انسان کی سوچ ان کی تمام تر سرگرمیوں کا منبع ہوتی ہے۔اس کی فکر اور سوچ ہی ہے جو اس کے ہر کام آیا وہ معاشرتی ہو یا معاشی سیاسی ہو یا سماجی اور مذہبی ہو یا اخلاقی رنگ ڈھنگ کی بنیاد ہوتی ہے۔

جس طرح انسانی جسم پرورش پاتا ہے بلکل اسی طرح انسانی سوچ بھی پرورش پاتی ہے ۔انسانی جسم کی پرورش کے لیے کھانا اور پانی درکار ہو تے ہیں اسی طرح سوچ کی پرورش کے لیے جو چیزیں درکار
ہو تی ہیں ان میں سے علم ایک انتہائی ضروری شے ہے بلکہ یہ کہنے میں بھی ہم حق بجانب ہے کہ علم انسانی سوچ اور فکر کی ماں ہو تی ہے۔مثلاََ اگر آپ کو صرف یہی بتایا جائے کہ آگ انسان کو جلاتی ہے تو آپ کے ذہن میں آگ کو لے کر ایک منفی خیال جنم لے گا اور نتیجتاََ آپ کے سراسر خلاف ہو جایئں گے۔اس کے برعکس آپ کو صرف یہ بتایا جائے کہ آگ کھانا پکاتی ہے تو آ پ کے ذہن میں آگ کے متعلق ایک مثبت خیال جنم لے گا جس کے نتیجے میں آگ کو پسند کرنے لگیں گے۔ ایسے ہی اگر آپ کو صرف یہ پتا ہو کہ چھڑی سے قتل کیا جاتا ہے تو آپ چھڑی کے مخالف ہو جائیں گے اور اگر یہ پتا ہو کہ چھڑی سے پھل کاٹے جاتے ہیں تو آپ کے ذہن میں چھڑی کے متعلق ایک اچھا تاثر پیدا ہوگا۔ تو ہم نے استعارہ سے کام لیتے ہوئے اسی بات کو منطقی طور پر ثابت کردیا کہ علم ایک ایسی شے ہے جو انسانی فکر اور سوچ پر بلاواسطہ اثرانداز ہوتی ہے۔

اگر دورِ حاضر کے مسائل کی بات کی جائے تو ہم بلا جھجک تعصب کو ایک بہت بڑا مسلۂ قرار دے سکتے ہیں خواہ وہ تعصب لثانی ہو، مذہبی ہو یا سیاسی ہو۔ تعصب کا گہرا تعلق سوچ و فکر سے ہوتا ہے یہ ایک ایسا سرطان ہے جو سوچ کو لاحق ہوتا ہے لیکن کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ سوچ کے اس موزی مرض کا ذمے دار غیر مناسب علم ہے؟ جی ہاں بلکل ایسا ہی ہے۔ ہمارے ہاں اس سرطان کی ذمے دارہمارے تعلیمی اداروں میں جانے والی کتب ضرور ہیں لیکن اس سے کئی گنا ذیادہ ہمارا وہ طبقہ ہے جوعلومِ عصریہ و دینیہ کو انسانی فکر میں سموتا ہے جو اس سرطانِ فکر کا ذمے دار ہے اور ہم اس طبقے کو اساتذہ اکرام کا نام دیتے ہیں۔ یہاں میں ایک مثال دینا لازمی سمجھوں گا ایک استاد آپ کوطِب پرھا تا ہوئے تمام موضوعات صحیح طریقے سے پرھاتا ہے لیکن طلباء کے سامنے اس کا رویہ ایک مکتبۂ فکر کے ماننے والوں کے ساتھ بلکل نامناسب اور دوسرے مکتبۂ فکر کے ماننے والوں کے ساتھ بہترین تو آپ خود غور کیجیئے کہ اختلافِ مکتبۂ فکر کی بنیاد پر جماعت میں تعصب جیسی خطرناک سماجی اور فکری بیماری جنم لیگی یا نہیں ۔ استاد ہی وہ شخصیت ہے جو تمام علوم کی صحیح یا غلط تشریح کرتا ہے اس کے علاوہ استاد کا کردار، اس کی سوچ، اس کی شخصیت اور اس کی فکر طلباء کے اذہان پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی سوچ کی پرورش میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں اساتذہ اکرام میں اعلی کردار اور اچھے اخلاق کا فقدان پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر طبقے میں اچھے اخلاق، اچھے کردار اور بہترین رویہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح ماں باپ کے کردار اور شخصیت کا اثر بچوں پر پرتا ہے اسی طرح استاد کے کردار اور دیگر اوصاف کا اثر انسانی سوچ اور فکر پر پرتا ہے۔ استاد ہی ہے جو ایک انسان کو ارسطو بنا دیتا ہے اور یہی استاد کسی کہ امام ابو حنیفہ تو کسی کو ذوالنون مصری بنا دیتا ہے۔

آج ایسے اساتذہ کی ہمارے معاشرے میں اشد ضرورت ہے جو نہ صرف اخلاقیات کی تعلیم دیں بلکہ بذاتِ خود اعلی کردار اور بہترین اخلاق کے پیکر ہوں۔ ہمارے معاشرے میں الحمداﷲ آج قلیل ہی صحیح مگر ایسی شخصیات موجود ہیں جو دین کو سکھاتی ہی نہیں بلکہ خود منہاجِ دین پر چل کر اور اخلاق کا اعلی ترین نمونہ بن کر عالمِ انسانیت کے لئیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہیں۔ اب اس امر کی ضرورت ہے کہ اساتذہ اکرام کہ ایک خاص تربیتی عمل سے گزار کر پھر ان کی ذات کو تعصب جیسی الائشوں سے پاک کر کے ان کے کاندھوں پر معلم و مدرس جیسی بھاری ذمہ داری ڈالی جائے ۔

اﷲ ہماری قوم کے لوگوں کو علمِ نافع عطا فرمائے۔