Thanks Thanks:  7
Likes Likes:  8
Results 1 to 10 of 10

Thread: سٹیفن ہاکنگ-دور حاضر کا آئن سٹائن

  1. #1
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,350
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    سٹیفن ہاکنگ-دور حاضر کا آئن سٹائن



    #سٹیفن_ہاکنگ .....!(دور حاضر کا آئن سٹائن)سٹیفن ہاکنگ اس وقت آئن سٹائن کے بعد دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان ہے، اسے دنیا کا سب سے ذہین شخص بھی کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا، یہ کائنات ابھی نامکمل ہے اور دنیا میں روزانہ نئے سیارے جنم لے رہے ہیں۔ قرآن مجید کی اس تھیوری کو سٹیفن ہاکنگ نے ثابت کیا تھا۔ اس نے کائنات میں ایک ایسا " بلیک ہول " دریافت کیا جس سے روزانہ نئے نئے سیارے جنم لے رہے ہیں، اس نے اس بلیک ہول میں ایسی شعاعیں بھی دریافت کیں جو کائنات میں بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہیں، یہ شعاعیں سٹیفن ہاکنگ کی مناسبت سے " ہاکنگ ریڈایشن " کہلاتی ہیں ...!وہ فزکس اور ریاضی کا ایکسپرٹ ہے اور دنیا کے تمام بڑے سائنسدان اسے اپنا گرو سمجھتے ہیں لیکن یہ اس کی زندگی کا محض ایک پہلو ہے، اس کا اصل کمال اس کی بیماری ہے، وہ ایم ایس سی تک ایک عام درمیانے درجے کا طالب علم تھا، اسے کھیلنے کودنے کا شوق تھا، وہ سائیکل چلاتا تھا، فٹ بال کھیلتا تھا، کشتی رانی کے مقابلوں میں حصہ لیتا تھا اور روزانہ پانچ کلومیٹر دوڑ لگاتا تھا۔ وہ 1963ءمیں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا، وہ ایک دن سیڑھیوں سے نیچے پھسل گیا اور اسے ہسپتال لے جایا گیا وہاں اس کا طبی معائنہ ہوا تو پتہ چلا وہ دنیا کی پیچیدہ ترین بیماری " موٹر نیوران ڈزیز " میں مبتلا ہے ...!یہ بیماری طبی زبان میں " اے ایل ایس " کہلاتی ہے۔ اس بیماری کا دل سے تعلق ہوتا ہے، ہمارے دل پر چھوٹے چھوٹے عضلات ہوتے ہیں، یہ عضلات ہمارے جسم کو کنٹرول کرتے ہیں، اس بیماری کے انکشاف سے پہلے سائنسدان دماغ کو انسانی جسم کا ڈرائیور سمجھتے تھے لیکن بیسویں صدی کے شروع میں جب " اے ایل ایس " کا پہلا مریض سامنے آیا تو پتہ چلا انسانی زندگی کا مرکز دماغ نہیں بلکہ قلب ہے اور دنیا کے تمام مذہب ٹھیک کہتے تھے انسان کو دماغ کی بجائے دل پر توجہ دینی چاہئے۔
    دل کے یہ عضلات " موٹرز " کہلاتے ہیں اگر یہ ”موٹرز“ مرنا شروع ہو جائیں تو انسان کے تمام اعضا ایک، ایک کر کے ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں اور انسان خود کو آہستہ آہستہ مرتے دیکھتا ہے۔ اے ایل ایس کے مریض کی زندگی دو سے تین سال کی مہمان ہوتی ہے، دنیا میں ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ...!
    سٹیفن ہاکنگ 21 سال کی عمر میں اس بیماری کا شکار ہوا تھا، سب سے پہلے اس کے ہاتھ کی انگلیاں مفلوج ہوئیں، پھر اس کے ہاتھ، پھر اس کے بازو، پھر اس کا بالائی دھڑ، پھر اس کے پاﺅں، پھر اس کی ٹانگیں اور آخر میں اس کی زبان بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔ یوں وہ 1965ء میں ویل چیئر تک محدود ہو گیا، پھر اس کی گردن دائیں جانب ڈھلکی اور دوبارہ سیدھی نہ ہو سکی۔ وہ 1974ءتک خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کا محتاج ہو گیا۔ آج اس کے پورے جسم میں صرف پلکوں میں زندگی موجود ہے، یہ صرف پلکیں ہلا سکتا ہے ...!ڈاکٹروں نے اسے 1974ء میں”گڈ بائی“ کہہ دیا لیکن ہاکنگ نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے زندہ رہنے، آگے بڑھنے اور اس معذوری کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان بننے کا فیصلہ کیا چنانچہ اس نے ویل چیئر پر کائنات کے رموز کھولنا شروع کئے تو سائنس حیران رہ گئی۔ کیمبرج کے کمپیوٹر سائنسدانوں نے ہاکنگ کیلئے ”ٹاکنگ“ کمپیوٹر بنایا، یہ کمپیوٹر اس کی ویل چیئر پر لگا دیا گیا، یہ کمپیوٹر اس کی پلکوں کی زبان سمجھتا ہے، سٹیفن اپنی سوچ کو پلکوں پر شفٹ کرتا ہے، پلکیں ایک خاص زاویے اور ردھم میں ہلتی ہیں، یہ ردھم لفظوں کی شکل اختیار کرتا ہے، یہ لفظ کمپیوٹر کی سکرین پر ٹائپ ہوتے ہیں اور بعد ازاں سپیکر کے ذریعے نشر ہونے لگتے ہیں چنانچہ سٹیفن ہاکنگ دنیا کا واحد شخص ہے جو اپنی پلکوں سے بولتا ہے اور پوری دنیا اس کی آواز سنتی ہے ...!سٹیفن ہاکنگ نے پلکوں کے ذریعے اب تک بے شمار کتابیں لکھیں، اس نے ”کوانٹم گریوٹی“ اور کائناتی سائنس (کاسمالوجی) کو بے شمار نئے فلسفے بھی دئیے، اس کی کتاب ”اے بریف ہسٹری آف ٹائم“ نے پوری دنیا میں تہلکا مچا دیا تھا، یہ کتاب 237 ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر کتاب رہی اوردنیا بھر میں ناول اور ڈرامے کی طرح خریدی اور پڑھی گئی ...!سٹیفن ہاکنگ نے 1990ءکی دہائی میں ایک نیا کام شروع کیا، اس نے مایوس لوگوں کو زندگی کی خوبصورتیوں کے بارے میں لیکچر دینا شروع کئے، دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں، ادارے اور فرمز ہاکنگ کی خدمات حاصل کرتی ہیں، ہاکنگ کی ویل چیئر کو سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کے سامنے سٹیج پر رکھ دیا جاتا ہے اور وہ کمپیوٹر کے ذریعے لوگوں کو بتاتا ہے کہ :
    ” اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں، اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں، اگر میں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضاء سلامت ہیں، جو چل سکتے ہیں، جو دونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے، جو کھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اور جو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں ..
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  2. #2
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,350
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  3. #3
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,427
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    نائس شئیرنگ جی
    ‏رفاقتیں کبھی پابندِ سلاسل نہیں ہوتیں
    جگنو قید میں رکھ کر نہیں پالے جاتے



    "Don't consider my kindness as my weakness.
    The beast in me is sleeping, not dead."


  4. #4
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,350
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    معروف برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
    سٹیفن ہاکنگ بلیک ہولز اور نظریہ اضافیت کے بارے میں گراں قدر خدمات کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے سائنس کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں جن میں ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ بھی شامل ہے۔
    سٹیفن ہاکنگ کے خاندان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے پیارے والد آج چل بسے ہیں جس پر ہمیں دلی افسوس ہے۔‘
    سنہ 1963 میں 22 برس کی عمر میں جب انھیں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تو اس وقت طبی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ صرف چند ماہ ہی زندہ رہ سکیں گے۔
    اس بیماری کے شکار صرف پانچ فیصد لوگ بھی مرض کی تشخیص کے بعد ایک دہائی سے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکے۔ زیادہ تر لوگ اس بیماری کی تشخیص کے چند سالوں کے اندر اندر مر جاتے ہیں۔
    اس بیماری کے باعث سٹیفن ہاکنگ ویل چیئر تک محدود ہو گئے اور بول چال کے لیے طبی آلات کا استعمال کرتے رہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر ہاکنگ اس بیماری کے ساتھ تقریباً نصف صدی تک زندہ رہے جو آہستہ آہستہ جسم کے ان پٹھوں کو کمزور کرتی ہے جو اعصاب کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کا اس طرح زندہ رہنا ایک ’معجزہ‘ تھا۔
    سٹیفن ہاکنگ کو نظریاتی فزکس میں آئن سٹائن کے بعد سے سب سے باصلاحیت سائنسدانوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔
    ان کے بچوں لوسی، رابرٹ اور ٹم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’وہ ایک عظیم سائنسدان اور ایک غیرمعمولی آدمی تھے جن کا کام اور وراثت آنے والے سالوں میں زندہ رہے گی۔‘
    بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ایک بار کہا تھا: 'اگر یہ کائنات ان لوگوں کا گھر نہ ہوتی جن سے آپ محبت کرتے ہیں تو یہ ایسی نہ ہوتی۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ہمیشہ ان کی کمی محسوس کریں گے۔‘
    2016 میں انھوں نے کہا تھا کہ ’انسانیت کو انسان کی اپنی تخلیقات کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہے‘۔
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  5. #5
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    17,350
    Blog Entries
    20
    Mentioned
    13 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    معروف برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی جانب سے کی جانے والی آخری نصیحت میں انھوں نے کہا تھا کہ انسانوں کو کسی بھی اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنے چاہیے۔سنہ 2010 میں ڈسکوری چینل کے لیے فلمائی جانے والی ایک ڈاکیومنٹری میں سٹیفن ہاکنگ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انسانوں کے علاوہ یقیناً کوئی نہ کوئی مخلوق کہیں ضرور آباد ہے۔ لیکن اس کے ساتھ انھوں نے انسانوں کو خبردار کیا تھا کہ ایسی کسی بھی مخلوق سے رابطے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔سٹیفن ہاکنگ کا موقف تھا کہ ایسی مخلوق بنی نوع انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مخلوق انسانوں سے چالاک ہوسکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ زمین پر آکر ہمارے وسائل چھین کر لے جائیں۔سٹیفن ہاکنگ کے مطابق اگر کوئی ایسی مخلوق زمین پر آتی ہے تو انسانوں کے ساتھ وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ ہوا تھا، جو یقیناً اچھا نہیں تھا۔پروفیسر سٹیفن ہاکنگ کا موقف تھا کہ اجنبی مخلوق کے ساتھ رابطوں کی کوشش کے بجائے انسانوں کو ان سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ان کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی مثال ہی لیں تو ہم نے کتنی ترقی کی ہے اگر کوئی اور ذہانت والی مخلوق آتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ ایس صورت آحتیار کرلے جس کو ملنا شاید ہم پسند نہ کریں۔خیال رہے کہ سائنسدانوں کی جانب سے خلا میں ایسے مشن بھیجے گئے ہیں جن پر انسانوں کی تصاویر کے ساتھ زمین تک پہنچنے کے نقشے بھی تھے۔اس کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسرے سیاروں پر آباد مخلوق کے سے رابطہ کرنے کی نیت سے خلا میں ریڈیو بیمز بھی بھیجی گئی ہیں۔پروفیسر ہاکنگ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا کہ کوئی اور مخلوق بھی کہیں آباد ہے بلکل منطقی ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کیسی ہے۔
    ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موئے
    اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

    بگھت کبیر


  6. #6
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,938
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    یہاں اطلاع دینے کے لیے شکریہ سسٹر
    اسٹیفن ہاکنگ یقیناً موجودہ دور کے ایک عظیم سائنسدان تھے۔ ان کی فزکس اور سائنس کے لیے جو خدمات ہیں وہ تو قابل قدر ہیں ہی ، ایک زمانہ ان کی ذہانت کا معترف ہے۔ میرے نزدیک وہ بہادری، ہمت، حوصلے اور پوزیٹیویٹی کی ایک مثال تھے۔ اپنی بیماری کا جس طرح ڈٹ کے آپ نے سامنا کیا اور اسے کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لوگ انہیں آئن اسٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنسدان قرار دیتے ہیں لیکن ہمت، حوصلے میں آپ آئن اسٹائن سے بڑھ کے تھے۔ اتنی شدید بیماری کے باوجود آپ دنیا سے کچھ لینے کی بجائے دنیا کو بہت زیادہ کچھ دے کے گئے۔آپ جیسے انسان کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔ اسٹیفن ہاکنگ بس ایک ہی تھا۔
    جب سے یہ خبر سنی ہے بہت دکھ ہو رہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک اگلے جہاں میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  7. #7
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    On earth
    Posts
    20,956
    Blog Entries
    14
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    Quote Originally Posted by rubab View Post
    یہاں اطلاع دینے کے لیے شکریہ سسٹر
    اسٹیفن ہاکنگ یقیناً موجودہ دور کے ایک عظیم سائنسدان تھے۔ ان کی فزکس اور سائنس کے لیے جو خدمات ہیں وہ تو قابل قدر ہیں ہی ، ایک زمانہ ان کی ذہانت کا معترف ہے۔ میرے نزدیک وہ بہادری، ہمت، حوصلے اور پوزیٹیویٹی کی ایک مثال تھے۔ اپنی بیماری کا جس طرح ڈٹ کے آپ نے سامنا کیا اور اسے کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لوگ انہیں آئن اسٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنسدان قرار دیتے ہیں لیکن ہمت، حوصلے میں آپ آئن اسٹائن سے بڑھ کے تھے۔ اتنی شدید بیماری کے باوجود آپ دنیا سے کچھ لینے کی بجائے دنیا کو بہت زیادہ کچھ دے کے گئے۔آپ جیسے انسان کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔ اسٹیفن ہاکنگ بس ایک ہی تھا۔
    جب سے یہ خبر سنی ہے بہت دکھ ہو رہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک اگلے جہاں میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔




    بنی نوع انسان کے لئے اس کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح سائنس کے حوالے سے اس نے جو گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں یقینا قابل قدر ہیں لیکن جس اگلے جہان کا وہ قائل ہی نہیں تھا آپ زبردستی اس کے لئے اس جہان میں آسانی کی دعا کیوں کر رہی ہیں؟
    وہ اس جہان تو کیا اس کے خالق یعنی اللہ کے وجود کا ہی منکر تھا۔ جنت، جہنم، حیات بعد الموت کسی بھی نظریئے کا قائل نہیں تھا۔
    الحاد پر اس کی موت ہوئی ہے۔
    حیف صد حیف کہ کائنات کے اتنے سارے رموز سے واقفیت کے باوجود وہ اس کائنات میں پوشیدہ وظاہر نشانیوں سے خدا کو نہ پہچان سکا۔

  8. #8
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,938
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    اس لئے کہ میں قائل ہوں کوئی اور ہو نہ ہو۔ مرنے کے بعد کا معاملہ اللہ اور مرنے والے کے درمیان ہے۔ میں اچھے کا گمان رکھتی ہوں کیونکہ وہ ذات وہ سب کچھ بھی جانتی ہے جو میں نہیں جانتی ۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  9. #9
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    50,909
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    مجھے تو یہ بات عجیب لگتی ہے۔
    اتنا ذہین بنایا اللہ پاک نے اس کو۔۔
    ساتھ ہی عمر بھر کی معذوری دیدی۔
    یا تو ہم جیسے عام بندوں کے لیے عبرت ہو۔۔ یا پھر سیکھ کہ جو ہے اللہ ہے۔
    جس سے جیسا چاہے کام لے لے۔۔
    یا اس کو معذوری اس لیے دی کہ صرف اس کا ذہن کام کرے اور وہ بھی پوزیٹو۔۔
    ساری دنیا جہان کے ناشکروں کے لیے جو ہر روز ہر گام پہ صرف اور صرف شکوے کرتے ہیں۔۔ شکر کرنا بھول جاتے ہیں۔

    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  10. #10
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,427
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Rubab View Post
    اس لئے کہ میں قائل ہوں کوئی اور ہو نہ ہو۔ مرنے کے بعد کا معاملہ اللہ اور مرنے والے کے درمیان ہے۔ میں اچھے کا گمان رکھتی ہوں کیونکہ وہ ذات وہ سب کچھ بھی جانتی ہے جو میں نہیں جانتی ۔
    بے شک دنیاوی علم کا بہت ماہر تھا
    اس کے علم سے انسانوں کو فائدہ ہوگا

    لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالی حق کو نہ پہچان سکنے اور اسی حالت میں مر جانے والے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے

    سورة البقرہ
    بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا یہی لوگ ہیں کہ ان پر الله لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (۱۵۹) مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور ظاہر کر دیا پس یہی لوگ ہیں کہ میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بڑاتوبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں (۱۶۰) بے شک جنہوں نے انکار کیا اور انکار ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو ان پر الله کی لعنت ہے اور فرشتوں اور سب لوگوں کی بھی (۱۶۱) وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے (۱۶۲


    اللہ تعالی خود لعنت فرما رہے ہیں

    سورة آل عمران
    جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا ﴿۹۱﴾
    ‏رفاقتیں کبھی پابندِ سلاسل نہیں ہوتیں
    جگنو قید میں رکھ کر نہیں پالے جاتے



    "Don't consider my kindness as my weakness.
    The beast in me is sleeping, not dead."


Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •