھوڑا بہتر جوتا غلطی سے پہن جائے تو اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی ہے کہ وہ جوتا چور ہے۔ مگر یار لوگوں نے تو بس بات پکڑ لی کہ گجراتی جوتی چور ۔ پھر ضد میں آکر انہوں نے جوتیاں بنانا شروع کر دیں ۔اب پاکستان کا سب سے بڑا جوتے بنانے کا کارخانہ یہیں واقع ہے ۔ جس میں محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ آٹھ سے دس لاکھ جوتے بنائے جاتے ہیں ۔اسی طرح بہت پہلے کسی نے کہہ دیا کہ باہر کے ملکوں میں پیسے تو درختوں پر لگے ہوتے ہیں ۔ بس وہ دن اورآج کا دن،ضلع گجرات کا ہرمعصوم نوجوان ملک سے باہر جانے کا سپنا آنکھوں میں سجائے ہی جوان ہوتا ہے ۔ اور اس منزل کے حصول کی خاطر تن من اور آخری ایکڑ کی بازی لگا دیتا ہے ۔ حالانکہ بہت سے واپس آنے والے دہائی دیتے آرہے ہیں کہ باہر بہت برے ماحول میں بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وطنِ عزیز میں عزت سے برسرِ روزگار ہوا جائے مگر وہی بچوں سی ضد۔۔یہی وجہ ہےکرہ ارض پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں مکھیاں، چڑیاں اور ضلع گجرات کے جوان نہ پائے جاتے ہوں۔ ویسے اس معاملہ کو اگر نگاہِ حکمت سے دیکھا جائے تو ملکی سطح کے کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ اگر احباب بضد ہیں کہ انہیں پردیس ہی جانا ہے تو ان کو باقاعدہ ایسی تعلیم و تربیت دی جائے کہ وہ باہر جا کر معاشی طور پر زیادہ مفید ثابت ہو سکیں تو نتیجتاً وطنِ عزیز میں زیادہ زرِ مبادلہ آئےگا ۔ اسی طرح ان کو بےرحم ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے باقاعدہ حکومت کے لائسنس یافتہ اور تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ریکروٹنگ ایجنسیاں بنائی جائیں جو دنیا بھر سے ملازمت کے مواقع تلاش کرکے ان نوجوانوں کو وہاں بھیجیں۔ اس سلسلہ میں بھارت کی ریاست کیرالہ اور سری لنکا کی حکومت کے نقوش ہائے پا پر چلا جا سکتا ہے ۔ سری لنکا میں تو باقاعدہ ایک وزارت اس کے زیر انتظام کئی محکمے اور سینکڑوں لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیاں ہنر مند نوجوانوں کو بیرون ممالک باعزت روزگار دلوانے پر معمور ہیں۔اہلِ گجرات پنکھے بنانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ بہت پنکھے بناتے ہیں ۔یقین کریں اتنے تو شکیرا اور ماریہ شراپووا نے فین نہیں بنائے ہوں گے جتنے گجرات میں بنتے ہیں ۔ اتنے لوگوں کو تو بین الاقوامی کمپنیوں والے ٹی وی اشتہارات کے ذریعہ الو نہیں بناتے جتنے گجرات والے پنکھے بناتے ہیں ۔ اتنے تو سرکاری سکولوں میں مرغے نہیں بنتے جتنے گجرات میں پنکھے بنتے ہیں ۔ اور پنکھے کے متعلق تو آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ شتر مرغ کے بعد دنیا کی واحد پروں والی چیز جو اڑتی نہیں ۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ شتر مرغ کے دو پر ہوتے ہیں جبکہ پنکھے کے تین ۔ شتر مرغ انڈے دیتا ہے اور پنکھا ہوا۔ مرد کے دماغ عورت کی زبان، اور شیخ کی دکان کے بعد پنکھا ہی وہ شے ہے جو ایک جگہ پر کھڑے رہ کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق گجرات میں پنکھے بنانے کی چھوٹی بڑی تین سو فیکٹریاں ہیں جن میں تقریباً پچاس لاکھ پنکھے سالانہ بنتے ہیں ۔جوتوں اور پنکھوں کے علاوہ یہاں چینی کے برتن اور اس کا دوسرا صنعتی سامان بھی بڑی تعداد میں بنتا ہے ۔ اب یہ لفظ چینی سے احباب نامعلوم کتنا کام لیں گے ۔ پہلے چینی زبان اور چینی قوم ، پھر چینی کھانے والی اور اب یہ چینی کے برتن ۔ زیادتی ہے کہ نہیں۔ دیکھیں نا ساتھ والی بوتل میں نمک بالکل فارغ پڑا تھا، کیا برا تھا نمک کے برتن ۔ مگر شاید تذکیر و تانیث میں پنہاں ہے انتخاب کی حکمت ۔ بقول شاعر
    موت بھی اس لیے گوارا ہے
    کہ یہ آتا نہیں آتی ہے!چینی کے برتن اور دیگر سامان بطور احسن بنانے کی خاطر لوگوں کو جدید تربیت دینے کے لئے اور اپنے ہنر مندوں کو دنیا میں موجودہ سطح کے علم کے برابر لانے کے لئے سرکار نے ایک انسٹیٹیوٹ آف سرامکس ٹیکنالوجی بھی یہاں بنا رکھا ہے لیکن اس کا وہی حال ہے جو عام طور سرکاری اداروں کا ہوتا ہے، لہذا فی الحال باقی سب چیزوں کی طرح اس میدان میں بھی ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جوتے اور پنکھے اور سرامکس کا سامان بننے کے باوجود گجرات کے لوگ خوشحال اور مطمئن کیوں نہیں ،اور کیوں بیرون ممالک جانے کے لئے بیقراررہتے ہیں ۔ اس کے ممکنہ طور پر دو جواب ہوسکتے ۔ ایک تو یہ کہ یہ اشیاء “ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس” کے زمرے میں نہیں آتیں لہذا ان سے کوئی بہت زیادہ منافع نہیں ۔ دوسرا یہ کہ بڑی کمپنیاں زیادہ تر منافع خود رکھ لیتی ہیں اور اپنے وینڈرز کو بہت کم منافع دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے یہ چند بڑی کمپنیاں تو بہت خوشحال ہیں مگر چھوٹے صنعتکار مجبور محض ہی رہتے ہیں۔گجرات کے بعد آتا ہے قصبہ لالاموسیٰ۔ لالا تو مقامی زبان میں بھائی کو کہتے ہیں۔ اور موسیٰ ہمارے گمان میں ‘مو’سا تھا ۔ بالکل ایسے جیسے”لکھے مو سا پڑھے خود آ”۔۔۔یعنی کوئی دھان پان سا بالکل اپنے پرویز خٹک ایسا ۔ لیکن قابل خرگوشوی نے محمود غزنوی سے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گمانِ خام کا بت پاش کیا کہ یہ لالا دراصل موسیٰ ہی تھا اور شہنشاہ اکبرکی طرف سے اس علاقہ کا منتظم مقرر کیا گیا تھا ۔یہ بستی اسی کے نام کی نسبت سے لالا موسیٰ کہلائی ۔ اس جگہ کے باسی شاید اپنے چینیوں سے بہت متاثر تھے اور ان کی پیروی میں مشہور عام گھریلو استعمال کی اشیاء بطور خاص میک اپ کا سامان کی بہت عمدہ نقل بنایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ نقل اور دو نمبر اشیاء کے تسمیہ کے لیے “چائنہ کی بنی ہوئی”کی جگہ “لالاموسیٰ کی بنی ہوئی ” استعمال ہونا شروع ہو گیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کوئی شخص اگر لڑائی میں دانت تڑوا بیٹھتا تو یار دوست صلاح دیتے کہ لالا موسیٰ کے دانت لگوا لو۔ اب شاید یہ ایماندار ہو گئے ہیں یا ہم عادی۔ ویسے اگر اس ہنر مندی کو راست سمت اور مناسب حوصلہ افزائی مل جاتی تو دو نمبر سے ایک نمبر مصنوعات بنانے کا سفر زیادہ کٹھن ثابت نہ ہوتا ۔مگر افسوس کہ صاحبانِ بست و کشاد کی ترجیحات ہی اور ہیں۔ لالا موسی میں ایک مشہورِ زمانہ میاں جی دا ہوٹل ہے جس کی پکائی ہوئی چنے کی دال بہت مشہور ہے ۔ شاید ہی ہو کوئی مائی کا لعل کہ جس کی رال میاں جی کی دال دیکھ کر نہ ٹپکی ہو۔ بلکہ وہاں تو دال کے دیوانوں کا اکثر ایسا رش ہوتا ہے کہ بیرا باورچی سے با آوازِ بلند کہتا رہتا دال ڈال ۔۔دال ڈال اور ہم قریب کھڑے بچپن کے عہد شاہی پہنچ جاتے ہیں ،زبان پر خود سے رواں ہو جاتا ہے ۔د ڈ ذر ڑ ز ژ س ش ص ض ۔۔۔جاری ہے!
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  6. #6
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    کھاریاں کے متعلق قابل خرگوشی کا شگوفہ ہے کہ وطنِ عزیز کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ‘کھا ریاں’ ہونا چاہیئے ۔مثلاََ اگر کوئی کسی بٹ یا کسی عوامی نمائندے سے پوچھے کہ
    کیہہ کررہے ہوپائین؟ اور وہ جواب دے کہ
    ” کھا ریاں واں پائین “۔
    لیکن ہمیں کھاریاں سے گذرتے ہوئے گاہے یہ خیال آتا کہ اگر یہ کھاریاں ہیں تو شاید کہیں مِٹھیاں بھی ہونگی، لیکن آج تک نہیں ملیں ۔ سوائے جلیبیوں کے۔ اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا کہ یہ بستی تو ایک ہے پھر ‘کھاریاں’ کیوں؟. دیکھیں مقامی زبان میں کھاریاں جمع کا صیغہ ہے اور وہ بھی مونث کا۔ جیسے لاری سے لاریاں، تاڑی سے تاڑیاں اور باری سے باریاں وغیرہ ۔ اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ اکبر بادشاہ نے اس جگہ پر موجود جنگل کا محافظ ثانی کھاری نامی گجر کو مقرر کیا ۔سواس کے نام پر اس جگہ کا نام کھاریاں پڑ گیا ۔ لیکن پھر یہ کھاری والہ، یا کھاری نگر یا کھاری آباد وغیرہ ہوتا ۔ہمارا اندازہ ہے کہ جب ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دیکر تختِ ہندوستان پر قبضہ کرلیا ،تو یہ اور انکا خاندان جان بچا کر بھاگ نکلا ۔
    اتفاق سے یہ اسی راستے پر کہ جس پر بعد میں شیر شاہ نے جرنیلی سڑک تعمیر کی، دل ہی دل میں مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا کا ورد کرتا ہوا اس جگہ پہنچ گیا جہاں آجکل کھاریاں ہے۔ دیکھیے جرنیلی سڑک کی بھی کیا قسمت ہے، کوئی حاکمِ وقت اُدھر سے نکالا جاتا ہے اور اس پر اِدھر کو مجھے کیوں نکالا کا ورد کرتا جاتا ہے اور کوئی اِدھر سے اُدھر کو ۔ اس جگہ پر ابھی جنگل تھا، ہمایوں اور اس کے مصاحبین نےیہاں ڈیرے ڈال دیے۔ ادھر ملکہ اور دیگر افراد خانہ عمر کوٹ سندھ پہنچ چکے تھے۔ یہاں مقامی لوگوں میں سے ایک بزرگ نے معزول بادشاہ کو بشارت دی کہ میں نے خواب دیکھا ہے اللہ نے آپکو بیٹے سے نوازا ہے ۔ کچھ روز کے بعد ہمایوں کو نہ صرف اہلِ خانہ کے مقام کی بابت اطلاع بہم ہو گئی بلکہ بیٹے کی خوشخبری بھی مل گئی ۔ ہمایوں نے ایک شاہی فرمان اس بزرگ کو دیا اور سندھ کی طرف نکل گیا۔
    قریب پندرہ سال بعد جب ہمایوں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو محض چھ ماہ بعد انتقال کر گیا ۔ اس کا بیٹا اکبر بادشاہ بنا تو کچھ عرصہ بعد وہ کشمیر کی سیر کے لئے نکلا ۔ راستہ میں قریب اسی جگہ پڑاؤ کیا تو وہی بزرگ ہمایوں کے شاہی فرمان کے ساتھ اس کے پاس پہنچ گیا ۔ اکبریہ سب جان کر حیران اور خوش ہوا اور بزرگ کے کہنے پر علاقہ میں دو جھیلیں بنانے کا حکم دیا ۔ایک کھاری پانی کی کھیتی کیلیے اور دوسری میٹھے پانی کی، پینے کے لئے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میٹھے پانی کی جھیل بھی کھاری پانی سے ہی بھر گئی اور ان دونوں کو ‘کھاریاں’ کہا جانے لگا ۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے تک ان کی باقیات تھیں جو اب آبادی کی نذر ہو گئیں۔
    کھاریاں بالکل چھوٹا سا قصبہ تھا 1958 میں یہاں امریکہ کے تعاون سے پاکستان کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی بنائی گئی ۔ جس کی وجہ سے یہ علاقہ خاصی اہمیت اختیار کر گیا۔ تحصیل کھاریاں کے لوگ خاص طور پر بہت زبردست فوجی پس منظر رکھتے ہیں اور کثرت سے فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں ۔ عزیز بھٹی سمیت بہت سے نشانِ حیدر پانے والے بہادروں کا تعلق اسی علاقہ سے رہا ہے۔
    کہتے ہیں کہ شیر شاہ نے جرنیلی سڑک پر ہر کوس پر ایک کوس مینارہ اور ہر دو کوس پر ایک سرائے تعمیر کروائی تھی ۔ یاد رہے کہ کوس تقریباً دو میل کے برابر ہے ۔بلکہ بعض روایات میں تو ستائیس سو سرائے تک کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن شاید یہ کسی مصاحب کا بیان ہے ۔ لیکن بہرحال سرائے تو ضرور بنوائے ۔ جن میں مسافروں کی رہائش،کھانے اور معالجہ کیساتھ جانوروں کے استقراراور چارہ کا بندوبست بھی ہوتا ۔ ویسے موٹر ویز کی حد تک تو موجودہ حکمرانوں نے بھی سرائے تعمیر کروائے ہیں۔مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں وغیرہ کی حالت عمومی طور پر یہ ہے کہ کوس کوس پر کوسنے دینے کا جی چاہتا ہے ۔ کچھ دن ہوئے شیخوپورہ سے گوجرانوالہ جانا ہوا یقین کریں کہ ستائیس کلومیٹر میں ہی ستائیس سو کوسنے دئیے اور بھی ناقابل اشاعت قسم کے ۔ آجکل مگر پوری جرنیلی سڑک پر ایک ہی سرائے بچا ہے اور وہ ہے سرائے عالمگیر ۔ بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب عالمگیر نے اس جگہ پر ایک سرائے تعمیر کروائی ۔ جس کے ارد گرد پھر رفتہ رفتہ بستی آبادہو گئی اور اس کا نام سرائے عالمگیر پڑ گیا ۔
    سرائے عالمگیر کے بعد دریائے جہلم پر سے گذرتے ہوئے جہلم شہر میں داخل ہوتے ہیں ۔
    دریائے جہلم کا پرانا نام ‘ہائیدہ سپیس’ تھا .پھریہ نامعلوم کب جہلم ہوگیا ۔ جس کے متعلق پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ ‘جل’ اور ‘ہم’ کا مجموعہ تھا ۔ جل سے مراد صاف پانی او ہم کا مطلب برف ۔ گویا برف سے نکلتا ہوا پانی۔ لیکن یہ “جلہم “بعد میں بگڑ کر جہلم بن گیا ۔ ویسے ہماری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ یہ جگہوں اور شہروں کے نام بگڑ کیسے جاتے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے تو صرف نوجوان اور تعلقات بگڑتے دیکھے ہیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جس طرح بمبئی والوں نے بقائمی ہوش وحواس خمسہ، ببانگ دہل اپنے شہر کا نام ممبئی کرلیا ۔اور ہم نےمنٹگمری کا نام ساہیوال اور لائلپور کا نام فیصل آباد رکھ لیا ۔ اسی طرح جلہم والوں نے بھی باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا ہو جہلم کیلیے ۔ اب اگر کل کلاں کوئی لکھے کہ بمبئی کا نام بگڑ کر ممبئی ، لائلپور کا نام بگڑ کر فیصل آباد اور منٹگمری کا بگڑ کر ساہیوال ہو گیا تو سوچیں کہ لوگ تب کیا سوچیں گے ۔ یہی نا کہ ممبئی والے کتنے شریف لوگ تھے صرف اتنا سا بگاڑا کہ بمبئی سے ممبئی کیا لیکن یہ فیصل آباد والے تو بہت ہی بگڑے ہوئے تھے کہاں لائلپور اور کہاں فیصل آباد ۔ بگاڑنا ہی تھا تو لائلپورسے لالپور یا زیادہ سے زیادہ گلابی یا عنابی پور کر لیتے ۔ اکٹھا ہی فیصل آباد ۔
    بہرحال دریائے جہلم یہاں ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے ۔ اس پر سے گذرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اُس پار سکندراعظم اپنی فوجوں کے ساتھ خیمہ زن ہے اور اِس طرف راجہ پورس اپنی فوجوں کے ساتھ۔ ۔ ویسے یہ سکندر اعظم بھی کیا بادشاہ تھا ۔ساری دنیا کے بادشاہ حکومت کرتے ہیں، شادیاں کرتے ہیں ، شکار کرتے ہیں موج مستی کرتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ فیصلے کرتے ہیں، سازشیں کرتے ہیں ۔ مگر یہ صرف جنگیں کرتا ہے اور دنیا فتح کرتا ہے ۔ ہمیں یہ سوچ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ سکندر اعظم کے بچے سکول داخلہ فارم پر باپ کے پیشہ میں کیا لکھتے ہوں گے
    پیشہ باپ: جنگیں کرنا ۔ یا استاد والدین ملاقات میں کیا بتاتے ہوں گے کہ “وہ مس میرے بابا نا دنیا فتح کرنے گئے ہوئے ہیں “. پتہ نہیں ارسطو خود تو بہت زبردست اور سیانا مشہور ہے اس نے اپنے اس شاگرد سکندر کو کیا سبق پڑھا دیا تھا کہ فقط تینتیس سال کی عمر تک ہی آدھی دنیا پر قبضہ کر چکا تھا ۔ آپ کو نہیں لگتا کہ سکندر اعظم کی اس حرکت کے بعد ہی دنیا نے چالیس سال سے چھوٹے شخص کے صدر وزیراعظم وغیرہ بننے پر پابندی عائد کی تھی اور ساتھ ہی ارسطو سے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے پر بھی ۔۔۔۔ (جاری ہے)
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  7. #7
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    قصہ کوتاہ، یہ برسات کا موسم تھا اور آپ تو جانتے ہیں برسات میں دریا اور جذبات پورے طمطراق سے بہتے ہیں سو جہلم بھی اس وقت پورے جوبن پہ تھا ۔اب پل تو تھا نہیں ابھی اس پر کہ ادھر تیس روپے فی گھوڑا چونگی ادا کی اور ادھر راجہ کی فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، سو کئی دن جاتے ہیں اور کوئی صورت بن نہیں آتی کہ سکندر اعظم یا راجہ پورس کی فوجیں دریا پار کر کے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں۔ اور پھر ارسطو کا ہونہار شاگرد ایک چال چلتا ہے۔ وہ رات کے اندھیرے میں شاہی میک اپ آرٹسٹ سے اپنی ایک نقل تیار کرواتا ہے اوراسے خیمہ میں اپنی جگہ چھوڑ کر آدھی فوج کے ہمراہ آدھی رات کو دریا کے بہاؤکی الٹ سمت میں خاموشی سے کوچ کر جاتا ہے ۔ اِدھر راجہ کی فوج کے پاس نہ کوئی دوربین تھی اور نہ کوئی ‘دور بین’ تھا ۔ لہذا وہ صبح کے اجالے میں چائنہ کے سکندراعظم کو اپنے خیمہ میں چہل قدمی کرتا دیکھتے رہے اور اس کی خطرناک چال کا اندازہ ہی نہ کرپائے۔اُدھر سکندر اوپر کی سمت چلتا رہا اور کوئی ستائیس میل پر جا کر اسے ایسی جگہ مل گئی جہاں سے اس نے اور اس کی فوج نے سہولت کے ساتھ دریا پار کر لیا اور دشمن پر اچانک پہلو سے حملہ آور ہوگیا ۔ مگر پھر بھی راجہ کی فوج نے زبردست مقابلہ کیا ۔ لیکن بدقسمتی سے راجہ پورس کے ہاتھی ‘پورس کے ہاتھی’ ثابت ہوئے,انہوں نے زخمی ہونے پر اپنی ہی فوج کو روند ڈالا ۔ کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ہاتھی تو بہت بہادری سے لڑتے رہے اصل میں راجہ کے سپاہی خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہوئے ہاتھیوں کو روند گئے جس سے وہ ہمت ہار گئے اور راجہ جنگ ۔بہرحال وجہ کچھ بھی رہی زخموں سے چور راجہ کوگرفتار کرنےکے بعد سکندرِاعظم کے سامنے پیش کیا گیا جہاں اس نے وہ تاریخی سوال پوچھا،
    ‘بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ‘
    اور اس نے وہ تاریخی جواب دیا
    ‘جو شاہ شاہوں کے ساتھ کرتے ہیں ‘
    تاریخ دان اس مکالمہ کو اتنی اہمیت دیتے ہیں اور اس قدر تکرار سے بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات تو گمان ہونے لگتا ہے کہ سکندر نے ساری جنگیں اور آدھی دنیا فتح ہی اس مکالمہ کے لئے کی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ سکندر نے نہ صرف راجہ کی جاں بخشی کردی بلکہ اس کی چائے بسکٹ وغیرہ سے تواضع بھی کی اور جاتے ہوئے سلطنت بھی کچھ اضافہ کے ساتھ اسے لوٹا دی۔ اور یوں سکندر اعظم ملتان کی طرف نکل گیا اور ہم جہلم کی طرف ۔۔۔۔جہلم شہر بھی دریائے جہلم کے کنارے صدیوں سے آباد ہے۔ انسانی بستی کا چار سو سال قبل مسیح تک تو کتابوں میں ذکر ملتا ہے۔ البتہ سائنسدانوں کو اس خطہ سے ہاتھی، موروں اور دیگر جانوروں کے قریب دیڑھ کروڑ سال پرانے ڈھانچے ضرور ملے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ یہ ہاتھی اس وقت کے کسی راجہ پورس کے تھے یا سادہ ہاتھی تھے۔ ویسے سائنسدانوں سے کچھ بھی بعید نہیں کل کلاں یہ کہہ دیں کہ یہی ہاتھی بڑے ہو کر راجہ پورس بنے تھے ۔اور یہ مور بڑے ہو کر راجہ کے ہاتھی ۔جہلم شہر میں بظاہر نہ تو کوئی قابلِ ذکر صنعت ہے اور نہ کوئی بہت بڑے بین الصوبائی تجارت کے مواقع ۔ سوتاریخی طور پر اس خطہ کے لوگ اپنی جسمانی مضبوطی اور روایتی بہادری کی وجہ سے زیادہ تر فوج میں بھرتی ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ پاک فوج میں تقریباً سبھی دراز قد، سڈول جسم اور خوبصورت جوان وافسران اسی ضلع سے ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کھیوڑہ کا علاقہ جہاں دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کانیں ہیں، بھی اسی ضلع میں ہے جہاں سے سارے ملک کو خوردنی نمک مہیا کیا جاتا ہے ۔اس اعتبار سے اہلِ جہلم یہ دعویٰ بھی کر سکتے ہیں کہ پورا ملک ان کا ‘نمک خوار’ ہے۔جہلم کے بعد قصبہ دینہ جو کسی بزرگ شاہ دینہ شہید کے نام پر ہے۔ یقیناً یہ نام اس بستی کو لوگوں کی اکثریت نے عطا کیا ہوگا اسی لئے دینہ ہے۔ وگرنہ اگر سرکار نے رکھا ہوتا تو پھر یہ “دے نا ” ہوتا کہ سرکار اور اس کے ہرکارے تو ہر وقت دست دراز” دے نا، دے نا “کی صدا لگائے رکھتے ہیں ۔ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے ،کیا انتظامیہ اور کیا محکمہ محصولات اور کیا عدلیہ سب کے سب ہمہ وقت دےنا ۔ بلکہ اب تک تو شاید بگڑ کر’اوردےنا’ یا ‘کچھ تو دےنا’ ہوا ہوتا ۔ دینہ شہر میں لکڑی کا فرنیچر بنانے اورسنگِ مرمر کے بہت سے کارخانے ہیں۔ دینہ سے ایک سڑک منگلا ڈیم کی طرف جاتی ہے اور ایک قلعہ روہتاس کی طرف ۔گوجرخان اگلا قابلِ ذکر شہر ہے جرنیلی سڑک پر ۔ یہ شہر بھی جہلم کی طرح بہت پرانا ہے ۔البتہ نام ‘گوجرخان’ ساتویں صدی عیسوی میں گورجارا پرتیہارا عہد کی دین ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے پہل صرف گوجر ہو اور خان کا اضافہ غزنی یا ابدالی کے آنے بعد ہوا ہو۔ گوجر خان پنجاب کی واحد تحصیل ہے جس میں بڑی مقدار میں تیل اور گیس کے ذخائر ملے ہیں ۔ پنجاب کی حدود کی وجہ سے یہاں یہ بتانا غیر ضروری نہ ہوگا کہ تیل سے مراد پٹرولیم ہے نہ کہ خوردنی تیل اور گیس بھی وہ والی نہیں کہ جس کے لیے کارمینا کی ٹکیاں کھانا پڑتی ہیں بلکہ جلانے والی ہے۔ گوجر خان کے نواح میں تیل اور گیس نکالنے کے متعدد کنویں ہیں جن سے ہزاروں بیرل تیل اور لاکھوں مکعب فٹ گیس روزانه حاصل کی جاتی ہے۔پوٹھوہار کے علاقہ میں سفر کے دوران بہت سی جگہوں پر آبادیوں سے دور ویرانوں میں بہت سے مزارات نظر آتے ہیں ۔ان کے متعلق عموماً لوگوں کی رائے ہے کہ یہ بزرگان واولیا ء وغیرہ کے مزار ہیں۔ لیکن قابل خرگوشوی کا فرمان ہے کہ اولیا اور بزرگان معاشرتی زندگی سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے کیونکہ اسلام میں اس کی ممانعت ہے ۔ لہذا ان میں اکثر قبریں یا تو مجذوب حضرات کی ہیں یا پھر ان لوگوں کی جو ان علاقوں میں معدنیات اور جڑی بوٹیوں کی تلاش میں آتے ہیں اور کسی حادثہ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلی صدی میں سنیاسیوں اور نباتات وجمادات کا علم رکھنے والوں میں ‘سونا’ بنانے کی تحریک چلی تھی جس کے زیرِ اثر بہت سے کم علم لالچی لوگ پہاڑوں میں بالعموم اور پوٹھوہار کے علاقہ میں بالخصوص اس کے نسخہ کے اجزاء کی تلاش میں زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے ۔ممکنہ طور پر یہ مزارات ان کے بھی ہو سکتے ہیں۔جاری ہے
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  8. #8
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    یوں تو راولپنڈی اوراس کے گردونواح کے علاقہ میں آبادی کے آثار پانچ ہزار سال سے بھی پرانے ہیں مگر راولپنڈی شہر اس جگہ پر پانچ سو سال قبل مسیح سے ہے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس کا پرانا نام گجنی پور تھا ۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تاریخ دان بننا چنداں دشوار نہیں ہے، تھوڑا سا مطالعہ اور ڈھیر سارا گمان ملا کر جو جی میں آئے کہتے جاؤ، تاریخ دانی شروع ۔اسی لیے ہمیں ذاتی طور پر تاریخ دانوں سے زیادہ گرمی دانے حقیقت کے قریب لگتے ہیں ہمیشہ درست وقت پر نکلتے ہیں۔ بہرحال جب سب مان رہے ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے ۔لیکن اتنا ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس گجنی پور کا عامر خان سے کوئی تعلق نہیں ۔تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ راولپنڈی شہر اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بارہا تباہ کیا گیا، کہ شمال سے آنے والے ہر حملہ آور کے راستہ میں پہلا قابلِ ذکر شہر یہی پڑتا تھا ۔ شاید وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ تازہ دم حملہ آور اپنے ناتجربہ کار فوجیوں کی تربیت کے طور انہیں اس شہر کو تباہ کرنے کا ہدف دیتے ۔ گویا راولپنڈی کی تاریخ ‘الزبتھ ٹیلر’ یا ملکہ ترنم کی ازدواجی زندگی سے مماثلت رکھتی ہے ۔ کئی بار اجڑی اور کئی بار بسائی گئی ۔ اُدھر ذرا غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شمال سے اس طرف کبھی کوئی خیر کی خبر نہیں آئی جب بھی آئے، کبھی آندھی، کبھی سیلاب اور کبھی حملہ آور ہی آئے۔ آجکل بھی منشیات اور ناجائز اسلحہ ہی آتا ہے ۔ رہی بات راولپنڈی شہر کے اجڑنے اور بسنے کی تو آجکل یہ کام نالہ لئی کے ذمہ ہے۔ اور مہربانوں نے بھی اس کی مدد اور سہولت کی خاطر عین اس کے وسط میں بستیاں بسا رکھی ہیں۔اس شہر کو یہ نام راولپنڈی پندھرویں صدی کے اواخر میں دیا گیا۔ وجہ تسمیہ یہ رہی کہ راول جھیل کو کہتے ہیں اور پنڈی چھوٹی بستی کو ۔ یعنی جھیل کنارے چھوٹی بستی ۔ اب جبکہ یہ بستی بڑی ہوکرپاکستان کا چوتھا بڑا شہربن گیا ہے مگر پھر اس کے باسی اسے ‘راولپنڈا’ نہیں کہتے ۔ بس اسی بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ طبعاً کس قدر شریف ہیں۔ اور اسی دیرینہ شرافت کی وجہ سے شہر تباہ کروانا گوارا کر لیتے مگر بیرونی حملہ آوروں سے نہیں لڑتے تھے کہ لڑائی بھڑائی شرفا کا شیوہ نہیں ۔ ہاں آپس میں تھوڑا بہت لڑائی جھگڑا چلتا رہتا ہے ۔اسی لیے یار لوگوں نے بات بنا رکھی ہے کہ ہر پنڈی وال کی زندگی میں تین موڑ ضرور آتے ہیں، ایک ‘پیرودھائی موڑ’، دوسرا ‘پشاور موڑ’ اور تیسرا کاروبار میں جھگڑے کی صورت میں ‘ماڑے پیسے موڑ’ ۔راولپنڈی کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر انگریز سرکار نے یہاں بہت بڑی فوجی چھاونی بنائی ۔ کہتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے لیے خصوصی فوجی بھرتی میں راولپنڈی کی چھاؤنی اس وقت دنیا بھر میں موجود انگریز سرکار کی چھاؤنیوں میں پہلے نمبر پر آئی جس کے بعد اس کو مزید توجہ اور فنڈز دیے گئے اور برصغیر کی تقسیم کے وقت یہ متحدہ ہندوستان کی سب سےبڑی چھاونی تھی۔ جسے بعد میں پاکستان آرمی کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا باوجود اس کے کہ اس وقت دارالخلافہ کراچی تھا ۔ جب بعد میں دارالخلافہ اسلام آباد منتقل کیا گیا تو جی ایچ کیو کا راولپنڈی میں ہونا اور بھی منطقی ہو گیا ۔ کہ ایک دوسرے کا دھیان رکھنا اور بھی سہل ہو گیا ۔یوں تو راولپنڈی میں آئل ریفائنری اور گیس صاف کرنے کا کارخانه بھی ہے، اور کچھ لوہے، کپڑے، دوائیں ،چمڑے اور لکڑی کے کارخانہ جات بھی ہیں، لیکن پھر بھی آپ اسے کسی بھی اعتبار سے لاہور یا گوجرانوالہ کی طرح صنعتی شہر نہیں کہہ سکتے ۔ کیونکہ آبادی کے تناسب سے صنعتوں کی تعداد خاصی کم ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش کاروبار یا ملازمت ہے۔ اس شہر کو ایک طرح سے پاکستان کے خوبصورت اور بےمثل شمالی علاقہ جات کے دروازہ کی حیثیت حاصل ہے۔ پورے ملک کے سیاحوں کو طلسماتی مری وگلیات سے لے کر ہوش کش ناران کاغان، سیف الملوک تک، آزاد کشمیر جنت نظیرمیں باغ سے شاردا روات اور کیل تک ، آٹھواں عجوبہ قراقرم ہائی وے چین کے بارڈر تک بشمول گلگت ،سحر انگیز سکردو، دیو مالائی دیوسائی، خوبصورت ترین ہنزہ، شندور وغیرہ تک، اسی طرح وادی قابلِ دید سوات ،بحرین، کالام سے زمرد مہوڈنڈ جھیل تک اور فرحت بخش دیر، لواری ٹاپ سے پرامن چترال، بمبوریت اور گرم چشمہ تک ،راولپنڈی سے گذر کر ہی جانا ہوتا ہے،لہذا یہاں ہوٹلنگ کی صنعت یقینی طور پر پورے ملک سے زیادہ فعال منظم اور منافع بخش ہے ۔ بلکہ اب تو کچھ امن و امان کی مخدوش صورتحال اور دہشتگردی کی وجہ سے اس میں بہت حد تک کمی آچکی ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے نوے کی دہائی میں تو بطور خاص گرمیوں کے دنوں میں کسی مناسب ہوٹل میں کمرہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کرنا پڑتی تھی ۔ اسی طرح غیر ملکی سیاحوں کی آمد تو اب تقریباً مفقود ہو چکی ورنہ اُس وقت تو ساری دنیا کے سیاحوں کی آمد اسقدر زیادہ تھی کہ پہاڑی علاقوں کے ہر شہر میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہوتے تھے ۔ جو یہاں سے واپسی پر کوہ پیمائی اور کوہ نوردی کا جدید سامان جیسے خیمے، سلیپنگ بیگ، ربرشیٹس، روک سیک اور دیگر اشیاء سستے داموں فروخت کر دیا کرتے تھے ۔ ان اشیاء کی متعدد دوکانیں صدر میں پرانے جی ٹی ایس کے اڈے کے ارد گرد ہوا کرتی تھیں جہاں سے ہم اپنی ضرورت کا سامان سستے داموں خرید کر اپنی کوہ پیمائی ونوردی کی پیاس بجھایا کرتے تھے ۔ اب پتہ نہیں یہ دوکانیں وہاں موجود ہیں یا
    ؂ جو بیچتے تھے دواءِ درد دل وہ دکان اپنی بڑھا چکے
    کوہ نوردی بہت ہی دلچسپ اور صحت مند مشغلہ ہے ۔ ہم نوجوانوں کو دعوت دیں گے کہ وہ اسے ضرور اپنائیں اس سے بیک وقت صحت، منصوبہ بندی ،اعتماد ،بےخوفی اور ایک ساتھ کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔اور ساتھ ہی دعا ہے کہ اللہ کریم ہمارے ملک کو پھر سے امن کا گہوارہ بنا دے تاکہ یہاں بیرونی سیاحوں کی پھر وہی ریل پیل ہو جو ہم نے عہد شباب میں دیکھ رکھی ہے ۔جاری ہے!
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  9. #9
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    ..............................
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  10. #10
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    ..........................
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  11. #11
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    .....................................
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  12. #12
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    .............................................
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Dec 2007
    Location
    Dammam
    Posts
    2,577
    Mentioned
    8 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    کمال لکھا ہے
    لاجواب

    thanks for sharing
    who is writer/book name

  14. #14
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,361
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    thanks bhai.
    Quote Originally Posted by Sajidcompk View Post
    کمال لکھا ہے
    لاجواب

    thanks for sharing
    who is writer/book name
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •