ہیلی کاپٹر والدین

درختوں اور پودوں کو نشوونما پانے کیلئے دھوپ اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بچوں کو بھی نشوونما کیلئے محبت ، توجہ اور خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت اور توجہ دینے سے بچے کی شخصیت میں خلاء پیدا نہیں ہوتا ۔یہ قدرتی امر ہے کہ والدین اپنے بچوں کو محفوظ اور صحت مند رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن بعض اوقات ضرورت سے زیادہ حساس اور فکر مند ہو جاتے ہیں۔ایسے والدین بچوں سے اپنی محبت کو پریشانی میں تبدیل کر کے ایسے انداز تربیت کو اپنا لیتے ہیں جو کہ بچوں کی شخصیت میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔نفسیات میں ان کو ہیلی کاپٹر والدین کہا جاتا ہے۔

توآئیے جانتے ہیں کہ کہیں ہمارا شمار بھی ان والدین میں تو نہیں ہے؟ایسے والدین کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے کہ یہ بچوں کے چھوٹے چھوٹے کام خود کرتے ہیں،جو کہ بچوں کو خود کرنے چاہیءں ۔مثال کے طور کھلونے سمیٹنا،جوتے پہننا۔یہ والدین بچوں کے ہوم ورک خود کرتے ہیں ۔ان کے سکول کے پراجیکٹ خود کرتے ہیں۔ان کے اساتذہ کو بتاتے رہتے ہیں کہ ان کہ بچے کو کس طرح پڑھانا ہے؟کس طرح بچے کے ساتھ پیش آنا ہے۔بچے اگر لنچ باکس بھول جائیں تو سکول دے کر آتے ہیں ،بلکہ کچھ والدین تو اپنے سامنے بٹھاکر لنچ کھلاتے ہیں۔یہ اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ کسطرح دوستوں کے ساتھ کھیلنا ہے۔اگر بچے کی دوستوں کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو اس میں دخل اندازی کرتے ہیں۔اپنے بچوں کو دوسرں کے مقابلے میں خاص تصور کرتے ہیں۔بچہ اگر کوئی نیا کام یا تجربہ کرناچاہے ناکامی کے ڈر سے اس کو منع کر دیتے ہیں۔اگر بچے کو کوئی مئلہ در پیش ہو تو اس کو حل کرنے کے لیے والدین تیار ہو جاتے ہیں۔والدین بچے کے کھیل سے لے کر تعلیمی سرگرمیوں تک دخل اندازی کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔بچوں کو ہر وقت نصیحت کرتے رہتے ہیں۔بچے کے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے سے لے کر یہ سلسلہ بچے کے جوان ہونے تک جاری رہتا ہے۔ان کے کالج کے فارم تک خود فلِ کرتے ہیں۔بچے کی پیشہ وارنہ زندگی کی شروعات میں ہی پروفیشنل پروفائل اور انٹرویو کی تیاری اپنے ذمے لے لیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ والدین ایسا کیوں کرتے ہیں؟وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں عدم تحفظ اور مقابلے کا رجحان بڑھتا جا رہاہے کیونکہ والدین اپنے بچوں کوزندگی کے ہر میدان میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بچوں کے ناکام ہونے سے ڈرتے ہیں۔کہیں بچے ناکامی سے مایوس نہ ہوجائیں،یہ سوچ والدین کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ان کی مدد کریں۔
ڈاکٹر ڈچ جو کہ ایک ماہر نفسیات ہیں ان کے مطابق ’’بچوں کے مستقبل کی پریشانی والدین کو مجبور کو دیتی ہے کہ وہ بچوں کی زندگی پر کنٹرول کریں تاکہ بچے کو ناکامی کاسامنا نہ کرنا پڑے‘‘
وہ والدین جنہیں بچپن میں والدین کی لا پرواہی اور بے رخی کا سامنا کیا ہوتا ہے وہ بھی اپنے بچوں کے بارے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔بعض اوقات دوسرے والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس اور فکرمند دیکھ کر بھی والدین میں احساس بڑھ جاتا ہے کہ وہ اچھے والدین نہیں ہیں اور وہ بچوں کا زیادہ خیال رکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔والدین یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی مدد اور رہنمائی سے بچوں میں خوداعتمادی بڑھ جاتی ہے ۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

ہیلی کاپڑ والدین کی ضرورت سے زیادہ حساسیت بچے میں ایسی عادات کو جنم دیتی ہے جو کہ نہ صرف بچے کی ذاتی زندگی بلکہ اُس کی پیشہ وارانہ زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔والدین چونکہ ہر کام خود کر کے دینے کے عادی ہوتے ہیں تو بچہ اپنا کام خود نہیں کر پاتا ہے۔اس میں سستی کی عادت نمو پاجاتی ہے۔وہ اپنے ذاتی کام سے لے کر پیشہ وارانہ کام تک اپنے والدین کی مدد لینے کے عادی ہوجاتے ہیں۔والدین بچے کا ہر مسلہ خود حل کرتے ہیں تو بچہ اپنے مسائل کو خود حل کرنے کے قابل نہیں رہتا۔وہ چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے سے کتراتا ہے۔اسے اپنے اوپراعتماد نہیں ہوتا۔والدین اسکے ہر کام کے شیڈول کو خود طے کرتے ہیں توبچہ ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی کے کاموں کو خود منظم نہیں کر پاتا ہے۔والدین بچے کو ہر وقت ناکامی سے بچانے کی کوشش میں نئے تجربات کرنے سے روکتے ہیں تو بچہ آرام دہ ماحول کا عادی ہوجاتا ہے اوربچہ غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے جب بچہ کو غلطیاں کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گاتو زندگی کے کسی بھی میدان میں وہ کامیاب نہیں ہو گا۔بچہ خود مختار نہیں ہوتا ہے،اس کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی ہے۔والدین بچے کو بتاتے رہتے ہیں کہ اس نے کس سے تعلقات رکھنے ہیں اور کس سے نہیں تو بچہ کسی سے صحت مندانہ تعلقات بنا نہیں پاتااور وہ تنہائی پسندہوجاتا ہے۔ان عادات کی وجہ سے بچے کوجب مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے تو مایوسی ،پریشانی اورڈیپرشن میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ ’’جو والدین اپنے بچوں کیلئے سب کچھ کرتے ہیں ان کے بچے ان کیلئے کچھ نہیں کر پاتے ‘‘کیونکہ والدین کے اندازتربیت کی وجہ سے بچے اس قابل ہی نہیں ہو پاتے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر طور پر گزار سکیں تو وہ کس طرح دوسروں کو آسانیاں دے سکیں گے ۔اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی کا محتاج نہ ہو ،وہ پرُاعتمادہو،وہ زندگی کو بوجھ نہ سمجھے بلکہ زندگی کو چیلنج سمجھتے ہوئے اس سے لطف اٹھا سکے۔وہ دوسروں کی دلچسپیوں میں شریک ہو سکے تو ایسے والدین کو اپنااندازتر بیت تبدیل کرنا ہو گا۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اپنی عمر کے حساب سے اپنے کام خود کرنے دیں۔ان کو محنت کا عادی بنائیں۔بچوں کو غلطیاں کرنے دیں کیونکہ بچے غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔انہیں اپنے فیصلے خود کرنے دیں تاکہ ان کے اندر قوت فیصلہ پیدا ہو سکے۔انہیں اپنے کاموں کے شیڈول کو خود منظم کرنے دیں۔انہیں روپے پیسے کے حساب کتاب کا عادی بنائیں،بچوں کو بازار لے کر جائیں کہ وہ اپنے لئے خریداری کریں۔بچوں کو اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے دیں۔بچے کی ملاقات مختلف لوگوں سے کروائیں تاکہ وہ دوسروں سے تعلقات بنانا سیکھیں۔بچے کو احساس دلائیں کہ وہ بہت ذہین اور قابل ہے اور اس کی خوبیوں کے بارے میں اسے آگاہ کریں۔بچے کو اعتماد کی طاقت دیں اور اس کی عمر کے حساب سے ذمہ داری سونپیں۔بچہ جب ان کو احسن طریقے سے پورا کر لے تو اس کی تعر یف اور حوصلہ افزائی کریں،اس سے بچہ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
بقول ڈاکٹر نور من پیل کے ’’انسان صحیح معنوں میں زندہ رہنا اس وقت شروع کر دیتا ہے جب وہ اپنے اوپر اعتماد کرنا شروع کر تا ہے‘‘