Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  1
Results 1 to 3 of 3

Thread: خود کشی سے پہلے ایک عاشق کا آخری خط ۔۔۔ از گُلِ نوخیز اختر

  1. #1
    Sisters Society
    Points: 45,755, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 70.0%
    Achievements:
    Created Blog entryVeteranOverdriveTagger First Class25000 Experience Points
    Awards:
    King of Publishing
    Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    15,772
    Points
    45,755
    Level
    100
    Blog Entries
    19
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    خود کشی سے پہلے ایک عاشق کا آخری خط ۔ از گُلِ نوخیز اختر



    جان تمنا
    آج ویلنٹائن ڈے ہے سب عاشق اپنے محبوب کو پھول پیش کر رہے ہیں اور میں خودکشی کر رہا ہوں۔ جب تمہیں میرا یہ خط ملے گا تب تک میری گٹکیں بھی پڑھی جا چکی ہوں گی ۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کے یوں اپنا خاتمہ کرنا پڑے گا لیکن وقت اورحالات نے مجبور کر دیا ہے کہ اب زندگی کوخدا حافظ کہہ دیا جائے۔ میں نے دل وجان سے تمہیں چاہا' تمہاری خاطر اپنے ماموں کی پڑھی لکھی بیٹی کو بھی ٹھکرا دیا جو میڈیکل کالج سے انجینئرنگ کرنے کے بعد پائلٹ بننے والی ہے۔ مجھے عتراف ہے کہ میں صرف تین جماعتیں پاس ہوں لیکن محبت تعلیم کی محتاج نہیں ہوتی۔ مجھے پتہ ہے تمہیں انگریزی بولنے والے لڑکے پسند ہیں لیکن شاید تمہیں نہیں پتا کہ میں فل انگریزی جانتا ہوں۔ یہ بات میں نے جان بوجھ کر تمہیں کبھی نہیں بتائی لیکن آج چونکہ زندگی میں آخری بار تم سے بات ہو رہی ہے اس لئے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ تم نے شائد نوٹ نہیں کیا جب پہلی بارمیں سائیکل پر تمہارا پیچھا کر رہا تھا اور کھمبے سے ٹکرا کر گرا تھا تو میں نے" ہائے مر گیا "کی بجائے "
    اوپس" کہا تھا۔ اور جب میں تمہارے گھر پھول دینے آیا تھا اور آگے سے تمہارے ابا جی نکل آئے تھے تو یاد کرو میں نے تب بھی اردو میں گھبرانے کی بجائے انگریزی میں گھبرا کرشِٹ کہا تھا۔۔۔
    لیکن تمہیں کبھی مجھ سے محبت نہ ہو سکی۔ میں نے تمہاری خاطر کیا کچھ نہیں کیا 'نیوز چینل' چھوڑ کر 'بادشاہوں' والے ڈرامے دیکھنے شروع کئے، ڈولے پر ٹیٹو بنوایا' گلے میں 's' والا لاکٹ پہنا، اپنی سم تمہارے نیٹ ورک پر منتقل کروائی' تسمے والے بوٹ پہننا شروع کئے، کلین شیو کروائی، ایک رنگ کی جرابیں پہننا شروع کیں، شلوار قمیض کی جگہ پینٹ پہننا شروع کی لیکن تم نے ہمیشہ مجھے 'ایزی' لیا۔ میرے دل کی ملکہ!میں نے بہت کوشش کی کہ ایک دفعہ' صرف ایک دفعہ تم ویلیںٹائن پر مجھے پھول دے دو یا مجھ سے پھول لے لو، لیکن تم نے میری اتنی سی بات بھی نہیں مانی، اللہ کرے تمہیں بھی ایسے ہی کسی سے محبت ہو اور وہ بھی تمہیں ایسے ہی ذلیل کرئے۔ میں نے تمہاری محبت حاصل کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کیے، "محبوب آپ کے قدموں" والے سارے عامل میں نے آزما لئے لیکن الٹا اثر ہوا،محبوب کی بجائے عاشق قدموں میں جا پڑا، یاد ہے میں ہر دفعہ پھول لے کر تمہارے پاس جاتا تھا اور تم میری محبت کی قدر کرنے کی بجائے اپنا کتا مجھ پر چھوڑ دیتی تھیں، تمہارا کتا بھی کسی کتے کا بچہ ہے جسے ذرا تمیز نہیں کہ عاشق اور چور میں کیا فرق ہے، تمہارا کتا جس وارفتگی سے مجھ پر جھپٹتا تھا اس کی وجہ مجھے بعد میں سمجھ آئی۔ اصل میں مجھے ایک عامل نے کہا تھا کہ اگر تم اپنی محبوبہ کے سر کا بال لے آؤ تو میں اس پر ایسا منتر پڑھوں گا کہ وہ بے چین ہو کر تمہارے پاس آ جائے گی۔ میرے لئے تمہارے سر کا بال حاصل کرنا تمہیں حاصل کرنے سے بھی زیادہ مشکل تھا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری ،روز موقع کی تلاش میں رہنے لگا،ایک دن تمہاری ملازمہ گھر کا کچرا پھینکنے گئی تو میں نے دیکھا ایک بھورے رنگ کا لمبا سا بال بھی کچرےمیں موجود ہے، میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ تم اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہو لہذا یہ بال تمہارے علاوہ کسی کا نہیں ہو سکتا۔ میں نے بڑی مشکل سے کچرے میں سے وہ بال نکال لیا اور سیدھا عامل بابا کے پاس پہنچا،انہوں نے میری ہمت کی تعریف کی اور مبلغ پندرہ سو کے عوض اس بال پر منتر پڑھ دیا، وہ توچھ ماہ بعد یہ خوفناک حقیقت کھلی کہ وہ بال تمہارا نہیں بلکہ تمہارے کتے کا تھا ۔ میں بھی تو کہوں بدبخت چھ میل دور سے بھی میری خوشبو کیسے سونگھ لیتا ہے۔
    میرے سپنوں کی رانی! میرا خدا جانتا ہے کہ تم ہی میرا تقریباً آخری پیار ہو، مجھے پتہ ہے تمہیں شعرو شاعری بڑی پسند ہے،آہ۔۔۔۔۔ میں کبھی تمہیں نہ بتا سکا کہ میں خود کتنا بڑا شاعر ہوں، یہ شعر میرا ہی ہے "زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں" میں نے تو بعد از وفات بھی تمہیں لگاتار چاہوں گا۔ دیکھ لو میری وفات کا وقت آ گیا ہے میں اس دنیا سے منہ موڑ رہا ہوں آج کے بعد کوئی تمہاری یاد میں آنسو نہیں بہائے گا، کوئی تمہارے گھر کی دیوار پر خون سے شعرنہیں لکھے گا، کوئی تمہارے لئے روز نہیں نہائے گا ،کوئی اپنے باپ کی جیب سے پیسے چرا کر تمہارے لئے پھول نہیں لائے آئے گا۔۔۔۔ کہانی ختم ہو گئی ہے!
    مجھے احساس ہو گیا ہے میں تو تمہارے لئے بنا ہوں لیکن تم میرے لئے نہیں بنی تم میرے علاوہ جس کے لئے بھی بنی ہو اللہ اس کا بے تحاشہ اوربہترین بیڑاغرق کرے، خیر! اب ان باتوں سے کیا فائدہ یہ آخری خط اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ تمہیں پتہ چل سکے کہ تم نے کتنا بڑا ہیرا ٹھکرا دیا ہے، یقینا تمہاری ساری زندگی پچھتاوے کی آگ میں جھلستے ہوئے گزرے گی،تم راتوں کو اٹھ اٹھ کر میری یاد میں رویا کرو گی، تمہیں ،فریج، ٹی وی،صوفے، ڈائنگ ٹیبل اور چمٹے میں بھی میری ہی تصویر نظر آئے گی لیکن وقت گزر چکا ہوگا۔ تمہارا یہ عاشق منوں مٹی تلے دب چُکا ہوگا ،میری بس اتنی گزارش ہے کہ میرے جنازے پر ایک دفعہ ضرور آنا ،بلکہ ہو سکے تو میرے جنازے کو کندھا بھی دینا، میری قبر بھی کھودنا اور قبر میں اُتر کر لمبائی چوڑائی بھی چیک کرنا۔ تمہارا یہ عاشق تمہارا منتظر رہے گا، مرنے کے بعد بھی تمہیں میری آنکھیں کھلی ہوئی ملیں گی، ڈر کے بھاگ نہ جانا بلکہ سمجھ لینا کہ یہ آنکھیں تمہارے انتظار میں کھلی ہوئی ہیں۔۔۔ اور ہاں۔۔۔ ہر ویلنٹائن ڈے پر میری قبر پر پھول ضرور چڑھانے آنا۔
    میری شہزادی میرے ہاتھوں میں اب بھی ڈیڑھ سو روپے والا گلدستہ ہے لیکن یہ اب کسی کام کا نہیں' میں اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرنے والا ہوں لیکن خدا کے لئے تم میرے جانے کی خبر سن کر اپنی زندگی کا خاتمہ نہ کرلینا، اگر ایسا ہوا تو میں دوبارہ مر جاؤں گا، میرا خیال ہے مجھے "آتما ہتھیا" سے پہلے اس خط کے جواب کا انتظار کرنا چاہئیے، اگر یہ خط بھی تمہارے دل میں جمی برف نہ پگھلا سکے تو میں یہیں بیٹھا ہوں، انتقال فرما کر ہی جاؤں گا۔ اگر تم چاہتی ہو کہ میں ڈیڈ باڈی میں تبدیل نہ ہو جاؤں تو پلیز اپنے موبائل سے مجھے مسڈ کال دے دو' اگر موبائل کا بیلنس ختم ہو تو بیشک
    واٹس اپ پر ہی ایک بیل دے دینا ۔میں دس منٹ کے لئے موبائل ڈیٹا آن کر رہا ہوں۔ اگر تمہاری کال آ گئی تو تمہارا یہ عاشق پھول لے کر ہوا میں اڑتا ہوا تمہارے پاس آ جائے گا۔ پلیز دیر نہ کرنا، میں تمہاری ملازمہ کے ہاتھ یہ خط بھیج رہا ہوں، ویلنٹائن ڈے پر تمہیں سارے گلے شکوے ختم کر کے میرے پھول قبول کرنے چاہئیے ورنہ دنیا تمہیں پینڈو سمجھے گی ۔ زیادہ لکھے کو تھوڑا سمجھنا اور کوشش کرنا کہ آتے ہوئے روٹی پر تھوڑا سا سالن رکھ کے لے آؤ،خودکشی کے چکر میں صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔ فقط'تمہارا مقدر۔ شکیل پریمی
    ویسے ہی تمھیں وہم ہے کہ افلاک نشیں ہیں
    تم لوگ بڑے لوگ ہو ھم خاک نشیں ہیں

  2. #2
    Site Managers
    Points: 64,523, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.9%
    Achievements:
    SocialCreated Blog entryVeteranOverdriveTagger First Class
    Awards:
    Activity Award


    Join Date
    Apr 2008
    Location
    قطر
    Posts
    20,146
    Points
    64,523
    Level
    100
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    43 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    واہ واہ۔
    کیا بہترین خط لکھا ہے مسٹر پریمی نے۔

    آگے کی کہانی بھی بیان کرنی چاہئے گل نوخیز اختر کو۔

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
    صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں

  3. #3
    Sisters Society
    Points: 5,931, Level: 49
    Level completed: 91%, Points required for next Level: 19
    Overall activity: 55.0%
    Achievements:
    SocialOverdriveCreated Blog entry5000 Experience Points1 year registered


    Join Date
    Aug 2016
    Location
    U.K.
    Posts
    2,243
    Points
    5,931
    Level
    49
    Blog Entries
    1
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    میں نے تو بعد از وفات بھی تمہیں لگاتار چاہوں گا


    ہاہاہاہا
    زبردست شعر ہے
    I usually give people more chances than they deserve
    But once I'm done,I'm done.

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •