Thanks Thanks:  1
Likes Likes:  0
Results 1 to 2 of 2

Thread: پاکستان کا آئین اور رقص و موسیقی کی تعلیم

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2007
    Posts
    483
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    پاکستان کا آئین اور رقص و موسیقی کی تعلیم

    پاکستان کا آئین اور رقص و موسیقی کی تعلیم

    پاکستان کے آئین میں جو پہلی بات درج ہے وہ اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے بارے میں ہے اور اسی حاکمیت کے نتیجے میں جو اختیارات عوام کو تفویض کیے گئے ہیں وہ ان کوامانت سمجھ کر اسی طرح استعمال کرے گا جیسے استعمال کرنے کا حق ہے۔اس کے بعد کہا گیا ہے کہ جمہوریت ، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی عدل کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔یہ دو جملے پاکستان کے آئین کے تمہید سے اٹھائے گئے ہیں۔ جو کو پورے آئین کی بنیاد ہیں۔ چونکہ پاکستان بے شک بنایا تو اسلام کے نام پر تھا، لیکن یہاں ہر بات کو اسلام سے قطعہ نظر کرکے پاکستان کے آئین کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس طرح قادیانوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کرکے پاکستان کے آئین میں ترمیم کی گئی تھی جب کہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ اسلام کی تعلیمات سے واضح ہے جس نے اللہ کے آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺکو اللہ کا آخری نبی نہ مانا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ فیصلہ آج کا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے دور کا ہے۔ لیکن قادیانی چونکہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں اسلیے ان کے لیے ایک قانون بنانا پڑا۔
    سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کے علم میں بات آئی کے سندھ کے تعلیمی محکمہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں سکولوں میں رقص و سرور کی محفلوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔شاہ صاحب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اس حکم نامہ کو کالعدم قرار دیا اور کہا کہ رقص و سرور کی محافل (انھوں نے تو رقص اور موسیقی کے الفاظ استعمال کیے ہیں) پر کوئی پابندی نہیں۔ بلکہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ اسلام میں بھی اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ مجھے ہی کیا، ہر ذی شعور شخص کو یہ پڑھ کر ، سن کر افسوس ہوا۔ کہنے کو تو وزیرِ اعلیٰ صاحب سید زادے ہیں (ان کے نام کے ساتھ شاہ لگا ہوا ہے اسلیے کہا) لیکن انھوں نے یہ بات کرکے اپنے ہی جد امجد رسول اللہ ﷺ کو ناراض کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے مبارک کانوں میں بانسری کی آواز پڑتی تھی تو وہ اپنے مبارک کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے کہ اس کی آواز ان تک نہ پہنچے۔تاریخ میں آتا ہے کہ بانسری شیطان نے خود ایجاد کی۔تو جب ہمارے آقا ﷺ ایک بانسری کی آواز سے اپنے آپ کو دور رکھتے تھے تو پھر موسیقی کہاں سے جائز ہو گئی؟ پھر شاہ صاحب نے کہا کہ اس طرح کی پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے کہ انسانی بنیادی حقوق کو غصب کیا جارہا ہے تواس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ بات کرکے شاہ صاحب نے ہی آئین کی خلاف ورزی کی ہے تو کیا غلط بات ہو گی؟ جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ آئین کے تمہید میں ہی اللہ کی حاکمیت کو اولیت دی گئی ہے۔ پھر ملک میں قانون اس طرح بنائے جائیں گے جو شریعت سے متصادم نہیں ہوں گے۔ جمہوریت ، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی عدل کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ اب اس جملے کو دیکھا جائے تو مساوات اور آزادی کی بات آگئی ہے ۔ تو آزادی تو وہ ہوگی جو اسلام کی تعلیمات کے اندرہو گی۔ نہ کہ انسان کے انسان کے اپنے انتخاب کی بات ہو گی۔
    ہم نے اپنی زندگی جس طرح بھی گزارنی ہے، جو سانس بھی لینا ہے ، اٹھنا بیٹھنا ہے، ملنا ملانا ہے، جو کچھ بھی کرنا ہے سب کچھ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہو گا۔ اگر تو ہمارا کسی مقام پر سانس لینا قرآن و سنہ کے متضاد ہے تو ہمیں وہاں سانس روک لینا ہو گا۔اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اس میں انسانیت کی ہی بھلائی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ ہمیں کہاگیا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ اب اگر کہیں پر کوڑا کرکٹ جمع ہے، اوپر سے وہاں کسی نے آگ بھی لگا دی ہے تو اس آگ کا دھواں کتنا غلیظ ہو گا اور کتنی گندی بدبو نکلتی ہو گی۔ اگر وہاں سانسں لیں گے تو اپنی جان کے ساتھ کھیلیں گے۔ اور جان تو اللہ کی امانت ہے۔ گویا ایسے مقام پر سانس نہ لینا بھی دین کی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ لیکن اب شاہ صاحب ہمیں اس غلیظ کوڑا کرکٹ کی بدبو سونگھنے پر مجبور کر رہے ہیں یہ کہہ کر یہ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ جناب عالی! یہ چیز تو آپ کو نظر آگئی لیکن جو آپ کے صوبے میں دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے، جگہ جگہ گلی محلہ میں جرائم کے اڈے بنے ہوئے ہیں، شراب خانے، جوا گھر بنے ہوئے ہیں وہ آپ کو نظر نہیں آتے ۔ ان کو اجازت کس بنیاد پر ملی ہوئی ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں تو غیر مسلموں کو شاید صرف ان کی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت ہے، وہ بھی ایک مخصوص جگہہ پر۔ لیکن کہیں بھی نہیں لکھا کہ ان کو شراب، جوئے خانے بنانے کے لیے کھل کھیلنے دیا جائے۔ حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق تو شراب کے حوالے سے آٹھ افراد پر لعنت فرمائی گئی ہے، جن میں سے ایک کے علاوہ سارے کے سارے ہی اتفاق سے معاونت کرنے والے بنتے ہیں۔وہ ایک پینے والا ہے اور باقی سب اس کو پلانے والے۔
    آپ تو سید زادے ہیں۔ بجائے اسکے کہ آپ دین سے کھلواڑ کریں، آپ کو تو چاہیے تھا کہ خود کو مضبوط کرتے ہوئے اس طرح کی محافل پر خود پابندی لگاتے۔ لیکن بہت افسوس ہوا۔ شاہ صاحب،رقص و موسیقی ہماری ثقافت نہیں ہے۔ ہماری ثقافت کی بنیادیں اسلام کی تعلیمات سے نکلتی ہیں اور وہیں پر ختم ہوتی ہیں۔بجائے ان تعلیمات کو دھیرے دھیرے معاشرے میں سرایت کرانے کے آپ بلند آواز سے اعلان کرتے ہیں کہ اس طرح کے نوٹیفیکیشن جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔رقص و موسیقی ایک آزاد معاشرے کا جزو لاینفک ہے۔ آپ بھرپور طریقے سے اس کی حمایت کریں گے۔ واہ شاہ صاحب واہ۔کیا آپ خوف خدا نہیں رکھتے۔ کیا آپ کو آپ کے بچپن سے جوانی تک گھر میں کسی نے دینی تعلیمات کی طرف راغب نہیں کیایا پھر آپ جان بوجھ کر اپنے بیرونِ ملک بیٹھے آقاؤں کے کہنے پر ایک لبرل معاشرہ قائم کرنے کی ابتدأ کر رہے ہیں۔ اگرچہ پہلے ہی یہ معاشرہ کافی لبرل اور آزاد خیال ہو چکا ہے۔ ان کو کوئی روکنے والا، کوئی ٹوکنے والا نہیں۔ تب ہی تو یہ دھندناتے پھرتے ہیں اور اسلام کا مذاق اڑانے میں غیر مسلموں سے دو ہاتھ آگے ہی رہتے ہیں۔ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں کے مصداق ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی گلشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
    آپ نے آئین کی بات کی تو یا تو آپ آئین میں تبدیلی لے کر آئیں کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ جس نے بھی اس طرح کو سخت قدم اٹھایا اس کو اللہ کی طرف سے سزا ضرور ملی ہے۔ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوا ہے اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی رسوا ہو گا۔تو آپ بھی پھر اپنی رسوائی کا سامان تیار رکھیے گا۔اسلام سے کھلواڑ کرنا کوئی بچوں کا کام نہیں۔ یہ وہی لوگ کرتے ہیں جو یاتو ڈالروں اور پاؤنڈز پر پلتے ہیں یا پھر ان کی رگو ں میں قادیانیوں ، یہودیوں ، ہنود کا خون دوڑ رہا ہوتا ہے۔ ورنہ کسی بھی مسلمان ،جس نے اللہ اور اس کے نبی ﷺ کا کلمہ پڑھا ، بے شک وہ گناہوں کی لت میں ڈوبا ہوا ہے، کو یہ جرأت کبھی نہیں ہوتی کہ وہ اسلام کا مذاق اڑائے۔ بھلے وہ خود ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتا لیکن شرمندگی کسی نہ کسی مرحلے میں ضرور محسوس کرتا ہے۔ آج بھی آپ ایک انتہائی ناقص العمل مسلمان کے سامنے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو برا بھلے کہہ دیں تو اگر تو وہ آپ کو جان سے نہیں بھی مارے گا تو کم از کم دین کے ادنیٰ درجے میں شامل ہو کر آپ کو گالیوں سے ضرور نوازے گا۔ نہیں شاہ صاحب، آپ سے دست بستہ عرض ہے کہ ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس میں آپ کو دنیا و آخرت کی رسوائی ملے۔ آپ اپنے فیصلے پر غور کریں اور سوچیں کہ آپ کہاں تک حقیقت پرست ہیں۔ آپ اپنے صوبہ سندھ میں ایک ریفرنڈم کروا لیں یہ کہہ کر کیا رقص و موسیقی کی محافل جاری رہنی چاہییں ، اگرچہ یہ غیر اسلامی ہیں۔ آپ کو خود جواب مل جائے گا۔

    اور اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ سب امور کے لیے کافی ہے۔۔
    میری کتاب "الوداع"۔

    میرا بلاگ





  2. #2
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,579
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    سندھ کا آئین ہی کچھ اور ہے شائد
    پتا نہیں وہاں کے حکمران کن چکروں میں ہیں
    یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے اگر ہوئے تو ہوئے
    تمھارا کیا ہے کوئی ہو گا، کوئی تھا، کوئی ہے
    https://thumbs.gfycat.com/HeartyBest...restricted.gif

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •