خواب سارے مر رہے ہیں۔

گھر کو لوٹتے ہوئے اس کا چہرہ اداسی سے دھندلایا ہوا تھا‘ تھکے تھکے انداز میں قفل کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا اور پختہ روش پر چلتے گھر کے داخلی حصے کی طرف بڑھنے لگا۔اپنے رنگ بھرنگے پالتو پرندوں کے پاس ایک لمحے کے رک کر ان خوبصورت پرندوں کی اٹھکیلیاں دیکھیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح آج ان پرندوں کی سر گرمیاں بھی اسے خوشی کا احساس نہیں دے رہا تھیں۔

ٹی وی لاؤنج میں اپنی بیوی کو سلام کیا اور سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔

بیوی اس کے عقب کو تاسف سے دیکھ رہی تھیں اور وہ یہ جانتی تھیں اس وقت اس کا شوہر بہت دکھی ہے۔ اور اسے اس وقت سب سے زیادہ اس کے ساتھ، اس کے اعتماد کی ضرورت ہے۔ لہذا ایک کپ میں چائے تیار کی اور کمرے کی طرف چل دی۔

کمرے میں داخل ہونے پراپنے شوہر کو بنا لباس تبدیل کیے بیڈ پر آڑھا ترچھا لیٹے پا کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ جنہیں اس نے بڑی صفائی کے ساتھ ہتھیلی کے عقب سے صاف کیا۔ اور چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ بکھیرتے بولیں۔

’’کیا تھک گئے ہیں۔’’ چائے کا کپ بڑھاتے بیوی نے پوچھا۔ تو اس نے بیوی کو ایسی نظروں سے دیکھا کہ بیوی اس کی آنکھوں میں موجود درد کو دیکھ کر تڑپ کر رہ گئی مگر اپنے تاثرات کو چھپا گئی۔

وہ اب خاموشی سے چائے پیئے جا رہا تھا۔

’’دیکھیں، فکر نہ کریں، انشاء اللہ سب کچھ ہو جائے گا۔‘‘بیوی نے اس نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی۔

’’میں بکھر رہا ہوں بیگم۔ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے میں نے ایک کھیت تیار کیا پھر اس میں ایک ایک پودا اپنے ہاتھوں سے لگایا، انہیں اپنے خون پسینے کی محنت سے سینچا اور جب وہ فصل تیار ہو کر لہلانے لگی اور اس کی کٹائی کا وقت قریب آ گیا۔ تو ایک بہت بڑے طوفان نے اسے تباہ و برباد کر دیا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں تکلیف، دکھ، تاسف کیا کچھ شامل نہیں تھا۔

’’خدا پر بھروسہ رکھیں۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

’’ہاں۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کا وقت تھا جب اس کو پوری طرح سے اطمینان ہو چکا تھا کہ اس کی بیوی اب سو چکی تھی۔ وہ دھیرے سے اٹھا اور کمرے کے کونے میں رکھی رائٹنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔

کم روشنی کا لیمپ روشن کیا۔ اور کاغذ کے سینے پر اپنے دل کا درد اتارنے لگا

قوس قزاح کی روشنی کے رنگ سارے
مسکراتے پھول اور تتلیاں
جگ مگ کرتے جگنو
مسکراتے چہرے
اور
چند خواب
بہارکی سرزمیں پر
جو مصیبتوں سے دور تھی
پاکیزگی کے ایک محل میں جمع کیے
محبتوں سے ریاضتوں سے
عزت سے مان سے
یکجا کیے
اب
غلط فہمی
یا سازشوں سے
تتلیاں اڑ چلی ہیں
اور پھول بھی مرجھا رہے ہیں
نفرت کا دیوتا بھینٹ لے رہا ہے
اور
زخموں سے چور
خون سے لت پت
خواب سارے مر رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب کے موجود ہونے کے باوجود کانفرنس روم میں سکوت کا عالم تھا۔

’’اس ادارہ کو قائم کرتے وقت کچھ مقاصد کا تعین کیا گیا تھا۔ جو کہ چند ماہ قبل تک ادارہ باحسن و خوبی سر انجام دے رہا تھا۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ اس مقاصد کو بڑی بے رحمی سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ جس سے ادارے کی کارکردگی سست ہو کر رہ گئی ہے۔

اب میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں کہ انتظامیہ سے اپیل کروں کہ آگلے پندرہ دن میں اس خرابی کی وجوہات کو تلاش کرنے کے بعد اس پر قابو پانے کی مضبوط گزارشات سامنے لائی جائیں۔

ورنہ میں مجھے ڈر ہے کہ اس ادارے کو بند کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ اب آپ جا سکتے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نا میں جانوں گی
نا تو مانے گا
یہ سلسلہ
یونہی چلتا جائے گا
محبتیں جو چلی گئی
ایک خزانہ تھیں
راحتیں جو کھو گئی
اچھا زمانہ تھیں
چل چلاؤ کا دور ہے
سیدھی راہ میں
موڑ ہی موڑ ہیں
باتیں ہیں
سوال ہیں
اور توتکار ہے
یونہی چلتا جائے گا
یہ سلسلہ
نا تو مانے گا
نا میں جانوں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھیڑ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی اور سب ایک دوسرے کو پوچھ رہے تھے کہ دروازے کھل کیوں نہیں رہے، اور بتانے والا چمک کر بتاتا تھا۔
’’ارے۔ آپ کو نہیں پتہ یہ ادارہ بند ہو چکا ہے۔‘‘

چہروں پر حیرت، دکھ، افسوس سجائے سب ہی آگے بڑھے جا رہے تھے۔

سنو
رنجشیں بھول کر
پیار کا اک نغمہ چھیڑو
بے اعتباری کا جو دھواں ہے
خلوص کے سُروں سے بھاگ جائے گا

ورنہ
وقت ہے
گزر جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔