Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 3 of 3 FirstFirst 123
Results 31 to 44 of 44

Thread: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

  1. #31
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اب مجھے جناتی اولاد کی شادیوںکی فکر ہے میں پریشان اس وجہ سے ہوں کہ جناتی اولاد کی شادیوںکا کیا کروں؟ کیسے کروں؟ جنات میرا رشتہ لینے کو تیار نہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کا باپ انسان ہے۔ یہ جن تو ہیں لیکن خالص جن نہیں میں بہت پریشان ہوں‘براہ کرم میری پریشانی کا ازالہ کریں مسلسل استخارے کے بعد آپ کا پتہ‘ آپ کانام اور سوفیصد آپ کا حلیہ بتایا گیا۔ میں نے اس کی بات سنی تو مسکرا دیا میں نے کہا یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
    میںجنات سے عرض کروں گا وہ رشتوں کے معاملے میں آپ کا ساتھ دیں گے اور پھر کچھ عرصے کے بعد اللہ کے فضل سے اس کی اولاد کی شادیاں ہوگئیں ہاں میں نے اسے ایک چیز ضرور بتائی چونکہ جن جنات نے آپ کے رشتے ٹھکرائے تھے وہ کہیں آپ کی اولاد پر جادو نہ کردیں تو یَاقَہَّارُ کاوظیفہ خود بھی انسانی بیوی بھی‘ جن بیوی اور اس کے بچے سب پڑھتے بھی رہیں اور پیتے بھی رہیں۔ آج وہ اتنا خوش ہے اس کی بیوی مجھ سے ملنے آئی یعنی جن بیوی.... اس نے شکریہ ادا کیا ڈھیروں ہدیے لائے‘ گفٹ لائے جو میں نے غریبوں میں تقسیم کردئیے اور ضرورت مندوں کو دے دئیے۔
    شادیوں کے کیس تو ویسے بہت آتے ہیں میری ابتدائی زندگی میں جب میرا جنات سے تعارف ابھی ابتدا ئی تھا میں ان چیزوںکو حقیقت سے بہت دور سمجھتا تھا اور حیرت بھی ہوتی تھی بلکہ بعض اوقا ت تو میں خود کو جھٹلا دیتا تھا کہ یہ حقیقت نہیں ہے جنات سے شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ لیکن پھر مسلسل جنات سے دوستی کے بعد میرے ساتھ یہ حقیقت کھلنا شروع ہوئی کہ جنات سے شادیاں ہوسکتی ہیں۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میرے پاس ایک صاحب آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں تو ایک مسئلہ درپیش ہے میں نے پوچھا کیا تو کہنے لگے کہ مسئلہ یہ ہے کہ میرے بیٹے پر پہلے ابتدائی طور پر دورے پڑنا شروع ہوئے اور دورے بڑھتے گئے بڑھتے گئے۔ اس کا مستقل علاج کرایا‘ ڈاکٹروں اور نفسیاتی ڈاکٹروںکو دکھایا پھر کچھ عاملوںکو دکھایا۔ کسی کی سمجھ میں کوئی کیس بالکل نہ آیا۔ آخرکار ایک بزرگ کے پاس لے گئے تو انہوں نے اس جن کی حاضری کرائی تو وہ جن نہیں تھا جننی تھی۔ کہنے لگی میں مسلمان جننی ہوں‘ بیوہ ہوں‘ مجھے کسی ساتھی اور شوہر کی تلاش تھی آپ کا بیٹا نمازی ہے‘ ذاکر شاغل روزے دار ہے‘ مجھے یہ پسند آیا تو میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور اس سے اپنے ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہوں لیکن چونکہ میں نے پانچ حج کیے اور مجھے پتہ ہے کہ ازدواجی زندگی کیلئے نکاح ضروری ہے اور اس لیے مجھے اجازت دیں میں آپ کے بیٹے سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اس کے والدین کہنے لگے کہ ہم تو اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی ہماری برادری میں یہ نسلوں میں زندگی میں ایسی کوئی کہانی ہم نے سنی ہے۔
    کہنی لگی کہ میں آپ کی منت کرتی ہوں کہ ا ٓپ اجازت دیں۔ آپ کہیں تو میں آپ کی برادری کے بڑوں کے پاس جائوں گی اور انہیں منائوں اور ان کی منت کروں گی‘ میں جنات کی مخلوقات میں سے ہوں میرے پاس طاقت بھی ہے اور زور بھی ہے لیکن میں یہ طاقت اور زور استعمال نہیں کرنا چاہتی۔ آپ مہربانی کریں میرا ساتھ دیں۔ اور میں ہرحال میں اس نوجوان کو اپنا شوہر بنانا چاہتی ہوں ہم نے انکار کردیا وہ چلی گئی۔ اب ہمارے بیٹے کے بقول کہ وہ کبھی کبھی آتی تھی پھر اس نے ہماری برادری کے بڑوں کے خواب میں آنا شروع کیا پہلے تو خواب سمجھتے رہے پھر ان بڑوں نے ہم سے رجوع کیا کہ اصل بات کیا ہے؟ تو ہم نے ان سے کہا کہ اصل تو حقیقت یہی ہے کہ وہ عورت جننی شادی کرنا چاہتی ہے۔ اب ہم اس کی شادی کی اجازت کیسے دیں کہ ہم نے بیٹے کو اس کی پھوپھی کے گھر اس کی لڑکی کے ساتھ بات طے کردی تھی برادری والے بھی حیران کہ یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا‘ جادو کا زور کیا گیا لیکن وہ جن لڑکی کسی طرح بھی جانے کو تیار نہیں تھی۔
    لڑکے کی ماںکہنے لگی کہ ایک دن ہمارے گھر میں ایک فقیر عورت نے سوال کیا وہ نقاب اور برقعے میں تھی اور گھر کے اندر آگئی ہم نے اس کا سوال پورا کیا کہنے لگی مجھے پانی پلائیں جب ہم نے اسے پانی پلانے کیلئے گلاس میں پانی دیا تو جب اس نے اپنا نقاب ہٹایا تو وہ جوان اور نہایت خوبصورت جوان ایک لڑکی تھی جس کے روپ نکھار اور حسن و جمال کو دیکھ کر ہم خود حیران رہ گئے۔ اس نے پانی پیا پانی پینے کی دعا پڑھی اور ہمیں دعائیں دینے لگی اور ٹھنڈا سانس بھر کر کہنے لگی کہ آپ مجھے اس گھر کی خدمت دیں گے؟ ہم کہنے لگے کہ نہیں ہمارے پاس پہلے کام کرنے والی ہے وہ خوبرو لڑکی کہنے لگی میں آپ کے گھر کی بہو بننا چاہتی ہوں ہم حیران ہوگئے۔ ہم نے کہا نہیں ہمارے لڑکے کی پہلے سے بات طے ہے۔
    کہنے لگی نہیں اگر آپ مجھے اپنے گھر کی بہو بنالیں تو میں آپ کی بہت خدمت کروں گی۔ آپ کیلئے سارے کام کروں گی۔ حتیٰ کہ آپ کی بخشش کیلئے اعمال کروں گی‘ کروڑوں کی تعداد میں کلمہ‘ قرآن پڑھوں گی‘ میں قرآن کی حافظہ اور قاریہ ہوں‘ میں اکوڑہ خٹک کے مدرسے میں بہت عرصہ پڑھتی رہی ہوں۔ اور پھر کراچی کے ایک بڑے مدرسے میں پڑھتی رہی ہوں۔ پھر ایک معلمہ سے میں نے قرات اور تجوید سیکھی ہے پھر ایک اور بڑا مدرسہ جس کا میں نام نہیںلینا چاہتا سے میں نے عالمہ کا کورس کیا ہے آپ مجھے اپنی بہو بنالیں۔ ہم حیران ہوئے کہ تو کہاں کی رہنے والی ہے؟ کون ہے؟ تو فوراً کہنے لگی میں وہی ہوں جو آپ کی کئی عرصے سے منت کررہی تھی‘ ہم ایک دم ڈر گئے کہنی لگی آپ ڈریں نہیں آپ ڈریں گے تو میں یہاں سے چلی جائوں گی ہم نے کہا چلی جا‘ وہ رونے لگی فریاد کرنے لگی کہ مجھے قبول کرلیں۔ آپ چاہے اپنے بیٹے کی شادی کہیں اور کرلیں لیکن میں زبردستی بھی اس سے شادی کرسکتی ہوں‘ اس سے اپنے ازدواجی تعلقات قائم کرسکتی ہوںلیکن میرا دین میری شریعت مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ مجھے قبول کرلیں ۔لڑکی کی ماںکہنے لگی کہ وہ اتنا روئی.... اتنا روئی.... کہ ہمارا دل بھرآیا....
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  2. #32
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    کہنی لگی میں لاوارث ہوں‘ میری ماں فوت ہوگئی باپ نے آوارگی اختیار کی۔ میرے چار بھائی ہیں جو خود آزاد پرست زندگی گزار رہے ہیں میری ماںکی خواہش تھی کہ میری بیٹی اور بیٹے نیکی کی طرف آئیں گھر میں سے کوئی بھی نہ آسکا میں آگئی میں اب نیکی ہی میں آنا چاہتی ہوں تاکہ میری ماں کی قبر ٹھنڈی رہے اور اس کو سکون ملتا رہے اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ میں آئندہ بھی آپ کی منت کرتی رہوں گی۔ آخر ہم سب گھر والے سرجوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ یہ ہوا کہ اس کو اجازت دے دی جائے اور اب ہم نے اس کو اجازت دیدی ہے گزشتہ ساڑھے چھ ماہ سے اس کی شادی ہوگئی ہے شادی کی ترتیب کچھ یوں بنی کہ قوم جنات ہمارے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے تین دن وہ وہاں رہا لیکن تین دن مسلسل ہمارا اس سے رابطہ رہا۔ کسی نامعلوم کال سے جس میں موبائل میں نمبر نہیں آتا تھا فون کرتاکہ میں خیریت سے ہوں۔
    بیٹے نے اپنی شادی کی جو داستان سنائی تو کہنے لگا کہ میں جب وہاں پہنچا تو مجھے خوبصورت لباس پہنایا گیا جو کسی دور میںہم مغل بادشاہوں کا لباس سنتے تھے جس میں خوبصورت تاج‘ شیروانی‘ شاہی جوتا‘ اور ہاتھوں میں ہیرے جواہرات اور سونے کے کنگن‘ گلے میں سونے کے ہار وہ لڑکی بہت مالدار ماں باپ کی بیٹی تھی باپ نے تو اپنا مال ضائع کیا لیکن ماں نے اس کامال اپنا سارا ورثہ اسی کو دیا اور اس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا اور کہا کہ بہت بڑے عالم جنات اس میں موجود تھے‘ بڑے بڑے ولی انہوں نے ہمارا نکاح پڑھایا اور نکاح کے بعد ہم ایک بہت بڑے محل میں داخل ہوئے جو میری عقل اور شناسائی سے بہت دور تھا اس محل میں ہم جب پہنچے تو وہاں جگہ جگہ کمرے تھے‘ تخت تھے‘ جنات عورتیں خادمائیں تھیں تین دن میں وہاں رہا تیسرے دن ہمارا ولیمہ ہوا اور ولیمے میںبہت بڑی تعداد سے دوردراز کے جنات موجود تھے میں آخر وہ مجھے میرے گھر چھوڑ گئے اب میری بیوی میرے پاس شب بسری کیلئے آتی ہے۔ لڑکے کی ماں کہنی لگی کہ میرے بیٹے کے بقول میری بیوی امید سے ہے دعا کریں اللہ پاک بیٹا عطا فرمائے۔ اب یہ واقعات سن سن کر میرے لیے یہ داستانیں بہت پرانی ہوگئی ہیں۔ نئی نہیں ہیں۔ لیکن ایک چیز جو سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مجھے اکثر مشاہدے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ جنات کا عورتوں کو اٹھا کر لے جانے کے کیس بہت زیادہ ہیں اور اس میں ایسی عورتیں جو بیس بائیس سال کی عمر کے قریب ہوتی ہیں۔
    بعض اوقات پچیس تیس سال کی عمر اور بعض اوقات اس سے زیادہ بھی لیکن اکثر بیس بائیس سال کی عمر کی خواتین کو جنات بہت زیادہ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ میں ایک سفر میں تھا جنات کی گدھ نما سواری پر بیٹھا ہوا تھا تاریک آسمانوں کے سفر میں اور ایک فضائے بسیط تھی ہر طرف خاموشی تھی‘ سناٹا تھا اور سواری مسلسل اڑ رہی تھی یہ سفر کچھ لمبا ہوگیا میں سمجھ گیا کہ آج فاصلہ کچھ بہت ہی زیادہ دور ہے… اڑتے اڑتے ہم آخر کار افریقہ کے ایک ایسے جنگل میں پہنچے جہاں ‘ مرد اورعورتیں برہنہ رہتے ہیں‘ وہاں بہت بڑے بڑے درخت اتنے بڑے درخت کہ ایک اگر پچاس انسان بھی درخت کو اپنے ہاتھ پکڑ کر گھیریں تو اس درخت کا تنا نہیں پکڑا جاسکتا۔ اتنے بڑے درختوںپر جنات کا بسیرا ہے۔ ان جنگلات میں جنات کا قیام ہے میرا جانا دراصل وہاں کچھ یوں ہوا کہ وہاں ایک فوتگی ہوگئی تھی۔ میرے کچھ دوست جنات تھے جن کے رشتے دار وہاں رہتے تھے اور وہ مسلمان جنات تھے۔ ان کا بہت عرصے سے اصرار تھا کہ ہمیں علامہ صاحب سے ملاقات ضرور کرائیں کئی بار مجھ سے وہاںسے ملنے بھی آئے لیکن سفر کی زیادتی کی وجہ سے میں نہ جاسکا۔ اب ان کے سردار فوت ہوگئے اب ان دوستوں کا اصرار تھا جو یہاں کے دوست جنات تھے کہنے لگے آپ ضرور چلیں وہاں ان کی تعزیت بھی کریں اور دعا بھی کریں۔ یہ سفر کچھ ایسا تھا کہ جمعرات کی رات کا یہ سفر تھا کچھ یوں ہی تھا کہ میں ساری رات سفر میں ہی رہا۔
    بہت دیر کے سفر کے بعد وہاں پہنچے بہت بڑے بڑے جنات انتظار میں تھے تکیے لگے ہوئے تھے قالین بچھے ہوئے تھے ہر طرف چہل پہل تھی لیکن افسردگی تھی وہ سردار جو فوت ہوئے تھے ان کے بقول ڈیڑھ سو سال تک دن میں روزہ رکھا اور کبھی بھی ان کا ایک روزہ نہیں چوکا۔ عمر تو ان کی بہت لمبی تھی لیکن ڈیڑھ سوسال صرف روزہ رکھا اور دن اور رات میں ایک قرآن پڑھ لیتے تھے اور لاکھوں قرآن انہوں نے اب تک پڑھے اورجب ان کی زندگی کا آخری وقت آیا تو ان کے بیٹے نے مجھے بتایا کہنے لگے کہ میرے والد نے مجھے قریب بلایا کہنے لگے بیٹا میں نے ساری زندگی بڑے بڑے علماء‘ محدثین کی خدمت کی ہے ان کی خدمت سے میں نے ایک راز اور موتی پایا اس راز کو سدا سنبھال کر رکھنا اور کبھی بھی اس راز کو ضائع نہ کرنا اور تجھے جب بھی کوئی مشکل اور پریشانی آئے اور جب کوئی حاجت ہو اس کا تعلق زمین والوں سے ہو یا آسمان والوں سے اس راز کو پڑھنا تجھے سوفیصد مطلوب ملے گا۔ بیٹا کہنے لگا میرے آنسو ٹپک رہے تھے اور میں والد کی کمزور آواز میں وہ راز اور نصیحت سن رہا تھا پھر میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور چوما اور کہنے لگے دیکھ بیٹا اگر تو ہروقت باوضو رہے گا تجھے کبھی بھی مقدر کے دھکے نہیں لگیں گے رزق میں برکت‘ صحت میں برکت‘ عزت وجاہت شان و شوکت تجھے ڈھونڈے گی تو اس کو نہیں ڈھونڈھے گا تیری زندگی راحت و برکت کا ذریعہ رہے گی۔ ہمیشہ زندگی میں سلام کرتے رہنا‘ سلامتی تیرے چاروں طرف رہے گی اور جو راز میں تجھے دینا چاہتا ہوں وہ راز یہ ہے کہ دو رکعت نماز نفل حاجت کی نیت سے پڑھ اور اس میں ثناء کے بعد سورۂ فاتحہ شروع کر جب اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچ اور اس کو بار بار دوہرا اور اتنا دوہرا اتنا دوہرا کہ تین سو چار سو دو ہزار تین ہزار کی تعدادمیں اس کو دوہرا اگر تو کھڑا ہوکر نفل پڑھ لے تو سعادت اگر کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  3. #33
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اور اس عمل کو دہراتا رہ اور مسلسل دہراتا رہ اور اپنے مقصد کا تصور کر اتنا اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کو دہرا کہ تیرے اندر ایک وجدان کی کیفیت پیدا ہوجائے اور تو اللہ کی محبت میں غرق ہوجائے… اللہ کے نام میں ڈوب جائے اور مسلسل اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کو دہراتا رہ …چاہے جتنی دیر لگ جائے …پھر کوئی سورۃ ملا کر رکعت پوری کر۔ سجدہ کر پھر دوسری رکعت میں جب اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچ تو پھر دہراتا رہ اور بہت زیادہ دہرا اپنے مطلوب اور اپنے مقصد کا بہت زیادہ تصور کر اور اپنے تصور کو مضبوط کرتا رہ …کرتا رہ… کرتا رہ… حتیٰ کہ تیرے دل کی اندر کی کیفیت متوجہ ہوجائے اور تیرا دل مان جائے کہ اللہ پاک نے میری چاہت کو پورا کردیا اور پھر سلام کرکے خشوع و خضوع سے دعا کر …وہ بزرگ جن یہ بات کہہ رہے تھے اور ان کا بیٹا سن رہا تھا اور وہی بیٹا رو رو کر مجھ سے یہ بیان کررہا تھا کہ میرے والد نے جاتے ہوئے مجھے یہ راز دیا یہ میں نے کسی کو نہیں بتایا آپ کو دیکھا نہیںتھا لیکن آپ کا نام سنا تھا ہماری قوم جنات آپ سے عقیدت رکھتی ہے اور آپ کے ہاں ملنے جاتی ہے آج آپ میرے والد کی فوتگی کے سلسلے میں بہت دور سے سفر کرکے آئے ہیں تو جو کچھ میرا والد مجھے دے گیا ہے وہ میں آپ کو دینا چاہتا ہوں۔ قارئین! آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ میرا ہے وہ میں عبقری کے قارئین کو دے ہی دیا کرتا ہوں اور بہت قیمتی جواہرات لٹا رہا ہوں اور اس کی مستقل اجازت عام ہے یہ عمل بھی اور اس سے پہلے جتنے بھی عمل آپ کو عبقری میںدئیے ان کی مستقل اجازت ہے آپ میں سے ہر شخص کرسکتا ہے حتیٰ کہ یَاقَہَّارُ کا عمل اور اس کانقش اور اس کا وظیفہ آپ لکھ بھی سکتے ہیں‘ کسی سے لکھوا بھی سکتے ہیں اسے اپنے گلے میں لٹکا بھی سکتے ہیں‘ اسے دھو کر پی بھی سکتے ہیں۔ اسے گھر میں لگا بھی سکتے ہیں۔ میں نے اس جوان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اپنے والد مرحوم کا یہ تحفہ دیا۔
    جنات کے سردار کی آمد
    اس وقت قوم جنات میں سے کچھ بڑے میرے پاس آئے اور باادب کہنے لگے کہ یہاں بہت زیادہ جنات اکٹھے ہیں اور انکی چاہت اور خواہش ہے کہ آپ کچھ چیزیں ان کے سامنے بیان کردیں … آپ انہیں کچھ بتائیں‘ انہیں سمجھائیں… ان کی خواہش کے پیش نظر میں نے ان کے سامنے کچھ چیزیں بیان کیں بہت لمبی دعا ہوئی۔ ہرطرف آہ و زاری اوراستغفارو امین کی آوازیں تھیں‘ شور تھا کئی لوگوں نے اپنی سابقہ زندگی سے توبہ کی۔
    جو عمل مجھے اس مرحوم جن کے بیٹے سے ملا تھا اور جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے سورۂ فاتحہ کے اس عمل کو میں نے جب بھی خود آزمایا اور جس کو بھی دیا نہایت اکسیر بے خطا پایا۔ بہت کمال اور بہت برکت والا عمل ہے۔ عجیب اس کے کمالات ہیں عجیب اس کی برکات ہیں۔ ہر وہ چیز جو ناممکن ہو اس سے ممکن ہوجاتی ہے۔ ایسے ایسے واقعات سامنے آئے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے ؟؟ اور بعض اوقات انسان کہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیںہوگا لیکن جب عمل شروع کرتا ہے تو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے کہ ایسا ہوگیا ہے اور واقعی اللہ جل شانہٗ اس کی برکت سے ایسا کردیتے ہیں بہت تیربہدف عمل ہے بہت پرتاثیر عمل ہے اور اپنی طاقت اور تاثیر کے اعتبار سے بہت باکمال ہے۔
    کبوتر کے ذریعے جادو
    چلتے ہوئے میں پچھلی اپنی گفتگو میں یَاقَہَّارُ کے کمالات عرض کرچکا ہوں وہیں بیٹھے ایک جن نے جو کہ میرے مکلی اور ٹھٹھہ کے قبرستان میں ختم القرآن کے موقع پرموجود تھا مجھ سے کہنے لگے ابھی پچھلے تھوڑے عرصے پہلے کی بات ہے کہ میرے اوپر ایک طاقتور جن نے ایک جادو کردیا اور جادو کیا تھا کہ ایک کبوتر بہت عرصہ اپنے پاس رکھا اس کے اوپر کچھ کالا منتر پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا اور کالے منتر اور گندے خون میں کچھ دانے بھگو کر وہ اس کو کھلاتا رہا اور باقاعدہ اس نے مجھے وہ منتر بتایا اور کہنے لگا کہ میں نے کسی اور عامل جن کے ذریعے اس منتر کا پتہ کرایا وہ دونوں ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں جس نے مجھے یہ منتر بتایا وہ اب توبہ کرچکا ہے اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ کیوںمنتر پڑھتا ہے… بہت عرصہ منتر پڑھنے کے بعد اس کو کالی چیزیں اور کالا دانا کھلانے کے بعد اس نے کبوتر پر بہت طاقتور جادو کیا اور جادو کرنے کے بعد اس کبوتر کو میری طرف چھوڑ دیا …میں نے دیکھا کہ ایک کبوتر ہے جس کے اوپر بہت طاقتور قسم کی عقاب نما چیزیں اڑ رہی ہیں لیکن وہ ان سے ڈر نہیں رہا لیکن وہ عقاب اور شاہین نما چیزیں اس کے تابع معلوم ہوتی ہیں جس طرف وہ جاتا ہے اس طرف جاتی ہیں اور ان عقاب نما چیزوں سے بجلیاں اور شرارے نکل رہے ہیں اور وہ ہمارے گھر کے اوپر منڈلا رہا ہے۔
    وہ جن کہنے لگا( جو مجھے یہ واقعہ بیان کررہا تھا) کہ میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ جو جادو زدہ کبوتر اڑرہا ہو اس کے ساتھ یہ نشانی ضرور ہوگی ورنہ ہرکبوتر جادو زدہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا مجھے جب نظر آیا تو میں نے فوراً یَاقَہَّارُ پڑھنا شروع کردیا اور میرے گھر والوں نے بھی پڑھ پڑھ کر اس کی طرف پھونکنا شروع کردیا اور میں دیکھ رہا تھاکہ اس کو کوئی اثر نہیں ہورہا میں حیران ہوا کہ یَاقَہَّارُ کے اندر تو بہت طاقت ہے۔
    ایک دم میرے اندر آواز آئی کہ تیرے پڑھنے کی طاقت میں کمی ہے ورنہ یَاقَہَّارُ کا قہر جب جادوگر پر برسے گا تو اس کو برباد کردے گا میں نے اس کو زیادہ پڑھنا شروع کیا‘ اور سانس روک روک کر پڑھنا شروع کیا۔
    جب میں نے اس کو سانس روک روک کر پڑھنا شروع کیا تو اس کی تاثیر واضح سامنے آئی اور وہ عقاب آہستہ آہستہ ہٹنا شروع ہوگیا اور کبوتر غوطے لگانا شروع ہوا مجھے یقین ہوگیا کہ یَاقَہَّارُ کے اندر بہت طاقت ہے میں یَاقَہَّارُ کو سانس روک کر پڑھتا اور اس پر پھونک دیتا پھر سانس روک لیتا اور سانس روک کر لا تعداد مرتبہ اس کو پڑھتا پڑھتا پڑھتا اور جب سانس ٹوٹتا تومیںاس پر پھونک دیتا آہستہ آہستہ وہ بلائیں ہٹنا شروع ہوئیں جن کے اوپر آگ برس رہی تھی حتیٰ کہ اکیلا کبوتر رہ گیا اور کبوترکی پریشانی شروع ہوئی محسوس ہوتا تھا کہ وہ بھاگنا چاہتا ہے لیکن کوئی طاقت ہے جس نے اس کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے اور بھاگنے نہیں دے رہی۔ کہنے لگے اب میری ہمت اور بڑھ گئی سارے گھر والے اپنا جینا بھول گئے اور اسی کو پڑھنا شروع کردیا حتیٰ کہ وہ کبوتر ہمارے درمیان آکر بیٹھ گیا اور اس کبوتر کے پروں سے خون نکل رہا تھا میرے بیٹے نے بڑھ کر اس کو پکڑنا چاہا تو میں نے چیخ کر کہا اس کو ہاتھ مت لگانا‘ جادو زدہ کبوتر ہے ہم پڑھتے رہے… پڑھتے رہے… پڑھتے رہے… حتیٰ کہ وہ کبوتر مرگیا اور حیرت انگیز طور پر کبوتر کے مرتے ہی اس کو آگ لگی اور آگ اتنی تیز تھی کہ پل بھر کے اندر اس کبوتر کو اس نے راکھ بنایا اور راکھ ایک ہی پل کے اندر زمین کے اندر جذب ہوگئی اور اس کا نشان تک ختم ہوگیا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  4. #34
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    یَاقَہَّارُ اور جادوگر جن کی چیخیں
    لیکن انوکھی بات یہ ہے کہ اس کی راکھ سے آگ کا ایک شعلہ اٹھا اور وہ آسمان کی طرف گیا اور اسی طرف گیا جس طرف سے کبوتر آیا تھا کہنے لگے کہ ہم بھی اسی طر ف اس کے پیچھے بھاگے بہت دور جاکے جس شخص نے اس کو بھیجا تھا وہ اسی پر برسا اور اسی کے جسم کو جلا دیا اور اس کی چیخیں ہم سنتے واپس آئے۔ وہ جن بتانے لگے کہ مجھے یقین ہوگیا کہ یَاقَہَّارُکے اندر یہ طاقت ہے جہاں وہ جادو کو کاٹتا ہے وہاں جادو کرنے والے کو ختم بھی کرتا ہے حتیٰ کہ جادو کرنے والے کو یہ نصیحت ملتی ہے کہ کسی کو بے وجہ تنگ نہیں کرنا چاہیے مسلمان کو تکلیف دینا اللہ نے حرام قراردیا ہے اور کسی مسلمان کو تکلیف نہیں دینی چاہیے اور مجھے یقین ہوگیا۔ میں اس کا واقعہ سن کر حیران ہوا میں نے کہا جتنے بھی جنات بیٹھے ہیں ان سب کو سناؤ ۔اس نے کھڑے ہوکر ان لاکھوں کروڑوں جنات کو جو افریقہ کے تاریخی جنگل میں بیٹھے ہوئے تھے ان کیلئے یَاقَہَّارُ کی طاقت اور تاثیر انوکھی چیز تھی۔ کچھ واقعات یَاقَہَّارُ کے میں نے بھی سنائے۔ وہ سارے خاموشی سے سنتے رہے اور سب نے پوچھا کیا ہمیں اس کی اجازت ہے۔ میں نے ان سب کو اجازت دی لیکن اس کو ناجائز استعمال کرنے والے کاچونکہ نقصان ہوتا ہے۔اس لیے میں نے ان کو بھی تاکید کی کہ اس کو ناجائز ہرگز استعمال نہ کرنا اور کسی پر ناجائز بالکل نہ پڑھنا۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ ہم بالکل اس کو ناجائز نہیں پڑھیں گے اسی دوران ایک اورمشاہدہ ز یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں مجھے ملا اور وہ بھی اچانک ملا۔ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے یعنی جن… ہمارے ہاں ایک بابا جی ہیں جو بہت بوڑھے ہوگئے ہیں آنکھوں سے معذور ہوگئے ہیں۔ وہ افریقہ کے بہت بڑے عامل اور جادوگر مانے جاتے ہیں جنات میں۔ میں ان کو بتاؤں گا یقیناً ان کے تجربے میں یَاقَہَّارُ کا کوئی عمل ضرور آیا ہوگا کیا اجازت ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ان کو بتادیں۔ ہماری روانگی ہوئی حسب معمول ہم اسی گدھ نما سواری پر بیٹھے اور ہماری واپسی ہوئی۔ میں گھر واپس آگیا۔
    افریقی ہیبت ناک جن کی آمد
    چند دنوں کے بعد وہ افریقی جن اس بوڑھے بابے کو لیے ہوئے میرے پاس آگیا۔ بابا کیا تھا کوئی ہیبت ناک پہاڑ تھا اور پراسرار قوتوںکاعظیم مالک اور انسان تھا۔ انسان سے مراد انسان نہیں … وہ جن تھا جیسے محاورتاً کہتے ہیں۔ وہ واقعی پراسرار قوتوں کا مالک جن تھا۔ میں نے ان کی تواضع کی ان کی مخصوص خوراک دی۔ بابا بہت خوش ہوا کیونکہ میں نے بابے کو اس کی مخصوص خوراک گائے کا گوشت دیا۔ ساڑھے تین من گائے کا گوشت دیا۔ میرے دوست جنات اس خدمت پر معمور ہیں… میں انہیں پیسے دیتا ہوں وہ قیمتاً گوشت لاکردیتے ہیں یا وہ اپنی گائے خرید کرذبح کرتے ہیں۔ بابے نے بڑی رغبت سے گوشت کھایا کہنے لگا اتنا اچھا گوشت افریقہ کی گائے کا نہیں ہوتا جو آپ کی گائے کا ہے اور بہت ہی زیادہ مسرورہوا۔ اب ہم اپنے موضوع پر آئے اور وہ جن جوانہیں ساتھ لائے تھے وہ کہنے لگے جب آپ افریقہ آئے تھے اور آپ کے جانے کے بعد میں اس بابے کے پاس گیا اور آپ کا تذکرہ کیا کہ ایسے ایسے ایک درویش علامہ صاحب ہمارے پاس تشریف لائے تھے جن کے پاس بے شمار جنات یہاں سے بھی آتے جاتے ہیں انہوں نے یَاقَہَّارُ کے کچھ کمالات بتائے تھے تو ایک دم بابا چونک پڑاکہنے لگا اس بندے سے مجھے ملاؤ میرے پاس ایک عمل ہے جو راز کی شکل میں ہے میں اس بندے کو دینا چاہتا ہوں جس بندے نے سارے لاکھوں کروڑوں جنات کے مجمع کو یہ عمل بتایا ہے اور سب کا بھلا کیا ہے جو بھلا کرنا جانتا ہے اس کا بھلا میں کروں گا۔
    اور میں اسے خود بتاؤں گا تمہیں نہیں بتاؤں گا۔ لہٰذا یہ جادوگر جن بابا آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ خود ان سے بات کرلیں۔ میں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا اور ان سے عرض کیا وہ راز آپ مجھے ضرور بتائیں۔ جو یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں آپ کی زندگی میںآیا ہے۔
    ہیبت ناک جن اور انسانی عورتوں سے عشق
    بابا جی کہنے لگے بات کچھ اس طرح کہ میں ایک انسان عورت پر عاشق تھا میں نے زندگی میں بہت گناہ کیے ہیں۔ میں ہرخوبصورت عورت کو دیکھ کر اس پر دیوانہ اورعاشق ہوجاتا تھا اور ہر وہ عورت جس کے بال اور جسم کھلا ہوتا تھا‘ جوان ہوتی تھی ۔ اور پھر بابے نے جو باتوں باتوں میں بات کہی جو میرے دل کو لگی کہ ہر وہ عورت جو کھلا جسم‘ کھلے بال برہنہ بدن‘ برہنہلباس‘ نماز تسبیح کی جس کو توفیق نہیں۔ میں اس پر ضرور عاشق ہوتا تھا اور ہم سب جن اس پر عاشق ہوتے ہیں پھر ہم اس سے اپنے ازدواجی تعلقات زبردستی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اس کے گھر میں ہم جھگڑے کرواتے ہیں‘ میاں بیوی میں ناچاقیاںکرواتے ہیں‘ اولاد کی نافرمانیاں پیدا کرتے ہیں‘ بیماریاں پیدا کرتے ہیں‘ نقصان کرواتے ہیں‘ ہرچیز خراب کرتے ہیں۔ ان کو الجھاتے ہیں تاکہ ان کو سکون نہ ملے اگر سکون ملے گا تو ہمارے کام کے قابل نہیں رہے گی اور ایسی لڑکیاں اور عورتیں وہ ہمارا ترنوالہ ہوتی ہیں… تو وہ جادوگر بابا کہنے لگا میں نے زندگی میں بہت گناہ کیے اور میرے پاس قرآن پاک کی ایک ایسی آیت ہے جس کو میں پڑھ کے جس پر پھونک مارتا تھا وہ عورت میری دیوانی ہوجاتی تھی اور اس نے وہ آیت قرآن پاک کی مجھے بتائی جو میں عام طور پر نہیں بتانا چاہتا کہ لوگ اس کو غلط استعمال کریں گے۔
    ہیبت ناک جن اور مسلمان بزرگ
    پھر اس کو نصیحت ہوئی اور وہ نصیحت کیسے ہوئی؟ افریقہ کے غار کے اندر ایک مسلمان انسان بزرگ رہا کرتے تھے جو اپنی تسبیح پر ہر وقت صرف اور صرف اَللّٰہُ الصَّمَدْ پڑھتے تھے اور بہت اونچی آواز میں پڑھتے کہ پہاڑ بھی دہل جاتے تھے اور صرف اور صرف نماز کے اوقات میں باہر نکلتے اور چند انسان موجود ہوتے جو ان کی زیارت کیلئے آتے نماز کی جماعت کرکے وہ بزرگ پھر غار میں چلے جاتے۔ مختصر سا کھاتے پیتے ان کا جسم سوکھ کر کانٹا ہوگیا تھا۔ ایک دن میں ایک انسان عورت کو اٹھا کر وہاں سے گزررہا تھا تو ان کے اَللّٰہُ الصَّمَدْ نے مجھے آگے نہ جانے دیا مجھ پر غشی سی طاری ہوگئی۔
    اَللّٰہُ الصَّمَدْ نے مجھے دیوانہ کردیا
    آخر کار میں وہاں رک گیا‘ اس عورت کو میں نے وہاں بٹھا دیا وہ بیہوش تھی‘ میرا اس کے ساتھ حسب معمول گناہ کا ارادہ تھا لیکن اس بزرگ کے اَللّٰہُ الصَّمَدْ کے نعرے اور وجدان نے مجھے دیوانہ کردیا میں اس کو سننے بیٹھ گیا جوں جوںسنتا جاتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا گیا۔ تین راتیں اور چار دن میں مسلسل اسی وجدان میں بیٹھا رہااور اَللّٰہُ الصَّمَدْ سنتا رہا آخر مجھے ہوش آیا اور مجھے احساس ہوا کہ میں زندگی کی جن راہوں پر چل رہا ہوں وہ راہیں بہت غلط ہیں اللہ کے نام نے اللہ کے ذکر نے اور اللہ کے نام کی تسبیح نے میرے دل کی دنیا بدل دی‘ میری صبح و شام بدل گئے‘ میرے دن رات بدل گئے‘ میں انتظار کرنے لگا کہ اس بزرگ کو کیسے اپنا دل دکھاؤں‘ کیسے اپنے حال بیان کروں۔
    پہلے سوچا کہ اس عورت کو واپس چھوڑ آؤں‘مسلمان عورت انسان تھی‘ اس کو واپس اس کے گھر چھوڑ کر اس بزرگ کی غارکے پاس آکر بیٹھ گیا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  5. #35
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    بزرگ کی نظر سے دنیا بدل گئی
    ایک دن بزرگ عصر کی نماز کے بعد غار سے باہر نکلے اور مجھ پر نظر پڑی میں نے ان کی قدم بوسی کی ۔ ہاتھ چومے پاؤں چومے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کیسے آئے میں نے رو رو کر اپنی بات بیان کی۔ فرمانے لگے نماز کے بعد بات کریں گے۔ میں ایک طرف بیٹھ گیا میں نے نماز نہ پڑھی‘ حالانکہ میں آباؤاجداد سے مسلمان ہوں لیکن غلط راہوں پر بہک گیا تھا۔ انہوں نے مجھے نماز کا بھی نہ کہا ‘نماز کے بعد وہ مجھے غار کے اندر لے گئے۔ ایک ٹوٹی چٹائی بچھی ہوئی تھی‘ ساتھ ایک پانی کا گھڑا پڑا ہوا تھا۔ اس پر مٹی کا پیالہ تھا اور ایک بہت بوسیدہ قرآن پاک ساتھ پڑا ہوا تھا اور دو کھانا کھانے کے لکڑی والے برتن تھے اور ایک سیاہ رنگ کی چادر تھی‘ بس اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا‘ اس غار میں اور میں نے دیکھا کہ غار میں ساتھ سانپ آرہے تھے اور جارہے تھے اور ان بزرگ سے ان کو کچھ خوف نہیں تھا‘ میں دیکھ رہا تھا کہ ان موٹے زہریلے سانپوںکا وہاں آنا جانا لگا ہوا تھا اور کچھ اور زہریلی چیزیں بھی تھیں‘لیکن ان بزرگ کو ان سے کوئی خوف نہیں تھا۔ ان بزرگ نے ان سے کوئی اثر تک نہ لیا۔ میں ان کے سامنے رو کر اپنی گناہوں کی داستان بیان کرتا رہا کرتے کرتے آخر میں نے ان کے ہاتھ پر توبہ کی۔ ایمان کی تجدید کی ایمان کی تجدید کرنے کے بعد وہ مجھ سے فرمانے لگے دیکھ ایسا کر تو سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھا کر۔ تیرے اوپر جادو ہے‘ اور تیرے اوپر شیطانی چیزوںکی سخت نظر بد ہے اور سخت اثرات ہیں۔ تو بس سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھا کر میں نے ان سے عرض کیا حضرت آپ مجھے اَللّٰہُ الصَّمَدْ کی اجازت دیں۔ فرمایا نہیں۔ یہ اجازت ابھی میں نہیں دے سکتا تو یَاقَہَّارُ پڑھا کر۔کہنے لگے میں نے یَاقَہَّارُ پڑھنا شروع کیا۔ اور یَاقَہَّارُ ایک دن کے اندر میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پڑھ لیتا تھا۔ بس اس دن کے بعد میری زندگی کے دن رات بدلنا شروع ہوئے۔ پھر میرے اوپر یَاقَہَّارُ کے کمالات کھلے کہ ساری کائنات کو جو بھی حفاظت کا سامان ملتا وہ یَاقَہَّارُ کی برکت سے ملتا ہے اور ساری کائنات پر جتنے بھی شرور‘ آفات‘ بلیات مختلف شکلوں میں ہٹتی ہیں وہ یَاقَہَّارُ کی وجہ سے ہٹتی ہیں۔ کہنے لگے یَاقَہَّارُ کے وہ کمالات آپ کو بتا سکتا ہوں آپ گمان نہیں کرسکتے۔
    بابا جن کا بتایا آزمودہ عمل
    پھر اس جادوگر جن نے وہ عمل بتایا جس عمل کو بتانے کیلئے وہ میرے پاس آئے تھے۔کہنے لگے اگر گرمی ہے تو کچا برتن پرات یا کوئی لوہے کا تھال نمابرتن لے کر۔ چارپائی پر بیٹھ کر اس میں اپنے پاؤں ڈبو لیں۔ پانی ٹھنڈا ہو اور اگر سردی ہو تو گرم پانی میں پاؤں ڈبولیں پاؤں ڈبونا بہت ضروری ہے اور باوضو بیٹھ کر آپ گیارہ سو بار یَاقَہَّارُپڑھیں اور تصور کریں جس جادو سے‘ جس گناہ سے‘ جس عیب سے‘ جس بدکاری سے‘ یا شراب اور جوئے اور نشے سے نجات آپ چاہتے ہیں یا کسی کو دلانا چاہتے ہیں۔ اپنے لیے بھی پڑھ سکتے ہیں کسی کا تصور کرکے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ وہ پڑھنا شروع کردیں۔ روزانہ ایک وقت مقرر ہو‘ قبلہ رخ بیٹھ کر‘پانی روز بدلنا ہے‘ اس پانی کو گرا دیں۔ اس وظیفہ کو روز پڑھنا ہے‘ گیارہ دن‘ اکیس دن‘ اکتہر دن‘ اکانوے دن۔ آپ پڑھیں۔ صبح و شام پڑھنا چاہیں تو فائدہ زیادہ ہوگا ورنہ ایک وقت بھی پڑھ سکتے ہیں۔
    آپ کا جادو‘ اثرات‘ بندش‘ کالی دنیا کالے اثرات‘ یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ کہنے لگے کہ میں جنات کو یہ چیزیں اکثر بتایا کرتا ہوں ایک جن میرے پاس آیا مجھ سے کہنے لگا کہ میرے اوپر کسی نے جادو کرکے میرے بدن کو سیاہ کردیا ہے میں نے اسے یَاقَہَّارُ کا یہ پانی والا عمل بتایا اور سختی سے کہا کہ اس پانی کو استعمال نہیں کرنا اور نہ پانی کوئی گھر والا استعمال کرے۔ کیونکہ سارا جادو سر سے نکل کر پاؤں اور پاؤں سے نکل کر پانی میں چلا جاتا ہے اور اگر کوئی سخت بیمار ہے سخت مریض ہے کسی بھی مرض میں تومبتلا ہے‘ وہ پانی میں پاؤں رکھ کر یَاقَہَّارُ کا عمل کرے اور ساری بیماری‘ سارے روگ ساری تکلیف جسم سے نکل کر پانی میں چلی جاتی ہے۔ جب وہ جسم سے نکل جاتی ہے تو اس پاؤںکو نالی میں یا کہیں پھینک دیں۔ ہر روز نیا پانی ہو۔ بعض لوگوں کے تو پانی کی رنگت تبدیلی ہوتی ہے اور یہ بھی واقعات بے شمارآئے ہیں۔ میں نے اس جادوگر جن کا شکریہ ادا کیا اس کی مزید خدمت کی‘ تحائف دئیے اس جادو گر نے بہت عجیب و غریب عمل دئیے ایک ایسا عمل بھی دیا کہ جس سے جو حجاب الابصار کا عمل دیا تھا بہت مختصر آسان سا عمل تھا۔ آپ سب کو دیکھ سکیں آپ کو کوئی نہ دیکھ سکے۔
    کہنے لگے کہ اس عمل کو میں نے افریقہ کے بہت سے لوگوں کو دیا اور خود کرایا انہیں وہ اس عمل کی وجہ سے حج کرکے آگئے۔ سواری میں خودجاکے بیٹھ گئے نہ ویزہ نہ ٹکٹ کچھ بھی نہیں۔ کوئی بحری جہاز کے ذریعے‘ کوئی ہوائی جہاز کے ذریعے‘ بہت سے غریب مفلس لوگ حج کرکے آئے۔
    کہنے لگے کچھ لوگ تو ایسے ملے کہ کعبہ کا دروازہ کھلا اور وہ کعبے کے اندر چلے گئے اور ایک خوش قسمت نے مجھے بتایا کہ روضہ اطہر ﷺپر جاروب کش ہیں جو کہ آقاﷺ کے روضہ کے اندر سے جھاڑو دیتے ہیں وہ خواجہ سراء ہیں‘ ایک دن انہوں نے رات کی تنہائی میں کھولا میں مسجد نبوی ﷺ کے اندر رہ گیا میں اس کے اندر چلا گیا اور اس کے اندر کا اس نے نقشہ بتایا اور جو جلوے بتائے وہ بیان اور گمان سے بالاتر ہیں۔ میں نے ان جادو گر باباجی کا شکریہ ادا کیا اور میں نے چلتے ہوئے جو اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کا عمل میں نے پہلے بتایا تھا وہی عمل انہیں بھی بتایا کہ ہر رکعت میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کی تکرار کرنا ہے۔بطور ہدیہ پیش کی‘ بہت خوش ہوئے۔ انہیں بہت پسند آئے۔ کہنے لگے کہ یہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے میرے تجربات تو ہیں لیکن اس ترتیب اور ترکیب کے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُے تجربات مجھے پہلی دفعہ ملے ہیں۔ میں نے جس شخص کو بھی اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُکا یہ عمل دیا ہے مجھے آج تک کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جس کو نفع اور فائدہ نہ ہوا ہو۔ ایسے ایسے لوگ بھی ملے ہیں جن کی زندگیوں میں وبال‘ بلائیں‘ پریشانیاں دکھ اور الجھنوں نے ڈیرے ڈال دئیے تھے۔
    ایسی عورتوں نے کیے جن کے رشتے نہیں ہوتے تھے جن کے بال سفید ہوگئے تھے ایسی ماؤں نے کیے جن کی اولادیں نہیں ہوتی تھیں۔ بس اس کو مستقل کرتے رہنا ہے چند دن‘ چندہفتے‘ چندمہینے کرتے رہتا ہے جب تک کامیابی نہیں ملتی۔ مقدمات میں کامیابی‘ مشکلات سے دوری‘ مسائل کا حل‘ غموں سے دوری‘ دکھوں سے دوری‘ زندگی کی ہر مشکل کو دور کرنے اور پریشانی کو دور کرنے کیلئے‘ اس سے بڑا وظیفہ شاید کہیں نہ ملا ہو۔ میری طرف سے تمام قارئین کو پھر اس کی اجازت ہے۔ اس کو جتنا کریں اتنا اس کا نفع پائیں گے اور جتنا کریں اتنا اس کا کمال پائیں گے۔ کبھی آئندہ آپ کو چند ایسے عبرتناک مشاہدات بھی بتاؤں گا کہ جنات کس طرح لوگوں کو بیمار کرتے ہیں اور بیماری میں ان کا کتنا دخل ہوتا ہے اور ان کی ترتیب کیا ہوتی ہے کبھی میں آپ کو جنات کے قبرستان کی سیر بھی کراؤں گا اور جنات کی خوراک بھی بتاؤں گا اور جنات کہاں دفن ہوتے ہیں‘ ان کی مییتیں اٹھتی ہیں ان کے جنازے کیسے ہوتے ہیںکیونکہ بے شمار جنازے میں نے خود پڑھائے ہیں ان کی زندگی کیسے گزرتی ہے۔ ان کے دن رات کیسے ہوتے ہیں یہ ساری چیزیں انشاء اللہ کبھی میں آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  6. #36
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    جوان جن کی علامہ صاحب کے پاس آمد
    ابھی میں نے تھوڑاپہلے افریقی بوڑھے بابے کا تذکرہ کیا تھا جس کے بارے میںمیں نے کہا تھا کہ وہ جن نہیں تھا کوئی ہیبت کا پہاڑ تھا اور پراسرار قوتوں کا مالک تھا اور جس کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا کہ لوہے کے تھال میں پانی بھر کے اس میںپاؤںڈبو کر عمل کیا تھا اور چلتے ہوئے میں نے انہیں ایک تحفہ بھی دیا۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ ان کی طرف سے مجھے ایک جن کے ذریعے ایک تحفہ کچھ کھانے پینے کی مٹھائیاں‘ کچھ میوہ جات تھے اور کچھ کپڑے اور لباس تھے۔ اور ایک خوبصورت سا کنگن بھی تھا جو کہ سردار جن اپنے ہاتھوں میں ڈالتے ہیں خیر میں نے وہ ڈالا تو نہیں رکھ ضرور لیا۔ اس جن کے ذریعے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ جوان جن تھا میں نے اس سے اس کی عمر پوچھی وہ کہنے لگا کہ ایک سو ستاسی سال میری عمر ہے۔ وہ گفٹ لے کر آیا اس افریقی جادوگر جن کا میں نے اس سے اس کا حال احوال پوچھا کہ وہ کیا کرتا ہے؟ کہنے لگا میں کپڑے کا کام کرتا ہوں ہمارے جنات کے ہاں ریشمی کپڑا پہنا جاتا ہے اور اس میں شوخ رنگ زیادہ پسند کیے جاتے ہیں اور ایسا کپڑا جس کپڑے کے اوپر ہلکے پھول بنے ہوں میں اس کپڑے کا کام کرتا ہوں اور میں اس کو انسانوں میں بھی بیچتا ہوں اور جنات میں بھی۔


    اس کا مزید آگے حصہ ہے لیکن آن لائن اتنا ہی تھا جو میرے پاس میگزین ہے اس میں کافی آگے تک ہے اگر مجھے مل گیا تو شیئر کر دوں گا انشااللہ اگر مجھے نہ مل سکے تو آپ اس میگزین سے مزید آگے پڑھ سکتے ہیں یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے انشااللہ زندگی رہی تو شیئر کرتا رہوں گا۔ جزاک اللہ
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  7. #37
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    پھر میں نے ان سے کہا آپ کی خیر اسی میں ہے کہ آپ مسلمان ہوجائیں اور ایمان لے آئیں۔ اتنے میں دو بیہوش بھی ہوش میں آگئے اور چیخ چیخ کر رونے لگے‘ اپنا جسم اور بال نوچنے لگے کہ ہمیں اب تک بتانے والا تھا ہی نہیں ہم نے تو سب کچھ اسی کو سمجھا ہوا تھا‘ ہم نے یہی جانا کہ اسی میں سب کچھ ہے۔ ہم برباد ہوگئے‘ وہ سینہ کوبی کررہے تھے‘ وہ چیخ و پکار کررہے تھے‘ وہ رو رہے تھے۔ ان کی زندگی کی مجھے شام نظر آرہی تھی کہ وہ مرجائیں گے اور ابھی ختم ہوجائیں گے… میں سوچتارہا‘ کہ اب ان کا کیا کیا جائے؟ اور انہیں مسلسل اسلام کی خوبیاں بتانا شروع کیں۔ آخر وہ سب مسلمان ہوگئے۔ میرے ساتھ کچھ اولیاء جنات بیٹھے ہوئے تھےمیں نے ان کے ذمے لگایا کہ ان کو اپنے رابطے میں رکھو اور ان کو دین سکھانا شروع کرو۔
    ان میں سے ایک کہنے لگا اگرمیرا خاندان مسلمان ہونا چاہے تو آپ کرلیں گے؟ میں نے ان سے کہا ہاں زبردستی نہ کرنا اگر وہ اپنی رضا سے ہونا چاہیں تو میں ضرور کرلوں گا۔ تو کہنے لگا ٹھیک ہے دوسرے دن تمام جنات اپنے ساتھ چوالیس سو تئیس جنات مزید لے آئے مسلمان کرنے کیلئے۔ ایک جن میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور رو رہا تھا بوڑھا جن تھا۔ وہ تو روتے روتے تڑپنا شروع کردیتا‘ میں نے اسے اٹھایا اپنے سینے سے لگایا۔ بوسہ دیا‘ اس کے آنسو صاف کیے‘ میں نے پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے‘ کہنے لگے نو سوسال سے کچھ کم ہے‘ پوچھا کیوں رو رہے ہیں کہا ایک اپنا گناہ یادآیا‘ میں نے پوچھا کیا اس نے آہستگی سے بتایا کہ میں گھی کا کام کرتا تھا‘ یعنی گھی چاول‘ چینی اور اس طرح کی کھانے پینے کی چیزوں کا ہول سیل کا بیوپاری ہوں۔ میں ایک کام کرتا تھا میرے پاس انسان تاجر بھی آتے تھے میں انسان کی شکل بنا کر ان سے تجارت کرتا تھا‘ انہیں کبھی علم نہ ہوسکا اور جنات میں بھی میرا بہت بڑا کاروبار تھا‘ میں ایک کام کرتاتھا کہ جن لوگوں کو خاص طور پر انسانوں کو اگر میں نے گھی کے سو ٹین دئیے میں چپکے سے ان میں سے پانچ ٹین اٹھا لیتا تھا۔ اس وقت جب مال ان کے گودام میں پہنچ جاتا تھا اور انہیں قطعی علم بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس طرح ہر کھانے پینے کی چیز کے ساتھ میں ایسا کرتا تھا اور سالہا سال سے میں ایسا کررہا ہوں۔ ساری زندگی میں نے دھوکہ فریب چوری سے اپنا گھر بھرا۔ آج پتہ چلا کہ میں تو بہت نقصان میں ہوں اور میں بہت گھاٹے میں ہوں‘ بس وہ دن اور آج کا دن مجھے بہت بڑی ندامت کا سامنا ہورہا ہے اب میں اتنے بندے کہاں سے لاؤں گا جن لوگوں کے ساتھ میں نے دھوکہ کیا۔ مجھے تو یاد ہی نہیں صدیوں سے میں کام کررہا ہوں۔ انسانوں کی نامعلوم کتنی نسلیں ختم ہوچکی ہیں اور انسانوں کی کتنی نسلوں کو میں نے دھوکہ دیا وہ رو رہا تھا اور مسلسل چیخ و پکار کررہا تھا۔ میں نے اسے تسلی دی اور کہا حقوق العباد بہرحال حقوق العباد ہوتاہے جو جو آپ کو یاد ہے ان کی لسٹ بناؤ ان کو لوٹاؤ جو یاد نہیں ہے جتنا یاد ہے ان کی طرف سے صدقہ کردو اور مجھے ابھی ابھی پتہ چلا کہ وہ ایسا مسلسل کررہا ہے۔ بیٹھے بیٹھے یاد آیا کہ قارئین! کیوں نہ آپ کو جنات کے رمضان کی کچھ کیفیات‘ معمولات‘ مجاہدے‘ قربانیاں‘ مانگنا‘ گڑگڑانا‘ رونا‘ قرآن پڑھنا‘ تراویح پڑھنا‘ ذکر کرنا‘ صدقہ وخیرات کرنا‘ غریب پروری میں آگے آگے بڑھ کر چلنا‘ یہ سب معمولات واقعی آپ کو ضرور بتائے جائیں۔
    جنات کا رمضان
    جنات کی زندگی میں رمضان کا استقبال ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور جنات رمضان المبارک میں ایک ذکر بہت کثرت سے کرتے ہیں حَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَفُوٌّ کَرِیْم۔ اتنا کرتے ہیں کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ اربوں سے زیادہ یہ ذکر کرتے ہیں‘ کھانے کا انتظام ان کے ہاں بہت زیادہ ہوتا ہے ہر جن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کھلائے‘ پلائے‘ رمضان کے مہینے میں جنات کی زندگی کے معمولات دھیمے پڑجاتے ہیں‘ ان کا کاروبار بہت کم رہ جاتا ہے‘ پورا رمضان وہ تقریباً چھٹی میں گزارتے ہیں‘ ہروقت ذکر و اذکار‘ لاکھوں قرآن پڑھے جاتے ہیں کیونکہ حفاظ زیادہ ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں ہرجگہ‘ گھرگھر ہرقبرستان‘ ہر ویرانے‘ ہر جنگل میں اور ہردرختوں کے جھنڈ میں اور ہر پرانی بھٹی میں اور پرانے بھٹے میں‘ ہر پانی کے کنارے‘ دریا اور سمندر میں مصلے پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن بہت خوبصورت پڑھتے ہیں اور نہایت عمدہ لہجے کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ جنات میں ہمیشہ قرآن سعودی طرز پر ہی پڑھا جاتا ہے‘ یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی شیخ شریم اور شیخ السدیس کا تعارف بھی نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ جنات نے خود قرآن حضور اقدس ﷺ سے سنا‘ صحابہ اہل بیت تابعین تبع تابعین محدثین اولیاء صالحین سے خود سنا۔ اس لیے جنات کے ہاں ہمیشہ وہ طرز ہے جس طرز پر سعودی عرب میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ رمضان میں میں نے بہت ختم القرآن میں جانا ہے تھک جاتا ہوں۔ ہرطرف سے تقاضا ہوتا ہے کہ آپ ہمارے ختم القرآن میں آئیں اور دعا کروائیں کچھ کلمات بھی جن میں عظمت قرآن‘ تعارف قرآن اور فضائل قرآن کی بات بھی ہوجائے۔ میں بہت ختم القرآن میں جاتا ہوں ہر جگہ مٹھائی بہت بانٹی جاتی ہے۔ قارئین! کبھی آپ نے غور کیا کہ قرآن کیا اخبار ہے جو روزانہ آپ کے گھر آتا ہے۔ کتنے سینکڑوں ادارے مسلسل قرآن چھاپ رہے ہیں اور انسانی دنیا میں قرآن پڑھنے کا ذوق تو بالکل ختم ہوجاتا ہے پھر یہ آخر چھپا ہوا قرآن کہاں جاتاہے اور بک جاتا ہے؟ جنات ہمیشہ قرآن پڑھتے ہیں اور بہت زیادہ پڑھتے ہیں پھر ایک دوسرے کو لے کر تحفے دیتے ہیں۔ ان کے ہاں قرآن بہت بوسیدہ ہوتے ہیں اس لیے بہت زیادہ بکتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں کئی قرآن مجھے جنات نے تحفۃً دئیے پھر میں ان کو دوسرے جنات کو تحفے میں دے دیتا ہوں۔
    رمضان کے مہینے میں ایک دن میں قرآن ختم کرنے والے‘ آدھا دن میں قرآن ختم کرنے والے بے شمار سے بھی بے شمار ہیں۔ لوگ ملتے ہیں ورنہ دو یا تین دن میں قرآن ختم کرنے والے تو عموماً ملتے ہیں۔ روزے کا ذوق‘ ختم القرآن کا ذوق‘ کروڑوں دفعہ کلمہ‘ کروڑوں بار استغفار‘ کروڑوں بار درود شریف اور اربوں سے زیادہ حَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَفُوٌّکَرِیْم بہت پڑھنے والے ملتے ہیں اور ویسے بھی بقول ایک جوان جن کے جو شخص رمضان میںحَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَفُوٌّ کَرِیْمپڑھے گا اس کا وہ رمضان روزہ اور مجاہدہ اتنا قبول ہوگا کہ دنیا حیران ہوجائے گی۔ اور حیرت انگیز رزلٹ ملتے ہیں مشکلیں حل ہوتی ہیں‘ پریشانیاں دور ہوتی ہیں‘ رزق میں وسعت برکت‘ عزت‘ کامیابی‘ کمال برکت‘ کمال راحت‘ ہرمشکل کا حل ہر پریشانی کا حل‘ زندگی ایسی بن جاتی ہے کہ انسان گمان سے بالا تر ہوتا ہے۔ آپ سب کو اس کی اجازت ہے۔ ( جاری ہے)
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  8. #38
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    جی چاہتا ہے کچھ باتیں حضرت خضرعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی کرلوں‘ زندگی کی خبر نہیں جو ملا ہے لوٹانا چاہتا ہوں اپنے ساتھ کچھ لے کر جانا نہیں چاہتا‘ ویسے بھی مومن کے پاس جوکچھ ہوتا ہے وہ ادھار ہوتا ہے ادھار کو لوٹانا مومن کے مزاج کا حصہ ہے۔
    ایک پرانی اور کالی رات میرے سامنے ہے جب میں اپنے مکان کی چھت پر بیٹھا اسم ذات کا ذکر کررہا تھا سردی کے دن تھےاور سخت سردی پڑرہی تھی‘ میں نے ایک کمبل اوڑھا ہوا تھا لیکن میں پسینہ پسینہ تھا اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرے قریب کسی نے آکر اپنا گھٹنا لگا دیا اور سلام کیا۔ ہلکا سا خوف ہوا لیکن پھر ایک اطمینان ہوگیا۔۔۔دیکھا تو ایک خضر صورت درویش بیٹھے ہیں مصافحہ ہوا میں نے پوچھا آپ؟ فرمانے لگے لوگ مجھے خضر(علیہ الصلوٰۃ والسلام) کہتے ہیں یہ ان سے میری سب سے پہلی ملاقات تھی۔ میں سمجھتا ہوں یہ لفظ اسم ذات یعنی اللہ جو میں نے لاکھوں کروڑوں مرتبہ کیا‘ یہ اس کی برکات ہیں۔ اس کی برکات تو مجھے بہت ملیں وہ پھر کبھی عرض کروں گا لیکن اس کی ایک برکت یہ ہے کہ حضرت خضرعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
    حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے میں نے بہت پایا بہت حاصل کیا ہے ایک چیز جو کہ گزشتہ صفحات میں آپ مسلسل پڑھ رہے ہیں وہ یَاقَہَّارُ ہے۔ آج میں یَاقَہَّارُ کے روحانی و نورانی فوائد حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبانی بتانا چاہتا ہوں ایک بار فرمانے لگے:۔
    ’’جو شخص اس کو بکثرت پڑھے گا جتنا بڑے سے بڑا گناہ ہو اور وہ اس گناہ سے چھٹکارا پانا چاہتا ہو‘ جتنی بڑی سے بڑی برائی ہو‘ نشہ ہو‘ کوئی عادت بد ہو‘ کوئی عیب اور وہ اس عیب سے چھٹکارا پانا چاہتا ہوں وہ بلا تعداد اس کو مستقل پڑھے۔ جتنا زیادہ تعداد میں پڑھے گا اتنا فائدہ ہوگا۔ لاکھوں سے زیادہ پڑھے‘ بس ہروقت پڑھتے ہوئے یہ تصور یعنی جس چیز سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اس کا تصور …وہ نہیں پڑھ رہا تو اس کی طرف سے کوئی اور پڑھے لیکن بات ہے پڑھنے کی… چند بار پڑھ کر چھوڑ دینا۔ ایسا نہ ہو یہ بات مسلسل تجربات میں آئی ہے کہ اس کو مسلسل پڑھنے سے گوہر مقصود ضرور ملا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ہیروئن چھوٹتے دیکھی‘ بدکاری سے نفرت دیکھی‘ جھوٹ گناہوں سے نفرت دیکھی‘ ایک نہیں بے شمار ‘بے شمار نہیں اور بے شمار لوگوں کو اسم یَاقَہَّارُ سے متقی ولی‘ اور اللہ کا دوست بنتے دیکھا۔ اللہ کی دوستی اور اللہ تعالیٰ کا قرب اور اللہ کی محبت یَاقَہَّارُ کے سامنے ایک انوکھا راز ہے۔ میں نے ایک صاحب کو یہ پڑھنے کیلئے بتایا کہنے لگے میں نے دن دیکھا نہ رات ‘ صبح دیکھی نہ شام‘ نیند دیکھی نہ جاگنا ہر صورت یَاقَہَّارُ پڑھتا چلا گیا‘ لاکھوں کی تعداد میں یَاقَہَّارُ پڑھا۔ میں وہ تھا جو کماتا تھا جوئے پرلگا دیتا تھا پھر جو بچتا تھا شراب میں لگا دیتا تھا اور بدکاری پر لگاتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا لفظ کہیں پایا ہی نہیں… کہیں دیکھا ہی نہیں۔ اب رات کو سوتا ہوں تو تہجد کے وقت مخصوص مہک اور خوشبو ہوتی ہے جو میرے بدن کو لپیٹ لیتی ہے اور مسرور ہوں کہ ایک خوشبو مجھے تہجد کیلئے اٹھا دیتی ہے پھرتہجد کے بعد سوتا ہوں تو وہی خوشبومجھے نماز فجر کیلئے اٹھا دیتی ہے اسی طرح میرے دن رات گزر رہے ہیں۔
    مجھے وہ وقت بھی یاد تھا جب میںعید کی نماز تک نہیں پڑھا کرتا تھا‘ جمعہ تو دور کی بات ہے۔ جب مجھے اللہ کے نام سے شناسائی نہیں تھی۔ میں بھٹکا ہوا تھا الجھا ہوا تھا‘ ڈوبا تھا‘ گمراہ تھا۔ اسم یَاقَہَّارُ نے مجھے اللہ تک پہنچانے میں بہت مدد کی۔ قارئین! ویران گھروں اور اجڑی زندگیوں کیلئے اسم یَاقَہَّارُ کے اندر بہت تاثیر اور طاقت ہے‘ اس کے اندر تقویٰ ہے‘ عظمت ہے‘ اخلاص ہے‘ للہیت ہے ‘تہجد ہے‘ نماز کا خشوع ہے‘ قرآن سے محبت ہے‘ عشق مصطفی ہے‘ عشق صحابہ اہل بیت ہے‘ عشق اولیاء ہے‘ صالحین سے محبت ہے‘ یہ کوئی شے نہیں عجیب شے ہے۔
    اپنی نسلوں کیلئے پڑھ سکتے ہیں‘ ایک چھوٹی سی بات کہتا چلا جاتا ہوں اس کی وضاحت نہیں کروں گا۔ بس آگے آپ خود سمجھ لیں کہ جب بھی میاں بیوی ملاقات کا ارادہ کریں دونوں ملاقات سے پہلے بکثرت اسم یَاقَہَّارُ پڑھیں۔ اولاد صالح ہوگی‘ بے عیب ہوگی‘ اندھی کانی لولی لنگڑی‘ اپاہج‘ ناکارہ‘ بیوقوف‘ پاگل‘ دیوانی‘ بدشکل نہیں ہوگی۔
    جہاں حسن ظاہر ہوگا‘ وہاں حسن باطن بھی ہوگا‘ خوبصورتی جہاں اندر کی ہوگی وہاں باہر کی بھی ہوگی‘ بچے میں تقویٰ اخلاص‘ خلوص نیکی‘ امانت‘ خیرخواہی‘ دریا دلی‘ سخاوت اور محبت کے آثار نمایاں ہوں گے۔ ویسے بھی میاں بیوی جب ملیں ان الفاظ کو تھوڑا یا زیادہ اس سے پہلے پڑھ لیا کریں۔
    شیطانی عمل دخل نہیں ہوتا۔ بیماریاں نہیں ہوتیں‘ حتیٰ کہ آپس میں نفرت نہیں ہوتی۔ میں نے گھریلو جھگڑوں کے کئی لوگوںکو یہ بتایا کہ میاں بیوی جب بھی ملیں تھوڑا یا زیادہ اسم یَاقَہَّارُ ضرورپڑھ لیا کریں۔ اس وقت وضو ہے یا نہیں اس کی کوئی شرط نہیں۔ پھر اس کی برکات کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں بہت کمال کی چیز ہے۔ یہ ایک راز تھا جو دل کی دنیا میں بسا ہوا تھا جو مجھے ملا تھا سو آپ تک لوٹا دیا۔ (جاری ہے)
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  9. #39
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ کس نے حل کروایا
    مجھے آج ان باتوں سے وہ سارا تجربہ وہ سارا مشاہدہ وہ سارا ثبوت یاد آگیا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ چلو اس جن نے اپنے مشاہدات بھی بتا دئیے اور میری بات کی تصدیق بھی کردی۔
    ایک بونے جن نے ایک بات بتائی کہنے لگے کہ جب سے آپ نے موتی مسجد کا بتایا تو کراچی سے دو بوڑھے میاں بیوی یہاں آئے ان کی بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ تھا اور وہ بہت پریشان تھے بیٹیوں کے بال سفید ہوگئے تھے‘ کسی بھی طرح رشتہ نہیں ہوتا تھا اور زندگی کے دن رات یونہی مایوسی میں گزر رہے تھے ہرصبح ایک نئی امید اور ہر شام حسرت و یاس میں چلی جاتی وہ پریشان تھے کہ آخر کیا ہوگا؟ عبقری میں آپ کا مضمون پڑھ کر وہ آئے تو روتے روتے موتی مسجد میں ان کی ہچکی بندھ گئی‘ ہمیں ان کے مسائل کی چونکہ خبر ہوگئی اس لیے ہم ان کے ساتھ چلے گئے۔ و ہ ٹرین سے چونکہ کراچی پہنچے‘ ہم ان سے پہلے کراچی پہنچ گئے اور ان کے گھر پہنچ کر ان کے گھر کے ایک کونے کے اندر کچھ ایسے تعویذ دبے ہوئے تھے جن کا تعلق رشتوں کی بندش سے تھا ہم نے ان کو نکالا اور جاکر سمندر میں ڈال دیا جب سمندر میں ڈالا تو ان کی وہ چیزیں ختم ہوگئیں تو جب وہ گھر پہنچے تو رشتے والے ان کی طرف رجوع کرنےلگے۔ تین بیٹیاں تھیں جن میں سےایک کی شادی ہوگئی‘ ایک کا رشتہ طے ہوگیا ہے اور تیسری کیلئے رشتے آرہے ہیں۔
    ہمیں توموتی مسجد سے عشق ہے
    میں نے ان جنات کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میرا مضمون پڑھنے والے قارئین کی مدد کی۔ وہ بونے جنات کہنے لگے ہمیں تو موتی مسجد سے عشق ہے‘ ہمیں موتی مسجد محبت اور پیار ہے‘ ہم تو ہر آنے والے کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں اورہرآنے والا ہمارا دوست اور ہمارا مخلص ساتھی ہوتاہے‘ ایسے ایسے لوگ آئے جن کے پاس وسائل کم تھے‘ مسائل زیادہ تھے ہم نے ان کے گھر جاکر مدد کی‘ بعض لوگوں کے شیاطین جنات سے ہم نے خود لڑائی کی اور ان جنات کو ختم کیا‘ بعض لوگوں کے جادو ختم کیے اور بعض لوگوں کی آپس میں صلح کروائی‘ نفرتیں اور دل کے کینے ختم کیے‘ ان کے دل کی دنیا آباد ہوئی‘ بعض لوگ اپنی اولاد کی نافرمانی سے پریشانی ہوکر آئے ان کےساتھ ہم خود گئے اور اولاد کو نافرمان بنانے کیلئے جو خبیث جناتی چیزیں مسلط تھیں اور جو انہیں ہر وقت منفی سوچ دیتی تھیں‘ انہیں مثبت طریقوں اور نیکی کی راستوں سے ہٹاتی تھیں ان سے ہم نے جنگ کی اورانہیں دور کیا اور ان نوجوان بیٹے اور بیٹیوں کو ہم نے اپنی روحانی نظر سے پاک کیا اور ان کے اوپر روحانی دمکیے اورواپس آگئے۔ میں حیرت سے ان نیک جنات کی کارگزاری سن رہا تھا اور مجھے اچھا لگا کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے مخلوق خدا کو موتی مسجد تک پہنچانے کاذریعہ بنایا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  10. #40
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    ایک بددعا۔۔۔اور نسلیں برباد
    ایک جن نے بتایا یعنی بونے جن نےکہ ایک جوڑا ہمارے پاس موتی مسجد میں آیا میں نے انہیں ٹوکا کہ ہمارے پاس سے کیامراد ہے؟؟؟ تو کہنے لگاکہ ابھی تو ہم نے آپ سے کہا ہےکہ موتی مسجد میں آنے والا ہر شخص ہمارا مہمان ہوتا ہے۔۔ ہمارے پاس ایک جوڑا آیا ان کے ہاں اولاد نہیں تھی‘ انہیں شک تھا کہ ان کے اوپر کسی نے جادو کیا ہے حالانکہ ان پر جادو نہیں تھا اور نہ ہی ان کے اوپر جنات کا اثر تھا۔ دراصل ان کے پیچھے ایک بددعا تعاقب کررہی تھی اور وہ بددعا یہ تھی کہ ان کے دادا نے ایک فقیر کو ستایا تھا اور اس کی توہین کی تھی اور ان کے گھر کے اندر ایک خاتون کام کرتی تھی اس خاتون کو انہوں نے بری طرح جھڑکا تھا اور بہت زیادہ سزا دی تھی جبکہ ان کی غلطی بہت تھوڑی تھی‘ اس کے دل سے دکھی آہ نکلی اور آہ یہ نکلی کہ تیری نسلیں کبھی آباد نہ رہیںاور واقعی ایسا ہوا ان کی اولاد یا تو پیدا ہوتے ہی مرجاتی تھی یا پھر اس کی اولاد ہوتی ہی نہیں تھی تو ہم نے ان کی بددعا کا ازالہ یہ کیا کہ ان کے مال میں سے بہت سا حصہ صدقہ کیا اور وہ صدقہ اس خاتون کو جو کہ بہت عرصہ پہلے فوت ہوگئی تھی اورجس کی بددعا لگی تھی اس کی روح کو پہنچایا۔ مزید قرآن پاک سے مخصوص آیات ہم نے ان پر دم کیں اور جب وہ گھر پہنچے تو ہفتے بعد ہی اس خاتون کو امید ہوگئی اور اب وہ خاتون امید سے ہے۔
    میری خوشی و مسرت
    میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور خوشی بھی ہورہی تھی اور مسرت بھی… حتیٰ کہ خوشی اور مسرت سے میری آنکھوںسے آنسو نکل آئے۔ بونے جنات بہت سارے تھے میں نے ان سے پوچھا کوئی اور بات سنائیں کہ مجھے آپ کی باتوں سے دلی سکون مل رہا ہے کہ مخلوق خدا کی مشکلیں ٹلیں۔
    موتی مسجد سے چوری کرنیوالے کا انجام
    کہنے لگے یہاں کچھ لوگ جائے نماز جھاڑو اور کچھ چیزیں چھوڑ کرگئے پھر کچھ لوگوں نے انہیں اٹھا کر بیچنا شروع کردیا‘ جس جس نے بھی یہ کام کیا یعنی چیزیں بیچیں ہم نے انہیں سزائیں دی‘ کسی کے بیٹے کو نقصان پہنچایا‘ کسی کے گھر کو نقصان پہنچایا‘ کسی کا حادثہ کرایا‘ کسی کی ہڈی تروادی اور کسی کے گھر کے اندر لڑائی کروا دی‘ کسی کو مالی کسی کو جانی بہت نقصان پہنچایا کیونکہ یہ کام وہ تھا جو کہ مسجد کا تھا اور یہ ہماری محبوب مسجد‘ ہماری مسجد سے کوئی چیز چوری کرے توہم اسے پرسکون نہیںدیکھ سکتے وہ یقینا ًپریشان ہوگا اور اسے پریشان ہونا بھی چاہیے۔ ہم نے جی بھر کر انہیں پریشان کیا۔
    بونے جنات کی دعائیں
    یہاں جو عبادت کرنے آئے اور خلوص سے آئے ہم نے جی بھر کر ان کیلئے دعائیں کیں‘ کچھ کی مدد کی‘ ورنہ سب کو دعاؤں کے ساتھ بھیجا اور سب کو ہم نے روحانی دم کیا‘ ہر آنے والا شخص یہاں سے خالی نہیں گیا‘ ہاں وہ شخص جس کے اندر یقین نہیں وہ ضرور خالی جائے گا کیونکہ ہر شخص یہاں یقین کی خیرات پاتا ہے‘ اللہ بھی یقین والوں کے ساتھ ہے بے یقین کے ساتھ تو خود رب بھی نہیں ہے‘ ہم نے یقین کی دنیا میں ان لوگوں کو دیکھا ہے ۔ جنات بتا رہے تھے کہ بعض لوگ موتی مسجد میں ایسے آئے جو تین تین دن یہاں ٹھہرے‘ صبح آتے تھے شام کو چلے جاتے تھے‘ پھراگلی صبح آتے تھے‘ بعض ایسے ہیں جو سات سات دن ٹھہرے‘ بعض ایسے جو دو دو تین تین ہفتے ٹھہرے اور یہاں مسلسل عبادت‘ اعمال اور وہ نوافل جو آپ نے بتائے تھے کرتے رہتے تھے اور وہ پاکرگئے۔ بعض لوگ چونکہ جلدی میں ہوتے ہیں اور تسلی سے عبادت نہیں کرتے اس لیے انہیں مراد نہیں ملتی۔ جو تسلی سے وہ نفل پڑھے اور بار بار یہ عمل کرے وہ جلدی یا دیر سے۔۔۔۔ دراصل دیر اس لیے ہوتی ہے ان کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں‘ ان کی پریشانیاں اس لیے ہوتی ہیں یا ان کے اوپر جادو سخت ہوتا ہے‘ بندشیں سخت ہوتی ہیں‘ یا ان کے پیچھے کوئی بددعا تعاقب کررہی ہوتی ہے اس لیے دیر لگتی ہے جو عمل کو متواتر کرتا رہے اور جو عمل میں تواتر کرے اسے دیر نہیں لگتی‘ پریشانیاں اور مصیبتیں دور ہوجاتی ہیں‘ مصیبتیں دور کراکے بہت خوشگوار ہلکا پھلکا موتی مسجد سے نکلتا ہے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  11. #41
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اسم یاقہار ۔۔۔اور خبیث جنات کا شکوہ
    میں نے ایک بونے جن سے پوچھا یاقہار کے کوئی تجربات آپ کے مشاہدے میں آئے ہوں۔
    کہنے لگے جب سے آپ نے یاقہار بتایا ہے اور وہ لوگ جو عبقری پڑھتے ہیں وہ یاقہار پڑھتے ہوئے جب بھی شاہی قلعے میں آتے ہیں تو اس شاہی قلعے کے شاہی محلے یعنی ہیرا منڈی کے جس کونے کا میں نے پہلے تذکرہ کیا اس کونے کے وہ جنات جو بیت الخلا کی طرف رہتے ہیں وہ بہت پریشان ہیں اور ان کے کئی جنات مرگئے ہیں ان کے گھروں کو آگ لگ گئی ہے وہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ آپ علامہ صاحب کو روکیں کہ علامہ صاحب لوگوں کو یاقہار نہ پڑھنے دیں ہم علامہ صاحب کو نقصان نہیں پہنچاسکتے کیونکہ ان کے گرد مضبوط روحانی قلعہ ہے‘ ان کی نسلوں کی بھی حفاظت رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ کیونکہ ان کی نسلوں کے گرد بھی روحانی قلعہ ہے لیکن ہمارے تو گھر اجڑ گئے برباد ہوگئے تو وہ بونا جن مجھ سے کہنے لگا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگوں کو تنگ کرنا چھوڑ دو کہنے لگا کہ شرارت تو ہمارے خمیر میں ہے ہم کیسے تنگ کرنا چھوڑ دیں؟
    انسان و جنات کیلئے خیر کا ذریعہ
    میں نے ان سے کہا تم مسلمان ہوجاؤ ‘کہا ہم مسلمان نہیں ہوسکتے‘ میں نے ان میں سے کئی لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی اور شاہی محلے کے کئی ہندو اور عیسائی جنات مسلمان ہوگئے‘ بہت سوں پر محنت جاری ہے ۔ واقعی یاقہار کا پڑھنا جہاںانسان کے تقویٰ و تربیت کا ذریعہ بنتا ہے وہاں جنات کیلئے بھی ہدایت اور خیرکا ایک ذریعہ بنتا ہے جنات بھی اس کو مانتے ہیں جنات بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں یہ ایک مختصر نشست کا تذکرہ تھا جو میں نے جنات کے ساتھ کی۔
    لاہور شہر کے نیچے ایک اور آباد شہر.......!!!
    ایک بات بتانامیں بھول گیا وہ یہ ہے کہ شاہی قلعہ کے اردگرد کچھ ایسے راز اور بھی ہیں جوکبھی میں آپ بتاؤں گا ان رازوں کا تعلق اللہ کی قدرت سے ہے جس جگہ شاہی قلعہ بنا ہے یہاں پہلے اونچے اونچے ٹیلے ہوتے تھے اور ویسے بھی پرانا شہر تمام ان پرانے ٹیلوں پر بنا ہوا تھا۔ انوکھی بات یہ ہے کہ ان ٹیلوں کے نیچے صدیوں اور ہزاروں سال پہلے بہت پرانا شہر آباد تھا‘ قدرت خدا کی وہ شہر ختم ہوگیا‘ پھر اللہ کا نظام کہ اللہ نے اپنی طاقت و قوت سے مٹی کو حکم دیا اور پھر یہاں بہت بڑے بڑے ٹیلے بن گئے ان ٹیلوں کے نیچے یعنی شاہی قلعہ کے نیچے اور پورے پرانے لاہور شہر کے نیچے ایک بہت بڑااور بہت پرانا شہر ہے جس کی اپنی ایک مخصوص تہذیب اور تمدن اور جس کے اندر اپنا ایک مخصوص نظام ہے اور وہاں بھی ایک مخلوق آباد ہے جو انسان نہیں اورجنات بھی نہیں وہ اور مخلوق ہے جو صرف اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔۔۔میں یعنی علامہ لاہوتی بھی اس کائنات کے رازوں کو تھوڑا سا پاسکا ہوں زیادہ نہیں پاسکا اور زیادہ پانے کی کوشش کرہی نہیں سکتا کیونکہ وہاں کا نظام صرف اور صرف اللہ کے امر کے ساتھ چلتا ہے جس طرح آسمانوں کے اوپر مخلوق ہے‘ زمین کے اوپر مخلوق ہے ‘زمین کے نیچے بھی مخلوق ہے زمین کے نیچے بھی کائنات ہے اور وہ اللہ کے امر میں ہے اللہ جس طرح چاہ رہا اس طرح ہورہا۔ اللہ نے اپنا نظام اپنے چند بندوں کیلئے کھولا ہے ہر بندہ اس نظام کو پہنچ نہیں سکتا اگر ہربندہ اس نظام کو پہنچ جائے تو کائنات کا راز راز نہ رہے کیونکہ یہ راز اب سب کے بس کا کام نہیں ویسے بھی روح کی دنیا پراسرار دنیا لاہوتی دنیا‘ ملکوتی دنیا‘ جبروتی دنیا‘ ناسوتی دنیا اور ارواح کی دنیا یہ کائنات کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز ہے‘ اس دنیا کو پہنچنے کیلئے ایک لمبی منزل ہے‘ ایک عظیم شخص کا ہاتھ ہونا پھر اس کی مسلسل اتباع ہونا‘ پھر اس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہونا اس کے بغیر ایسا ممکن نہیں کیونکہ میں نے بہت سے اللہ والوں کی اور نیک جنات کی مسلسل صحبت اٹھائی ہے اب بھی ان نیک جنات جو کہ بچپن سے میرے ساتھ ہیں اور اب بھی وہ نیک جنات مسلسل مجھے اپنے ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ قدم قدم پر میری رہبری کرتے ہیں اور قدم قدم پر مجھ سے محبت اور پیار کرتے ہیں اور قدم قدم پرمیرے ساتھ اپنی محبت اور پیار کا تعلق جگاتے ہیں میں بعض اوقات ان لوگوں کو مشکور ہوتا ہوں کہ وہ نیک جنات مجھے اپنے شاہی اڑن جہازوں میں لیکر چلتے ہیں جو کہ گدھ نما پرندے کے طرز پر بڑے بڑے بنے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض اوقات مجھے اپنے ساتھیوں میں بلاتے ہیں‘ قرآن کی محفل میں بلاتے ہیں‘ نکاحوں میں بلاتے ہیں‘ ولیموں میں بلاتے ہیں زندگی میری ان ہی کے ساتھ مسلسل گزررہی ہے۔ میںآپ کے سامنے کن کن رازوں سے پردہ اٹھاؤں‘ بہرحال کچھ رازایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار کردیتا ہوں کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار نہیں کرسکتا جتنا ہوتا ہے آپ کو بتا دیتا ہوں‘ بہت کچھ نہیں بتاسکتا اور بتانا بھی نہیں چاہیے کہ میرے پڑھنے والے یہی برداشت نہیں کرسکتےاور بعض اس کو ڈھکوسلہ دھوکہ اور فریب کہتے ہیں لیکن اکثریت ایسی ہے جو اس سے فائدہ حاصل کرتی ہے جو اس سے استفادہ حاصل کرتی ہے اور جو اس سے فیض پاتی ہے۔ کتنے لاکھوں ایسے ہیں جن کی مشکلات ٹلیں‘ کتنے لاکھوں ایسے ہیں کہ جنکی پریشانیاں دور ہوئیں‘ کتنے ایسے ہیں کہ میرے کالم کو پڑھ کر ان کے گھر شادو آباد ہوئے‘ انکی ویرانیاں دور ہوئیں‘ ان کے چہرے پر مسکراہٹیں اور شادمانیاں آئیں‘ ان کی زندگی کی پریشانیاں دور ہوئیں‘ ان کے مسائل حل ہوئے‘ میں خوش ہوتا ہوں‘ میں مطمئن ہوتا ہوں۔ مجھے دل کے اندر سکون ملتا ہے کہ میری وجہ سے لوگ خوشیاں پارہے دکھ دور ہورہے غم دور ہوگئے‘ مسائل حل ہورہے‘ میں یہی چاہتا ہوں اوریہی میرے دل کی آواز ہے ۔
    علامہ لاہوتی کا قارئین سے وعدہ
    دوستو! میری زندگی کی خبر نہیں لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں جتنا بھی ہوسکا آپ کو دوں گا جتنا بھی ہے وہ آپ کا ہے لیکن مجبور ہوں بعض کائنات کے ایسے راز ہیں جو کہ میں آپ کو نہیں بتاسکتا کہ مجھے حکم نہیں کیونکہ اگر وہ بتاتا ہوں تو کائنات کے رازوں میں خلل آتا ہے میں ایسا نہیں کرسکتا۔ لیکن جتنا زیادہ سے زیادہ ہوگا میں بتاتا رہوں گا۔
    قارئین سے معذرت خواہ ہوں
    میں نے پچھلے دنوں ایک بات کہی اور لکھی تھی کہ ایک جن ایک کلام پڑھ کر عورتوں کو اٹھا لیتا تھا اور ہر کسی کو اپنی طرف مائل کرلیتا تھا جب سے یہ چیز لکھی اس وقت سے مسلسل میری طرف لوگوں کی پیغامات آنا شروع ہوئے کہ وہ اسم ہمیں بتایا جائے ہم اسے ہرگز ناجائز استعمال نہیں کریں گے اس سلسلے میں میں ایک بات بتاؤں کہ انسان بہت کمزور اور نادان ہے وہ بہت جلداپنے وعدے توڑ دیتا ہے‘ انسان نے تو اللہ سے وعدہ کیا وہ توڑ دیا تھا‘ انسان سے وعدہ کیسے پورا کرسکتا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو گناہ اور غلطیوں کی طرف مائل کردیتی ہیں اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسی چیزیں بتاؤں جو نیکی کی طرف‘ عبادت کی طرف‘ للہیت کی طرف‘ اخلاص کی طرف اور اللہ کی محبت کی طرف مائل کردے۔ اس لیے میں ایسی چیزوں کو بتانے سے آپ سب قارئین سے معذرت خواہ ہوں اور براہ مہربانی اس کیلئے اصرار بھی مت کیجئے گا۔(جاری ہے)
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  12. #42
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    چڑیا گھرکا شیر میرا دیوانہ ہوگیا
    کہ وہ آیت یا وہ لفظ یا وہ ورد اگر میں آپ کو بتادوں کہ اس کا فوری اثرہے‘ اس کا اثرتو میں نے یہ بھی دیکھا کہ بہت پرانی بات ہے کہ ایک دفعہ جب میں ابھی بچہ تھا یعنی نوعمر تھا تو ایک چڑیا گھر میں گیا‘ وہاں شیر کے پنجر کے پاس گیا جہاںایک شیر بیٹھا ہوا تھا‘ میرے دل میں آیا کہ اس شیر میں میری محبت پیدا ہوسکتی ہے‘ میں نے وہ پڑھا اور پڑھ کے شیر کے پنجر ےکے اندر اپنا پورا بازو ڈال دیا‘ شیراپنے پنجر کے دوسرے حصےسے دوڑتا ہوا آیا اور میرے بازو کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کردیا‘ وہاں اور بھی لوگ تھے جو چڑیا گھر دیکھنے آئے تھے‘ ان میں چیخ وپکار شروع ہوگئی‘ میں وہ ورد پڑھ رہا تھا اور شیر کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا اس کے سر کے بال میرے ہاتھوں کے نیچے تھے اور وہ پلٹ پلٹ کر میرا ہاتھ چاٹتا‘ اپنا منہ پھیرتا‘ میرے ہاتھوں پر اپنی آنکھیں پھیرتا‘ اس کی دم ہل رہی تھی‘ اس کا جسم محبت میں تھرتھرا رہا تھا۔
    میں نے کہا اے خالق کائنات! تو نے اپنے ان کائنات کے پوشیدہ رازوں میں ایسی قوت رکھی ہے کہ یہ انسان کو چیڑنے اور پھاڑنے والا جانور پل میں دوست کیسے بن جاتا ہے‘ دوست نہیں بلکہ غلام بن جاتا ہے اور ایسا غلام بن جاتا ہے جو اس کو شاید کوئی سوچنے پر بھی نہ مانے لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا۔تقریباً دس پندرہ منٹ سے زیادہ میں اس کے ساتھ رہا‘ اتنی ہی دیر میں شیرنی آگئی اب شیر کی کوشش ہو کہ وہ میرا ہاتھ چاٹے‘ شیرنی کی کوشش ہو کہ وہ میرا ہاتھ چومے‘ تو میں نے دوسرا ہاتھ بھی پنجرے کی سلاخوں کے اندر ڈال دیا‘ شیرنی نے دوسرا ہاتھ چومنا اور چاٹنا شروع کردیا ‘ حتیٰ کہ اس نے میرا ہاتھ اپنے منہ میں لیا اور نرم نرم ہونٹوں کے ساتھ زبان میں لینا شروع کیا کہ میرا ہاتھ اس کے لعاب سے بھرگیا‘ میں ان سے محبت کرتا رہا پڑھتا رہا‘ اس کے بعد میں نے دونوں ہاتھ باہر نکالنے کی کوشش کی تو شیرنی نے میرا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے اور ہلکے ہلکے دانتوں سے پکڑ لیا‘ جس سے مجھے تکلیف نہیں پہنچی اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں؟ لیکن میں نے ان سے کہا نہیں مجھے جانا ہے آپ چھوڑ دیں اور میں نے آہستگی سے ان کے منہ سے اور پنجرے سے ہاتھ نکال لیے اس کے بعد وہ ہاتھ میں نے دھولیے۔ میں نے ان دونوں شیروں کو دیکھا ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ پنجرے کی سلاخوں کو توڑ دیں اور آکر میرے جسم سے لپٹ جائیں اور میرے پاؤں چاٹنا شروع کردیں وہ دیوانگی کے انداز میں اور پاگل پن کے انداز میں پنجرے کے اندر چکر کاٹ رہے تھے جب میں ذرا دور ہوا تومیں نے ان کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو دیکھے کہ خود ان کے آنسوؤں سے میرے بھی آنسو آگئے۔ وہ محبت کے آنسو وہ جدائی کے آنسو‘ وہ دلفریبی کے آنسو تھے جو آنسو ان کی آنکھوں میں میں نے خود دیکھے۔ مجھے احساس ہوا کہ اللہ کے نام میں محبت ہے اللہ کے کلام میں محبت ہے‘ دلوں کی نفرت‘ دلوں کا بغض‘ وحشیانہ پن ‘ خونخواری اللہ چاہے تو ختم کردے‘ اللہ نہ چاہے تو ختم نہ کرے۔
    ایسی چیز ہرگز نہیں دونگا
    قارئین! میری زندگی اللہ کے کلام کے کمالات اور مشاہدات سے بھری ہوئی ہے بس آپ کو کبھی کبھی جب بیٹھتا ہوں باتیں بتاتا چلا جاتا ہوں تو بات میں سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اور باتوں میں سے بھی بات نکلتی ہے تو اس میں سے انوکھے واقعات میرے منہ سے نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس لیے بتائے ہیں کہ وہ الفاظ جو جن پڑھتا تھا وہ بہت پہلے مجھے کسی دوسرے جن نے بھی بتائے تھے‘ اس سے بھی پہلے مجھے صحابی جن نے بھی یہ بات بتائی تھی اور اس جن نے بھی بتائی اور وہی الفاظ ہیں مختصر سے… لیکن میں کیا کروں ان لفظوں کا اظہار نہیں کرسکتا۔ اسے میرا بغض نہ سمجھیے گا بلکہ احتیاط سمجھیے گا‘ احتیاط بہت ضروری ہے کیونکہ یہ زندگی احتیاطوں کے ساتھ گزاری جائے تو اس میں خیر زیادہ ہوگی‘ مجھے آپ کی دلچسپی اور محبت کا احساس ہے لیکن میں ایسی چیز ہرگز نہیں دوں گا جو آپ کی دنیا و آخرت کو برباد کردے یا وہ چیز کسی کی عزت یا عصمت کے نقصان کا ذریعہ بنے یا کسی کا گھر اجاڑنے کا ذریعہ بنے بس آپ کو میں نے جو اعمال دئیے اور جو ذکر اور تسبیحات دیں اس کی ہمیشہ سب کو اجازت دیا کرتا ہوں۔
    میرے تحفے سنبھال کر رکھنا
    میں نے یاقہار کے عمل دئیے‘ آپ کو نفل کا عمل دیا اور پھر ان آیات کا عمل دیا جن آیات میں اللہ پاک نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ آیات مشکلات اور پریشانیوں کیلئے ایک بحربیکراں ہے‘ یہ ساری چیزیں میں آپ کو تحفے دیا کرتا ہوں‘ آئندہ بھی تحفے دوں گا‘ میرے تحفے سنبھال کر رکھنا‘ زندگی میں نہیں نسلوں میں کام آئیں گے اور آرہے ہیں۔ لوگ شادو آباد ہورہے ہیں مجھے عبقری کے ذریعے وہ خطوط ملتے رہتے ہیں جو لوگ لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس عمل سے کیا نفع پہنچا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  13. #43
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    جانوروں کو اعمال کا ہدیہ۔۔۔ اور نتائج
    میں نے اپنی پچھلی کئی نشستوں پہلے جانوروں کو اعمال کا ہدیہ کرنے کے بارے میں کہا تھا ایک نہیں‘ دو نہیں‘ سینکڑوں نہیں‘ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اس عمل کو آزمایا اور ایسے ایسے انوکھے مشاہدات مجھ تک پہنچے جو میں آپ کے سامنے اگر بیان کردوں یا تو آپ مجھے دیوانہ کہیں گے‘ یا پھر جھوٹا کہیں گے۔ لیکن مجھے یقین ہے میرا کالم پڑھنے والوں کی اکثریت نہیں بلکہ سوفیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اسے یقین کی طاقت سے اور محبت اور پورے خلوص سے پڑھتے ہیں۔ جانوروں کو عمل کا ہدیہ دینے سے ان کے دلوں میں ایسی محبت پیدا ہوتی ہے کہ وہ آپ کیلئے دعاؤں میں لگ جاتے ہیں وہ بے زبان ہوتا ہے‘ وہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے‘ اس لیے قیامت کے دن ان کا حساب و کتاب نہیں ہوگا اور اللہ پاک ان کو ختم فرمادیں گے‘ جانوروں کو مسلسل اعمال کا ہدیہ پہلی نشست میں میں نے آپ کو ایک مخصوص عمل دیا تھا لیکن آج میں کہہ رہا ہوں آپ ایک تسبیح درود شریف کی پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ تین دفعہ درود شریف پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ تین دفعہ سورۂ اخلاص ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ تین دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ گیارہ دفعہ پہلا کلمہ طیب پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ کرتے رہیں۔
    بکری شریف ہوگئی
    ایک صاحب نے بتایا ان کے گھر میں بکریاں تھیں اور ایک بکری باقی سب بکریوں کو مارتی تھی‘ حتیٰ کہ اس نے ایک بکری کی آنکھ میں سینگ مارا اور اس کی آنکھ ہمیشہ کیلیے ختم ہوگئی۔یہ میری والدہ کی بکری تھی‘ سب بہن بھائی اس بکری کو نہ چاہتے ہوئے بھی رکھنے پرمجبور تھے کیونکہ والدہ کی تھی‘ کئی دفعہ مشورہ بھی ہوا کہ اس کو بیچ دیا جاے یا ذبح کردیا جائے لیکن کوئی بھی اس پر آمادہ نہیں ہوا۔ آخرکار ہم نے اس بکری کو اعمال کا ہدیہ کرنا شروع کردیا کچھ ہی عرصے کے بعد اس بکری کے اندرکی وہ صفت ختم ہوگئی‘ اور اس کے اندر شرافت‘ ہمدردی اور خیرخواہی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔
    بلیاں چوزوں کی حفاظت کرتی ہیں
    کہنے لگے کہ ہمارے گھر میں بلیاں اور مرغیاں بھی تھیں یہ بات پہاڑی بستی کے ایک شخص نے بتائی جب سے آپ کا کالم پڑھا ہم نے بلیوں کو اعمال کا ہدیہ کرنا شروع کردیا اور مسلسل کرتے رہے اوراب یہ عالم ہے کہ وہ بلیاں مرغیوں کی‘ چوزوں کی اور انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہم بلیوں کو روٹی کے ٹکڑے ڈال دیتے ہیں وہ روٹی کھا کر اپنا گزارا کرلیتی ہیں‘ وہ مرغیوں کو اور مرغی کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتیں ا ور ہمارا گھر اب پرسکون ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک رات ایسا ہوا کہ گیدڑ مرغیاں پکڑنے کیلیے رات کوآئے تو بلیوں نے گیدڑوں کا مقابلہ کیا دو تین بلیاں زخمی بھی ہوئیں ایک بلی کا کان بھی گیدڑ نے چباڈالا لیکن بلیوں نے گیدڑوں کو مرغیوں تک نہیں پہنچنے دیا‘ ہم مسلسل اپنی بلیوں کو اعمال کا ہدیہ کرتے رہتے ہیں اور بلیاں ہم سے زیادہ مانوس ہوگئی ہیں اب جگہ جگہ پاخانہ نہیں کرتیں‘ ہمارے دودھ میں منہ نہیں ڈالتیں‘ پانی کے برتنوں میں منہ نہیں ڈالتیں بلکہ دور بیٹھ کر میاؤں میاؤں کرتی رہتی ہیں یعنی اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ آپ ہمیں جتنی قیمتی چیزیں دے رہے ہیں آخر ہم کیوں آپ کا نقصان کریں۔ ہم آپ کا نفع چاہیں گے اعمال کا ہدیہ جانوروں کیلئے ان کے نقصان سے بچنے کیلئے بہت فائدہ مند ہے
    بیل نے ضد چھوڑ دی
    ایک صاحب بتانے لگے کہ میں ان پڑھ آدمی ہوں میرا ایک بیل ہے‘ روزانہ مزدوری کیلئے اس کو ریڑھے میں جود کرلیجاتا ہوں بعض اوقات بیل ضد کرتا ہے‘ چلتا نہیں اور رک جاتا ہے یا بعض اوقات جان بوجھ کر ایسی جگہ ریڑھی کو ماردے گا کہ جہاں ریڑھی کا نقصان ہوجائے۔
    بتانے لگے مجھے پڑوس کی خاتون نے کہا کہ چاچا اس بیل کو اعمال کا ہدیہ کر مجھے تو صرف کلمہ آتا تھا میں سارا دن کلمہ پڑھ پڑھ کر بیل کے دل کا تصور کرکے پھونکتا رہتا تھا اور دل میں خیال کرتا تھا کہ اے میرے ساتھی بیل! تجھے میں کلمہ تحفہ دیتا ہوں بس یہ تصور کرتا رہتا تھا۔ کہنے لگے کہ اس تحفے کے بعد یہ ہوا کہ اس بیل کے مزاج میں تبدیلیاں آنا شروع ہوگئیں پہلے وہ لوگوں کومارتا تھا اس نے مارنا چھوڑ دیا‘ پہلے وہ ضد کرتا تھا وہ ضد اس نے ختم کردی اور پہلے وہ اپنی مرضی کے مطابق چلتا تھا‘ دائیں بائیں ریڑھی سےنقصان کرتا تھا اب نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر میں نے بہت سی خوبیاں پانی شروع کردی ہیں اب وہ اپنے دوسرے اور جانوروں کے ساتھ جو چھوٹے جانور اور ایک گائے میں نے گھر رکھی ہوئی ہے ان سب کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اس سے پہلے سب کومارتا تھا اکثر کھرلی میں اکیلا کھاتا تھا کسی کو کھانے نہیں دیتا تھااب صرف اپنے آگے سے کھاتا ہے۔ اس کی اطاعت ‘اس کی فرمانبرداری اس کی نرم مزاجی سے میں حیران ہوں… وہ چاچا کہنے لگا کہ اب تو میں ساری زندگی اس بیل کو اپنے ساتھ رکھوں تو کوئی مشقت نہیں۔ یہ بیل میری مان مان کر چلتا ہے اور چاچے نے مزید کہا کہ جب سے میں نے کلمہ پڑھنا شروع کیا ہے‘ میرے رزق میں برکت ہے اور غیب سے گاہک ملتے ہیں‘ تھوڑا وقت مزدوری میں لگاتا ہوں اور زیادہ رزق مل جاتا ہے پہلے سارا دن تھکتا تھا اور روٹی نہیں پوری ہوتی تھی اب گھر میں رزق کی فراوانی ہے گھر میں عیش و برکت ہے۔ ایک نہیں جانوروں کوہدیہ کرنے کے ہزاروں واقعات میرے سامنے ہیں جو آپ کو سناتا چلاجاؤں اورآپ کے رونگٹے کھڑے ہوتے چلے جائیں۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  14. #44
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    قبرستان میں بیتی زندگی کے انوکھے واقعات
    قارئین! آج آپ کو قبروں اور قبرستان میں بیتی زندگی کے وہ انوکھے واقعات سناؤں مجھے یقین ہے بلکہ سوفیصد یقین ہے کہ میری باتیں بعض لوگوں کیلئے ایک من گھڑت قصے کہانیوں سے بھر کر نہیں ہوںگی یا پھر اتنا کہ شاید ایسا ہوتا ہوگا… یا وہ لوگ جو مجھ پر کچھ اعتماد کرتے ہیں تو وہ کہتے ہوں گے ہاں دنیا میں ایسےلوگ بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ یہ واقعات بیتتے ہیں۔
    یقین کی دنیا کو پانے والے بہت کم لوگ ہیں جو یہ مانتے ہوں گے کہ نہیں یہ حقیقت ہے…!!! اور علامہ لاہوتی پراسراری حقائق ہی کو بیان کرتے ہیں یہ سمجھ بہت کم لوگوں کو ہے۔ ایک بات کا تجربہ میرا بھی ہے جس کو یہ بات سمجھ آگئی وہ کائنات کے بہت حیرت انگیز اسرار پاجاتا ہیں جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے مجھے عبقری کے ذریعے بے شمار خطوط مشاہدات‘ واقعات ملتے رہتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے میرے کالم کو پڑھ کر ایسے ایسے حیرت انگیز مسائل سے چھٹکارا پایا ہے کہ جس کی الجھنیں ان کی نسلوں کو تار تار کرچکی تھیں اور نسلیں مایوس ہوچکی تھیں کہ یہ مشکلات اور مسائل اب کبھی ہم سے جانہیں سکتے ہم تو مرسکتے ہیں یہ مسائل کبھی نہیں مرسکتے۔ میں مطمئن ہوں کہ قارئین تک جو چیزیں پہنچارہا ہوں وہ صرف قصے کہانیاں انوکھی باتیں انہونے قصے یا من گھڑت افسانے نہیں ہیں بلکہ قدرت کے وہ سربستہ راز ہیں جو اللہ پاک جل شانہٗ جس پرچاہے کھول دے اور جس پرچاہے بند کردے۔ میں نے اس کبھی اپنا کمال نہیں سمجھا اسے محض اپنے رب کا کمال سمجھا ہے اور رب کی عطا سمجھی ہے کہ یہ کمالات میرے اللہ نے مجھ پر کھولے میں نے اپنے آپ کو کبھی اس کا اہل نہیں سمجھا۔
    قبرستان صرف مٹی کے ڈھیروں کا نام نہیں بلکہ روحوں اور جنات کے گہرے مسکن کا نام ہے۔ وہاں روحوں کا بھی ڈیرہ ہےاور جنات کا بھی مسکن ہوتا ہے۔ جنات…! قبرستانوں میں بہت رہتے ہیں یہ صرف قبرستانوں میں نہیں بلکہ ہرجگہ‘ ہردرخت‘ ہرپانی کی جگہ‘ ہر خشکی کی جگہ ہر آباد گھر‘ ہر ویران گھر‘ ہر جگہ رہتے ہیں‘ نیک بھی ہوتے ہیں بد بھی ہوتے ہیں‘ سخی بھی ہوتے ہیں بخیل بھی ہوتے ہیں‘ رحم دل بھی ہوتے ہیں اور ظالم بھی۔ چونکہ میرا واسطہ سالہا سال سے اولیاء جنات کے ساتھ ہے اور صحابہ جنات کے ساتھ ہے۔ صحابہ جنات کی ملاقات کے بعد میں نے تابعی اور تبع تابعی جنات سے بھی بہت ملاقاتیں کی ہیں اوراس واسطے نے مجھے جنات کی زندگی پر بہت گہرا مطالعہ کرنے کا موقع دیا ہے اور میں جنات کی زندگی کے بہت قریب گیا ہوں۔اس سے پہلے مجھے خبر نہیں تھی کہ جنات کی خوراک کیا ہے؟ اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ جنات رہتے کہاں ہیں؟ جنات میں تولید اور ازدواجی تعلقات کیا اور کیسے ہوتے ہیں؟ یہ باتیں اس وقت کھلیں جب انسانوں کی جنات کے ساتھ شادیاں یعنی انسان مرد اور جننی عورت کی شادی پھر ان کی اولادیں ۔۔۔۔یوں واقعات تہہ در تہہ مجھ پر کھلنے لگے۔
    ایک دفعہ مجھے صحابی با با نے گیارہ دن کا سورۂ مزمل کا ایک چلہ قبرستان میں کرایا تھا۔ سردی کی کہرآلود راتیں تھیں میں نے قبرستان کے ویرانے میں دو کفن نماچادریں پہنیں اور اوپر ایک موٹا کمبل اوڑھے ایک قبر کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ بہت بوسیدہ پرانی قبر اور قبرستان کا وہ کونہ جہاں شاید ہفتوں بھی کسی انسان کا گزر نہ ہو‘ ہاں کتے‘ نیولے‘ گوہ‘سانپ‘ بچھو اور جنگلی جانور عام ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

Page 3 of 3 FirstFirst 123

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •