سن 2011 کے عید کے موقعے پر ون اردو میگزین کے خصوصی شمارے "عید نمبر" کے لئے لکھی گئی تحریر پیش خدمت ہے۔

ہم نے جو اک عید منائی

بچپن سے سنتے آئے تھے کہ عیدالفطر کی نماز پڑھنے سے پہلے بلکہ عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز مثلاً سویاں، حلوہ یا کھیر وغیرہ کھا کر جانا چاہئے اور عیدالاضحی آئے تو پہلے نماز عید ادا کرنی چاہئے پھر گھر آ کر کوئی چیز کھانی چاہئے۔ یعنی نمازِ عید سے پہلے کچھ نہیں کھانا چاہئے اور جب تک ہم اپنے وطن میں رہے ہر عید پر لگ بھگ یہی معمول رہا لیکن جب خلیجی ریاست قطر آئے اور یہاں کی عیدیں دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ قطر میں عید کے معمولات برصغیر سے بہت مختلف تھے۔
بر صغیر پاک وہند میں نماز عید صبح آٹھ بجے ادا ہوتی ہے بلکہ نو بج جاتے ہیں…… مزید بلکہ یہ کہ…… کئی عیدگاہوں میں تو دس بجے اور ساڑھے دس بجے تک بھی نماز عید ادا ہوتی ہے جبکہ قطر میں نمازِ عید کی ادائیگی کے لئے اس وقت جاگنا پڑتا ہے جس وقت اپنے یہاں تہجد گذار اٹھتے ہیں اور عیدگاہ میں اس وقت پہنچنا پڑتا ہے جب وہاں نمازِ فجر ادا ہوتی ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عیدگاہ کی بجائے سڑک پر نماز ادا کرنی پڑ جائے کیونکہ قطر میں عین اس وقت نماز عید شروع ہو جاتی ہے جبکہ سورج طلوع ہو کر ابھی آنکھیں ہی مل رہا ہوتا ہے اور یہ وقت موسم کے اعتبار سے کبھی صبح پانچ بجے کا ہوتا ہے اور کبھی ساڑھے پانچ یا چھ بجے صبح کا۔ اسی لئے کئی لوگ یہاں رات بھر جاگتے ہیں کہ کہیں نمازِ عید ادا ہونے سے نہ رہ جائے۔ قطر میں ویسے بھی پورے رمضان میں لوگ رات رات بھر جاگنے کے عادی ہیں لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ عید کی رات کبھی آنکھ لگ ہی جاتی ہے اور نمازِ عید کے لئے اٹھنے، تیار ہونے اور عیدگاہ تک پہنچنے میں اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ لوگ عید کی نماز پڑھ کر نکل رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک خوش طبع عزیز کے ساتھ ایک بار یہی واقعہ پیش آیا تو انہوں نے گھبراہٹ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے نمازِ عید پڑھ کر نکلنے والوں سے وہیں گلے ملنا شروع کر دیا تاکہ وہ سب اسی خیال میں رہیں کہ یہ بھی نمازِ عید پڑھ کے نکلے ہیں، تو جب نمازِ عید کے لئے تنگیٔ وقت کا عالم ایسا ہو تو عید سے پہلے سویاں وغیرہ کھا کے کیسے نکلا جا سکتا ہے۔ اس لیے قطر میں اکثر لوگ بغیر کچھ کھائے پئے ہی نمازِ عید کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خطبۂ عید بہت طویل ہوتا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے کئی نمازی خطبے کے دوران بھی اٹھ کر جاتے رہتے ہیں۔
اپنے یہاں تو لوگ اپنے بچوں کو اہتمام کے ساتھ تیار کرکے عیدگاہ میں لے کر جاتے ہیں جبکہ قطر میں یہ حالت ہے کہ نمازِ عید پڑھ کر گھر لوٹیں تو سوئے ہوئے بچوں کو بھی خود ہی جگانا پڑتا ہے۔
برصغیر میں عید کے دن کی بھرپور سرگرمیاں نمازِ عید کے بعد ہی شروع ہوتی ہیں۔ یعنی قریبی عزیزوں سے عید ملنے جانا، بچوں کے لئے کھلونوں، مٹھائی اور چاٹ وغیرہ کی خریداری کرنا، مہمانوں کی میزبانی کرنا وغیرہ۔ عید پر پاک وہند میں گلیاں اور بازار بھی زرق برق لباس پہنے ہوئے بچوں بڑوں سے بھرے ہوئے ملتے ہیں۔ سارا دن باغوں پارکوں میں چہل پہل ہوتی ہے۔ سڑکوں پر ہجوم ہوتا ہے۔ کہیں جھولوں کی سیر ہو رہی ہے، کہیں گاڑیوں، تانگوں وغیرہ پر سوار ہو کر گھوما پھرا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس قطر میں نمازِ عید کے بعد بازاروں اور سڑکوں پر خاموشی کا راج ہوتا ہے۔ لوگ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں گھسے ہوتے ہیں اور ساری رات جاگنے کی کسر گھوڑے بیچ کر سونے کی صورت میں نکال رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران بچے جاگ چکے ہوتے ہیں اور سخت مضطرب ہوتے ہیں کہ اس عید کا کیا کریں؟ نہ کہیں جھولے پڑتے ہیں نہ سڑکوں اور گلیوں میں پھولوں کلیوں کی باراتیں اترتی ہیں نہ رنگا رنگ پکوانوں کی مہک ہوتی ہے اور نہ عید پر ہونے والی دکانوں وغیرہ کی خصوصی آرائش کا اہتمام نظر آتا ہے۔ البتہ قطر میں جہاں کہیں پاکستانی، انڈین، بنگالی مٹھائی فروش اپنی دکانیں سجائے ہوتے ہیں وہاں کسی حد تک وہ نظارہ دیکھنے کو مل جاتا ہے جس کے لئے نگاہیں ترس رہی ہوتی ہیں۔
قطر میں بے کیفی اور بے رونقی کا یہ عالم قریباً سہ پہر تک رہتا ہے۔ پھر سوئے ہوئے شیر جاگتے ہیں اور چڑیا گھر، عجائب گھر، سنیما ہاؤس، پارکوں اور ساحلِ سمندر وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔ عزیزوں سے ملتے ہیں یا پھر گھر میں ٹی وی وغیرہ پر فلمیں دیکھتے یا اِن ڈور گیمز کھیلتے ہوئے عید کے دن کو دھکا دے کر یہ کہتے ہوئے بستروں پر دراز ہو جاتے ہیں؂

رب کا شکر ادا کر بھائی
ہم نے جو اک عید منائی