Thanks Thanks:  10
Likes Likes:  19
Results 1 to 15 of 15

Thread: معاشرے کی ملکیت

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,740
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    معاشرے کی ملکیت

    معاشرے کی ملکیت

    جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔

    میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔

    ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔

    پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔

    کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس مارک کا جرما نہ عائد کردیا۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس مارک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔

    آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔

    بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔

    ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ آئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔

    جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مگر وسائل سارے معاشرے کی مِلکیت ہیں۔
    محمد سلیم، رضوان علی

  2. #2
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    زبردست۔
    بلاشبہ قومیں معاشرتی شعور سے بنتی ہیں۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  3. #3
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    عمدہ شیئرنگ۔۔ بہت شکریہ سس

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,740
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz View Post
    زبردست۔
    بلاشبہ قومیں معاشرتی شعور سے بنتی ہیں۔
    Quote Originally Posted by IN Khan View Post
    عمدہ شیئرنگ۔۔ بہت شکریہ سس
    بہت شکریہ پسند کرنے کا
    ہم میں یہ شعور کب پیدا ہو گا ہم سے بعد میں بننے والی قومیں آج کہاں پہنچ چکی ہیں ہم آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی بجائے ریورس گئیر میں چلنا شروع ہو گئے ہیں۔

  5. #5
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    ہم سے بعد میں کونسی قوم بنی؟
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,740
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz View Post
    ہم سے بعد میں کونسی قوم بنی؟
    حیریت ہے کہ انسائیکلوپیڈیا خود کسی سے پوچھے کہ ہم سے بعد میں کونسی قوم بنی؟
    یا پھر کسی کا امتحان؟
    چلیں اب بتاتے ہیں کہ ہمارے پیارے پاکستان کے بننے کے بعد کون کونسی قوم بنی
    اور ہمار کیا بنا؟
    کسی ملک کے معرض وجود میں آنے اور اسے قوم بننے میں بہت فرق ہے
    دنیا میں تقریبا ۱۲۰ممالک ایسے ہیں جو ۱۹۴۷ کے بعد آزاد ہوئے
    ان میں سے کچھ نے بہت تیزی سےترقی کی اور بحیثیت ایک ترقی یافتہ قوم کے پہچانے جاتےہیں
    میرے خیال میں کسی ملک کو قوم بننے میں اس کی جی ڈی ہی، ہیومن ڈیولپمنٹ اور لیٹرسی ریٹ کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔
    جنوبی ایشیا کی بات کرتے ہیں تو سری لنکا اور مالدیپ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں
    economic reform
    چین میں۱۹۸۰ کے بعد شروع ہوا انڈیا میں ۱۹۹۰ کے بعد۔
    کوریا پاکستان سے دوسرا پانچ سالہ منصوبہ حاصل کر کے اور اس پر عمل کر کے آج کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے
    ہانگ کانگ سنگا پور جنوبی کوریا اور تائیوان ایشین تائگرکہلاتے ہیں
    دوبئی ۱۹۸۰ میں ریت کےٹیلے اور اب ایک صحرا سے ایک نئی جدید دنیا میں بدل چکا ہے۔
    ایمیریٹس ائیر لاینز نے۱۹۸۵ پی آئی اے سے مدد لی آج دیکھ لیں کہ پی آئی اے اور ایمیریٹس ائیر لاینزمیں فرق ان کی ترقی اور ہماری تنزلی
    اس کے علاوہ ملایشیا، کویت، بحرین ،قطر،برونائی ، تاجکستان اور بہت سے دوسرے ملک جو آج ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور ہم ستر سال بعد بھی صفائی بجلی گیس اور پانی کے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں۔
    اللہ تعالی کا لاکھ شکر ہے کہ ہوا پر کسی کا کنٹرول نہیں ورنہ آج ہم سب چہرے پر آکسیجن ماسک لگا کر پھر رہے ہوتے وہ بھی خود خرید کر
    بحیثیت قوم ہمارے پیچھے رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم ایسی قوم ہیں جو اپنی آنکھیں کھول کر یہ نہیں دیکھنا چاہتی کہ اسکے مسائل کی وجوہات کیا ہیں، یہ نہیں سوچنا چاہتی کہ ان مسئلوں کو حل کرنے کیلئے اس کو کیا کرنا چاہیے ۔ وہ یہ چاہتی ہے کہ کوئی اور۔۔۔ کوئی ملا، کوئی پیر ، کوئی جاگیر دار یا اس کا بیٹا کوئی سرمایہ دار یا اس کا خاندان ، یا کوئی جنرل یا کوئی اور اُن کے تمام مسائل کو حل کردے۔
    لوگ لیڈروں یا ہیروز کو فالو کرنا چاہتے ہیں آنکھیں بند کرکے ۔جب تک پاکستانی قوم اصولوں کو نہیں اپنائے گی اس وقت تک اس کے لیڈرز اس کو بھٹکاتے رہیں گے۔
    ویسے آپ نے اس کا پوچھا تو نہیں تھا میں نے سوچا کہ آپ کے پوچھنے سے پہلے ہی اگلے سوال کا جواب دے دوں۔

  7. #7
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    34,657
    Blog Entries
    24
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    پاکستان کے کسی شہر میں بھی ایک ریستوران پر اسی سے ملتا جلتا لکھا تھا کہ خدا نے آپ کو پیسہ دیا ہے لیکن کھانا ضائع کرنے کا اختیار نہیں دیا لہذا کھانا اپنی ضرورت کے مطابق آرڈر کریں نہ کہ ضائع کرنے کے لیے۔


    دوسری طرف یورپ کے کچھ ممالک میں ایسے دن منائے جاتے ہیں جن میں ٹرکوں کے ٹرک ٹماٹر یا دوسری سبزیاں یا فروٹ ایک دوسرے پر برسائے جاتے ہیں امریکہ میں ضرورت سے زائد گندم ہو یا یورپ میں کچھ اجناس کی زائد پیداوار سمندر برد کر دی جاتی ہے،،،،،،یہ میں نے میڈیا پر دیکھا ہے،،،اب ان کو کس تناظر میں لینا چاہیے۔
    کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دُھلی خلقت ؟
    میرا تو دَم گُھٹ رھا ھے ، اِن پارساؤں میں

  8. #8
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    Quote Originally Posted by HumairaCh View Post


    حیریت ہے کہ انسائیکلوپیڈیا خود کسی سے پوچھے کہ ہم سے بعد میں کونسی قوم بنی؟
    یا پھر کسی کا امتحان؟
    چلیں اب بتاتے ہیں کہ ہمارے پیارے پاکستان کے بننے کے بعد کون کونسی قوم بنی
    اور ہمار کیا بنا؟
    کسی ملک کے معرض وجود میں آنے اور اسے قوم بننے میں بہت فرق ہے
    دنیا میں تقریبا ۱۲۰ممالک ایسے ہیں جو ۱۹۴۷ کے بعد آزاد ہوئے
    ان میں سے کچھ نے بہت تیزی سےترقی کی اور بحیثیت ایک ترقی یافتہ قوم کے پہچانے جاتےہیں
    میرے خیال میں کسی ملک کو قوم بننے میں اس کی جی ڈی ہی، ہیومن ڈیولپمنٹ اور لیٹرسی ریٹ کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔
    جنوبی ایشیا کی بات کرتے ہیں تو سری لنکا اور مالدیپ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں
    economic reform
    چین میں۱۹۸۰ کے بعد شروع ہوا انڈیا میں ۱۹۹۰ کے بعد۔
    کوریا پاکستان سے دوسرا پانچ سالہ منصوبہ حاصل کر کے اور اس پر عمل کر کے آج کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے
    ہانگ کانگ سنگا پور جنوبی کوریا اور تائیوان ایشین تائگرکہلاتے ہیں
    دوبئی ۱۹۸۰ میں ریت کےٹیلے اور اب ایک صحرا سے ایک نئی جدید دنیا میں بدل چکا ہے۔
    ایمیریٹس ائیر لاینز نے۱۹۸۵ پی آئی اے سے مدد لی آج دیکھ لیں کہ پی آئی اے اور ایمیریٹس ائیر لاینزمیں فرق ان کی ترقی اور ہماری تنزلی
    اس کے علاوہ ملایشیا، کویت، بحرین ،قطر،برونائی ، تاجکستان اور بہت سے دوسرے ملک جو آج ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور ہم ستر سال بعد بھی صفائی بجلی گیس اور پانی کے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں۔
    اللہ تعالی کا لاکھ شکر ہے کہ ہوا پر کسی کا کنٹرول نہیں ورنہ آج ہم سب چہرے پر آکسیجن ماسک لگا کر پھر رہے ہوتے وہ بھی خود خرید کر
    بحیثیت قوم ہمارے پیچھے رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم ایسی قوم ہیں جو اپنی آنکھیں کھول کر یہ نہیں دیکھنا چاہتی کہ اسکے مسائل کی وجوہات کیا ہیں، یہ نہیں سوچنا چاہتی کہ ان مسئلوں کو حل کرنے کیلئے اس کو کیا کرنا چاہیے ۔ وہ یہ چاہتی ہے کہ کوئی اور۔۔۔ کوئی ملا، کوئی پیر ، کوئی جاگیر دار یا اس کا بیٹا کوئی سرمایہ دار یا اس کا خاندان ، یا کوئی جنرل یا کوئی اور اُن کے تمام مسائل کو حل کردے۔
    لوگ لیڈروں یا ہیروز کو فالو کرنا چاہتے ہیں آنکھیں بند کرکے ۔جب تک پاکستانی قوم اصولوں کو نہیں اپنائے گی اس وقت تک اس کے لیڈرز اس کو بھٹکاتے رہیں گے۔
    ویسے آپ نے اس کا پوچھا تو نہیں تھا میں نے سوچا کہ آپ کے پوچھنے سے پہلے ہی اگلے سوال کا جواب دے دوں۔
    انسائیکلوپیڈیا کون جی؟ شرمندہ کرنے کی نہیں رکھی۔

    مسئلہ یہ ہے کہ ملک بننے اور قوم بننے میں ایک واضح فرق ہوا کرتا ہے۔
    ہمارا مسئلہ یہ ہوا کہ دو قومی نظریے کی زبردستی اور خودساختہ تعریف کی رو سے ہم نے ان دونوں چیزوں کو گڈمڈ کر دیا۔
    اس کا بہت بڑا نقصان ہوا۔
    اور وہ نقصان یہ ہوا کہ اس سے پہلے تک قوموں کی تاریخ ہوا کرتی تھی، چاہے جغرافیہ نہ بھی ہو (جیسے موجودہ دور میں چیچن، کرد، باسک، ہزارہ وغیرہ ہیں)۔
    لیکن ہمارا معاملہ الٹا ہو گیا۔ یہاں ایک ایسی قوم وجود میں آ گئی، جس کا جغرافیہ تھا، لیکن تاریخ تھی ہی نہیں۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ (اور ہو سکتا ہے کہ غلط سمجھتے ہوں) ہمارے بہت سے مسائل کا سبب یہی چکر ہے۔

    نیز یہ کہ بہت سی کہانیاں ہمارے گردوپیش میں گھوم پھر رہی ہوتی ہیں۔ جیسے کوریا نے ہمارے سے پلان لے کر ترقی کر لی، ورنہ ان کو ترقی کرنا آتی ہی نہیں تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔
    ان کو زیادہ سنجیدہ نہ لیا کریں۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2016
    Posts
    179
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Rose View Post
    پاکستان کے کسی شہر میں بھی ایک ریستوران پر اسی سے ملتا جلتا لکھا تھا کہ خدا نے آپ کو پیسہ دیا ہے لیکن کھانا ضائع کرنے کا اختیار نہیں دیا لہذا کھانا اپنی ضرورت کے مطابق آرڈر کریں نہ کہ ضائع کرنے کے لیے۔


    دوسری طرف یورپ کے کچھ ممالک میں ایسے دن منائے جاتے ہیں جن میں ٹرکوں کے ٹرک ٹماٹر یا دوسری سبزیاں یا فروٹ ایک دوسرے پر برسائے جاتے ہیں امریکہ میں ضرورت سے زائد گندم ہو یا یورپ میں کچھ اجناس کی زائد پیداوار سمندر برد کر دی جاتی ہے،،،،،،یہ میں نے میڈیا پر دیکھا ہے،،،اب ان کو کس تناظر میں لینا چاہیے۔
    سپین ویلنسیا کے اک حصے یا ٹاؤن میں ٹماٹروں سے اک دوجے کو مارنے کا فیسٹیول ضرور منایا جاتا ہے۔ یہ لا ٹوماٹینا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تو میں نے یورپ کے کسی اور ملک میں ایسا رواج سُنا نہیں ہے۔
    وہاں بھی یہ رواج غالبا” چالیس یا پچاس کے عشرے میں احتجاجا” شروع ہوا تھا جسے لوگوں نے فن کی شکل دے دی لیکن کُچھ عرصہ بعد مذہبی سکالرز نے کھانا ضائع ہوتا ہے کی وجہ سے پابندی لگوا دی تھی۔ پھر ستر کی دہائی میں اسے واپس شروع کیا گیا تاکہ سیاحوں کو زیادہ متوجہ کیا جائے اور آج وہ اس سے باقاعدہ پیسے کمارہے ہیں۔ یعنی جہاں اخلاقیات کا بس چلا یہ فیسٹیول رواج نہیں پاسکا جہاں پیسے کا لالچ شروع ہوا وہاں اخلاقیات کو ہار ماننی پڑی۔


    رہی بات کسی بھی مُلک کے گندم یا زائد اجناس کو سمندر میں پھینکنے کی تو اس دعوے کی سچائی ثابت کرنے کے لیے اگر کوئی ثبوت مل جائے تو مناسب ہوگا کیونکہ میں نے باجود بہت سرچ کےکبھی ایسا نہیں پڑھا ہاں پاکستان میں ضرور سُنا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہاں سے پڑھی سُنی بہت سی باتوں کی حقیقت بس وہیں تک تھی۔

    کسی بھی کلیم/دعوے کو آگے پھیلانے سے پہلے ممکن حد تک ریسرچ اور لنکس مہیا کرنا آج کے زمانے میں بہت آسان کام ہوگیا ہے تو اگر آپ کو بھی اگر کوئی لنک ملے اس دعوے کے حق میں تو پلیز ضرور شئیر کیجیے گا۔
    A Smile is the universal language of kindness.

  10. #10
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    34,657
    Blog Entries
    24
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    گندم اور دودھ کے سمندر میں گرا دینے کی خبر تو میں نے خود ٹی وی پر سنی تھی،،،،اور ٹماٹر اور انگور کو ایک دوسرے پر پھینکنے کی خبر تو ہر سال باقاعدگی سے میڈیا پر آتی ہیں،،،،،،اور کیا یہ ضروری ہے کہ صرف اسی خبر میں حقیقت ہو جو کہ
    انٹرنیٹ پر دستیاب ہو،،،،،خبر کے دوسرے زرائع بھی تو درست ہو سکتے ہیں۔

    ایکسپریس کا ایک آرٹیکل ملا ہے اس میں بھی گندم سمندر میں بہانے کا زکر موجود ہے۔

    غذائی قلت کیوں؟ - ایکسپریس اردو
    کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دُھلی خلقت ؟
    میرا تو دَم گُھٹ رھا ھے ، اِن پارساؤں میں

  11. #11
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    السلام علیکم
    خوراک کا ضائع کرنا تقریبا سب ہی معاشروں میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ جس کی روک تھام کے لیے انفرادی کوششیں کئی جگہ ملتی ہیں۔ اسلام آباد میں اسٹوڈنٹس کھانا اکٹھا کر کے غریبوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ کئی شادی ہالز کی انتظامیہ کے بارے میں جاننے کو ملا کہ وہ تقریب کے بعد بچ جانے والا کھانا کسی ادارے کو پہنچا دیتے ہیں۔ میرا چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن سرکاری اسپتال میں موجود ہر مریض کا کھانا سبحان اللہ میرج ہال سے آتا ہے روزانہ۔

    ایون کہ امریکہ میں بھی ان کی اپنی ریسرچ کے مطابق چالیس فصد تک خوراک ضائع ہوتی ہے۔
    40% of U.S. food wasted, report says – This Just In - CNN.com Blogs

    لیکن میرے خیال میں یہ بات مقدار کی نہیں بلکہ خوراک کے زیاں کی جانب معاشرے کے عمومی روئیے کو بہتر بنانے کی ہے۔

  12. #12
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,582
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    یہ ٹی وی والے پتا نہیں کہاں کہاں سے ٹماٹر مارنے کے فیسٹیول دیکھاتے رہتے

    ویسے یہاں الریاض سعودی عرب میں اچھے ریسٹورنٹس میں کھانا ضائع کرنے پر ایکسٹرا پیسے دینے پڑتے ہیں
    یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے اگر ہوئے تو ہوئے
    تمھارا کیا ہے کوئی ہو گا، کوئی تھا، کوئی ہے
    https://thumbs.gfycat.com/HeartyBest...restricted.gif

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    1,740
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz View Post
    انسائیکلوپیڈیا کون جی؟ شرمندہ کرنے کی نہیں رکھی۔

    مسئلہ یہ ہے کہ ملک بننے اور قوم بننے میں ایک واضح فرق ہوا کرتا ہے۔
    ہمارا مسئلہ یہ ہوا کہ دو قومی نظریے کی زبردستی اور خودساختہ تعریف کی رو سے ہم نے ان دونوں چیزوں کو گڈمڈ کر دیا۔
    اس کا بہت بڑا نقصان ہوا۔
    اور وہ نقصان یہ ہوا کہ اس سے پہلے تک قوموں کی تاریخ ہوا کرتی تھی، چاہے جغرافیہ نہ بھی ہو (جیسے موجودہ دور میں چیچن، کرد، باسک، ہزارہ وغیرہ ہیں)۔
    لیکن ہمارا معاملہ الٹا ہو گیا۔ یہاں ایک ایسی قوم وجود میں آ گئی، جس کا جغرافیہ تھا، لیکن تاریخ تھی ہی نہیں۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ (اور ہو سکتا ہے کہ غلط سمجھتے ہوں) ہمارے بہت سے مسائل کا سبب یہی چکر ہے۔

    نیز یہ کہ بہت سی کہانیاں ہمارے گردوپیش میں گھوم پھر رہی ہوتی ہیں۔ جیسے کوریا نے ہمارے سے پلان لے کر ترقی کر لی، ورنہ ان کو ترقی کرنا آتی ہی نہیں تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔
    ان کو زیادہ سنجیدہ نہ لیا کریں۔
    کوریا اور ایمیریٹس ائیر لاینز کی مثال اس لئے دی کہ جن ممالک نے ترقی کرنی ہوتی ہے وہ کشکول پکڑنے کی بجائے دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔
    کسی بھی ملک کی ترقی میں اس کی تاریخ اور جغرافیہ سے زیادہ اس کے سیاسی ااور اقتصادی ادارے ہوتے ہیں جو ہر شہری کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا پورا موقع دیتے ہیں اور امیری ، غریبی، ذات ، نسل ، زبان یا مذہب کی تفریق کیے بغیر ہر شہری کو ترقی کرنے کا پورا موقع فراہم کرتے ہیں اور اس کی جان ومال کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ ادارے سیاسی قوت اور اقتصادی مواقع کو پوری سوسائٹی میں برابر تقسیم کرتے ہیں اور لوگوں کے مال او ر حقوق جن میں خیالات اور افکار کی آزادی بھی شامل ہے، کی حفاظت کرتے ہیں۔
    کلچر، جغرافیہ ، موسم ، ماحول یا قدرتی ذرائع یعنی دریا ، سمندر، تیل، ہیرے، دوسرے معدنیات سے بھی عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ان ملکوں میں مخصوص ادارے قائم نہ ہوں تو اِن ذرائع کے باوجود قومیں غریب رہتی ہیں او ر صرف ان کا حکمران طبقہ امیر ہوتا ہے۔

    مثال کے لئے کوریا کو دیکھیں یعنی سائوتھ کوریا بمقابلہ نارتھ کوریا

    دونوں کی تاریخ اور جغرافیہ ایک ہی ہے کوریا کی تقسیم 1945 ء میں ہوئی تھی دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے موقع پر، پاکستان بننے سے تقریباَ دوسال پہلے۔جنوبی کوریا،امریکہ کے اور شمالی کوریا ، روس کے زیرِ انتظام آگیا تھا۔ ساؤتھ کوریا میں ادارے بنائے گئے جنہوں نے سیاسی قوت اور اقتصادی مواقع عام لوگوں میں تقسیم کیے اور قانون کے ذریعہ لوگوں کے اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا۔ جبکہ نورتھ کوریا میں 1947ء سے آمرانہ حکومت رہی جس نے سیاسی قوت اور اقتصادی مواقع کو صرف ایک چھوٹے گروپ تک محدود کردیا۔ 1990ء کی دہائی کے آخر تک یعنی صرف تقریباََ 50 سال میں ساؤتھ کوریا کی آمدنی نورتھ کوریا کی آمدنی سے 10 گنا زیادہ ہوگئی۔ نورتھ کوریا میں معیارِ زندگی اور صحت وعلاج کا نظام اِتنا خراب ہے کہ نورتھ کوریا کے لوگوں کی اوسط عمرساؤتھ کوریا کے لوگوں کی اوسط عمر سے 10 سا ل کم ہے۔ رات کو لی گئی سیٹلائٹ کی تصویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ رات کو ساؤتھ کوریا روشنی میں جگمگارہا ہوتا ہے جبکہ نورتھ کوریا میں گھپ اندھیرا ہوتا ہے، بجلی کی شدید کمی کی وجہ سے۔ ساؤتھ اور نورتھ کوریا کی مثال سے ہر بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اگر آپ ایک ہی ملک کے دوٹکڑے کردیں تو ان دونوں ملکوں کی قسمت کا انحصار اس بات میں ہے کہ ان ملکوں میں وہاں کے لوگ کون سے سیاسی اور اقتصادی ادارے قائم کرتے ہیں۔
    اب بھی ہم نے اپنی آنکھیں نہیں کھولیں گےتو پھر؟؟؟؟؟؟
    کیا ہم نارتھ کوریا بننا چاہتے ہیں یا سائوتھ کوریا ؟


  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2016
    Posts
    179
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Rose View Post
    گندم اور دودھ کے سمندر میں گرا دینے کی خبر تو میں نے خود ٹی وی پر سنی تھی،،،،اور ٹماٹر اور انگور کو ایک دوسرے پر پھینکنے کی خبر تو ہر سال باقاعدگی سے میڈیا پر آتی ہیں،،،،،،اور کیا یہ ضروری ہے کہ صرف اسی خبر میں حقیقت ہو جو کہ
    انٹرنیٹ پر دستیاب ہو،،،،،خبر کے دوسرے زرائع بھی تو درست ہو سکتے ہیں۔

    ایکسپریس کا ایک آرٹیکل ملا ہے اس میں بھی گندم سمندر میں بہانے کا زکر موجود ہے۔

    غذائی قلت کیوں؟ - ایکسپریس اردو

    آرٹیکل پڑھ تو لیا میں نے لیکن میں کنفیوز ہوگئ ہوں کہ ہنسنے کو زیادہ دل کر رہا ہے یا سر پیٹنے کو۔ رائٹر نے گندم اور دودھ پانی میں بہانے کا دعوٰی کیا تو ہے لیکن ثبوت یا حوالہ نہیں دیا۔ بس سٹیٹمنٹ دی ہے جو کہ کوئی بھی بنا سکتا ہے۔
    کثر صرف ٹن فوائل ہیٹ پہننے کی رہ گئ ہے وہ بھی پہن لیں تو مکمل کانسپیریسی نٹس کہلائیں گے۔

    رائٹر کی کم عقلی اور مغرب/گوروں سے نفرت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ پورے افریقہ کو ایک ہی لسٹ میں لاکھڑا کیا حالانکہ اکثریت افریقی ممالک ترقی یافتہ،جدید اور خوشحال ہیں۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے رائٹر کو اکثر لوگوں کی طرح یہ ہی نہیں پتا افریقن خطے میں کون کون سے ممالک شامل ہیں ورنہ ایسی بات نا کہتا۔

    اگر یہ کہا جائے کہ لوگ کھانا ضائع کرتے ہیں تو بات مانی جاسکتی ہے کیونکہ ریستوران اور کسٹمرز واقعی کھانے کو ضائع کرتے ہیں جو کہ انتہائی غلط بات ہے اور یہ اخلاقی کمزوری ہمارے مشرقی معاشرے میں بھی اسی شدت سے پائی جاتی ہے
    ۔
    A Smile is the universal language of kindness.

  15. #15
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,582
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    کمال ہی کمال ہے جی
    یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے اگر ہوئے تو ہوئے
    تمھارا کیا ہے کوئی ہو گا، کوئی تھا، کوئی ہے
    https://thumbs.gfycat.com/HeartyBest...restricted.gif

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •