Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  2
Results 1 to 5 of 5

Thread: عید کی شاعری

  1. #1
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,749
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)

    عید کی شاعری

    السلام علیکم
    عیدالفطر کا موقع ہے۔
    اس حوالے سے کافی ساری شاعری موجود ہے۔

    اس تھریڈ میں آپ سنجیدہ، رنجیدہ، مزاحیہ، اداس، غمگین کسی بھی قسم کی شاعری پوسٹ کر سکتے ہیں۔
    * خسرو *

  2. #2
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,749
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    یہ ہاتھ رُخ سے ہٹاؤ کہ عید آئی ہے
    نظر نظر سے ملاؤ کہ عید آئی ہے

    سہیلیوں کے ، خریداری کے ، عزیزوں کے
    کسی بہانے سے آؤ کہ عید آئی ہے

    کسی کو دیکھ کے بے اِختیار میں نے کہا
    چراغ گھی کے جلاؤ کہ عید آئی ہے

    دو لب ملیں گے ’’ محبت ‘‘ کا لفظ جو بھی کہے
    سنو ! لبوں کو ملاؤ کہ عید آئی ہے

    میں شرط باندھ چکا ہُوں ہِلالِ عید کے ساتھ
    ذِرا نقاب ہٹاؤ کہ عید آئی ہے

    تمہارے دِل میں اَگر سچ میں کوئی چور نہیں
    تو پھر گلے سے لگاؤ کہ عید آئی ہے

    پرانے سارے بہانے ہیں قیسؔ کو اَزبر
    نئے بہانے بناؤ کہ عید آئی ہے

    شہزادقیس کی کتاب "عید" سے انتخاب
    * خسرو *

  3. #3
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,749
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    ایک پردیسی کی چاند رات !!!!۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امی روزوں کے بیچ سیتی تھیں

    کس محبت سے عید کے کپڑے

    دل دھڑکتا تھا آخری روزے !!!۔

    جب بچھڑتی تھی ہم سے افطاری

    چھت پہ مسجد کی بعد از مغرب

    بادلوں کی اندھیر نگری میں

    چاند مل کے تلاش کرتے تھے

    شب گزرتی تھی جاگتے سوتے

    صبح ہوتی تھی کس قدر روشن

    چہرے کھلتے گلاب ہوں جیسے

    گلیاں رنگوں کی کہکشاں جیسی

    جذبے ایسے کہ شہد سے خالص

    ملنا اپنے پرائے لوگوں سے

    سر پہ ماں کا شفیق سایہ بھی

    ماں کے ہاتھوں کو چوم کر عابی

    اُس کے ہاتھوں کا وہ بنا میٹھا

    جس سے ممتا کا رس ٹپکتا تھا

    کس محبت سے ہم وہ کھاتے تھے

    قد میں ابو سے گو میں اونچا تھا

    پھر بھی عیدی مجھے وہ دیتے تھے

    اپنی عیدی کے ٹکڑے کرکے میں

    بہنوں بھائیوں میں بانٹ دیتا تھا

    یار لوگوں کی ٹولیاں اپنی

    جن سے سجتا تھا عید کا میلہ

    ُتو کھلائے تو میں کھلاؤں گا

    ایسے کھاتے تھے کتنی سوغاتیں

    وقت پنچھی بلا کا ظالم ہے

    پر لگا کے اُڑا وہ لمحوں میں

    دانہ اپنے نصیب کا عابی

    ایسا رب نے بکھیر کر پھینکا

    جس کو چنتے پرائے دیسوں میں

    برف اُتری ہے آج بالوں میں

    دور گاؤں میں چاند اُترا ہے

    لوگ کہتے ہیں عید آئی ہے

    باسی کھانا میں کھا کے لیٹا ہوں

    میلے تکیے پہ سر ٹکائے ہوں

    نیند آنکھوں سے دور بیٹھی ہے

    کل کے برتن بھی میں نے دھونے ہیں

    ایک جوڑا خرید لایا تھا

    پہن لوں گا سویرے گر جاگا

    ماں کے میٹھے کی آج بھی خوشبو

    میرے کمرے میں چار سو پھیلی

    مجھ سے کہتی ہے لوٹ آ پگلے

    چھوڑ دے یہ نصیب کے جھگڑے

    دانہ بندے کا پیچھا کرتا ہے

    تیری گلیاں تجھے بلاتی ہیں

    تیرے کپڑوں پہ استری کر کے

    کھول رکھا ہے گھر کا دروازہ

    تیری عیدی سنبھال رکھی ہے
    ......................
    عابی مکھنوی
    * خسرو *

  4. #4
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,749
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    یہ ہاتھ رُخ سے ہٹاؤ کہ عید آئی ہے
    نظر نظر سے ملاؤ کہ عید آئی ہے

    سہیلیوں کے ، خریداری کے ، عزیزوں کے
    کسی بہانے سے آؤ کہ عید آئی ہے

    کسی کو دیکھ کے بے اِختیار میں نے کہا
    چراغ گھی کے جلاؤ کہ عید آئی ہے

    دو لب ملیں گے ’’ محبت ‘‘ کا لفظ جو بھی کہے
    سنو ! لبوں کو ملاؤ کہ عید آئی ہے

    میں شرط باندھ چکا ہُوں ہِلالِ عید کے ساتھ
    ذِرا نقاب ہٹاؤ کہ عید آئی ہے

    تمہارے دِل میں اَگر سچ میں کوئی چور نہیں
    تو پھر گلے سے لگاؤ کہ عید آئی ہے

    پرانے سارے بہانے ہیں قیسؔ کو اَزبر
    نئے بہانے بناؤ کہ عید آئی ہے

    شہزاد قیس کی کتاب "عید" سے انتخاب
    * خسرو *

  5. #5
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,749
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    مہک وَفا کی کوئی پھول سے جدا نہ کرے
    کروں میں عید ترے بن کوئی خدا نہ کرے

    جو چاند دیکھیں تو ہونٹوں کے چار چاند ملیں
    سِوائے شکر کے پلکوں سے کچھ گرا نہ کرے

    گلے ملیں تو کئی صدیوں تک سُکُوت رہے
    رُکیں یوں گردِشیں دَھڑکن تلک چلا نہ کرے

    وُہ بازُو کیا جو سمیٹیں نہ عمر بھر تجھ کو
    وُہ سر ہی کیا ، ترے زانو پہ جو رَہا نہ کرے

    تری جبیں پہ مرے لب قنوتِ عشق پڑھیں
    کسی کی تیرے سِوا جسم اِقتدا نہ کرے

    وِصال و ہجر تو مولا کی دین وُہ جانے
    نماز پیار کی دَھڑکن کبھی قضا نہ کرے

    جدائی ہو تو مری عمر تجھ کو لگ جائے
    وُہ قیسؔ کیا جو حیات عشق میں فنا نہ کرے

    شہزاد قیس
    * خسرو *

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •