صبح راہ چلتے ایک منظر دیکھا تو کچھ یاد آیا۔
کچھ برس قبل رمضان کی بات ہے. جبران مغرب کے اندھیرے میں مسجد سے نکلا تو چیں بجبیں تھا. ماجرا اس کے ننگے پیروں سے ظاہر تھا. بولا
"ایک تو سالا نئی چپل پہن کے مسجد جانا بھی گناہ ہے قسم سے. دوسری چپل بھی نہیں ہے میرے پاس۔ چل یار حیدری تک چل، چپل لے کر آتے ہیں"
ہم چل دیئے. دوسری گلی میں پہنچے ہی تھے کہ یہی کوئی دس برس کے ایک پراگندہ حال بچے نے روک لیا. معصومیت سے کہا
"چپل لو گے صاحب؟"
جبران نے ترنت کہا کیسی چپل.؟
بچے نے شاپر سے چپل نکالی، جو جبران ہی کی مسروقہ چپل تھی. معصوم چور پہ جبران کو اول تو غصہ آیا، دفعتا غصے پہ قابو پاتے ہوئے بولا
"اچھا کتنے کی دوگے؟"
تین سو روپے کی دوں گا
"کہاں سے لائے ہو چپل؟"
دکان سے لایا ہوں
کتنے کی.؟
ڈھائی سو کی
ہم مسکرا دیئے. جبران نے تین سو روپے نکالے، پیسے دیئے، اپنی ہی تین ہزار کی چپل تین سو میں واپس خریدلی۔ پلٹے، اور چل دیئے.
کچھ وقت کاٹنے کے لیے تاشفین کے میڈیکل اسٹور کی طرف چل پڑے۔ ہمیں ایک لمبا موڑ کاٹ کرآنا تھا۔ آئے تو وہ بچہ سڑک کے اس پار ہمارے ہی مشترکہ دوست تاشفین کے میڈیکل اسٹور پہ پہنچا ہوا تھا. بچے نے پرچی نکالی، دوا لی، پیسے دیئے، یہ جا وہ جا.
ہم تاشفین کے میڈیکل اسٹور میں سنگت لگا کے بیٹھ گئے. حسب روایت چائے کا دور چلا، لگی ہوئی مووی پر بھی نگاہیں اٹکتی رہیں۔ جبران نے تاشفین کی دکان سے ہوکر جانے والے بچے اور چپل چوری کا دلچسپ واقعہ بھی سنایا. جبران ہنستے ہنساتے کہانی سناتا گیا تاشفین کے چہرے پر کرب ظاہر ہوتا گیا۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ تاشفین نے سرد ہنکارہ بھرا اور دل گرفتگی سے کہا
"یار وہ تو چھیالیس سو روپے کی دوائیں لے کر گیا ہے"۔
فرنود عالم