سخن گاؤں کا مختصر تعارف

یہ تحریر صد فیصدی تخیل پر مبنی ہے اور اس میں بیان کردہ نام، واقعات اور جگہیں تمام تر فرضی ہیں۔ کسی بھی مماثلت یا حادثے کی صورت میں مصنف یا ادارہ زمہ دار نہیں ہو گا۔

وڈے اسٹیشن پر گہما گہمی عروج پر تھی۔ ریل گاڑی تھوڑی ہی دیر پہلے رکی تھی۔ مسافر اپنا سامان اٹھائے پلیٹ فارم پر اتر رہے تھے۔ زیادہ تر مقامی لوگ بڑے بڑے بکسے اٹھائے اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے تانگہ اسٹیشن کی طرف بڑھے چلے جا رہے تھے اور پہلی دفعہ آنے والے مہمان دور سے نظر آنے والی سونے کی ان عظیم الشان کانوں کو فرط حیرت سے دیکھتے تھے۔

ریت کے اس جنگل میں سونے کی ان کانوں کا وجود کسی معجزے کا نتیجہ لگتا تھا جس کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اور دور دور سے لوگ ان کانوں کو دیکھنے آتے اور پھر یہیں کہ ہو کر رہ جاتے تھے۔

مہمانوں سے بھرا تانگہ گاؤں کی کچی پکی گلیوں سے ہوتا تانگہ مخصوص مقام پر رکتا تو انہیں ایک گھنے سیاہ دار درخت کے چوڑے تنے پر کیلوں سے لوہے کی ایک پلیٹ دکھائی دیتی جس پر بسم اللہ کے بعد یہ پیغام بہتر سے بہتر ملنے کی دعا دی گئی تھی اور گاؤں میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔

اس گاؤں کے عین وسط میں ایک کھلا سا میدان تھا جس کے وسط میں زمانوں کے ہزاروں راز دل میں چھپائے بوڑھا برگد کھڑا تھا اس برگد کی چھاؤں میں ایک کنواں کھدا ہوا تھا جس میں ایک پلی پر رس لپیٹ کر اس رسی کے ایک سرے پر ربر کا ایک مشکیزہ بندھا ہوا تھا۔ پنچائت کی طرف سے اس پورے میدان کی بھوسہ ملی مٹی سے لپائی کروانے کی وجہ سے یہ جگہ بالکل صاف ستھری تھی۔ جہاں پر اس گاؤں کے ننھے منے بچے کرکٹ، فٹ بال یا پھر کبھی کبھی کبڈی کھیلتے پائے جاتے۔ اور لڑکیاں بالیاں اپنی سکھیوں کے ساتھ زمین پر پتھر سے خانے بنا کر اشٹاپو کھیلتی پائی جاتیں یا چار پتھروں میں سے ایک ہوا میں اچھال کر باقی پتھروں کو مختلف ترتیب سے اٹھاتی نظر آتیں۔ اور جب کھیل کود سے بیزاری چھاتی تو سکھیاں ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ‘ اپنے ویر کی ’’پگ کی لاج‘‘ دہراتے ہوئے کیکلی کے چکروں میں گھومنے لگتیں۔

بچوں سے زرا پرے سادہ مگر صاف لباس میں ملبوس ایک بڑے بزرگ ’’کاظمی چچا ’’ اور اپنے اونچے شملے والی پگڑی سنھبالے چارپائی پر بیٹھے گاؤں کی بھلائی اور ترقی کے لیے نوجوان کو اپنے تجربوں سے آگاہ کر رہے تھے۔ اور نئی نسل سے مشورے بھی لے رہے تھے کہ ان کی نظر میں نئی نسل کافی سمجھدار تھی۔ جسے صرف راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ جب انہوں نے اپنی بات تمام کی۔ تو تمام مجمعے کی جانب سے ’’پائی عمران‘‘ سے ’’ہیر وارث شاہ‘‘ سنانے کی فرمائش کر دی گئی۔ جسے انہوں نے ’’الف حمد ثنا الہی‘‘ سنا کر پورا کر دیا۔ پھر سب لوگوں نے گاؤں کے اکیلے مسافر ’’یازغل پائی‘‘ کو گھیر لیا۔ اب کہ ان کی فرمائش ان کے سفر کی داستان سنانے کی تھی۔ جنہیں کافی منتوں کے بعد مان لیا۔ اور ان کی داستان گوئی کی دلچسپی میں کھو گئے۔

میدان کے دوسری طرف ایک علیحدہ ہی محفل لگی ہوئی تھی۔ خوبصورت رنگوں کے دھاگوں سے بے مول کپڑوں کو انمول بناتی انگلیاں تیز رفتاری سے شاہکار بننے میں مصروف تھیں۔ اور ساتھ ساتھ زبان کی شیرینی سے خوشیاں بھی بکھیر ی جا رہی تھیں۔ یہ گاؤں کی خواتین تھیں۔ جو اپنے کاموں کاجوں سے فراغت پا کر یہاں کا رخ کرتیں اور پھر دن کا ایک بڑا حصہ دوسرے کا دکھ سکھ بانٹے یہیں پر گزار دیتیں۔ یہاں پر انہیں بزرگوں سے محبت ملتی تھیں بڑوں سے اچھی نصیحت اور ہم جولیوں سے سلیقہ ملتا تھا۔ کوثر خالہ انہیں اتنی محبت سے پیار بھری باتیں سکھاتیں کہ بات سیدھا دل کو جا کر لگتی آمنہ آپی ایک آدھ دھپ لگا کر اس طرح عقل سے بات کرتیں کہ سب کو خود ہی نصیحت ہو جاتی ۔ اور ساحرہ آپی تو اپنا سبزی یہیں لی آتیں اور سب کے درمیان بیٹھ کر سبزی صاف بھی کرتیں، اس کاٹتی بھی اور ساتھ میں موناآپی، سماراں آپی اور ظفر پائی کی ووہٹی نازیہ آپی کے ساتھ شہر کی نئی نئی باتیں بھی بکھیرتی نظر آتیں۔

بزرگ زرا سا ادھر ادھر ہوتے تو بہتے ناک اور مٹی سے سنے ہاتھوں والی ’’نکی نکی کڑیاں‘‘ جو کہ اتنی ’’نکی‘‘ بھی نہیں ہیں ایک دوسرے کو محبت بھرے کونسے دینا، زبان دکھانا اور چہرے بنانا شروع کر دیتں اور اگر بات تھوڑی زیادہ بڑھتی تو کسی نہ کسی بڑے کو انہیں کان سے پکڑ کر باہر نکالنا پڑتا۔

اس چھوٹی سی جگہ میں تھوڑا ہی وقت بیتانے پر یہاں کا آلائشوں، تفریق اور سازشون سے پاک پر سکون ماحول سب کو یہاں پر بار بار آنے اور یہاں بس جانے پر مجبور کر دیتا ہے