Thanks Thanks:  8
Likes Likes:  30
Page 2 of 2 FirstFirst 12
Results 16 to 29 of 29

Thread: لمحہ فکریہ، ایک سوال

  1. #16
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    انسانیت کبھی بھی مسلمانی سے الگ نہ تھی۔ جیسے ہر پراڈکٹ کے فیچرز اور بہترین استعمال پر بہترین مشورہ اسے بنانے والی کمپنی ہی دے سکتی ہے ایسے ہی انسانیت کیا بلا ہے اس کا بہترین جواب انسان بنانے والے ہستی ہی دے سکتی ہے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئیے کہ بہترین فیصلہ کرنے والی ذات وہی ہے۔

    لیکن ایک صاحب علم شخص نے ایک دفعہ کہا تھا کہ خالق کو سمجھنے کی کوشش ضرور کرو پر یہ دھیان میں رکھو کہ وہ تمہارے بنائے پیرامیٹرز کا پابند نہیں۔ اس لیے اسے اپنے بنائے پیمانوں پر جج نہ کرو۔

    آج اگر دیکھا جائے تو یہی رواج سب طرف عام دکھائی دیتا ہے کہ ہر چیز کو اپنی عقل کے مطابق پرکھا جاتا ہے اور جو عقل میں نہ سمائے اسے رد کر دیا جاتا ہے۔ یہی سب انسانیت کے ساتھ کیا کہ اس کی اپنی ہی تعریف اور ضابطے بنا کر باقی ہر شے بشمول اسلام اس پر پرکھی جانے لگی ہے۔ سمجھنے کی کوشش ضروری ہے لیکن اگر کوئی بات اللہ کریم کی جانب سے ہو تو سمجھ آئے یا نہ آئے ماننا ضروری ہے۔

    بات جہاں تک اچھے انسان اور اچھے مسلمان کے تقابل یا تعلق کی ہے تو میرے نزدیک کوئی بندہ کن حالات یا کن خیالات کے تحت کوئی کام کر رہا ہے یہ ہم بنا ٹیلی پیتھی شاید نہ جان سکیں اس لیے کسی بھی اچھے یا برے انسان کی مسلمانی کا لیول جج کرنا ہمارا کام نہیں۔ دنیاوی معاملات اور لین دین میں جو بندہ اسلام کی بنیادی شرائط پوری کر رہا ہے وہ چاہے اچھا ہو یا برا اسے میرے خیال میں مسلمان والے سب حقوق حاصل رہتے ہیں۔

    میرے نزدیک خلاصہ اتنا ہے کہ لازمی نہیں کہ ہر اچھا شخص مسلمان بھی ہو نہ ہی یہ لازم ہے کہ ہر مسلمان اچھا شخص ہی ہو۔ فی زمانہ بھی ڈھونڈنے پر بہت کچھ مل جاتا ہے اور اگر فوری طور پر نہ بھی مل سکے تو کیا خود سے ہی شروعات نہیں کی جا سکتی؟

    والسلام علیکم

  2. #17
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    Quote Originally Posted by HumairaCh View Post


    اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والا عیسائی مزدور انتہائی بے چارگی سے اپنی بیوی سے کہنے لگا۔ ”دیکھ پریشان نہ ہو، مسلمانوں کا یہ مقدس مہینہ گزر جانے دے ساری چیزیں پھر سے سستی ہوجائیں گی۔

    ایک سوال ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ بھی اپنے طور پر جواب دینے کی کوشش کریں۔شکریہ
    سوال ۔۔۔۔ میں کلمہ گو ہوں۔۔۔مسلمان ہوں تو کیا میں اچھا انسان بھی ہوں؟؟

    اینٹوں کے بھٹے کے ذکر سے غالباً انتہائی غربت جتانا مقصود ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ جب انسان غربت کی انتہا پہ ہوتا ہے تب اس کا مذہب اور مقصد حیات اس کا پیٹ اور دو وقت کی روٹی ہوتا ہے۔ انسانیت کیا ہے اور مسلمانیت کیا ہے یہ بھرے پیٹ کی بحثیں ہیں۔ اس لئے معذرت کہ یہ مثال زیادہ متاثر نہ کر سکی۔ بھٹے پہ صرف عیسائی کام نہیں کرتے، مسلمان بھی کام کرتے ہیں۔ جتنا غریب عیسائی ہوگا اتنا ہی غریب مسلمان مزدور بھی ہوگا۔ رمضان میں چیزوں کے مہنگے ہونے کا تعلق مسلمانی سے کم اور تجارتی سوچ سے زیادہ ہے۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  3. #18
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2016
    Posts
    1,461
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    میں یہ سمجھنے سے شدید تر قاصر ہوں کہ انسانیت کو مسلمانیت سے جوڑنا کیونکر لازم ہے؟
    !!!!موہے رنگ دو لال
    ناگفتہ

  4. #19
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    32,901
    Blog Entries
    24
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    یہی بنیادی بات سمجھنے کی ہے کہ انسانیت مسلمانیت سے نہیں بلکہ مسلمانیت انسانیت سے منسلک ہے۔
    اگر ایک مسلمان اچھا انسان نہیں بنا تو وہ صرف نام کا مسلمان ہے۔
    بعض اوقات تو سچائی کی حَد کر دیتا ہوں
    اپنے آپ کو دیکھتا ہوں اور رَد کر دیتا ہوں

  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,410
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Rubab View Post
    اینٹوں کے بھٹے کے ذکر سے غالباً انتہائی غربت جتانا مقصود ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ جب انسان غربت کی انتہا پہ ہوتا ہے تب اس کا مذہب اور مقصد حیات اس کا پیٹ اور دو وقت کی روٹی ہوتا ہے۔ انسانیت کیا ہے اور مسلمانیت کیا ہے یہ بھرے پیٹ کی بحثیں ہیں۔ اس لئے معذرت کہ یہ مثال زیادہ متاثر نہ کر سکی۔ بھٹے پہ صرف عیسائی کام نہیں کرتے، مسلمان بھی کام کرتے ہیں۔ جتنا غریب عیسائی ہوگا اتنا ہی غریب مسلمان مزدور بھی ہوگا۔ رمضان میں چیزوں کے مہنگے ہونے کا تعلق مسلمانی سے کم اور تجارتی سوچ سے زیادہ ہے۔
    آپ نے ٹھیک کہا ہے رباب بہن یہ مسلمان کی بجائے مسلمان نما لوگ ہیں جو رمضان میں چیزیں مہنگی کرتے ہیں ۔ عیسائی کی مثال بھی اس مسلمان نما کو غیرت اور شرم دلانے کے لئے کے لئے دی گئی ہے کیونکہ دنیا کی مختلف قومیں اپنے مذہبی تہواروں خاص کرکرسمس کے موقع پر عوام کو ریلیف دیتے ہوئےقیمتوں میں کمی کر دیتی ہیں۔ اس موقع پرہوائی کمپنیاں تک مذہبی مقاصد کے لیے سفر کرنے والوں کے لیے کرایوں میں کمی کر دیتی ہیں۔ اب اگر ہم اپنے ملک کے سرمایہ داروں، تاجروں اور خورد فروشوں کا حال دیکھیں تو یہ مسلمان نما لوگ رمضان المبارک میں دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

    وہ مہینہ جس میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی منشاء یہ ہے کہ کم کھانے کی طرف رغبت پیدا کی جائے۔ ہم کثرت خوری کرتے ہوئے ماہ مبارک میں یہ بھول جاتے ہیں کہ روزے کا ایک بڑا مقصد ہمیں بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس دلانا ہے۔
    اس میں ہمارا بھی قصور ہے اگر انواع و اقسام کی چیزیں کھانے کا شوق اور اہتمام بڑھ نہ جائے تو کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں اعتدال پر رہنے کا امکان بڑھ سکتا ہے ۔
    اینٹوں کے بھٹے پرمزدور آیا عیسائی ہے یا مسلمان کم از کم کچھ کما تو رہا ہے ڈگریاں لے کر بھی بہت سے لوگوں کے پاس کوئی روزگار ہی نہیں ہے۔ میں نے پڑھا ہے کہ وفاتی وزیر خزانہ نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔خط غربت سے نیچے زندگی دراصل فاقہ کشی ہوتی ہے اور پہلی بار اس بات کااعتراف حکومتی سطح پر کیا گیا ہے۔یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے کیونکہ تقریبا ایک دہائی قبل تک پاکستان میں بھوک شاید نہ ہونے کے برابر تھی مگر ایک دہائی میں پاکستان کی نصف آبادی بھوک وفاقہ کشی کاشکار ہوگئی ہے۔غربت زندگی کی بنیادی آسائشوں سے محروم کر دیتی ہے اور محرومی ہی وہ ناسور ہے جو درحقیقت ہر جرم کو جنم دیتا ہے۔ آج ہمیں اپنے ارد گرد یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,410
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Abdullah View Post
    میں یہ سمجھنے سے شدید تر قاصر ہوں کہ انسانیت کو مسلمانیت سے جوڑنا کیونکر لازم ہے؟
    یہ اس لئےلازم ہے کہ آپ کوئی بھی سوشل ورک کریں مذہب، رنگ نسل، قومیت کے سے بالا تر ہو کر یقینا” آپ کو اجر ہوگا، لیکن اگر آپ ایمان کے بنا، مسلمانیت کے بغیر بحثیت انسان ہی جینا چاہتے ہیں تو پھر آپ صرف خسارے میں ہیں کیونکہ مسلمانیت کا وعدہ تو اللہ نے انسان کو بنانے سے بھی پہلے لیا تھا۔ یہ وعدہ پیدائش کے دن کان میں اذان کے طور پر دوبارہ یاد دلایا گیا اور پھر قرآن کی صورت میں بار بار یاد دہانی کرائی گئی، اس وعدہ کو یاد دلانے کیلئے ہر دور میں نبی بھیجے گئے۔
    ایک انسان کے طور پر جو معاملہ ہے وہ سب کے ساتھ برابر ہے، لیکن اس انسان کو جو چیز دنیا کے بعد آخرت کے لئے کامیاب بناتی ہے وہ یہ سب اعمال کا رضائے الہی کے لئے کرنا ہے۔
    اس لئے میں پہلے ایک مسلمان کی حیثیت سے کیوں نہ اپنی پہچان کرواؤں کہ میرا مسلمان ہونا ہی میری اصل پہچان ہے۔

  7. #22
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2016
    Posts
    1,461
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    حمیرا بہن اگر حال ہی میں آپ نے نگہت/فرحت ہاشمی صاحبہ یا کسی اور اسکالر کا بیان سُنا ہے اسکا لنک دے دیں تاکہ ہم ایک ہی دفعہ پڑھ/سُن لیں۔
    میرے لیے ابتدائی سوال اور بعد کی پوسٹس میں ربط ڈھونڈنا مشکل ہو رہا ہے۔

    ویسے وعدہ پیدائش کے بعد ہر ایک کے کان میں اذان کی صورت میں نہیں پہنچتا۔
    اور مسلمان کی حیثیت سے اپنی پہچان لازمی کروائیں لیکن کسی بحیثیت انسان شناخت کو تو رد نہ کریں۔۔
    !!!!موہے رنگ دو لال
    ناگفتہ

  8. #23
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,410
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Abdullah View Post
    حمیرا بہن اگر حال ہی میں آپ نے نگہت/فرحت ہاشمی صاحبہ یا کسی اور اسکالر کا بیان سُنا ہے اسکا لنک دے دیں تاکہ ہم ایک ہی دفعہ پڑھ/سُن لیں۔
    میرے لیے ابتدائی سوال اور بعد کی پوسٹس میں ربط ڈھونڈنا مشکل ہو رہا ہے۔

    ویسے وعدہ پیدائش کے بعد ہر ایک کے کان میں اذان کی صورت میں نہیں پہنچتا۔
    اور مسلمان کی حیثیت سے اپنی پہچان لازمی کروائیں لیکن کسی بحیثیت انسان شناخت کو تو رد نہ کریں۔۔
    ایک مشہور حدیث ہے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ارشاد فرمایا
    : «کُلُّ مُولودِ یولَدُ عَلی الفِطرۀِ حتّی یکونَ اَبَواهُ یُهَوِّدانِهِ و یُنَصِّرانِهِ[۲]
    ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں».
    یہ بچے کا قصورنہیں کہ اس کے کان میں آزان نہیں دی گئی
    یہ والدین ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کی تربیت کے ذریعہ اسے سعادت مند بناتے ہیں یا شیطان کا پیروکار، اسی لئے والدین سے ان کی اولاد کے بارے میں سوال کیا جائیگا کہ ہم نے جو تمہیں نعمت دی تھی تم نے اس کے ساتھ کیا کیا، بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو بےگناہ ہوتا ہے یہ والدین کی تربیت اور ماحول کا اثر ہوتا ہے جو اسے اسلام اور دین سے منحرف کرتا ہے جس کے بارے میں ایک بچہ کو اس کے بچپنے سے ہی دینی او راسلامی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے خود والدین اسلامی تربیت سے آشنا ہوں، جانتے ہوں کے کس طرح اولاد کی تربیت کرنی چاہئے اور اگر نہیں جانتے تو انہیں چاہئے کے جو لوگ جانتے ہیں ان کی طرف مراجعہ کریں تاکہ پہلے خود ان کی تربیت ہو اس کے بعد ان کی اولاد کی۔
    اسی لئے قرآن میں ہے
    فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔

    بقول آپکے مسلمان کی حیثیت سے اپنی پہچان لازمی کروائیں لیکن کسی بحیثیت انسان شناخت کو تو رد نہ کریں۔۔
    یعنی آپ کہنا چاہتے ہیں کہ
    دنیا کا ہر مذہب انسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔
    ہمیں انسانیت کے پیمانے پر سوچنے کی ضرورت ہے۔
    سب کے نظریات و خیالات کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے کیونکہ سب لوگ انسان ہیں۔

    لیکن اس کا قطعی جواب یہ ہے کہ ''میری حقیقت اور اصل مسلمان (بمعنی عبد) ہونا ہے جبکہ انسان ہونا محض ایک حادثہ اور میری مسلمانیت (عبدیت) کے اظہار کا ذریعہ ہے۔'' اس کی تفصیل یہ ہے کہ میری اصل عبد یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہونا ہے، میں انسان سے پہلے ایک مخلوق ہوں جس کا کوئی خالق ہے۔ جبکہ میری انسانیت ایک حادثہ اور اتفاقی امر ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے یوں سوچیں کہ اگر میں انسان نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
    ایک صورت یہ ہے کہ میں جن یا فرشتہ ہوتا،
    دوسری صورت یہ ہے کہ میں حیوانات، جمادات یا نباتات کی اجناس سے تعلق رکھتا۔ مگر میں کچھ بھی ہوتا، ہر حال میں مخلوق ہوتا، یعنی اپنے وجود کی ہر ممکنہ صورت میں میری اصل مخلوق (عبد) ہونا ہی ہوتی ، یہ اور بات ہے کہ میری عبدیت کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا۔ مثلاً اگر میں پودا ہوتا تو میری عبدیت کا اظہار پودا ہونے میں ہوتی، اگر میں فرشتہ ہوتا تو یہ ملکوتیت میری عبدیت کے اظہار کا ذریعہ بنتی اور جب میں انسان ہوں تو میری انسانیت میری عبدیت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ الغرض میرا حال تو تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن میرا مقام بہرحال مخلوق (عبد) ہونا ہی رہے گا اور یہ بہرصورت ناقابل تبدیل ہے۔

    میرے وجود کی ہر حالت میرے لئے ان معنوں میں ہے کہ میں اپنی کسی حالت کا خود خالق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس حالت میں چاہا، مجھے میری مرضی کے بغیر تخلیق کر دیا نیز وہ اس بات پر مجبور نہ تھا کہ مجھے انسان ہی بناتا۔ پس ثابت ہوا کہ میری اصل مسلمانیت (بمعنی عبدیت ) ہے اور انسان ہونا گویا میری مسلمانیت کے اظہار کا ذریعہ ہے اور اس کے علاوہ میری انسانیت اور کچھ بھی نہیں۔
    عبدیت کو مسلمانیت سے اس لئے تعبیر کیا ہے، کیونکہ اصلاً تو ہر عبد مسلمان ہی ہوتا ہے، چاہے وہ اس کا اقرار کرے یا انکار، اگر وہ اس کا اقرار زبان اور دل سے کر لیتا ہے تو مؤمن و مسلم (اپنی حقیقت اور اصل کا اقرار کرنے والا اور تابعدار) کہلاتا ہے اور اگر ماننے سے انکار کرے تو کافر (یعنی اپنی حقیقت کا انکار کرنے والا) ٹھہرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کافر کوئی نئی حقیقت تخلیق یا دریافت نہیں کرتا بلکہ اصل حقیقت (مسلمانیت یعنی اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے) کا انکار کرتا ہے۔ لہٰذا میری انسانیت معتبر تب ہی ہو گی جب میری زندگی کا ہر گوشہ اسلام کے مطابق ہو۔
    اب آپ اپنا نام ہی دیکھیں عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ پہلے ہی مسلمانیت کا اطہار کر دیا

    عبداللہ بچے یہ میرا ہی محدود علم ہے اور آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ اپنی کم علمی کی وجہ سے آپ کو اچھی طرح نہ سمجھا سکی۔

  9. #24
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2016
    Posts
    1,461
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    حمیرا بہن بات اہنی ڈگر سے 180کے زوایے پر مُڑ چُکی ہے۔ اور جس نہج پر پہنچ چُکی وہاں سوال تو بہت سے ہیں لیکن میرے خیال میں اسی یہاں پر ہی روک دینا چاہئیے۔
    شکریہ خوش رہئیے
    !!!!موہے رنگ دو لال
    ناگفتہ

  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,410
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    عبداللہ بھائی آپ نےفورم کی سست روی کے بارے میں کہا تھا کہ
    مزید کئی ہفتے و مہینے گزرنے بعد گمان و خیال کی جڑیں قریب قریب جڑانوالہ ہی بن چُکی ہیں۔
    سو میں نے جڑوں کو کونپل میں بدلنے کی چھوٹی سی کوشش کی
    انگلی کٹا کے ہم بھی سوچا کہ شہیدوں میں نام کر لیں نو سال میں اتنی پوسٹ نہیں کیں جتنی ان ںو مہینوں میں کی ہیں
    سو فورم کی سست روی دور کرنے کے لئے اس پر پہیے تونہیں لگائے جاسکتے تھے کہ سست روی تیز روی میں بدل جائے ۔ سو اس کی لئے کوئی ٹرک ضروری تھی۔
    سو پہلی موسٹ کا پہلا حصہ کہیں پڑھا تھا سوال کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور عنوان بھی ایسا دیا لمحہ فکریہ ۔ آپ یقین کریں کہ پہلے ہی دن ۱۰۰ سے زیادہ بار اس پوسٹ کا پڑھا گیا لوگ سمجھے ہوں گے نہ جانے کیا افتاد ٹوٹ پڑی ، حتی کی گواچے ڈاکٹر صاحب بھی ایک پوسٹ کر گئے ۔
    آپ کے سوالوں کا جواب بھی گول مول دبا سیدھا سادہ جواب ہوتا آپ نے چپ چاپ پڑھ کے چلے جانا تھا
    یقین کریں آج تک کسی نگہت/فرحت /راحت /عشرت ہاشمی صاحبہ کو اور نہ ہی کسی اور کو دیکھا نہ سنا یہ تو گوگل جی کی مہربانی ہے کہ وہاں سے کاپی کیا

    کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا والا حال تھا
    ربط میں کچھ ہوتا تو آپ کو ربط کہں سے نظر آتا
    امید ہے برا نہیں مانے گے بھائی سے اتنا مذاق تو کر ہی سکتے ہیں اگر برا لگا ہے تو معاف کر دیں
    ورنہ ایک مسکراہٹ ہی کافی ہے
    رمضان مبارک
    ہاں اپنی بے بے سے ساری دعائیں اپنے لئے ہی نہ کرواتے رہیں فورمی بہن بھائیوں کے لئے بھی یاد رکھیں۔
    اللہ تعالی ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور ہمیشہ اچھے مسلمانوں سے ملوائے آمین

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2016
    Posts
    1,461
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    حمیرا آپا کیسی باتیں کرتی ہیں۔ بُرا لگنے اور معافی بھلا کیسی؟
    اچھا موضوع ہے، اور اس پر ضرور گفتگو بھی بنتی ہے لیکن کچھ فورم کے حالات وغیرہ کے تناظر میں سبھی احباب کنی کترا جاتے ہیں۔
    باقی آپ ایسی ہی کاوشیں جاری رکھیں اور ایسے موضوعات پر لڑیاں بناتی ہیں اُمید ہے افاقہ ہوگا ۔ وغیرہ وغیرہ
    !!!!موہے رنگ دو لال
    ناگفتہ

  12. #27
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Abdullah View Post
    حمیرا آپا کیسی باتیں کرتی ہیں۔ بُرا لگنے اور معافی بھلا کیسی؟
    اچھا موضوع ہے، اور اس پر ضرور گفتگو بھی بنتی ہے لیکن کچھ فورم کے حالات وغیرہ کے تناظر میں سبھی احباب کنی کترا جاتے ہیں۔
    باقی آپ ایسی ہی کاوشیں جاری رکھیں اور ایسے موضوعات پر لڑیاں بناتی ہیں اُمید ہے افاقہ ہوگا ۔ وغیرہ وغیرہ

    کنی کترانے والی کسی حد تک درست ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور پہلو بھی ضرور ملحوظ رکھنے چاہییں۔
    ۔۔۔ برداشت کی مد میں ون اردو فورم نے کافی ترقی کی ہے اور ممبران کی ذہنی بلوغت میں کافی زیادہ بہتری آئی ہے۔
    ۔۔۔ اب یہ سوچ کے بھی ہنسی آتی ہے کہ ماضی میں ہم کس قدر حقیر باتوں پر لڑنے میں توانائیاں صرف کرتے تھے۔ جیسے انٹر اصناف مناظرہ جات، سیاسی گفتگو، سول ملٹری معاملات وغیرہ وغیرہ۔
    ۔۔۔ ابھی ایسے موضوعات میں کم شراکت کی بڑی وجہ وہی ہے جو سوشل میڈیا فورمز پہ شراکت میں عمومی کمی کی بھی ہے۔ یعنی دیگر پلیٹ فارمز کا فروغ وغیرہ
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  13. #28
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2016
    Posts
    1,461
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    کنی کترانے والی بات تو رہنے ہی دیں جی آپ بھی تو اس دھاگے میں کتراتے ہی رہے ہیں۔
    جی کچھ بہتری آئی تو ضرور ہے لیکن اسمیں یہ بھی تو ہے کہ اب گفتگو ہوتی ہی کتنی ہے اور اسمیں کتنے لوگ حصہ لیتے ہیں۔
    باقی ابھی سوشل میڈیائی شعور غالباً وہی کھڑا ہے۔ جو کہ آپ دیگر فورمز وغیرہ پر دیکھ ہی سکتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ


    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz View Post

    کنی کترانے والی کسی حد تک درست ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور پہلو بھی ضرور ملحوظ رکھنے چاہییں۔
    ۔۔۔ برداشت کی مد میں ون اردو فورم نے کافی ترقی کی ہے اور ممبران کی ذہنی بلوغت میں کافی زیادہ بہتری آئی ہے۔
    ۔۔۔ اب یہ سوچ کے بھی ہنسی آتی ہے کہ ماضی میں ہم کس قدر حقیر باتوں پر لڑنے میں توانائیاں صرف کرتے تھے۔ جیسے انٹر اصناف مناظرہ جات، سیاسی گفتگو، سول ملٹری معاملات وغیرہ وغیرہ۔
    ۔۔۔ ابھی ایسے موضوعات میں کم شراکت کی بڑی وجہ وہی ہے جو سوشل میڈیا فورمز پہ شراکت میں عمومی کمی کی بھی ہے۔ یعنی دیگر پلیٹ فارمز کا فروغ وغیرہ
    !!!!موہے رنگ دو لال
    ناگفتہ

  14. #29
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Abdullah View Post
    جی کچھ بہتری آئی تو ضرور ہے لیکن اسمیں یہ بھی تو ہے کہ اب گفتگو ہوتی ہی کتنی ہے اور اسمیں کتنے لوگ حصہ لیتے ہیں۔
    باقی ابھی سوشل میڈیائی شعور غالباً وہی کھڑا ہے۔ جو کہ آپ دیگر فورمز وغیرہ پر دیکھ ہی سکتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
    جی ہم تو کچھ ایسا ہی فرمایا کئے کہ زیادہ ٹرولنگ اور جذباتیت و سوشل میڈیائی جہاد وغیرہ فیس بکوں اور ٹویٹروں کو سدھار چکی۔ اور اب ون اردو اور اس جیسے فورم میں یہ آلائشیں نسبتاََ کم ہو چکی ہیں۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

Page 2 of 2 FirstFirst 12

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •