Thanks Thanks:  2
Likes Likes:  34
Results 1 to 12 of 12

Thread: عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Location
    Lahore
    Posts
    7,335
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    7 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

    انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

    پاکستان میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور حقوق انسانی کی کارکن عاصمہ جہانگیر 66 برس کی عمر میں اتوار کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منزے جہانگیر نے اپنی والدہ کے انتقال کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں اور ان کے بھائی نے انھیں اس خبر سے
    آگاہ کیا۔
    اطلاعات کے مطابق عاصمہ جہانگیر کی طبیعت اتوار کو اچانک خراب ہوئی جس کی وجہ سے انھیں ہستپال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
    عاصمہ جہانگیر 27 جنوری سنہ 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں تھیں۔
    انسانی حقوق کمیشن کی سابق سربراہ عاصمہ جہانگیر پاکستانی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہونے والی پہلی خاتون وکیل بھی تھیں۔
    عاصمہ جہانگیر پاکستان میں حقوقِ انسانی کی علمبردار اور سکیورٹی اداروں کی ناقد کے طور پر پہچانی جاتی رہی ہیں۔
    عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
    ان کے انتقال کی خبر آتے ہی سماجی کارکنوں، سیاسی شخصیات اور وکلا کی جانب سے تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں لوگ دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔
    پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔
    انٹرنیٹ ذرائع
    کس نے کس کا ۔۔۔سکون لوٹا
    آؤ بیٹھیں! حساب کرتے ہیں




  2. #2
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    اناللہ وانا الیہ راجعون۔
    نظریات سے قطع نظر۔۔ وہ ایک صاف گو خاتون تھیں۔۔۔ جس کے لیے بہت ہمت درکار ہوتی ہے۔

    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  3. #3
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,582
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اناللہ وانا الیہ راجعون۔
    اختلاف اپنی جگہ
    بے شک صاف گو خاتون تھیں
    ہمارے معاشرے میں صاف گوئی کو ویسے ہی پسند نہیں کیا جاتا اوپر سے خاتون اس لیے زیادہ لوگوں کو پسند نہ تھیں
    یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے اگر ہوئے تو ہوئے
    تمھارا کیا ہے کوئی ہو گا، کوئی تھا، کوئی ہے
    https://thumbs.gfycat.com/HeartyBest...restricted.gif

  4. #4
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,435
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    اناللہ وانا الیہ راجعون

  5. #5
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    مجاہدہء جمہوریت، انصاف و آزادی محترمہ عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خبر سن کر شدید دکھ کی کیفیت ہے۔ ایسے بہت مواقع دیکھے، جب بڑے بڑے سورماؤں اور جوانمردوں کو سانپ سانگھ گیا۔ ایسے میں بھی اگر ایک آواز سنائی دی تو وہ عاصمہ جہانگیر کی تھی ۔
    حبیب جالب کے بعد اگر کوئی بہادر ترین شخصیت دیکھی ہے تو وہ عاصمہ جہانگیر ہی کی دیکھی ہے ۔
    اللہ تعالٰی درجات بلند فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے. آمین
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  6. #6
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    ہم سب کی ویب سائٹ سے اے وحید مراد کا ایک کالم عاصمہ جہانگیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے۔

    وہ عورت شاعرہ نہ تھی۔ اس نے شاید کبھی زندگی میں یہ شعر نہ پڑھا ہوگا کہ

    جس روز ہمارا کوچ ہوگا
    پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

    مگر وہ ایسے ہی موسموں میں رخصت ہوئی کہ جب شجر بے ثمر ہیں ۔ کوئی پتہ ہے نہ پھول ۔ اور اسلام آباد کا وہ آسمان بارش کی صورت میں زار و قطار آنسو بہا رہا ہے جس فلک کی آلودگی سے پاک آنکھیں گزشتہ چالیس دن سے خشک پڑی تھیں۔ وہ لوگ جو آسمان کے رونے کی دعائیں مانگ رہے تھے انہیں کیا معلوم تھا کہ بادل عاصمہ جہانگیر کے رخصت ہونے پر آئیں گے، اپنے دلوں کے پرچم سرنگوں کرنے ۔
    وہ عورت نہیں رہی جو ایک چیخ تھی ۔ ظلم اور جبر کے خلاف، لاقانونیت اور تشدد کے خلاف، نفرت اور بے امنی کے خلاف، امتیاز اور تفریق کے خلاف، آمریت اور مطلق العنانیت کے خلاف ۔ وہ عورت جو شعورکی روشنی تھی اور اس نے معاشرے کو منور کرنا چاہا تھا۔ وہ عورت جس نے کسی طالع آزما کے سامنے سر نہ جھکایا۔
    شہریوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کے ’جرم‘ میں اس عظیم عورت کو تاریخ کو صرف ’مطالعہ پاکستان‘ میں پڑھنے والی ذہین قوم نے ہر وہ گالی دی جو قدیم وجدید غلیظ لغت میں موجود تھی مگر اس کے پائے استقامت میں لغزش نہ دیکھی گئی ۔ موت سے اڑتالیس گھنٹے پہلے اس کے ساتھ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت ایک میں موجود تھا جہاں اس کو بول ٹی وی کے اینکر کی جانب سے بتایا گیا کہ آپ جانتی ہیں میڈیا ٹرائل کیا ہوتا، آپ کا بھی ہوتا رہا ہے، تو اس عورت نے بے پروا ہو کر جواب دیا کہ بہت ہوا ہے، اور آئندہ بھی ہوگا مجھے فرق نہیں پڑتا ۔
    وہ معاشرہ جہاں عورت ہونا اذیت بنتا جا رہا تھا عاصمہ نے اسے اعزاز بنا دیا۔
    اب وہ بچے یتیم ہوگئے ہیں جن کی مائیں ان کی گمشدگی پر آواز اٹھانے کیلئے عاصمہ جہانگیر سے رابطہ کرتی تھیں۔کمزوروں اور مظلوموں کے سر سے شفقت کا سایہ اٹھ گیا ہے ۔ ظالم کو للکارنے والی آواز خاموش ہوگئی ہے۔ اس ملک کے ہر مظلوم اور کمزور کیلئے وہ ایک سایہ دار شجر تھیں۔ وہ سردیوں کی دھوپ اور گرمیوں کی چھاﺅں جیسی عورت رخصت ہوگئی۔وہ عورت جس کو میں نے ہمیشہ ایک مہربان ماں کے طور پر دیکھا، ایسی ماں جو ہمیشہ مجھے ’وحید صاحب‘ کہہ کر پکارتی تھی۔ وہ عورت جس کو وکیلوں کے ہاسٹل میں ہوٹل چلانے کی قانونی حیثیت پوچھنے والے میرے سوال کبھی کبھی برہم کر دیا کرتے تھے مگر اگلے ہی لمحے وہ سب کچھ بھول جایا کرتی تھی ۔ وہ عورت جس کو میں نے آخری بار جمعرات کے روز فون کرکے تاحیات نااہلی کیس میں دیے دلائل کے حوالوں کی تفصیل جاننا چاہی تو اس کا فون مصروف تھا۔ تین منٹ تک واپس کال نہ آئی تو میں نے دفتر میں ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے میڈم عاصمہ سے میرا فون نمبر ڈیلیٹ ہو گیا ہے، اور ابھی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ میرے فون کی اسکرین پر اس عظیم عورت کا نام نمودار ہوگیا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ میری ان سے آخری گفتگو ہے ۔ فون ریسیو کرتے ہی ان کی توانا آواز گونجی، جی وحید صاحب ۔ اور پھر چارمنٹ تک میرے سوالوں پر جواب دیتی رہیں ۔ اب میں ساری زندگی فون سے ان کا نمبر ڈیلیٹ کرنے کی ہمت نہیں کر پاﺅں گا۔ دل کو یہی گمان رہتا ہے معجزے اب بھی ہوتے ہیں اور کسی دن غلطی سے بھی ان کا نمبر ڈائل ہوگیا تو وہ کال بیک کرلیں گی۔
    وہ عورت جس کی موت سے سوشل میڈیا پر آنسوﺅں کا سیلاب رواں ہے، مگر اسلامی تعلیمات سے ناآشنا کچھ نفسیاتی مریض اس عورت کے تابوت پر تھوکنے میں اپنی غلاظت اپنے چہرے پر مل رہے ہیں۔ آسمان جتنا قد رکھنے والی اس عورت نے زندگی بھر کبھی ان فکری بونوں کی پروا نہیں کی۔ وہ سرخرو ہے، اس نے زندگی اپنے اصولوں پر بسر کی اور ایسی گزاری کہ رشک آتا ہے۔
    سات برس قبل سوات آپریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا کہ اگر آپ کو اپنی رائے کا حق ہے تو طالبان کو کیوں نہیں ۔ بولیں، وحید صاحب، رائے کا حق ہے، لوگوں کو مارنے کا نہیں۔ اور پھر جب آپریشن کے خاتمے پر سوات کے ستائیس سو جوان لاپتہ ہوگئے تو طالبان نے عاصمہ جہانگیر سے رابطہ کیا کہ کوئی وکیل ہمارا مقدمہ لڑنے کیلئے تیار نہیں تب عاصمہ جہانگیر نے بتایا تھاکہ انتیس خاندان سامنے آئے ہیں ان کا مقدمہ لڑوں گی، ریاست کو اپنے بچے لاپتہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    اس عورت کے مرنے پر اگر قومی پرچم سرنگوں نہیں ہوا تو کیا ہوا ۔ اس کی شخصیت ان علامتی چیزوں سے اوپر تھی، وہ من موجی درویش تھی۔ اس کی موت پر کروڑوں لوگ اپنے دلوں کے پرچم جھکائے اس کو رخصت کر رہے ہیں اور آسمان شبنم افشانی کر رہا ہے ۔
    میں اگر شاعر ہوتا تو اس عورت کے اس طرح اچانک چلے جانے پر ایک آفاقی نظم لکھتا مگر مجھ پر شاعری نہیں اتری، میں اس عورت کیلئے دعا مانگتا ہوں
    اے خدا
    تم اس عورت کو جانتے ہو
    وہ عورت جس کو دنیا عاصمہ کہتی تھی
    وہ عورت جہاں گیر ہوگئی
    جس نے زمانے کے ہر جھوٹے خدائی دعوے دار کو للکارا

    وہ عورت
    جس نے تیرے مظلوموں کی داد رسی کیلئے آواز اٹھائی
    جو ہر ظلم کے خلاف باہر نکلی
    جسے ہر مظلوم بلاتفریق رنگ ونسل ملنے آتا تھا
    وہ عورت جو کمزور کی آواز بنی

    اے خدا، ہم نے اس عورت کو بہت دکھ دیے
    وہ عورت جس کا دل مظلوموں کے دکھوں سے بھرا ہوا تھا
    وہ دل جو درد سے پھٹ پڑا، اور جسم کا ساتھ چھوڑ گیا
    وہ عورت زخمی دل لیے تیرے پاس آگئی ہے
    اس کے دل کادرد تم جانتے ہو
    اے خدا، اس عورت کو اپنے باغوں میں داخل فرما



    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین۔۔۔بہت بہادر خاتون تھیں۔۔اور بڑی سے بڑی طاقت کو بھی چیلنج کرنا ان سے ٹکرا جانا۔۔وہ بھی بنا الزام سہے یہ کب ممکن ہے۔۔۔

  8. #8
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور آگے کے مراحل میں آسانی پیدا کرے۔ آمین

    جو اللّٰہ کا حکم



  9. #9
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    34,657
    Blog Entries
    24
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    اناللہ وانا الیہ راجعون





    کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دُھلی خلقت ؟
    میرا تو دَم گُھٹ رھا ھے ، اِن پارساؤں میں

  10. #10
    Sisters Society

    Join Date
    Dec 2016
    Posts
    325
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اناللہ واناالیہ راجعون
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہُ

  11. #11
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    34,657
    Blog Entries
    24
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)


    مرنا تو سب کو ہے

    وہ شروع سے ہی چالاک تھی
    کم بخت
    ہر بار بچ جاتی تھی !
    سڑکوں پہ گھسیٹی گئی
    کپڑے پھاڑے گئے
    نوچی کھسوٹی گئی
    کم بخت
    لوٹ پوٹ کر پھر سر اٹھا کر کھڑی ہو جاتی تھی

    نظریہ پاکستان کا پھندا
    ختم نبوت کا فتوی
    بھارت دوستی کا الزام
    کشمیر دُشمنی کا جال
    کم بخت
    سب سے بچ نکلی

    گھر پہ آئے روز حملے
    فیملی پہ پتھراؤ
    ساتھی ورکروں کی ریشہ دوانیاں
    کم بخت
    کبھی نہ ڈری

    اور آج....
    اُس کے پیروں تلے سے زمین کھینچنے کے خواب دیکھنے والے
    سر جوڑے بیٹھے ہیں
    جنازہ ہوگا یا نہیں
    کفن دیں یا نہیں
    صفیں بنیں گی یا نہیں
    قبر کے کتبے پہ سرکاری مہر لگے گی یا نہیں

    مذہب و ملت کے ٹھیکیدارو
    وہ کم بخت
    پھر سے داؤ کھیل گئی
    وہ تمہاری مُقدس روحوں پہ فاتحہ پڑھ رہی ہے
    وہ اندھے قانون کی آنکھوں والی عورت
    عاصمہ جہانگیر
    آج پھر سے جیت گئی


    ثمینہ تبسم

    کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دُھلی خلقت ؟
    میرا تو دَم گُھٹ رھا ھے ، اِن پارساؤں میں

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Location
    Lahore
    Posts
    7,335
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    7 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Rose View Post


    مرنا تو سب کو ہے

    وہ شروع سے ہی چالاک تھی
    کم بخت
    ہر بار بچ جاتی تھی !
    سڑکوں پہ گھسیٹی گئی
    کپڑے پھاڑے گئے
    نوچی کھسوٹی گئی
    کم بخت
    لوٹ پوٹ کر پھر سر اٹھا کر کھڑی ہو جاتی تھی

    نظریہ پاکستان کا پھندا
    ختم نبوت کا فتوی
    بھارت دوستی کا الزام
    کشمیر دُشمنی کا جال
    کم بخت
    سب سے بچ نکلی

    گھر پہ آئے روز حملے
    فیملی پہ پتھراؤ
    ساتھی ورکروں کی ریشہ دوانیاں
    کم بخت
    کبھی نہ ڈری

    اور آج....
    اُس کے پیروں تلے سے زمین کھینچنے کے خواب دیکھنے والے
    سر جوڑے بیٹھے ہیں
    جنازہ ہوگا یا نہیں
    کفن دیں یا نہیں
    صفیں بنیں گی یا نہیں
    قبر کے کتبے پہ سرکاری مہر لگے گی یا نہیں

    مذہب و ملت کے ٹھیکیدارو
    وہ کم بخت
    پھر سے داؤ کھیل گئی
    وہ تمہاری مُقدس روحوں پہ فاتحہ پڑھ رہی ہے
    وہ اندھے قانون کی آنکھوں والی عورت
    عاصمہ جہانگیر
    آج پھر سے جیت گئی


    ثمینہ تبسم

    زبردست خراج تحسین
    کس نے کس کا ۔۔۔سکون لوٹا
    آؤ بیٹھیں! حساب کرتے ہیں




Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •