Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 4 123 ... LastLast
Results 1 to 15 of 59

Thread: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    509
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    طویل تر غیر حاضری کی معذرت کے ساتھ۔


    میری اکلوتی بیٹی کرن شہزاد چین کی ایک یونیورسٹی میں ایم۔بی۔بی۔ایس کر رہی ہے۔ وہ یونیورسٹی کے اندر ہی واقع ہوسٹل میں رہائش پزیر ہے۔ تقریبا ڈیڑھ ماہ پہلے اسے مافوق الفطرت حالات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ہم پورے تین دن تک سولی پر لٹکے رہے اور راتوں کی نیند حرام ہوگئی۔ میں وہاں خود تو موجود نہیں تھا لیکن مسلسل فون اور انٹر نیٹ رابطے سے میں پل پل کی خبر لے رہا تھا ان سارے مسلسل رابطوں سے جو کہانی بنی وہ میں اپنے انداز سے لکھ رہا ہوں۔ واضح رہے کہ یہ ایک سو فیصد سچی بات ہے اور کسی کو اس میں شک ہونا چاہئے۔ہاں ان سارے واقعات کو ایک لڑی میں پرونے اور دل چسپ بنانے کے لئے میں نے اپنے الفاظ اور انداز کا سہارا ضرور لیا ہے۔ تاہم واقعات کی روح بالکل اصلی اور حقیقت پر مبنی ہے۔


    سب سے پہلے تو آپ اس واقعے کی لوکیشن جان لیں کہ یہ واقع چائنہ میں کس جگہ پیش آیا، کیانکہ چائنہ بہت بڑا ہے۔


    University: Yangtze University


    City: Jingzhou


    Province : Hubei


    Country: China


    مذکورہ بالا شہر چین کا قدیم اور تاریخی شہر ہے اور سینکڑوں سال تک قدیم چین کا دارالخلافہ بھی رہا ہے۔ یہ شہر دنیا کے تیسرے بڑے دریا ینگ زے کے کنارے پر ہزاروں سال سے آباد ہے۔


    ویک اینڈ کے دن سپہر تین بجے کرن اپنی ایک سہیلی کے ساتھ شہر کے مشہور شاشے پارک گئی۔ یہ پارک یونیورسٹی سے پندرہ منٹ کی پیدل مسافت کی دوری پر ہے۔ دونوں سہیلیاں کافی دیر گھومتی رہیں اور باتیں کرتی رہیں۔ شام کاجھٹ پٹا ہونے لگا تھا، دونوں سہیلیاں جھیل کنارے ایک جھرنے کے پاس ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ جھیل کے کنارے پر بہت قدیم درخت ایک بڑی تعداد میں موجود تھے۔ درختوں کے درمیان جھاڑیاں اور دیگر پودے بھی کثیر تعداد میں اگے ہوئے تھے اس طرح ارد گرد کا ماحول شام کے نیم اندھیرے میں ایک اندھیرے جنگل کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اسکی سہیلی نے محسوس کیا کہ کرن کافی دیر سے ایک قدیم اور پرانے درخت کی طرف خاموشی سے تکے جارہی تھی اور اپنی سہیلی سے باتیں بھی نہیں کر رہی تھی۔ بس خاموشی سے اس درخت پر نظریں گاڑے بیٹھی تھی۔ اسکی سہیلی نے اکتا کر کہا چلو کرن واپس چلتے ہیں۔ لیکن کرن کی طرف سے خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا اور وہ مسلسل درخت کو دیکھے جارہی تھی۔ سہیلی نے دوبارہ چلنے کو کہا تو کرن نے جواب دیا ’’ تم جاؤ، میں نے یہیں رہنا ہے‘‘


    ’’ کیا؟‘‘ اسکی سہیلی چلائی


    ’’ ہاں تم جاؤ، وہ اس درخت پر بیٹھا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ تم یہیں رہو‘‘


    ’’ کرن ! تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کون درخت پر بیٹھا ہے؟ مجھے تو کوئی بھی نظر نہیں آرہا‘‘ سہیلی نے استفسار کیا۔


    ’’ بس تم جاؤ۔ اور مجھے یہیں چھوڑ دو، وہ مجھے نہیں جانے دے گا‘‘ کرن نے تبدیل شدہ آواز میں جواب دیا اور جھاڑیوں کی طرف قدم بڑھا دیئے اور بیل پودوں کو عبور کرتے ہوئے ایک گھنی جھاڑی میں گھس کر بیٹھ گئی۔ سہلی اب کچھ خوف زدہ ہونے لگی تھی۔ وہ ڈرتے ڈرتے اس جھاڑی تک پہنچی۔


    ’’ کرن یہاں کیوں آکر بیٹھ گئی ہو؟ چلوں واپس چلو‘‘ اور سہلی نے کرن کو زبردستی جھاڑی سے کھینچنے کی کوشش کی۔ کرن نے اسکی زبردستی کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے اسے زور سے دھکہ دیا اور اسکی سہیلی دور جاگری۔ بعد میں اسکی سہیلی نےمجھے یہ بتایا ’’ انکل میں حیران رہ گئی کہ کرن جیسی دبلی پتلی لڑکی میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ اس نے مجھے دور پرے پھینک دیا۔


    سہیلی نے اٹھ کر دوبارہ کرن کے پاس پہنچی اسے پھر کھینچنے لگی۔ اس بار کرن نے اپنے ناخنوں سے اسکے بازو زخمی کر دئیے اور زخموں سے خون رسنے لگا۔ اب اسکی سہیلی واقعی خوف زدہ ہوچکی تھی۔ اس نے جھاڑی سے دور آکر اپنے موبائل سے اپنے چند کلاس فیلوز سے رابطہ کیا اور کرن کی حالت کے بارے میں بتایا۔


    پندری بیس منٹ میں چار اور لڑکیاں اور تین لڑکے شاشے پارک میں پہنچ گئے اور کرن کو گھسیٹ گھساٹ کر ہوسٹل لے آئے۔ اس دوران وہ مسلسل یہی کہتی رہی کہ میں نےکہیں نہیں جانا، یہیں رہنا ہے۔ اس دوران اس نے طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جو کہ لڑکوں کے لئے بھی حیران کن تھا۔


    لڑکے تو اسکو ہوسٹل کی بلڈنگ کے سامنے لڑکیوں کے حوالے کر کے اپنے ہوسٹل میں چلے گئے، کیونکہ یونیورسٹی قواعد کے مطابق کوئی لڑکا لڑکیوں کے ہوسٹل کی بلڈنگ کی دہلیز پار نہیں کر سکتا۔ جگہ جگہ سیکیورٹی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور انتظامیہ کو فورا پتہ چل جاتا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بعد میں خلاف ورزی کرنے والے کو لاکھوں روپے جرمانہ بھرنا پڑتا ہے۔


    جو لڑکیاں شاشے پارک کرن کو لینے پہنچیں تھیں سبھی اسکی ہوسٹل میٹ تھیں اور انکے کمرے ساتھ ساتھ ہیں۔


    لڑکیوں نے کرن کو اسکے کمرے میں لا کر بیڈ پر بٹھا دیا۔وہ تھوڑی دیر خاموشی سے بیٹھی رہی، اسکے بعد اس نے اپنے بال اپنے ہاتھوں سے بکھیرنے شروع کر دئے اور تھوڑی ہی دیر میں اپنے بال اس طرح کر لئے جیسے برسوں سے کنگھی نہ کی گئی ہو۔ اسکی سہیلیاں غور سے اسکی حرکات دیکھ رہی تھیں۔


    ’’ کرن تمہیں کیا ہوا ہے؟ بتاؤ ہم تمہاری کیا مدد کریں؟‘‘ ایک لڑکی نے پوچھا۔


    ’’ مجھے کچھ نہیں ہوا، بس میں نے پارک جانا ہے، مجھے جانے دو‘‘ کرن نے عجیب سی آواز میں کہا


    ’’ پارک میں کیا ہے اور وہاں کیوں جانا چاہ رہی ہو؟‘‘ لڑکی نے پوچھا


    ’’ وہ میرے اس کمرے میں موجود ہے اور سامنے بیٹھا اور مجھے کہتا ہے تم پارک چلو، مجھے جانے دو‘‘ یہ کہہ کر کرنے نے تیزی سے دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور راہدادری میں پہنچ گئی۔ لڑکیاں بھی تیزی سےلپکیں اور اسے کھینچ کر پھر کمرے میں لے آئیں۔ اب سب ہی لڑکیاں شدید خوف زدہ ہو گئیں تھیں۔


    کرن نے پھر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے شروع کر دیئے اور بال بری طرح بکھیر لئے۔


    ’’ کرن تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ اور تم اپنے بالوں کو ایسے کیوں کر رہی ہو؟‘‘ اسکی ایک اور سہیلی نے پوچھا۔


    کرن نے تھوڑی بدلی ہوئی آواز میں جواب دیا۔’’ وہ کہتا ہے ناخنوں کو نیل پالش لگا کر جب تم بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہو ہو تو مجھے اچھا لگتا ہے، میں اسکا حکم ماننے پر مجبور ہوں‘‘


    ’’ کون کہتا ہے؟‘‘ لڑکی نے جھر جھری لے کر پوچھا۔


    ’’ وہ، سامنے دیوار کے پاس کھڑا ہے، کیا تمہیں نظر نہیں آرہا؟‘‘


    ’’ نہیں اس کمرے میں ہمارے سوا کوئی اور نہیں پتہ نہیں تم کس کی بات کر رہی ہو‘‘ لڑکی نے جواب دیا۔


    ’’ اچھا یہ بتاؤ وہ تمہیں اور کیا کہتا ہے؟‘‘


    ’’ وہ کہتا ہے اگر تم شاشے پارک چلی چلو تو میں تمہاری جان چھوڑ دوں گا، لیکن تم لوگ مجھے جانے نہیں دے رہی ہو‘‘ کرن نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔


    اس بات سے لڑکیاں اور خوف زدہ ہوگئیں اور اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں۔ اب کمرے میں کرن اور اسکی روم میٹ رہ گئیں۔ اسکی روم میٹ نے کمرے کو اندر سے لاک کر کے چابی چھپالی۔ کرن کی چابی بھی اس نے اس کے پرس سے نکال کر ایک خاص جگہ پر چھپا دی کہ مبادہ کرن رات کو کہیں باہر نہ چلی جائے۔


    کرن ساری رات اپنے بالوں کے ساتھ کھیلتی رہی اور کسی نادیدہ قوت سے باتیں کرتی رہی اور اسکی روم میٹ خوف سے کانپتی رہی۔ صبح لو پٹھنے سے تھوڑا پہلے کرن سو گئی۔ بقول اسکےمیں شائد دو گھنٹوں کے لئے سوئی ہوگی۔


    اگلے دن جاگنے کے بعد اسکی حرکات پھر لوٹ آئیں۔ وہ اٹھ اٹھ کر باہر بھاگتی اور لڑکیاں اسے پھر کھینچ اور گھسیٹ کر واپس لے آتیں۔ اسکی ایک ہی رٹ تھی کہ مجھے ہر صورت شاشے پارک جانا ہے۔ وہ انکی منت کرتی رہی کہ مجھے پارک جانے دو۔ میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔ لیکن لڑکیاں اسے پارک تو کیا باہر بھی نہیں نکلنے دے رہیںتھیں۔ جب لڑکیوں کی بھی ہمت جواب دے گئی تو ان میں سے ایک نے مجھے کال کی۔


    یہ سب واقعات جو میں نے اوپر تحریر کئے ہیں وقوع پزیر ہوچکے تھے لیکن پاکستان میں ہم سب ان واقعات سے قطعی لاعلم تھے کہ کرن کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ دن کے بارہ بجے کے قریب وقت ہو گا جب مجھے اسکی سہیلی کا فون آیا۔


    ’’ہیلو‘‘ میں نے فون اٹٹینڈ کر کے جواب دیا۔


    ’’ انکل کرن کے فون پر کال کریں‘‘ دوسری طرف سے کہا گیا۔


    ’’ کیا ہوا بیٹا؟ خیریت تو ہے؟‘‘ میں تھوڑا پریشان ہو گیا تھا۔


    ’’ آپ فون کریں، پھر بتاتی ہوں‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔


    میں نے فورا کرن کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے اسکی اسی سہیلی نے اٹھایا۔


    ’’ ہاں بیٹا کیا ہوا؟‘‘ میں نے فورا ہی پوچھ لیا۔ مجھے تھوڑا اندازہ ہو گیا تھا کہ خیریت نہیں ہے۔


    ’’ انکل کرن کی طبیعت کل رات سے خراب ہے۔ وہ ساری رات سوئی نہیں ہے اور اپنے بالوں کو نوچتی رہی ہے۔ کل سے ہی کہہ رہی ہے میں نے شاشے پارک جانا ہے‘‘


    ’’ اس نے وہاں کیا لینے جانا ہے؟َ‘‘ میں نے دریافت کیا۔


    ’’ انکل پتہ نہیں، کل بھی ہم اسے اسی پارک سے لے کر آئے تھے۔ وہ وہاں ایسی ایسی جھاڑیوں میں گھس کر بیٹھ جاتی تھی جہاں عام آدمی جانے سے ڈرتا ہے۔ وہ کل بھی وہاں سے آنے کو تیار نہیں تھی لیکن ہم اسے زبردستی لے آئے۔ اب بھی وہ بار بار باہر بھاگتی ہے اور کہتی ہے میں نے شاشے پارک جانا ہے۔ ہم کئی بار اسے باہر سے کمرے میں لے کر آئے ہیں۔ اب آپ بتاائیں کہ ہم کیا کریں؟‘‘


    ’’ کرن سے میری بات کراؤ‘‘ میں نے اسکی سہیلی سے کہا۔ تھوڑی بات کرن کی مردہ سے آواز فون سے ابھری۔۔۔۔


    ’’ہیلو‘‘


    ’’ بیٹا میں ہوں ، تمہارا پاپا۔ کیا ہوا ہے میری گڑیا کو؟‘‘


    ’’ پاپا میں پارک جانا ہے یہ مجھے نہیں جانے دے رہیں۔ آپ انہیں کہیں کہ مجھے وہاں جانے دیں ‘‘ ممجھے کرن کی ساری بات سمجھنے میں کافی مشکل ہو رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ کرن کی آواز تبدیل شدہ ہے اورصاف محسوس ہو رہا تھا جیسے اسکے پیرلل میں کوئی آواز بھی بول ہا ہے۔ یعنی آواز دوہری تھی۔


    ’’ بیٹا پارک میں تم نے کیا لینے جانا ہے؟‘‘ میں کرن سے دریافت کیا۔


    ’’ پاپا وہاں جاکر میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے‘‘ کرن بد ستور ایسے بول رہی تھی جیسے اپنے حواس میں نہ ہو۔


    ’’ کس نے وعدہ کیا ہے‘‘ میں نے پریشانی سے پوچھا اور جواب میں خاموشی چھا گئی ۔ فون بند ہو گیا تھا۔


    میں نے دوبارہ نمبر ملایا۔ اس بار بھی اسکی سہیلی نے اٹھایا۔


    ’’ کیا ہوا فون بند کیوں ہو گیا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا


    ’’ کرن نے فون پھینک دیا تھا، اچھا انکل اب ہمیں بتائیں کہ ہم کیا کریں؟‘‘


    میں نے چند لمحے سوچا اور کہا’’ اچھا بیٹا یہ بتاؤ کہ کرن کے ساتھ جو کچھ بھی کل رات سے ہو رہا ہے، تمہاری سمجھ کے مطابق وہ سب کیا ہے؟‘‘ میں نے حالات کو سمجھنے کے لئے اس سے سوال کیا۔


    ’’ انکل ہم سب کے اندازے کے مطابق یہ بھوت پریت کا چکر ہے‘‘ اس نے صاف لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کر دیا۔ میں نے پھر چند لمحے سوچا اور ایک فیصلے پر پہنچ کر کہا۔


    ’’ بیٹا میرا خیال ہے کہ تم اسے ہسپتال لے جاؤ اور وہاں اسے چیک کراؤ، ساتھ چند ایک دوستوں کو بھی لے جاؤں، بہتر ہے کہ اہک دو لڑکے بھی ساتھ ہو لیں۔ اچھا یہ بتاؤ ہسپتال تمسے کتنے فاصلے پر ہے؟‘‘ میں دریافت کیا۔


    ’’ انکل ہم اسے ٹیکسی میں لے کر جائیں گے اور دس پندرہ منٹ میں پہنچ جایہں گے‘‘ اس نے جواب دیا۔


    ’’ اچھا ٹھیک ہے، میں آدھے گھنٹے بعد دوبارہ فون کروں گا۔ ‘‘ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔ میرے ساتھ بھی زندگی میں اکا دکا ایسے عجیب و غریب واقعات پیش آچکے ہیں جنہیں پراسرار اور مافوق الفطرت کہا جا سکتا ہے، لیکن میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں اور یونہی آنکھیں بند کر کے عجیب و غریب واقعات کو مافوق الفطرت نہں مانتا۔


    میں اس دوران کافی پریشان ہو چکا تھا۔ اتفاق سے اس دن بیگم بھی گھر نہیں تھی۔ وہ اپنے بھائی کے گھر گئی ہو تھی۔ میں نے اسے فون کر کے فورا گھر پہنچنے کو کہا۔


    اسکے بعد میں مسلسل اسکی سہیلیوں اور کرن سے فون پر رابطے میں رہا ۔ آگے کیاہوا وہ پھر اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔


    کرن کی چینی زبان کی ایک ٹیچر( جو کہ کرن کے کافی کلوزہے اور کئی بار کرنکےروممیں آکر اس سے گپ شپ لگاتی رہتی ہے) اسکی دو سہیلیاں، اور دو کلاس فیلوز لڑکے کرن کو لے کر ہسپتال پہنچے۔ وہاں بھی کرن نے بھاگ نکلنے کی بڑی کوشش کی لیکن دوستوں نے اسے مظبوطی سے پکڑے رکھا۔ جب کرن کی باری آئی تو ڈاکٹر نے اسے کمرے میں بلایا۔ کرن نے وہاں بھی یہی رٹ لگائی کہ ڈاکٹر مجھے کچھ نہیں ہوا۔ بس آپ مجھے پارک جانے دیں میں بالکل ٹھیک ہو جاؤں گی۔ جب ڈاکٹر نے بحث کی تو کرن ڈاکٹر کے کمرے سے بھاگ گئی۔ ہسپتال میں ایک شور سا مچ گیا۔ نرسیں اور دیگر سٹاف اسکے پیچھے پیچھے۔


    بڑی مشکل سے کرن کو قابو کیا کیا گیا اور ڈاکٹر نے فورا اسکا سی۔ ٹی سکین کرنے کو کہا۔


    بڑی مشکل سے اسکا سی ٹی کیا گیا، جب رپورٹ آئی تو ہر چیز نارمل تھی۔ اور ڈاکٹروں کو کسی قسم کا نقص نہ ملا۔ ڈاکٹر نے رپورٹ دیکھ کر کرن کے ساتھیوں سے کہا’’ لگتا ہے یہ ایک پیچیدہ قسم کا نفسیاتی کیس ہے۔ اگر کرن کہتی ہے کہ میں نے شاشے پارک جانا ہے تو میں بھی یہی رائے دوں گا کہ اسے لازمی پارک لے جایا جائے۔ اگر وہاں جاکر اسکی علامات نارمل ہو جائں تو ٹھیک ہے، بصورت دیگر اسے ہسپتال میں چند دن داخل رکھنا پڑے گا۔


    میں فون کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھا اور پل پل کی صورت حال کو مانیٹر کر رہا تھا۔ جب کرن کے ساتھیوں نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر نے بھی کہا ہے کہ اسے پارک لے جائیں تو آپ کی کیا رائے ہے۔


    ’’ میری بھی وہی رائے ہے جو ڈاکٹر کی رائے، تم سب لوگ کرن کو لے کر پارک چلے جاؤ، لیکن اس پر گہری نظر رکھنا خاص طور یہ کہ وہ وہاں جا کر کرتی کیا ہے۔‘‘ میں فون پر اپنا فیصلہ فیصلہ سنا دیا۔


    وہ لوگ کرن کو لے کر بذریعہ ٹیکسی پارک کی طرف گامزن ہوئے۔ دس پندرہ منٹ میں وہ پارک میں پہنچ گئے۔ میں فون پر ان سے رابطے تھا۔ میں نے انہیں کہہ دہا تھا پارک میں پہنچ کر کرن کو اکیلا چھوڑ دیں، لیکن تھوڑا فاصلہ رکھ کر اسکے تعاقب میں ضرور رہیں اور اس پر نظر رکھیں کہ کہ یہ وہاں جا کر کیا کرتی ہے۔


    پارک پہنچ کر کرن جھیل کے کنارے جاکر بیٹھ گئی۔ سامنے ہی ایک جھرنا تھوڑی بلندی سے گر رہا تھا۔ جھیل کے کنارے ایک بہت پرانا تھا درخت تھا، جس کی شاخیں اتنتی لٹکی ہوئی تھیں کہ واپس آپ پھر سے زمیں میں گھسی ہوئی تھیں۔ جھیل کنارے بیٹھ کر کرن نے اس درخت کی طرف نظریں گاڑ دیں اور مسلسل اسے دیکھتی رہی۔ کتنی دیر گزری، اسکا مجھے ذاتی طور پر اندازہ نہیں ہے۔


    کسی نے پوچھا’’ کرن اس درخت کی طرف کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘


    ’’ وہ وہاں بیٹھا ہے، درخت کے اوپر اور کہہ رہا ہے تم نے یہاں آکر اپنا وعدہ پورا کر دیا، اب میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئیندہ تمہیں تنگ نہیں کروں گااور میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں‘‘


    تھوڑی دیر بعد مجھے فون میں چیخوں کی آواز سنائی دی اور پس منظر میں ایک چینی آواز بھی سنائی دی جو چیخ کر کسی سے کچھ کہہ رہی تھی۔ مجھےتھوڑی دیر بعد پتہ ل گیا کہ کیا ہوا تھا۔


    کرن بے ہوش ہو گئی تھی۔ لوگوں نے جلدی سے اسکے مننہ پر پانی پھینکا اور اسے پانی پلایا۔ کچھ منٹوں بعد وہ ہوش میں آگئی۔


    ہوش میں آتے ہی وہ اپنے ارد گرد دیکھ کر حیرت سے بولی ’’ ہم یہاں کیوں ہیں؟ مجھے یہاں کون لایا؟ تم سب لوگ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟


    کرن کے ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے کرن سے پوچھا ’’کیوں کرن واپس چلیں؟‘‘


    ’’ ہاں چلو، شام ہو رہی ہے؟‘‘


    اور وہ واپس ہو لئے۔ سارے دن کی بھاگ دوڑ اور مصروفیت کے باعث کسی نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔ راستے میں انہوں نے میکڈونلڈ سے انہوں نے برگر کھائے۔ میرے کہنے اورسمجھانے کے مطابق اسکی دوستوں نے اس سے تھوڑا ہنسی مذاق بھی کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے پھر کرن کے فون پر کال کی اور پوچھا۔۔۔


    ’’ کیا حال ہے کرن بیٹا؟‘‘


    ’’ ٹھیک ہوں پاپا‘‘ اس بارمیں نے کرن کی آواز میں واضح فرق محسوس کیا۔ پہلے مجھے اسکی بات سمجھنے میں دقت ہوتی تھی اور مجھے ہر بار اس کی آواز میں کسی اور آواز کی ملاوٹ محسوس ہوتی۔ میرے اس احساس کی گواہی میرے بھائی نے بھی جس نے کرن سے متعدد بار بات کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس بار اسکی آواز باکل صاف تھی لیکن لہجے سے شدید تھکاوٹ عیاں تھی۔


    ’’ کہاں سے آرہی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا


    ’’ پاپا ہم پارک گئے تھے‘‘


    ’’ گھر کتنی دیر میں پنچو گی؟‘‘


    ’’ پندرہ منٹ میں شائد‘‘


    ’’ سکائپ پر آسکو گی؟‘‘ میں نے پوچھا۔


    ’’ ہاں پاپا، میں گھر پہنچ کر آپ سے بات کرتی ہوں‘‘


    اس دوران پوری فیملی میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ کرن کو چائنہ میں عجیب و غریب حالات کا سامنا ہے۔ اسکی ماں نے رورو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ میری سب بہنیں میرے گھر آچکی تھیں اور پریشانی کے عالم میں اس خوفناک صورت حال کے ڈراپ سین کی منتظر تھیں۔


    تقریبا آدھے گھنٹے بعد کرن سکاپ پر آن لائن ہوئی۔


    کیمرہ آن ہونے پر ہم اسکی حالت دیکھ کر کرب سے بے چین ہو گئے۔ وہ برسوں کی بیمار دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے گردن کندھے پر ڈال رکھی تھی۔


    اب میں نے اس سے جو سوال و جواب کئے۔ وہ اس طرح ہیں۔


    ’’ اب کیا حال ہے بیٹا؟‘‘


    ’’ ٹھیک ہوں پاپا، لیکن سارا جسم درد ہو رہا، خصوصا بازو‘‘


    ’’ اچھا ہوا کیا تھا؟‘‘ میں نے سیدھا سیدھا سوال کر دیا۔


    ’’ پا پا میں اور میری دوست کل شاشے پارک گئے تھے۔ وہاں ہم ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک بہت پرانا درخت ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس درخت پر ایک عجیب وغریب اور انتہائی خوفناک مخلوق بیٹھی تھی‘‘


    ’’ کیا وہ مخلوق انسان نما تھی؟ ‘‘ میں نے سوال کیا


    ’’ نہیں پاپا، آپ اسے نہ انسان کہہ سکتے ہیں اور نہ جانور وہ ان دونوں کے درمیان کی کوئی خوفناک چیز تھی۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ جب تم بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہو تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ اس نے مجھے منع کیا کہ تم اس پارک سے مت جاؤ‘‘ کرن نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔


    ’’ اچھا یہ بتاؤ وہ تم سے کس زبان میں بات کرتا تھا؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔


    ’’ پاپا وہ نہ تو چینی زبان تھی اور نہ انگریزی یا اردو۔ وہ زبان میں نے زندگی میں پہلی بار سنی تھی۔‘‘ کرن نے تھکے تھکے لہجے میں جواب دیا۔


    ’’ تو تمہیں اسکی باتوں کی سمجھ کیسے آتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟‘‘ میں نے استفسار کیا۔


    ’’پا پا وہ کسی اجنبی زبان میں باتیں کرتا تھا، لیکن مجھے سب سمجھ آتی تھی جیسے وہ میرے ذہن میں گھسا بیٹھا ہو‘‘ کرن نے جواب دیا۔


    یہ ساری کاروائی میری پوری فیملی کمپیوٹر کی سکرین پر دم سادھے دیکھ رہی تھی۔ اس وقت میرے کمرے پندرہ بیس افراد موجود تھے۔


    میں پھر سوال کیا ’’ کل رات جب تمہارے دوست تمہیں زبردستی پارک سے لے کر آئے تو اسکے بعد تو اس نے تمہیں تنگ نہیںکیا؟‘‘


    ’’پاپا وہ ساری رات میرے ساتھ رہا ہے، اور بار بار میرے بالوں کو چھیڑتا تھا۔ کہتا تھا کل تم نے کالی نیل پالش لگا کر پارک آنا ہے، اگر تم آگئیں تو میں تمہارا پیچھا چھوڑ دہوں گا‘‘


    یہ سن کر میری بیگم اور میری بہنیں خوف سے رونے لگ گئیں اور مجھے کہنے لگیں کہ آپ کرن کو واپس بلا لیں۔ میں نے انکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔


    ’’ تو کیا یہ کالی نیل پالش تم اسی لئے لگائی ہو ہے؟‘‘ میں نے اسکے ہاتھوں پر کالی نیل پالش لگی دیکھ کر جھرجھری لے پوچھا۔


    ’’ ہاں پاپا، یہ میں نے اسے کے لئے لگائی تھی۔ اور مجھے یہ یقین تھا کہ میں پارک جاؤں گا تو وہ میرا پیچھا چھوڑ دے گا‘‘ اس نے جواب دیا۔


    کرن اس وقت بہت زیادہ تھکی ہوئی اور تکلیف میںلگ رہی تھی۔


    میں نے اسے مشورہ دیاکہ دو پینا ڈول کھا کر سو جائے۔ صبح بات کریں گے۔


    اگلے دن پھر سکائپ پر پھر رابطہ ہوا تو کرن کافی بہتر حالت میں تھی۔ لیکن ایک بڑی پریشان کن خبر بھی ہماری منتظر تھی کہ یہ سارا واقعہ پوری یونیورسٹی میں مشہور ہو گیا تھا اور انٹر نیشنل ڈیپارٹمنٹ نے اسکی تحقیقات شروع کر دیں تھیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تحقیقت کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا کہ کرن پاگل ہے اور اسے اسکے وطن واپس بھیج دیا جائے۔


    کیونکہ بقول کرن چین کی تہذیب اور قانون کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اس نے بھوت دیکھا ہے تو اسے قانونی طور پر پاگل قرار دے دیا جاتا ہے۔ اور یہ بات تو یونیورسٹی میں مشہور ہوگئی تھی کہ کرن نے ایک بھوت دیکھا ہے اور ہسپتال میں بھی اس نے جو رویہ اپنائے رکھا اس بات سے اور ڈاکٹر کی گواہی نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ یہ لڑکی ذہنی مریضہ اور پاگل ہے۔ اور پھر یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اسے پاگل قرار دیتے ہوئے ڈی پورٹ کر دیا جائے۔


    اب یہ ہمارے لئے ایک نیا امتحان تھا۔


    پھر کیا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ؟


    کرن ڈی پورٹ ہوئی یا کوئی اور؟


    ٹھیک تین بعد اسکی ایک سہیلی کے ساتھ ہوا؟


    شاشے پارک والے بھوت کا اصل ٹھکانہ کہاںتھا؟


    یہ عجیب و غریب سچی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔


    اس سلسلے کے کچھ اور واقعات ابھی باقی ہیں جو


    اس بھوت کے وجود سے مزید پردہ اٹھائیں گے۔


    کہتے ہیں سچ افسانے سے زیادہ دلچسپ ہوتا ہے۔


    اگر یہ سچی اورعجیب داستان آپ کو پسند آئی ہے


    اور آپ مزید پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اسکا دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔


    زندگی میں ایسا کوئی کام ضرور کر جائیے، کہ مرنے کے بعد آپ کے نام کو چند برس تک زندہ رکھ سکے۔


  2. #2
    Account Deleted on Request

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,665
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Sure I want to read more
    یہ اچھا ہے کہ بہت اچھا نہیں ہوں میں
    دکھی نہ ہو گا کوئی میرے مرنے کے بعد

  3. #3
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    السلامُ علیکم
    ویلکم بیک۔۔۔۔ اب آپ کی بیٹی کیسی ہے بھائی۔
    اور ضرور شئیر کریں جی۔۔۔ ویٹنگ۔۔۔

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  4. #4
    Senior Member Amir Shahzad's Avatar

    Join Date
    Nov 2010
    Posts
    19,142
    Mentioned
    21 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    بہت ہی خوفناک سچ میں پڑھتے ہوئے جھرجھری سی فیل ہو رہی تھی بار بار

    اور مجھے خود کے دو تین ایسے ہی واقعات جو میرے ساتھ بیت چکے ہیں یاد آگئے واقعی ہی انسان برسوں کا بیمار لگتا ہے ایسے انسیڈنٹس کے بعد

    باقی بھی جلدی شیئر کریں شامی جی
    اسی گھبرو پنجابی دل جدے نال لایئے اونوں چھڈ کے نا جایئے نی
    جدوں کر لیئے پیار سارے قول قرار پورے کر کے وکھایئے نی

  5. #5
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Quote Originally Posted by Amir Shahzad View Post
    بہت ہی خوفناک سچ میں پڑھتے ہوئے جھرجھری سی فیل ہو رہی تھی بار بار

    اور مجھے خود کے دو تین ایسے ہی واقعات جو میرے ساتھ بیت چکے ہیں یاد آگئے واقعی ہی انسان برسوں کا بیمار لگتا ہے ایسے انسیڈنٹس کے بعد

    باقی بھی جلدی شیئر کریں شامی جی
    or aap kb share karen gay aamir bhai?~

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    4,813
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    ضرور شئیر کیجئے شامی بھائی
    ہم منتظر ہیں
    ربِ زدنیِ علما

  7. #7
    Senior Member Amir Shahzad's Avatar

    Join Date
    Nov 2010
    Posts
    19,142
    Mentioned
    21 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Quote Originally Posted by KishTaj View Post
    or aap kb share karen gay aamir bhai?~
    میں آلریڈی شیئر کر چکا ہوں اب ڈھونڈنا آپکا کام ہے
    اسی گھبرو پنجابی دل جدے نال لایئے اونوں چھڈ کے نا جایئے نی
    جدوں کر لیئے پیار سارے قول قرار پورے کر کے وکھایئے نی

  8. #8
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Quote Originally Posted by Amir Shahzad View Post
    میں آلریڈی شیئر کر چکا ہوں اب ڈھونڈنا آپکا کام ہے
    ڈھونڈنے کی فرصت کہاں؟ پڑھنے ہی کی فرصت مل جائے بہت ہے۔
    برائے مہربانی لنک ارسال فرمائیں~۔

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  9. #9
    Senior Member Amir Shahzad's Avatar

    Join Date
    Nov 2010
    Posts
    19,142
    Mentioned
    21 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Quote Originally Posted by KishTaj View Post
    ڈھونڈنے کی فرصت کہاں؟ پڑھنے ہی کی فرصت مل جائے بہت ہے۔
    برائے مہربانی لنک ارسال فرمائیں~۔
    مجھے پرانے تھریڈز کو ڈھونڈنے کی فیسیلٹی نہیں ہے

    اور وہ تھے بھی پرانی آئی ڈی سے

    ٹائم ملا تو دوبارہ کبھی ٹائپ کر دوں گا
    اسی گھبرو پنجابی دل جدے نال لایئے اونوں چھڈ کے نا جایئے نی
    جدوں کر لیئے پیار سارے قول قرار پورے کر کے وکھایئے نی

  10. #10
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    787
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    bhai ji zroor share karain mazeed ..lakin pehlay to yeh keh Kiran beti bilkul theek hay na! aisay halat main parents ki praishani aur takleef ko jan sakta hoon Allah Kareem sab kay bachon aur waldain ko apni hifz aman main rakhay AAMEEN ,jinnat ka wajood to Quran pak say sabit hay...

  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    509
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Quote Originally Posted by KishTaj View Post
    السلامُ علیکم


    ویلکم بیک۔۔۔۔ اب آپ کی بیٹی کیسی ہے بھائی۔

    اور ضرور شئیر کریں جی۔۔۔ ویٹنگ۔۔۔
    جی بیٹی کرن اب ٹھیک ہے۔
    زندگی میں ایسا کوئی کام ضرور کر جائیے، کہ مرنے کے بعد آپ کے نام کو چند برس تک زندہ رکھ سکے۔


  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    509
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    Quote Originally Posted by Ibrahim View Post
    bhai ji zroor share karain mazeed ..lakin pehlay to yeh keh Kiran beti bilkul theek hay na! aisay halat main parents ki praishani aur takleef ko jan sakta hoon Allah Kareem sab kay bachon aur waldain ko apni hifz aman main rakhay AAMEEN ,jinnat ka wajood to Quran pak say sabit hay...
    بہت شکریہ۔ بیٹی کرن اب بالکل ٹھیک ہے۔ اسی بھوت سے اسکی ایک اور ملاقات ہوئی تھی جس کا ذکر آگے آئے گا۔
    زندگی میں ایسا کوئی کام ضرور کر جائیے، کہ مرنے کے بعد آپ کے نام کو چند برس تک زندہ رکھ سکے۔


  13. #13
    Sisters Society

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    4,825
    Mentioned
    8 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    we are waiting

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    1,487
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    I am waiting shami Bhai

  15. #15
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: شاشے پارک کا بھوت اور چودھویں بلڈنگ

    اللہ اپنی حفظ و امان میں رکھے آپ کی بیٹی کو۔ آمین۔ اگلے حصہ کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔
    آؤ کہ زندگی کو بِتائیں تمہارے سنگ
    تنہائیوں کے جال سے گھبرا گیا ہے دل
    (عامر جہان)

Page 1 of 4 123 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •