Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 2 of 3 FirstFirst 123 LastLast
Results 16 to 30 of 44

Thread: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    بہت دیر مراقبے کے بعد اللہ کے دئیے ہوئے علم میں سے روحانی علم نے مجھے بتایا کہ وہ سرکش جن مکلی کی جیل سے نکل کرسیدھا سمندرکی طرف گیا اور سمندر کی اندھیری اور گہری تہوں میں بیٹھا ہوا ہے اب اس کو تلاش کیسے کیا جائے اس کیلئے میں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ ورد جو انہوں نے ایک دفعہ مجھے حالت مراقبے میں بتایا تھا اور ویسے بھی اگر کوئی چیز گم ہوگئی ہو اس کو تلاش کرنے میں تیربہدف ہے میں نے وہ اسم جو قرآن کریم میں بھی ہے یعنی فِی سَمِّ الخِیَاط پڑھا لیکن لاہوتی دنیا میں جاکر پڑھا ویسے عام شخص وہ اسی عالم میں پڑھے تو بھی نفع ہوگا سب کو اجازت ہے۔ بس اسی کو بکثرت کھلا پڑھنا ہے۔
    خیر میں نے وہ اسم لاہوتی دنیا میں بکثرت پڑھا اور خوب پڑھا کہ میرا جسم پسینہ پسینہ ہوگیا کیونکہ مجھے وہ جن مطلوب تھا اس کا جرم یہ تھا کہ وہ لوگوں کے گھروں سے چوریاں کرتا‘ رقم‘ زیور سونا چاندی ہیرے جواہرات اٹھاتا تھا وہ عورتوں کے ساتھ زنا کرتا تھا حالانکہ اس کا والد میرا بہت عرصے کا جاننے والا ہے جوکہ نہایت شریف آدمی ہے۔ کپڑے کاکام کرتا ہے۔ ویسے آخری عمر میں میں نے اس کے دادا کو بھی دیکھا جو کہ ساڑھے 11سوسال کی عمر میں فوت ہوئے تھے پہلے بھی کئی بار اس نے چوری کی لیکن طرفین کے درگزر سے ہمیشہ اس کو چھوڑ دیا اور معاف کردیا گیا اب اس نے پھر ایک بہت بڑا گناہ اور چوری کی پھر ہمارے نگران طاقت ور جنات کے ہاتھوں پکڑا گیا اس کو بہت سخت جیل میں ڈالا۔ سب حیران ہیں کہ آخر یہ چھوٹ کیسے گیا؟ بہرحال جب میں نے فِی سَمِّ الخِیَاط کو لاہوتی عالم میں وجدان سے پڑھا اور خوب پڑھا تو یکایک اس آیت کے شمی موکلات سامنے آئے نہایت خطرناک اور بہت ڈراونے چہرے تھے ہر موکل کا قد ڈیڑھ سو فٹ سے کم نہ تھا جسم 50 فٹ کے پھیلاو سے زیادہ تھا۔ ایک ہاتھ کی انگلی ایک میٹر سے زیادہ تھی جسم سے سخت قسم کی خاص بو نکل رہی تھی ان کے جسم سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے ان کی آگ اتنی سخت تھی کہ قریب کی ہرچیز جل رہی تھی چونکہ میں ہر وقت حصار سلیمانی میں رہتا ہوں اس لیے مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
    وہ سب یک زبان بولے کہ ہمارے لائق کیا خدمت ہے ہم حاضر ہیں آپ نے ہمیں لاہوت سے طلب کیا ہم آپ کے غلام ہیں ہمیں آپ کی خدمت کیلئے بھیجا گیا ہے میں نے انہیں کہا کہ کڑکیل موتھن نام کا جن جیل سے نکل گیا ہے ہمارے لاہوتی پراسراری علم کے مطابق وہ سمندر کی تاریک تہہ میں چھپا ہواہے اسے وہاں سے کوئی پکڑ نہیں سکتا اس لیے ہمیں آپ کو تکلیف دینی پڑی۔ لہٰذا اسے آپ گرفتار کرکے اور سلیمانی زنجیر میں باندھ کر لے آئیں۔ ہمارے بول پورے ہوتے ہی وہ یکایک غائب ہوگئے اب میں نے صحابی جن سے عرض کیا کہ آپ بتائیں وہ اس طرح غائب کیوں ہوگیا اور نکل کیسے گیا اس جیل کی تاریخ میں آج تک ایسا واقعہ ہرگز نہیں ہوا‘ آخر یہ واقعہ کیسے ہوگیا۔
    صحابی بابا جن فرمانے لگے میرے علم کے مطابق اسے کسی نے کوئی ورد بتایا ہے وہ اس ورد کی وجہ سے اس جیل سے نکل پایا ہے ورنہ آج تک یہاں سے کسی کے نکلنے کی جرأت نہیں ہوئی میں نے صحابی بابا سے عرض کیا کہ آپ اپنے علم کی طاقت سے معلوم کریں کہ اس نے کونسا ورد کیا ہے جبکہ وہ غیرمسلم ہے کوئی قرآنی اور روحانی ورد کیسے کرسکتا ہے؟ صحابی بابا مراقبے میں چلے گئے میں نے سب دوسرے جنات کے چہرے دیکھے بہت پریشان‘ غمزدہ‘ ندامت سے اٹے ہوئے تھے میں نے نگران جنات سے سختی کی کہ آخر آپ کے نگران جیل کے محافظ اور لاکھوں کا عملہ کہاں گیا تھا کیا سب سورہے تھے؟ آخر ایسا کیوں ہوا؟ سب خاموش جیسے کسی کے جسم میں جان تک نہیں۔ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا آخر کیا ہوا‘ کیسے ہوا‘ بس ہوگیا اور جو ہوا برا ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد صحابی بابا نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ اس نے جیل سے رہائی کیلئے قرآن کی آیت کا سہارا لیا ہے کہ جیل میں موجود ایک مسلمان جن محافظ نے اسے بتایا ہے۔ وہ آیت (وَلَقَدفَتَنَّا سُلَیمٰنَ وَاَلقَینَا عَلٰی کُرسِیِّہ جَسَدًا ثُمَّ اَنَاب) یہ آیت اس نے دن رات پڑھی ہے حتیٰ کہ اسے پڑھنا نہیں آتا تھا اس مسلمان محافظ نے کئی دن لگا کر اسے یاد کرائی ہے۔ اس کے بدلے میں اس نے اسے بہت سا مال دیا ہے اور وہ مال اس محافظ نے فلاح بوڑھے برگد کے درخت کے تنے کے اندر چھپا دیا ہے۔ اور اب بھی وہ یہی آیت سمندر کی تہہ میں بیٹھا پڑھ رہا ہے کیونکہ اسے محسوس ہوگیا ہے کہ اسے کوئی طاقت ورطاقتیں پکڑنے کیلئے آرہی ہیں لیکن بچائو کیلئے وہ یہی پڑھ رہا ہے۔
    یہ بات سنتے ہی میں حیران ہوگیا کیونکہ اس آیت کے کرشمات کا پہلے بھی بے شمار دفعہ تجربہ ہوچکا تھا اور لاتعداد بے گناہ قیدی انسان رہا ہوگئے تھے کہ خود پڑھایا اس کی طرف سے ایک یا کئی آدمیوں نے پڑھا اور خوب کھلا پڑھا اور بہت کثرت سے پڑھا تو قیدی کی غیب سے رہائی ہوگئی۔ لیکن کسی غیرمسلم نے یہ آیت پڑھی ہو اور اس کی قید سے رہائی ہوگئی ہو پہلا انوکھاتجربہ ہے۔
    بہرحال کچھ ہی دیر کے بعد وہ لاہوتی فِی سَمِّ الخِیَاط کے موکلات اس سرکش قیدی کو پکڑ لائے‘ کہنے لگے ہمیں اس کے پکڑنے میں دیر لگی ہے وہ اس لیے کہ یہ کوئی وظیفہ پڑھتا تھا اور ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتا تھا‘ ہم پریشان ہوئے ہم پھر اس کے قریب ہوئے اور پھر وظیفہ پڑھے یہ پھر ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ آخر ہم نے لاہوتی دنیا میں اپنے آقا سے رجوع کیا تو انہوں نے اس کا حل بتایا کہ آپ طاقت سے اسم ذات اللہ پڑھیں۔ واقعی جب ہم نے اسم ذات پڑھنا شروع کیا تو اس کی زبان بند ہوگئی اور ہم اسے گرفتار کرکے لے آئے۔
    وہ سرکش جن نہایت ذلت میں ڈوبا ہوا سخت پریشان اور اسی پریشانی میں اس کے جسم سے سمندر کی تہہ کی کیچڑ جو کہ اس کے جسم میں لگی ہوئی تھی اور اس سے سخت بدبو آرہی تھی۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  2. #17
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ آیت کس نے بتائی لیکن وہ خاموش تھا جب زیادہ اصرار پر بھی اس نے نہ بتایا تو پھر جیل کے نگرانوں نے محافظوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس پر تشدد کیا ایسا سخت تشدد کہ اگر وہ لاہوتی کوڑا جو اس جن پر برستا تھا کسی ایک انسان نہیں اگر دس انسانوں پر اکٹھا برس جائے تو وہ قیمہ کی طرح پس جائیں‘ کچھ دیر کے تشدد کے بعد وہ بولا اور وہی بولا جو پہلے صحابی بابا نے بتایا تھا۔ اب اس محافظ مسلمان جن کو پکڑوایا گیا تو اس نے انکشاف کیا کہ دراصل مجھے ایک عامل نے قابو کیا ہوا ہے اور وہ مجھ سے رقم اور مال منگواتا رہتا ہے میں مجبور ہوں کہ میری آمدنی اتنی نہیں کہ میں کہاں سے لے آئوں آخر ایک دن اس نے مجھ سے بڑی رقم کا مطالبہ کیا میں وہ رقم نہ دے سکا تو اس نے مجھے تکلیف دی۔ میری اولاد کو تکلیف دی‘ مجبوراً اس غیرمسلم جن جو کہ عرصہ سے کہہ رہا تھا کہ سنا ہے کہ قرآن میں سب کچھ ہے مجھے بھی کچھ بتائیں۔ 31 سال جیل میں ہوگئے ہیں اس نے مجھے بڑے مال اور دولت کا طمع دیا میں مجبور تھا میں نے اسے یہی آیت پڑھنے کیلئے دی اسے آتی نہیں تھی۔ میں نے اسے یاد کرائی کئی دن کی کوشش کے بعد اس نے یاد کرلی پھر اس نے مجھے دولت دی جو میں نے برگد کے بوڑھے درخت میں چھپا دی ہے اور چھٹی کے دن اس عامل کو وہ دولت دینے جانا ہے حالانکہ خود میرے گھر میں غربت ہے لیکن میں ایسا کرنے پرمجبور ہوں جب اس کی یہ بات سنی جو کہ میرے لاہوتی علم کے مطابق سوفیصد درست تھی تو اس کے حال کو میں نے حاجی صاحب اور صحابی بابا کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے عرض کیا کہ میں یہ کیس آپ کے سپرد کرتا ہوں جو سزا یا معافی آپ اس مسلمان محافظ جن کو دینا چاہتے ہیں دیں میری طرف سے ہرطرح کی اجازت ہے۔
    تھوڑی دیر مشورہ کرنے کے بعد حاجی صاحب کہنے لگے اگر آپ قبول کریں تو میرا مشورہ ہے اصل مجرم وہ عامل ہے جو اس محافظ جن کو مجبور کرتا ہے۔ اس عامل کی خبر لینی چاہیے فیصلہ درست تھا طے ہوا کہ ا س محافظ جن کو اس عامل کے چنگل سے چھڑایا جائے اور اس عامل کو سخت سبق بھی دیا جائے کہ کسی مجبور کو مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے جبکہ اس عامل نے تو اس محافظ عامل کو مجبور کیا اور چوری ڈاکے اور ناجائز کاموں پر مجبور کیا۔اب اس کافر جن کو واپس کڑی جیل میں بھجوایا گیا اور حکم دیا کہ اس کی سزا سخت کردی جائے اور اس سے اس آیت کی تاثیر واپس لے لی جائے بلکہ محافظ جنات کو یَاوَکِیلُ کا ورد بتایا جائے کہ کوئی سرکش جن نکل نہ سکے۔
    مجھے احساس ہوا کہ قرآن کیسی عجیب نعمت ہے اگر گنہگار اورخواہ وہ کافر ہو‘ پڑھے تو بھی اس میں شفاءموجود ہے اور کامل شفاءموجود ہے۔ آج ہم مسلمان قرآن کی نعمت سے محروم ہیں ایک نہ پڑھنا‘ دوسرا یقین سے نہ پڑھنا‘ اس کافر جن نے ایک تو زیادہ پڑھا اور بہت زیادہ پڑھا دوسرا یقین سے پڑھا تو اس کی رہائی ہوگئی۔ ہم سے کوئی بھی شخص وہ نفس اور شیطان کی مکاری ‘عیاری‘ مکروفریب سے رہائی چاہتا ہو گناہوں کی زندگی سے نجات چاہتا ہو یا کسی جیل کا قیدی ہو تو وہ بھی اگر یہ پڑھے گا تو رہائی ہوجائے گی میری طرف سے سب کو اجازت ہے بس شرط یقین‘ اعتماد اور کثرت سے پڑھنا ہے۔ دنوں کی قید نہیں۔
    ایک بار میں نے باورچی جن کا تذکرہ کیا تھا جس نے عبدالسلام جن کی شادی میں بہت لذیز کھانے کھلائے اور لاجواب کباب اور بھونے ہوئے پرندے کھلائے۔ ابھی چند دن پہلے میں نے ایک غریب جن کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی وہ اکثر آتا اور عرض کرتا کہ میری بیٹی کی شادی ہے۔ غریب ہوں‘ آپ نے ضرور آنا ہے۔ پھر خود ہی کہتا کہ مجھے علم ہے آپ شادیوں میں نہیں جاتے لیکن میری بیٹی کی شادی میں آپ نے ضرور شرکت کرنی ہے۔
    ایک دن اس کے اصرار پر میں وعدہ کر بیٹھا پچھلے ہفتے وہ غریب جن جس کا نام سہراب ہے آیا کہنے لگا کہ بیٹی کا نکاح اگر آپ پڑھا دیں تو سعادت ہوگی اور شادی میں شرکت ضرور کریں۔ مقررہ وقت پر جنات کا لشکر مجھے لینے کیلئے آگیا ہم نے کوٹ ادو ضلع مظفرگڑھ کے قریب ایک صحرائی جنگل میں ان کی شادی میں جاکر اترے۔ایک گدھ نما کی طرح کا بڑا پرندہ تھا جس کی پشت پر ایک وسیع صحن تھا ہر طرف بالوں کی اٹھی ہوئی دیوار تھی جو باڑ کا کام دے رہی تھی تاکہ شاہی مہمان کا نقصان نہ ہو اور وہ گر نہ جائے۔ پرندے کے اردگرد اٹھے بالوں میں ایسے بال بھی تھے جو بلب قمقمے اور روشنیوں کاکام دے رہے تھے اور طرح طرح کی حیرت انگیز روشنیاں ان میں سے نکل رہی تھیں۔
    ایک بڑی کرسی تھی اس کے ساتھ 70 کرسیاں اور پڑی ہوئی تھیں یہ دراصل شاہ جنات کی شاہی سواری ہے حاجی صاحب جن نے میرے لیے یہ سواری بھیجی تھی میرے گھرکی چھت پر یہ سواری آکر رکی میں نے وضو تازہ کیا دو نفل تحیة الوضو پڑھے خوشبو لگائی اور چھت پر چڑھ گیا تو جنات کا لشکر اس شاہی سواری کی حفاظت کیلئے ہر وقت ساتھ ہوتا ہے وہ موجود تھا انہوں نے مجھے سلام کیا پرندے کے پروں سے بنی ہوئی نرم گداز آرام دہ سیڑھیاں تھیں ان پر چڑھ کر میں چھوٹی کرسی پر بیٹھ گیا لیکن لشکر کے سپہ سالار نے عرض کیا کہ ہمیں حکم ہے کہ آپ کو شاہی کرسی پر بٹھا کر لایا جائے۔ میں شاہی کرسی جو خالص جواہر لعل موتی چاندی اور سونے کی بنی ہوئی تھی‘ پر بیٹھ گیا پرندہ گدھ نما اڑا اور پل بھر میں آسمان کی تاریکیوں میں گم ہوگیا بس مجھے ہلکی سی ہوا کی سرسراہٹ محسوس ہورہی تھی اور یہ احساس تھا کہ سفر طے ہورہا ہے پل بھر میں سواری صحرائی جنگل میں تھی ہر طرف جنات ہی جنات تھے۔
    زرق برق لباس میں لیکن جو چیز خوشی کی تھی وہ یہ تھی کہ اس سارے مجمع میں دین دار اور باشرع جنات تھے اور سنت کے مطابق شادی سادگی سے ہورہی تھی کیونکہ میں نے شادی سے پہلے ان سے وعدہ لیا تھا۔ وعدے کے مطابق وہ سنت کے مطابق شادی کررہے تھے۔ شادی سے پہلے ہی میں نے باورچی بابا جن کو عرض کیا کہ آپ ہی وہاں کھانے کی نگرانی کریں میرے سامنے سادہ کھانا لایا گیا کیونکہ میں سادہ کھانے کو طبعاً پسند کرتا ہوں وہ سادہ کھانا لایا تو میں نے جن بابا کو عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھیں اور مجھ سے باتیں کریں۔ پچھلی صدیوں اور زندگی کے کچھ حالات سنائیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو واقعی حیرت انگیز تھا کہنے لگے محمد شاہ رنگیلا کا دور تھا۔ اس دور میں مراثیوں‘ بھانڈوں‘ طوائفوں اور شاعروں کی خوب سرپرستی کی جاتی تھی۔ دین کا نقش و نگار دھندلا پڑگیا۔ ہر طرف عیاشی‘ ظلمت اور اسراف کا عالم تھا‘اس دور میں میرے والد زندہ تھے‘ دادا زندہ تھے۔ میں بھرپور جوان تھا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  3. #18
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    ایک انوکھا واقعہ ہوا جو میرے ذہن سے ابھی تک فراموش نہیں ہوا۔
    باورچی بوڑھا جن ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اپنے ہاتھوں سے اپنی ڈھلکی ہوئی آنکھوں کی جلد کو اٹھا کر مجھے دیکھا اوربولا‘ ہوا یہ کہ شاہی خزانہ آہستہ آہستہ خالی ہوگیا اور سارا عیاشی میں ختم ہوگیا۔ حتیٰ کہ امور حکومت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی چونکہ مداری‘ شعبدہ باز کالے جادو کے عامل ہر وقت اس کے اردگرد مقام اور انعام پاتے تھے۔ وہ قسمت اور ہاتھ کی لکیروں کے پرکھنے والوں کو خوب پسند کرتا‘ شکار سفرو حضر میں ان کو ساتھ رکھتا۔ اب ہر طرف فاقہ اور تنگدستی نے راج کیا تو اس نے ان مداریوں کو متوجہ کیا کہ اب کیا علاج کیا جائے ہر شخص نے اپنا اپنا راگ الاپا۔ ان میں ایک جادوگر نے کہا کہ اس کے شاہی قلعے اور نگری میں میرے علم کے مطابق بڑے بڑے خزانے دفن ہیں اگر آپ میرے مشورے سے چلیں اور میں آپ کو بتائوں تو آپ ان خزانوں کو نکال کر عوام کی فلاح اور بھلائی کیلئے استعمال کریں۔ یہ سنتے ہی شہنشاہ اچھل پڑا اور عمل درآمد کیلئے فوراً احکامات جاری کرنے لگا لیکن جادوگر کہنے لگا کہ پہلے مجھے اپنا عمل کرنے دیں کہ آخر کیسے اور کس طرح اس خزانے کو نکالا جائے۔ اس نے 40 دن کی مہلت مانگی کہ مجھے 40 دن کی مہلت دی جائے کہ میں اس مہلت میں خزانے تلاش کروں اورپھر مزدوروں کے ذریعے کھدائی کرائی جائے۔ باورچی جن کی آواز بھرا گئی اور کچھ پھول گئی حتیٰ کہ کھانسی شروع ہوگئی پانی کے چند گھونٹ پئے تو سانس بحال ہوئی۔
    باورچی جن بولا اس نے اپنا چلہ شروع کیا اب وہ جگہ جگہ عمل کرتا کہ خزانہ کہاں ہے کہیں نہ ملا ایک جگہ جو کہ نہایت پرانا قلعہ تھا کچھ نشاندہی ہوئی لیکن اس پر جنات کا پہرا تھا کیونکہ ہر خزانے پر جنات اور طاقتور دیو کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ کوئی انسان تو ویسے ہی نہ پہنچ سکے گا لیکن کوئی جن اس کو چرا کر نہ لے جائے ہر خزانہ اپنے مالک کے انتظار اور بطور امانت رکھا جاتا ہے کہ کتنی صدیوں یا سالوں کے بعد اس کے مالک تک اس امانت کو پہنچانا ہے۔ اس لیے ایک جناتی نظام ہے اس کے تحت بڑے بڑے طاقت ور جنات کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ اس خزانے کی بھرپور حفاظت کریں۔
    اب خزانہ بہت بڑا تھا کہ 18 بادشاہوں کے خزانے بھی اس خزانے کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے۔ جادوگر کے 28 دن ہوگئے باقی چند دن تھے ورنہ بادشاہ اسے قتل کرادیتا کیونکہ اس نے بادشاہ سے 40 دن کا وقت مانگا تھا اب جادوگر پریشان کہ اس کا حل کیسے ہو کہ بڑے طاقت ور جنات سے وہ مقابلہ نہ کرسکتا تھا۔ اسی پریشانی میں وہ ایک بڑے عامل سے ملا کہ مجھے یہ مشکل آپڑی ہے کہ کہیں سے اس کا حل نکالیں۔ اس عامل کے تابع جنات تھے۔ انہوں نے ان سب جنات کو بلایا ان جنات نے تین دن مانگے۔ تین دن کے بعد جنات نے افسوس سے کہا کہ ان بڑے دیو سے لڑنا ہمارے بس کا کام نہیں اور وہ خزانہ اس بادشاہ کے حصے کا نہیں ہے بلکہ وہ اس کے بعد کی چار نسلوں کے حصے کا ہے۔ ان کا حصہ ہم اس بادشاہ کو کیسے دے سکتے ہیں۔
    ہاںآپ کو ایک راستہ بتاتے ہیں کہ کوہساروں کے دامن میں کمیل بستی کے ایک بزرگ ہیں گوشہ نشین ہیں وہ دعا اور کوئی وظیفہ بتائیں گے اس وظیفے کی برکت سے سب مسائل حل ہوجائیں گے۔ وہ جادوگر بھاگم بھاگ ان بزرگوں کے پاس گیا انہوں نے سارے حالات سن کر پہلے جادوگر کو توبہ کرائی کہ بغیر توبہ کے اللہ کی کلام نفع نہ دے گی مرتا کیا نہ کرتا ‘توبہ کی پھر درویش نے فرمایا کہ بادشاہ کو توبہ کرائیں کہ رنگین زندگی سے ہی قحط اور مفلسی‘ مہنگائی آتی ہے۔ جادوگر بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور ساری بات کہی۔ بادشاہ بوڑھا ہوگیا تھا۔ موت سامنے نظر آرہی تھی اس نے توبہ میں نجات سمجھی۔ اب یہ مل کر اس درویش کی خدمت میں پہنچے۔ انہوں نے توبہ کرائی اور فرمایا خود بھی اور رعایا بھی یَافَتَّاحُ یَابَاسِطُ کھلا ہر حالت میں پاک ناپاک سارا دن پڑھیں۔ غربت‘ قرضہ‘ تنگدستی اور قحط کیلئے لاجواب ہے۔ واقعی ایسا ہوا۔ باورچی جن کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ جب سب نے توبہ کی اور یہ لفظ پڑھے ہر طرف خوشحالی آگئی۔ بس شرط یہ ہے کہ چند ماہ یہ ضرور پڑھیں۔
    کچھ عرصے سے عبقری کیلئے لکھ رہاہوں۔ قارئین نے خوب سے خوب تر پسند کیا اور ڈھیروں ڈاک میرے نام آتی ہے کہ میرا ایڈریس اور ملاقات دی جائے لیکن جتنا میں اپنے علم اور تجربے سے مخلوق خدا کی خدمت کرسکتا ہوں اتنی خدمت کررہا ہوں اس سے زیادہ مجھ سے اور کچھ نہ ہوسکے گا۔میں شاید کبھی سامنے نہ آتا لیکن حضرت حکیم صاحب کے اصرار پر اپنی آپ بیتی لکھ رہا ہوں۔ اگر میری گزشتہ اقساط کے تجربات کا قارئین بغور مطالعہ کریں تو ان پر نئے نئے انکشافات نئے‘ حیرت کے راز اور روحانیت کی انوکھی دنیا کھلے گی۔ آج میں اپنی زندگی کے کچھ ایسے واقعات سنانا چاہوں گا جو اس سے پہلے کبھی بھی نہ بیان کیے اور نہ ہی لکھا۔
    میں نے ایک دفعہ حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام اور عبدالرشید کو کہا کہ کبھی مجھے جنات کی سب سے بڑی جیل کی سیر کرائو وہاں کیا ہوتا ہے؟ اور جنات کی اصلاح اور جرائم کی روک تھام کیلئے انہیں کیسی سزائیں ملتی ہیں؟ جب میں نے انہیںیہ بات کہی تو کہنے لگے اس کیلئے آپ کو ایک عمل کا چلہ کرنا پڑے گا کیونکہ وہاں ایک جناتی طلسم کیا گیا ہے کہ کوئی اس میں داخل نہ ہوسکے اور نہ ہی داخل ہو کر واپس آسکے کیونکہ وہاںخود بڑے جادوگر ہوتے ہیں اور ان کے جادو کا توڑ ہر شخص بلکہ ہر جن کیلئے ناممکن ہوتا ہے۔ کئی واقعات ہوچکے ہیں لیکن ہم عاجز آگئے آخر کار ان جنات کو قابو اور باندھنے کیلئے صحابی بابانے یہ خاص قرآنی عمل کرکے اس کو حصار کردیا ہے اب یہ جیل قلعہ ہے تو چونکہ ہم جن ہیں اور باوجود جن ہونے کے ہم سب نے یہ عمل یعنی چلہ کیا ہے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اور اس چلے کی وجہ سے ہم اس جناتی جیل کے اندر آجاسکتے ہیں ورنہ تو اس کے اندر جاناممکن نہیں اگر چلے جائیں تو واپس آنا ممکن نہیں۔ میں نے حامی بھرلی اس کیلئے مجھے ایک ویران قبرستان میں 11 دن کا چلہ کرنا تھا چلے کے جو لوازمات ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
    دو کفن کی چادریں‘ ایک عدد بڑی شیشی تیز خوشبو‘چار عدد تیز دھار چھریاں‘ ایک نئی جائے نماز‘ ایک سفید ٹوپی‘ ایک عدد کالے دھاگے کا چھوٹا بنڈل اب یہ چیزیں لے کر کسی ویران قبرستان میں ویران کونہ اور ویران قبر کے پاس جاکر رات ٹھیک بارہ بجے اپنی جگہ پرموجود ہونا ہے۔ کپڑے اتار کر کفن کی چادریں احرام کی طرح باندھ لیں خوب خوشبو لگانی تھی۔ سر پر ٹوپی اور جائے نماز بچھا کر چاروں طرف چھریاں مٹی میں گاڑدیں اور اپنے اردگرد دھاگہ لپیٹ لیں اور صرف ایک لفظ پڑھنا تھا وہ لفظ ہے” کہف“ اسی لفظ کو بغیر تعداد کے 3 گھنٹے بیٹھ کر پڑھنا ہے۔ 3 گھنٹے کے بعد اٹھیں پہلے چھریاں ہٹائیں پھر لباس تبدیل کرکے یہ چیزیں سمیٹ لیں اور وہ کالا دھاگہ جو اپنے اوپر کے جسم پر لپیٹا تھا یعنی 11چکر دھاگے کے دئیے تھے وہ اتار کر رکھ دیں واپس گھر آجائیں پھر دوسری رات اسی طرح جائیں اور سابقہ رات کی طرح کریں۔
    کل گیارہ راتیں اگر کوئی ایسا کرے (اس کی سب کو میری طرف سے اجازت ہے) تو اس شخص کو جنات کا ہر حصار توڑنا آسان‘ جنات کی جیل میں آنا جانا ممکن‘ کوئی طاقتور جن جننی بدروح دیو‘ موکل‘ جادو‘ نظربد اور بندوق کا حملہ اس پر اثر انداز کبھی نہ ہوگا پھر جب کوئی اس لفظ یعنی کہف کو صرف پڑھ لے گا چاہے تھوڑی یا زیادہ تعداد میں تو جس پر بھی دم کرے یا پانی پر دم کرے یا کوئی کھانے پینے والی چیز پر دم کرے تو فوری اثر ہوگا۔ وہ تمام عوارضات ختم ہوں گے جو اوپر بیان کیے ہیں خیر میں نے قبرستان میں یہ عمل کیا چونکہ میرا جناتی پیدائشی تعلق ہے کچھ انوکھا یا غیرمرئی عمل محسوس نہ ہوا گیارہ دن کے بعد میں نے عبدالسلام اور عبدالرشید کو بلایا ان کے ساتھ حاجی صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مجھے گدھ نما پروں والی سواری پر سوار کیا اور خود ساتھ ہوا بن کر پرواز کرنے لگے اس سواری پر کئی بار سفر کیا تو اس بار اس سواری میں انہوں نے میرے لیے لاجواب کھانے اور بہترین قہوے بھی رکھ لیے تھے مجھے بارہا اصرار کرکے وہ کھلا رہے تھے۔
    سفر تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا بہت لمبا اور بڑا سفر کیا جو کئی گھنٹوں پر محیط تھا۔ آخر کار مجھے ہر طرف پہاڑ اور برف ہی برف محسوس ہوئی پھر برف ختم ہوگئی اور ہر طرف خشک پہاڑ اور جنگل شروع ہوگئے اس کے درمیان ہم ٹھہر گئے۔ یعنی سواری اتری پروں سے بنی ہوئی سیڑھی سے میں اترا اور ہر طرف جنگل اور پہاڑیاں دوسری طرف برف پوش پہاڑ تھے۔ وہاں ہر طرف جنات کی قطاریں نظر آئیں چونکہ حاجی صاحب اور صحابی بابا اور میں ان کے وہاں بڑے اور مہمان خصوصی تھے عبدالسلام جن نے پہلے سے اطلاع کردی تھی لہٰذا وہاں سب حضرات یعنی محافظ جنات متوجہ اور چوکنے تھے جیل کیا ایک بہت بڑی پہاڑیوں کے درمیان میلوں پھیلی ہوئی وادی تھی جس کے اردگرد ایک طاقت ورحصار اور جنات کی طاقت ور فوج تھی۔
    میں نے دیکھا کہ وہاں ایک نورانی فصیل تھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی اس کے اردگرد ایک جناتی مخلوق تھی جو مزید پہرہ دے رہی تھی ہر طرف ایسے جنات موجود تھے جو دن رات بس پہرہ دیتے ہیں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ ایک پہاڑی غار جس کا دھانہ یعنی منہ بہت بڑا تھا کہ اونٹ اندر آسانی سے چلا جائے اس دھانے پر 17 ببر شیر بیٹھے تھے میں حیران ہوا تو عبدالرشید نے بتایا کہ یہ دراصل بڑے دیو ہیں جو اس شکل میں پہرہ دے رہے ہیں۔ جب ہم غار کے قریب پہنچے تو وہ شیر اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور اپنی مخصوص آواز میں گرج دار انداز میں دھاڑنے لگے انہوں نے بتایا یہ دراصل ہم سب کا استقبال کررہے ہیں ابھی ہم داخل ہوہی رہے تھے کہ چمگادڑیں جو شاید 10 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو خطرناک آوازوں کے ساتھ اوپر مسلسل اڑرہی تھیں۔ انہوں نے یعنی عبدالرشید جن نے بتایا یہ بھی جنات کی ایک قسم ہے جو ہوائی محافظ ہوتے ہیں اور اوپر سے قیدیوں اور بدمعاش جنات پر نظر رکھتے ہیں وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ کچھ اور آگے گئے تو معلوم ہوا سانپوں کے ڈھیر اور بعض جگہ صرف کالے رنگ کے بڑے اژدھے کی طرز کے سانپ تھے جو مسلسل ہر جگہ چکر لگارہے تھے بتایا یہ بھی محافظ جنات ہیں ان کاکام صرف یہاں کے ان جنات کی خبر رکھنا ہے جو جادوگرہوں اور جادو کی وجہ سے وہ یہاں سے نکل نہ جائیں یا پھر وہ یہاں کے محافظوں پر جادو کردیتے ہیں۔ ان میں ہر سانپ خود بہت بڑا عامل ہے ان سب کو صحابی بابا نے ایسے طاقت ور قرآنی عملیات کروائے ہوئے ہیں کہ کوئی جن ان کی طاقت اور جادو تک پہنچ نہیں سکتا۔ کیونکہ جنات کے پاس آج سے 6 ہزار سال پہلے کا علم ہے۔ وہ اس علم کے مطابق وہ کچھ کرلیتے ہیں جو عامل کیا بلکہ کامل سے کامل کے بس کا روگ نہیں ابھی ہم یہ باتیں کرہی رہے تھے تو ایک بڑا کالا سانپ اپناپھن اٹھائے چلتا ہوا میرے پاس آیا‘ سلام کیا کہ میں مسلمان جن ہوں میری عمر بڑی ہے میں نے شاہ جہان بادشاہ کا دور دیکھا‘ جہانگیر کا دور دیکھا‘ رنجیت سنگھ کا دور تو کل کی بات ہے اس سے قبل میں نے لودھی خاندان کو دیکھا خاندان غلاماں کی بنیاد اور برباد ی سب کچھ میرے سامنے ہے۔ میں نے اس سانپ جن سے سوال کیا آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ لوگ برباد کیسے ہوتے ہیں۔ بے ساختہ کہنے لگے اس کی وجہ ظلم ہوتی ہے یہ لوگ دراصل ظالم ہوتے ہیں اور ظلم کی وجہ سے ان سب کا نشان تک ختم ہوجاتا ہے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    پھر انہوں نے مجھے شاہ تغلق کے دور کے باکمال درویش حضرت خواجہ سماسی رحمة اللہ علیہ کا کرتا دیا کہ اس کرتے کی برکت یہ ہے کہ جو اس کو اپنے سرھانے رکھ کر باوضو ہوکر سوجائے تو ضرور بالضرور اس کو ایسی باکمال ہستیوں اور شخصیات کی زیارت ہوگی جو عام انسان کے بس اور گمان تک میں نہیں بلکہ یہاں تک کہ ایسی برکت کہ نسلیں بھی اس سے استفادہ کریں۔ ایک سانپ جو رنگت میں نہایت کالے رنگ کا تھا وہ آتے ہی میرے پائوں پر گر گیا اور کچھ مخصوص انداز میں باتیں کرنے لگا مجھے اس کی کسی بھی بات کی سمجھ نہ آئی کہ آخر اس کی باتیںکیا ہیں؟ یا اس کا کیا مطالبہ‘ کیا مقصد ہے؟ ساتھ عبدالرشید کہنے لگا کہ یہ یہاں کے سانپ جنات کا بڑا آفیسر ہے جو آپ کو یہاں خوش آمدید کہہ رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ میری طرف سے انسانوں سے معذرت کرلیں کہ میں ان جنات کی نگرانی پر متعین ہوں جو انسانوں کو طرح طرح کی تکالیف دیتے ہیں ہم شرمندہ ہیں کہ یہ لوگ ہمارے قابو سے باہر ہیں اور ہمارے بس میں نہیں ہم انہیں کیسے کنٹرول کریں۔ بہرحال ہم شرمندہ ہیں جب میں نے اس آفیسر سانپ جن کی یہ بات سنی تو حیرت ہوئی کہ ان جنات کی قوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے اندر احساس اور مخلوق خدا کی خدمت اور درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
    ہم آگے چلے تو ہمیں چیلوںکا غول جو دیکھنے میں تو چیل لیکن وہ کسی بڑے جہاز سے کم نہیں تھے۔ ان کے منہ سے شعلے اور ان کی آواز بہت گرج دار نکل رہی تھی ان کا ہجوم نہیں تھا بلکہ لشکر کے لشکر تھے جو مسلسل اڑ رہے تھے اور ایک پریشان کن شور تھا جو ہرطرف پھیلا ہوا تھا۔ چیلوں کاکام سارا دن اس میلوں کے پھیلے وسیع پہاڑی رقبے پر اڑنا اور نگرانی کرنا تھا۔ وہ ہر اس جگہ پر نظر رکھتے تھے جہاں سے نکلنے کا کوئی امکان ہوسکتا تھا۔ دن رات ان کا یہی کام تھا ابھی ہم ان چیلوں کے جناتی حالات سن ہی رہے تھے کہ ہمیں احساس ہوا کہ عبدالرشید کچھ اور کہنا چاہتا ہے اس سے پوچھا تو کہنے لگا کہ میں ایک اور چیز دکھانا چاہتا ہوں جو یہاں کا سب سے خطرناک پہرہ دینے والا گروپ ہے پھر ہمیں غار کے اندر ایک اور غار میں لے کر گیا چلے چلتے ایک طویل تنگ غار سے نکلے تو ایک اور میدان آگیا اس میدان میں تھوڑی دیر چلنے کے بعد کیا دیکھا کہ چمگادڑ نما ایک مخلوق ہے جس کی گردن ایسی ہے جیسے بطخ کی گردن ہوتی ہے۔ باقی سارا جسم چمگادڑ کی طرح ہے وہ جگہ جگہ ایک ایک کرکے خاموش بیٹھی ہوئی بالکل خاموش ایسے جیسے ان میں جان نہیں۔ میں حیران ہوا ساتھ حاجی صاحب کا بیٹا عبدالسلام نے میری حیرانی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ کیوں حیران ہورہے ہیں میں نے کہا کہ حیرت کی وجہ دراصل یہ ہے ان کا کام کیا ہے اور یہ خاموش کیوں ہیں۔ اتنی لاکھوں کی تعداد میں ان کو آخر کوئی تو ذمہ داری دی گئی ہوگی۔ یہ ساری باتیں حیرت اور استعجابی کیفیت میں بیان کردی ہے۔ میری حیرت کو دیکھ کر عبدالسلام کہنے لگا یہی چیز توآپ کو دکھانے کیلئے لائے تھے۔ یہ دراصل خون خوار اور پھاڑ کھانے والی مخلوق ہے جنات تو لوگوں کو تنگ کرتے ہیں یہ جنات کو تنگ کرنے میں حرف آخر ہیں۔
    ان کاکام یہ ہے کہ جب بھی کوئی جن یہاں لڑتا ہے تو اس کو پہلے یہ ہلکی سزا دیتے ہیں پھر بڑی اور بھیانک سزا دیتے ہیں اور ان کے اندر ایک خطرناک مواد جسے انسان کی زبان یا دنیا کی تھیوری کے مطابق فاسفورس پہلے آنکھوں میں پھر کانوں میں اور پھر ناک اور زبان میں بھر دیا جاتا ہے ان کو کالی زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ وہ زنجیریں اتنی طاقت ور ہوتی ہیں جنہیں وہ نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان زنجیروں سے جدا اور رہا ہوسکتا ہے بلکہ اگر اسی وقت ان زنجیروں کو کوئی ہاتھ لگائے تو اس کا ہاتھ جل نہیں بلکہ پگھل جاتا ہے جنات کی خوفناک چیخیں اور فریادیں میں نے دور دور سے سنیں اور سوچا کہ آخر یہ کیا آوازیں ہیں تو میری حیرانگی پر عبدالسلام جن بولا کہ یہ جنات کو سزائیں دی جارہی ہیں تاکہ انہیں سبق حاصل ہو اور انہیں احساس ہو کہ کس طرح نافرمانی کی جاتی ہے۔
    پھر عبدالرشید جن خود ہی کہنے لگا میں آپ کو ان شرارتی اور باغی جنات کی سزائیں دکھاتا ہوں ہم غار کے ایک اور دھانے کی طرف چل دئیے جیسے جیسے ہم چلتے گئے غار کا دہانہ پھیلتا گیا اور اندر ہی اندر ایک آگ اور گوشت کی طرح کی جلنے کی بو آرہی تھی جب ہم قریب پہنچے تو احساس ہوا کہ یہ ایک جن کو سزا دی جارہی ہے جو لوگوں کے گھروں سے کچا گوشت چرا کر کھاتا تھا اور بے شمار وارداتیں اس کی اسی طرح کی ہیں اور یہ ان وارداتوں میں بے شمار دفعہ رنگے
    ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ سزا پاچکا ہے لیکن ہر بار یہ سزا ختم ہونے پر اپنی سابقہ عادات پر باقی رہتا ہے۔ اس بار اس کی سزا بہت سخت اور بہت کڑی ہے تاکہ اس کو نصیحت ہو ہم آگے چلے تو اس سے بھی زیادہ سخت سزا تھی اس کو دیکھتے ہی پہلی دفعہ مجھے پسینہ آگیا اور دل میں گھبراہٹ شروع ہوگئی یاالٰہی اتنی سخت اور اتنی اذیت ناک سزا میں گمان نہیں کرسکتا۔ سزا کیا تھی کہ لوہے کی کنگھی جس کے دندانے تلوار جتنے بڑے یعنی ہر دندانہ تلوار سے بھی بڑا ہوتا تھا بڑے بڑے خطرناک دیو دور ایک پہاڑ پر چڑھ جاتے پھر وہاں سے تیز ہوا کی طرح دوڑتے ہوئے آتے وہ جن سخت طرح سے بندھا ہوا تھا اس کے اندر وہ کنگھی گاڑھ کر واپس جب کھینچتے تو سارا جسم ایسے ادھڑ جاتا جیسے ریشہ ریشہ ہوگیا ہو۔ سخت بدبو‘ چیخیں ہولناک آوازیں بس ایک انوکھا اور بدترین اذیتوں کا ماحول تھا جسے میں الفاظ کیا بس بیان نہیں کرسکتا اب لکھتے ہوئے میرا قلم کانپ رہا ہے اور جسم میں لرزا طاری ہورہا ہے حالانکہ میرا بچپن اور ساری زندگی جناتی دوستی اور جنات کے ساتھ پھر ان کے شادی بیاہ‘ خوشی اور موت ولادت سب جگہ آنا جانا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بے شمار واقعات طوفان اور جناتی لڑائیاں اور کارنامے دیکھے ہیں۔ آگ خون کے سمندر اور پہاڑ دیکھے میں ڈرا نہیں‘ کانپا نہیں‘ سہما نہیں لیکن یہ منظر ایسا تھا جس نے انگ انگ اور روئے روئے کے اندر ایک طوفانی ہلچل مچا دی ۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    میں نے پوچھا اس کا قصور کیا ہے آخر ایسا کونسا خطرناک اور برا کام کیا ہے تو بتایا کہ یہ انسانی عورتوں سے زنا کرتا ہے ہر وہ جن جو عورتوں کی عزتوں سے کھیلے اگر وہ پکڑا جائے تو اس کے ساتھ یہی حال ہوتا ہے اور اسے خوب سزا دی جاتی ہے۔ بعض تو اس سزا کے دوران مر جاتے ہیں اور جل کر راکھ ہوجاتے ہیں کیونکہ جنات اگر کوئی برائی کرتے ہیں تو اس کی سزا ہونی چاہیے کہ آخر اس سے جنات کی بہت زیادہ بدنامی ہوتی ہے ہم یہی منظر دیکھ رہے تھے اور باتیں کررہے تھے کہ اچانک صحابی جن بابا تشریف لائے ہم سب ان کے ادب میں کھڑے ہوگئے فرمانے لگے میں مدینہ میں نماز پڑھ کر آرہا ہوں۔ مجھے پتہ چلا کہ علامہ صاحب آج جنات کی دنیا میں سب سے بڑی اور خطرناک جیل دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔ میں اس جیل کا نگران اعلیٰ ہوں۔ پھر انہوں نے اپنی ایک لاجواب بات بتائی۔ فرمانے لگے ایک دن میں حضرت انس رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ دعا بتائی کہ جو شخص سخت خطرے میں ہو ُپریشان ہو‘ دشمن کا خطرہ ہو یا جنات یا کسی حادثے کا یا لٹنے کا‘ یا اغوا‘ یا مال کے ختم ہونے کا جیسا بھی خطرہ ہو بس فوری طور پر امن مل جاتا ہے۔ وہ عا یہ ہے: بِسمِ اللّٰہِ عَلٰی دِینِی وَنَفسِی وَوَلَدِی وَاَھلِی وَمَالِی بس سارا دن کھلا پڑھے ہر حالت یعنی وضو بے وضو۔
    اس گیارہ ربیع الاول کی رات میں کچھ معمولات کررہا تھا۔ اچانک ایک ایسا انوکھا واقعہ ہوا جو آج سے قبل نہیں ہوا تھا یہ بات اس لیے لکھ رہا ہوں کہ پیدائشی جنات سے دوستی‘ ہم کلامی ‘بالمشافہ ملاقات‘ ان کی شادی‘ غمی میں آنا جانا‘ یہ سب کچھ ہوتا ہے پھر وہاں کے مشاہدات اور حیرت انگیز واقعات ان کی دنیا کے رنگ وروپ دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو ایک سے بڑھ کر ایک ہے لیکن آج جو واقعہ ہوا وہ اس طرح ہوا کہ میں ایک خاص درود شریف پڑھ رہا تھا کہ مجھے اونگھ آگئی میں نے اپنے آپ کو ایک بہت ہی بڑے سرسبز شاداب جنگل میں پایا۔ وہ جنگل کم جنت زیادہ‘ ہر طرف سبزہ شادابی رعنائی اور مقام حیرت ہی حیرت‘ ہر طرف پھول کلیاں۔ میں اسی حیرت میں گم اور مسلسل گھوم رہا ہوں کہ ایک نہایت حسین بزرگ ملے جو کہ مصلیٰ بچھا کر بڑی تسبیح پر کچھ پڑھ رہے تھے۔ میرے قدم ان کے قریب جاکر رک گئے اور میں خاموش انہیں دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ کون ہیں؟ یہ کونسی جگہ ہے اور یہ کونسا ذکر کررہے ہیں؟ بہت دیر تک سوچتا رہا لیکن وہ درویش اپنے ذکر میں مشغول رہے۔ انہوں نے میری طرف کوئی توجہ نہیں کی بس خودبخود میری زبان پر سورہ اخلاص جاری ہوگئی اور میں نے سورہ اخلاص اونچی اونچی آواز میں پڑھنا شروع کردی‘ میرے پڑھنے سے اس جنگل کے ہر ذرہ نے یہی سورہ پڑھنی شروع کردی۔ ایک ایسا انداز اور کیفیت شروع ہوجاتی ہے کہ میں خود حیران کہ الٰہی یہ کیسا منظر ہے۔ میں خود ابھی تک وہ پرلطف منظر نہیں بھول سکا۔ بس میں بے ساختہ سورہ اخلاص پڑھ رہا ہوں اور بہت تیزی سے پڑھ رہا ہوں کچھ ہی دیر کے بعد میرے منہ سے شعلے نکلنا شروع ہوگئے میں ڈر گیا کہ یہ کیا ہوا لیکن پڑھنا نہیں چھوڑا وہ شعلے نہیں تھے بلکہ نور تھا اور ہر طرف نور ہی نور بس دل چاہتا تھا کہ میں پڑھتا جائوں ۔یکایک وہ درویش مصلّے سے اٹھے تو ان کے اٹھتے ہی وہ طلسم ٹوٹا۔
    انہوں نے دعا شروع کی مختصر دعا کے بعد میں خودبخود خاموش ہوگیا وہ اٹھے مصافحہ کیا گلے ملے‘ میرے ماتھے کو چوما پیار کیا لیکن بات نہیں کی۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر چلنا شروع کردیا اب وہ اور میں ہم دونوں سورئہ اخلاص پڑھ رہے تھے اس کے پڑھنے سے محسوس ہوتا تھا ہمارا فاصلہ کم ہورہا ہے اور ہم بہت تیزی سے فاصلے منزل اور قدم طے کررہے ہیں لیکن شاداب جنگل طے نہیں ہورہا تھا ہر قدم نئی خوبصورتیاں‘ نیا حسن و جمال‘ نیا رنگ و روپ اور نئی دنیا ملتی تھی محسوس ایسے ہورہا تھا کہ وہ درویش مجھے وہاں کی سیر کرارہے ہیں بس ان کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے اور ہم مسلسل سفر کررہے ہیں۔ سفر میں سورئہ اخلاص اور قدرت کے مناظر دیکھنے میں ایسا محو تھا کہ منزل کا احساس نہیں ہوا کہ میں کہاں ہوں‘ کتنا فاصلہ طے کرلیا اور جانا کہاں ہے۔ بس سفر جاری تھا‘ بہت دیر کے بعد ایک محل اور بہت ہی خوبصورت محلوں پر نظر پڑی ان کے حسن و جمال کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہم دونوں اس کے اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ حاجی صاحب‘ صحابی بابا ‘عبدالسلام باورچی جن اور لاتعداد بڑے جنات مسند نشین ہیں‘ ہر طرف خوشبو رچی بسی ہے‘ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ہمارا انتظار تھا اور بس ہم پہنچے تو محفل میں سورئہ اخلاص کی تلاوت شروع ہوگئی مختلف قرات میں سورئہ اخلاص پڑھی جارہی تھی‘ آواز ایسی دلکش اور پرسوز تھی کہ ہر شخص کے آنسو رواں تھے۔ پہلے تو میں نے محسوس نہ کیا لیکن پھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی درویش ہیں جو مجھے ساتھ لائے تھے یہ ان کی آواز تھی حالانکہ میرے ساتھ بیٹھے تھے لیکن سورئہ اخلاص کی آواز میں ایسی دلکشی اور سوز تھا کہ خود اپنے وجود کی خبر نہیں تھی میں نے قریب ہی بیٹھے ایک جن سے پوچھا یہ درویش کون ہیں؟ وہ حیران ہوکر بولے کہ آپ نہیں جانتے؟ یہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ سورئہ اخلاص کے عاشق ہیں اور ہر اس شخص سے عشق ومحبت کرتے ہیں جو سورئہ اخلاص کا ورد رکھتا ہو کیونکہ حضرت خضرعلیہ السلام خود سارا دن سورئہ اخلاص ہی پڑھتے ہیں اور یہ خود فرماتے ہیں وہ شخص مقام ولایت تک نہیں پہنچ سکتا جو سورئہ اخلاص نہ پڑھتا ہو۔
    بس یہ مختصر سی بات کرکے ہم خاموش ہوگئے اور سورئہ اخلاص کی قرات جاری رکھی اس کی تلاوت ختم ہوئی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر طرف نور ہی نور تھا۔ پھر کھانے کی دعوت شروع ہوئی اوردستر خوان وسیع تھا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  7. #22
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    حضرت خضر علیہ السلام فرمارہے تھے اور میری حیرت بڑھ رہی تھی۔ ساتھ ہی حاجی صاحب اور صحابی بابا بیٹھے یہ باتیں سن رہے تھے حضرت خضرعلیہ السلام نے سورہ اخلاص کی جو برکات بتائیں وہ سب لاکھوں جنات نے قبول کیں بلکہ حضرت خضرعلیہ السلام نے سب کو اجازت دی مجھے خاص الخاص اجازت عطا فرمائی اور میں ہر پڑھنے والے کو بھی اجازت دے رہا ہوں۔
    فرمایا اگر کوئی شخص بغیر اسباب‘ رقم‘ سواری اور پاسپورٹ کے حج اور زیارت حرمین چاہتا ہے تو وہ نوچندی (نئے چاند کی) جمعرات سے پہلے دن 1100 بار سورہ اخلاص اول آخر 11 بار درود شریف پڑھے دوسرے دن ہزار بار تیسرے دن 900بار اس طرح ہر دن ایک سو کم کرتا جائے آخری دن یعنی گیارہویں دن سو بار پڑھے روزانہ ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ ہو تاکہ عمل میں طاقت اور تاثیر رہے سفید لباس اور خوشبو لگا کر یہ عمل کیا جائے ہر ماہ یہ عمل اسی طرح 11 دن کیا جائے بس یہ عمل جاری رکھے ناغہ نہ کرے اگر مرادجلد پوری نہ ہو تو عمل نہ چھوڑے جاری رکھے۔ ایسا غیبی نظام چلے گا اور اس کے ساتھ ہوگا کہ یہ خود سوچ نہیں سکے گا کہ کیا ہوا اور کیسے ہو گیا بس ہوجائے گا اور خودبخود یہ حرمین کا مسافر بن جائے گا۔
    اس عمل کے بتانے کے بعد ایک عمل اور فرمایا جس قسم کا مسئلہ ہو اور کوئی بھی ناممکن مشکل ہو جو کسی طرح بھی حل نہ ہوتی ہو ہر طرف سے کوشش اور محنت کرکے تھک گئے ہوں کسی طرف سے راستہ نہ کھلتا ہو موت کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آتا ہو تو کسی وقت شنہاتی ہے بہتر ہے رات ایک بجے کے بعد 4 نفل اکٹھے ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھنے کی نیت کرے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد 101 بار سورہ اخلاص مع تسمیہ پڑھے اس طرح ہر رکعت میں پڑھے بس دھیان اور توجہ اللہ کی طرف اور خاص حضوری ہو (ہاتھ میں تسبیح لے سکتے ہیں) سلام کے بعد سربرہنہکرلیا اور دائیں بازو سے قمیض نکال کر بازو اور کندھا ننگا کرلیا جیسے حالت احرام میں ہوتا ہے پھر 500 بار سورہ اخلاص پڑھیں اول و آخر درود شریف پھر جتنی دیر سارے عمل میں لگتی ہے اتنی دیر خوب گڑگڑا کر بھکاری بن کر دعا کریں رو رو کر مانگیں کہ جسم کا رواں رواں کھڑا ہوجائے بہت لمبی اورعاجزانہ دعا کرکے پھر 100 بار سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سورہ اخلاص پڑھتے ہوئے لیٹ جائیں۔ یہ عمل کچھ عرصہ یا کچھ دن مستقل کریں۔ قدرت کے کمالات اور حمایت اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے پھر ایک اور عمل فرمایا کہ کھانا کھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھتے رہیں اگر درمیان میں بات چیت ہورہی ہو تو بھی حرج نہیں۔ کھانا کھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھنے سے رزق میں برکت‘ کھانے میں صحت لاعلاج امراض کا خاتمہ‘ گھریلو الجھنیں‘ جھگڑے اور مشکلات کا خاتمہ یقینی ہوتا ہے جو بھی یہ عمل کرے گا وہ پریشانیوں سے ایسے نکلے گا جیسے ہوا بادلوں کو اڑا کر لے جاتی ہے۔ کسی کو نوکری چاہیے کسی کو کھلا رزق چاہیے‘ کسی کو مقدمات میںکامیابی چاہیے‘ کسی کو اولاد چاہیے‘ کوئی اولاد کی تربیت سے پریشان ہے۔ قرض اتارنا چاہتا ہے خواہ دل کی جو بھی مراد ہے وہ ہر کھانے کے درمیان ہر وضو کے درمیان‘ مسلسل سورہ اخلاص پڑھے‘ پھر قدرت ربی کا مشاہدہ کرے۔
    میں نے حضرت خضرعلیہ السلام سے عرض کیا کہ کوئی ایسا عمل کہ آپ سے ملاقات ہوجایا کرے فرمایا جو شخص سورہ اخلاص کثرت سے پڑھتا ہے میں اس شخص سے ضرور ملاقات کرتا ہوں‘ چاہے جس حالت میں ہو ملاقات ضرور ہوتی ہے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر تاکید سے فرمانے لگے کہ آپ کا سواکروڑ بار پڑھا سورہ اخلاص ہی ہے کہ میں خود تلاش کرتا ہوں جو آپ سے محبت کرے گا میں اس سے محبت کروں گا اور اس کی مشکلات میں اس کا ساتھی بنوں گا کیونکہ مجھے آپ سے محبت ہے اور پھر حضرت خضر علیہ السلام نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کرمزید فرمایا جو آپ سے نفرت کرے گا اس کے نقصانات ہوں گے اور پریشانیوں سے کبھی نکل نہیں سکے گا ایک مختصر عمل مزید فرمایا کیونکہ انہوں نے عمل تو انوکھے فرمائے ان میں سے چند عبقری کے قارئین کی نذر کررہا ہوں کہ جو شخص کسی پرندے جانور کو دیکھ کر 3 بار سورہ اخلاص اول آخر ایک بار درود شریف پڑھے گا اور تصور میں یہ کہے یا اللہ اس کا ثواب میں نے اس جانور کی روح کو ہدیہ کردیا اور اس جانور کو میرے لیے دعا میں لگا دے جو ایسا کرتا رہے گا وہ ایسے ایسے سخت سے سخت حالات سے نکلے گا کہ خود دیکھنے والے حیران ہوں گے اور وہ خود حیران ہوگا کہ یا اللہ ایسا ممکن کیسے ہوا؟ اس کی بھی آپ سب کو اجازت ہے۔
    ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے میں عبدالسلام‘ باورچی جن‘ حاجی صاحب اور صحابی بابا اور بیشمار جنات ہم سب اکٹھے ہوکر لاہور کے شاہی قلعے کے تیسرے تہہ خانے میں ایک مشہور صاحب کمال درویش کی تربت پر بیٹھے سورہ اخلاص پڑھ رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے اوپر ایک غنودگی سی محسوس کی حالانکہ عام طور پر مجھے غنودگی محسوس نہیں ہوتی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے اوپر کوئی چیز گررہی ہے لیکن گرنے کا انداز ایسے ہے جیسے پھول کی پتیاں گرتی ہیں میں بالکل بے سدھ سا ہوگیا دل پر غنودگی نہیں تھی لیکن جسم بے جان تھا اور مجھے اس بات کا بھی احساس تھا کہ صحابی بابا کے علاوہ اورلاکھوں کی تعداد میں سارے جنات موجود ہیں۔ ویسے بھی میرے ساتھ ہر وقت جنات کے لشکر چلتے ہیں۔ ساری کیفیتوں کے بعد میں نے ایک چیز اور مزید محسوس کی اب میرے اوپر ہلکی سی پانی کی پھوار ایسے کہ جیسے گلاب کے پھولوں پر شبنم ہوتی ہے.... وہ گرنا شروع ہوگئی۔ خوشبو بڑھ گئی‘کیفیات میں اضافہ ہوگیا اور میں مدہوش اسی خوشبو‘ پتیوں کے گرنے اور روحانی پھوار کو مسلسل اپنے جسم پر اور اپنے دل پر محسوس کررہا تھا یہ کیفیت بہت دیر رہی میں بیٹھا رہا اور مسلسل سورہ اخلاص پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  8. #23
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اچانک صحابی بابا کی آواز آئی کہ چلیں نا تب جاکر میں چونکا میں نے صحابی بابا اور حاجی صاحب سے اور ایک جیل کے دروغہ تھے ان سے سوال کیا کہ یہ کیا کیفیت ہے ؟باقی حضرات خاموش ہوگئے لیکن صحابی بابا مسکرا دئیے فرمایا کہ یہ اولیاءاللہ اورصالحین کی تربتوں پر جو اللہ جل شانہ کی طرف سے انوارات اور برکات نازل ہوتی ہیں یہ وہ چیز تھی۔ اس کی تازگی اس کی خوشبو اور اس خوشبو کا ایک انوکھا احساس ابھی یہ بیان کرتے ہوئے بھی میں محسوس کررہا ہوں اور شاید یہ احساس مجھے کبھی نہ بھول سکے۔
    قارئین! آپ نے الفاظ تو پڑھے ہی ہونگے میرا احساس کون پڑھے.... اور پڑھ بھی کیسے سکتا ہے۔ مجھے بے شمار ملنے والے خطوط میں لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب واقعات دھوکہ اور فریب ہیں‘ وہ کہتے ہیں یہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے لیکن اکثریت میرے اس کالم سے اور میرے ان مشاہدات سے نفع اٹھارہی ہے۔
    کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سلسلے کو بند کردیا جائے جو حضرات یہ باتیں کہتے ہیں وہ بھی سچے ہیں ان کا برتن ہی اتنا ہے‘ ان کا ظرف ہی اتنا ہے۔ روحانی دنیا سے ان کو شناسائی ہے ہی نہیں۔ انہوں نے ظاہر کی دنیا کو اور مادی دنیا کو دیکھا ہے۔ اس دنیا کو کیسے سمجھ پرکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا کو وہ کیسے پڑھ سکتے ہیں۔ خیر میں صحابی بابا کے اصرار پر اٹھا جبکہ اٹھنے کو میرا دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن اٹھ تو گیا چل نہیں سکا۔ میں پھر بیٹھ گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ کوئی نادیدہ سی قوت ہے جو مجھے اٹھنے نہیں دے رہی میں کیا کروں۔ پہلے کی طرح سب خاموش لیکن صحابی بابا مسکرا رہے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہی بتائیے کہ اس نہ اٹھنے کی وجہ کیا ہے؟ وہ فرمانے لگے صاحب مزار جو کہ صاحب کمال درویش ہیں وہ چاہتے ہیں کہ آپ ابھی ہمارے ساتھ اور بیٹھیں اور کچھ کہیں کچھ سنیں سورہ اخلاص کا مزید ہدیہ دیں۔ میں بیٹھ کر مزید پڑھنا شروع ہوگیا۔ بہت دیر تک حالت سکرات میں سورہ اخلاص پڑھتا رہا اور اللہ سے عرض کرتا رہا کہ اے اللہ اپنے اس بندے کی روح کو میری طرف سے ہدیہ پہنچا‘ بہت دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے جسم میں جان آنا شروع ہوگئی ہے‘ میری ٹانگوں میں‘ میرے دل میں‘ میرے پائوں میں جان اور حرکت پیدا ہوئی۔ میں سمجھ گیا کہ ان کی طرف سے اجازت ہے‘ میں سلام کرکے اٹھا‘ صحابی بابا اور دیگر جنات میرے منتظر تھے۔ مجھ سے فرمانے لگے ان کو آپ سے محبت ہے۔ اس لیے آپ کو جانے نہیں دے رہے تھے۔
    میں نے ان سے کہا میں جب بھی حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر جاتا ہوں وہاں بھی مجھے روک لیا جاتا ہے‘ ابھی نہ جائو۔ وہاں بھی مجھ بے حیثیت سے بہت زیادہ محبت کی جاتی ہے۔ ایک بے ذرہ اور بے حیثیت سے اتنی زیادہ محبت.... میں کیا اورمیری اوقات کیا۔ لیکن ایک چیز جو بار بار میرے تجربات اور دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ کہ جن لوگوں کو میں نے یہ چیز بتائی ہے کہ کثرت سے سورہ اخلاص اور درود شریف پڑھیں! یہ دو چیزیں ایسی ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں بندے کو صاحب مقام بنادیتی ہیں اور صاحب کمال بنادیتی ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں بندے کو ایسا جسم عطا کرتی ہیں جو جسم لاہوتی ہوتا ہے۔ وہ جسم مٹی کا بنا ہوا نہیں ہوتا‘ وہ نورانی جسم ہوجاتا ہے۔ وہ جسم پھر سیر کرتا ہے عالم لاہوت کی‘ ملکوت کی‘ عالم جبروت کی اور ایسے عالم ہیں جن کے بارے میں قلم رک جاتا ہے۔ زبان گنگ ہوجاتی ہے۔
    الفاظ ٹھہر جاتے ہیں‘ عقل کے سانچے پگھل جاتے ہیں سوچوں کے دھارے رخ بدل لیتے ہیں‘ نگاہیں پتھرا جاتی ہیں اور سانسیں رک جاتی ہیں۔ کیوں؟ وہ ایسی پراسرار دنیا ہیں جس کا میں نے ایک مرتبہ پہلے بھی تذکرہ کیا تھا۔ جن کو ہم عام طور پر اڑن طشتریاں کہتے ہیں وہ اس دور کی دنیا ہے اور ان کی سائنس ہم سے کہیں زیادہ اونچی ہے‘ ان کی دنیا ہم سے کہیں زیادہ اونچی ہے اور ان کی کائنات ہم سے زیادہ اونچی ہے۔ ہم ان کی ترقی تک پہنچ بھی نہیں سکتے جس ترقی اور ٹیکنالوجی تک وہ پہنچ چکے ہیںایک دفعہ مجھے صحابی بابا اس جہان میں لے گئے‘ وہاں جاکر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں ایک شخص آئے کہنے لگے کہ شیخ آپ کی خدمت میں تزکیہ نفس کیلئے آیا ہوں دل کی دنیا کو اللہ کی محبت میں ڈبونے کیلئے آیا ہوں‘ کچھ اللہ اللہ کے بول سیکھنے آیا ہوں۔ اگر آپ کے قدموں میں جگہ مل جائے۔ شیخ کی خدمت میں بہت عرصہ رہے‘ بہت عرصہ رہے۔ حضرت کی خدمت میں رہتے ہوئے زندگی کے بہت سے دن رات گزر گئے‘ ایک دفعہ عرض کرنے لگے کہ شیخ اللہ کی کائنات بہت وسیع ہے میں اللہ کی قدرت کے مظاہر اور مناظر دیکھنا چاہتا ہوں چونکہ صاحب استعداد ہوگئے تھے‘ برتن بڑا ہوگیا تھا‘ شیخ فرمانے لگے اچھا ٹھیک ہے۔ یہ روٹیاں لو اور جنگل میں جاو۔ وہاں ایک ریچھ ملے گا اس ریچھ کو یہ روٹیاں ڈال دینا۔ وہ روٹیاں منہ میں ڈال کر چلے گا تم اس کے پیچھے چلتے جانا اور پھر قدرت کے جو مظاہر و مناظر نظر آئیں وہ مجھے آکر بتانا‘ انہوں نے روٹیاں لیں اور چل پڑے۔ بہت دیر چلتے رہے‘ آخر جنگل میں بالکل سیاہ ایک ریچھ ملا اس کو روٹیاں ڈالیں‘ اس نے منہ میں لیں اور بھاگنا شروع ہوگیا یہ اس کے پیچھے بھاگتے رہے‘ وہ ایک غار میں چلا گیا بہت لمبی غار تھی‘ اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ چلتے رہے چلتے رہے.... آخر اس غار کا دھانہ قریب آیا تو روشنی نظر آئی وہ ریچھ وہاں غائب ہوگیا اور یہ وہاں پہنچ گئے اور حیران ہوئے کہ یہ کونسی دنیا ہے؟ وہاں ایک شخص ملا۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  9. #24
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    شاہ صاحب کے خادم نے اسے سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ جواب دینے کے بعد اس خادم نے پوچھا آپ کون ہیں؟ وہ کہنے لگے نہ ہم انسان ہیں اور نہ جنات ہیں‘ نہ فرشتے ہیں۔ ہم کوئی اور مخلوق ہیں اور پھر اس نے پڑھا الحمدللہ رب العالمین کہ اللہ ایک عالم کا نہیں عالمین کا رب ہے۔ یہ کوئی اور عالم ہے اس عالم کو تم نہیں جانتے۔ جاو تم نے قدرت کے مناظر و مظاہر دیکھنے کی تمنا کی تھی وہ تم نے دیکھ لیے اس سے آگے مت جاو ‘ یہ تم نے دیکھ لیا کہ اور عالم بھی ہیں بس یہیں سے واپس مُڑ جاو۔ وہ خادم یہیںسے واپس ہوئے۔ واپس سفر کرتے کرتے شیخ کی خدمت میں پہنچے‘ حیران و پریشان تھے کہ یہ میں نے کیا دیکھ لیا۔ شیخ سے جاکر عرض کی۔ شیخ نے فوراً فرمایا الحمدللہ رب العالمین۔ اللہ عالمین کے رب ہیں عالم کے نہیں اور پھر فرمایا میری زندگی تک یہ بات کسی کو مت بتانا۔
    ایک دفعہ صحابی بابا کے ساتھ میں نے ایسے ہی ایک عالم کی سیر کی کیا تھا؟ کیسے تھا؟ کس طرح تھا؟ میرے پاس نہ الفاظ ہیں‘ نہ واقعات ہیں‘ سوائے کیفیات کے۔ وہ کیفیات میں لفظوں میں ادا نہیں کرسکتا۔ آپ اسے دھوکہ سمجھیں یا فریب۔ کوئی کچھ سمجھے‘ کوئی کچھ۔
    ہاں مجھے اتنا ضرور علم ہے کہ ہر شخص اپنے برتن کے بقدر میری ان باتوں کا مطلب لے گا۔ جو باتیں میں آپ تک پہنچاتا ہوں اور آج جو باتیں پہنچا رہا ہوںوہ بات سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص کے متعلق ہے کہ سورہ اخلاص پڑھنے والا کوئی بھی شخص آج تک ایسا نہیں ملا جس کو ملکوتی اور لاہوتی لباس نہ ملا ہو۔ پڑھنا شرط ہے اور بہت زیادہ پڑھنا شرط ہے اور نیکی کو کرنا اور گناہ سے بچنا لازم ہے۔ ورنہ نفع نہ ہوگا۔ سورہ اخلاص کا ایک عمل دیتا ہوں دو رکعت نماز نفل پڑھیں اس کی ہر رکعت میں 101 بار سورہ اخلاص پڑھیں دوران نفل ہاتھ میں تسبیح لے سکتے ہیں لیکن تسبیح صرف نوافل کیلئے ہے فرائض کیلئے نہیں۔ دو نفل پڑھنے کے بعد سجدے میں گرکے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیںپھر سجدے سے اٹھ کے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں‘ پھر سجدے میں گرکے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں‘ پھر سجدے سے اٹھ کے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں۔ اسی طرح گیارہ سجدے کرنے ہیںاور ہر سجدے میں گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھنی ہے اور اٹھ کر بھی گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھنی ہے۔ اس کے بعد گیارہ دفعہ کوئی سا بھی استغفار پڑھنا ہے اس کے بعد گیارہ دفعہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے اور گیارہ منٹ کم از کم انتہائی زاری کے ساتھ اپنے مقصد کیلئے دعا کرنی ہے۔
    کوئی مقصد بھی ہو‘ دنیاوی ہو یا اخروی‘ آسمانی ہو یا زمینی‘ فرد سے ہویا افراد سے‘ ظالم سے ہو یا کافر سے‘ حاکم سے ہو یا محکوم سے‘ آقا سے ہو یا غلام سے‘ گھریلو ہو یا کاروباری ہو‘ دفتر کا ہو یا زمین کا‘ یعنی کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو‘ اگر روزانہ کسی بھی وقت اس عمل کو کریں‘ گھر کے سارے افراد یا گھر کا کوئی ایک فرد اور اگر کوئی صبح و شام کرسکتا ہو تو بہت ہی بہترین ہے اس سے بڑا کوئی مشکل کشائی کا عمل میں نے کہیں کسی کائنات میں نہیں پایا۔ یہ صحابی بابا کا خاص ہدیہ ہے۔
    یہ بہت عرصہ قبل مجھے خاص ہدیہ ملا جو کہ میں اب آپ کی نذر کرتا ہوں۔ ایک شخص کو میں نے یہ چیز بتائی‘ اس شخص کی ٹانگ گنگرین کی وجہ سے ران تک کٹنے کے قابل ہوگئی تھی‘ اُس نے بیٹھے بیٹھے اشارے سے یہ نفل پڑھے اور پڑھتا رہا اور مسلسل پڑھتا رہا۔ اس کی اہلیہ نے بھی پڑھے۔ قارئین شاید آپ یقین کریں نہ کریں صرف اکیس دن کے بعد اس کے زخم کی کیفیت بدل گئی اور اس کا زخم بھرنے لگا‘ اور بہت تھوڑے عرصے کے بعد اس کے کھرنڈ بن گئے اور سوفیصد صحت یاب ہوگیا۔اُس شخص نے بیان کیامیں اب تک اس عمل کو جو گن سکا تو تقریباً 23 لوگ ہیں اور جو نہ گن سکا وہ تو بے شمار ہیں اور جس جس کو بھی دیا اس کو سوفیصد فائدہ ہوا‘ سوفیصد نفع ہوا۔
    اس طرح کا ایک واقعہ اور ہوا ایک صاحب کا بیرون ملک کا ویزہ نہیں لگ رہا تھا‘ غریب تھے اور میں غریب سے محبت کرتا ہوں اور غریب کا کام کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں اور امیر سے محبت کرتا ہوں لیکن بحیثیت مسلمان کے۔ لیکن غریب سے محبت اور غریب کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے مجھے دلی طمانیت اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔
    ایک غریب آدمی کا جوان بیٹا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے بیرون ملک جانا ہے‘ کاغذات مکمل ہوتے ہوتے رک جاتے ہیں‘ کام بنتے بنتے رہ جاتے ہیں‘ کوئی نہ کوئی رکاوٹ آہی جاتی ہے۔ میں نے یہی نفل بتائے اور یہ بات بھی بتائی کہ جلدی بھی نہ کرنا اور بے توجہی سے بھی نہ پڑھنا۔ انشاءاللہ تمہیں اس کا سوفیصد صلہ ملے گا۔ تھا تو مایوس‘ لیکن پرعزم تھا‘ اس نے پڑھنا شروع کیا‘ پڑھتا ہی گیا.... پڑھتا ہی گیا....
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    مجھے تو یاد نہ رہا کچھ عرصے اس کی بوڑھی ماں میرے پاس آئی کہنی لگی میرا فلاں بیٹا آپ کے پاس آیا تھا آپ نے یہ عمل بتایا تھا کیونکہ میں نے یہ عمل چند لوگوں کو بتایا اور اب دل میں آیا کہ اس عمل کو عبقری کے لاکھوں قارئین تک پہنچائوں مجھے وہ جوان اور اس کا غمگین چہرہ‘ اُس کی غربت اور تنگدستی یاد آئی تو فوراً یاد آیا اور میں نے کہا ہاں مجھے یاد ہے۔ کہنی لگی کہ بیٹا باعزت روزگار میں ہے۔ بیرون ملک چلا گیا ہے‘ اور اس کے ساتھ والے جو چار چار سال پہلے گئے تھے وہ پریشان ہیں‘ اور یہ برسرروزگار ہے‘ اس نے وہاں سے پیغام بھیجا ہے کہ اب میں کیا پڑھوں اور کیا کروں؟ میں نے فوراً کہ جس عمل کی وجہ سے اتنے باوقار ہوئے ہیں اس عمل کو کیوں چھوڑ رہے ہو؟ اور اسے کہو کہ یہ عمل پڑھتا رہے‘ خاتون کہنے لگی کہ بیٹیوں کی شادیوں کا مسئلہ ہے ان کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں تو کیا پڑھوں کیا میں یہ عمل کرلوں؟ میں نے ان سے کہا کہ زندگی کا کوئی مسئلہ ہو گھریلو کوئی الجھن ہو‘ مشکلات ناممکن ہوں‘ اس عمل کی آپ کو اجازت ہے اور یہ عمل کرو اس نے وہ عمل کیا اور جب عمل کیا تو عمل کو کرتے ہوئے بہت ہی عرصہ وہ خاتون نہ ملیں اور جب ملی تو روپڑی‘ او رکہنی لگی کہ میں آ نہ سکی کہ اللہ کریم نے مجھے اس عمل کی برکت سے بیٹیوں کی شادیاں بھی کردیں اور گھر بھی بڑا بنادیا‘رزق بھی وافر ہوگیا‘ صحت کے مسائل بھی حل ہوگئے‘ مشکلات بھی دور ہوگئیں‘ اور میں نے اب تک بے شمار گھرانوں کو ہر مسئلے کیلئے یہ عمل بتایا ہے۔ چونکہ آپ نے اجازت دی ہے۔ اور جس کو بھی بتایا ہے اس کا کام ہوگیا ہے۔ میں نے تو اس عمل کا نام دستگیر رکھ دیا ہے۔ جس کے ہاتھ میں بھی اس عمل کا پرچہ پکڑاتی ہوں اس کا کام سوفیصد ہوجاتا ہے۔ قارئین! یہ اس عمل کی آپ سب کو اجازت ہے کچھ عرصہ مستقل کرتے رہیں‘ اور مسلسل کرتے رہیں جتنا خشوع اور جتنا دھیان سے پڑھیں گے اتنا زیادہ اس کی تاثیر اور طاقت ہوگی اور آپ کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ جس کو بھی دینا چاہیں میری طرف سے اس کیلئے بھی خصوصی اجازت ہے۔
    میرا تجربہ بار بار ایک بات کی غمازی کرتا ہے کہ جتنا زیادہ قرآن قوم جنات پڑھتی ہے شاید پوری دنیا کے قاری حافظ اور عالم پڑھتے ہوں‘ کیونکہ اس قوم کو قرآن پاک سے بہت زیادہ شرف ہے اور قرآن ان کے انگ انگ اور نس نس کے اندر گھلا ہوا ہے۔ ایک چیز قارئین کی معلومات کیلئے دینا چاہوں گا۔ آپ نے کبھی محسوس شاید نہیں کیا کہ پاکستان بھر میں اور دنیا بھر میں قرآن پاک سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ قرآن واحد کتاب ہے جو زندگی میں ایک یا دو بار گھر کیلئے لی جاتی ہے۔ کوئی اخبار یا رسالہ تو ہے نہیں کہ روزانہ یا ہفتہ وار یا مہینہ کے بعد لیا جائے اور ویسے بھی قرآن کا ذوق‘ تلاوت اور صبح صبح روزانہ کا پڑھنا ختم ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود قرآن پاک مسلسل چھپ رہا ہے‘ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں چھپتا ہے آخر وہ کہاں جاتا ہے؟
    تو آج آپ پر یہ راز عرض کرتا ہوں کہ وہ قرآن قوم جنات پڑھتی ہے‘ جنات کے جہیز میں سب سے زیادہ قرآن پاک دئیے جاتے ہیں اور جنات کی بچیاں اور بچے قرآن پاک بہت پڑھتے ہیں۔ رمضان المبارک میں تو اس کا خاص اہتمام ہوتا ہے ایک رات میں پورا ختم کرنے والے‘ تین راتوں میں ختم کرنے والے‘ پانچ راتوں کو ختم کرنے والے‘ دس راتوں میں ختم کرنے والے توعام سی بات ہے۔
    اب جنات کا تقاضا یہ ہوتا کہ میں ان کے ختم قرآن میں شامل ہوں۔ ظاہر ہے میں سب میں شامل نہیں ہوسکتا لیکن کچھ ختم قرآن ایسے ہیں جن میں مجھے شامل ہونا پڑتا ہے۔ حاجی صاحب کا بیٹا عبدالسلام قرآن پاک ختم کرتا ہے‘ ان کے بھتیجے ختم کرتے ہیں‘ میرے ساتھ صحابی بابا کی خاص محبت ہے‘ بعض اوقات ان کی طرف سے تقاضا ہوتا ہے کہ میں ختم قرآن میں شامل ہوں اور قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر کے کچھ نکات بیان کروں‘ اس کیلئے مجھے سفر کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض رمضان تو ایسے ہیں کہ کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ جس میں مجھے ختم قرآن کے سلسلے میں قوم جنات کے پاس نہ جانا پڑا ہو اور مجھے اس کیلئے بار بار جانا پڑتا ہے اور بار بار ان کے تقاضے کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ صفوں کی شکل میں قرآن پاک سناتے ہیں بلکہ صفوں کی صفیں ان کی قرآن پاک سن رہی ہوتی ہیں‘ جتنا لمبا ان کا قیام ہوتا ہے شاید ہم اتنا لمبا قیام نہ کرپائیں‘ ہمارے جسم کی طاقت ہمارا ساتھ نہ دے سکے اور ان سے جتنا لمبا رکوع ہوتا ہے ہم انسان سوچ بھی نہ سکیں اور جس لگن کیساتھ اور جس قرات کے ساتھ وہ قرآن پڑھتے ہیں‘ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ قرآن بول رہا ہے تقریباً پانچ رمضان پہلے میں نے صحابی بابا سے تقاضا کیا آپ نے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا ہے تو وہ قرآن مجھے سنائیں جو آپ نے سنا ہے تو فرمانے لگے بوڑھا ہوگیا ہوں‘ قرآن تو یاد ہے لیکن لمبی رکعات اور لمبے رکوع‘ قیام و سجود کی اب زیادہ ہمت نہیں‘ تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مختصر رکعات اور مختصر قیام میں مجھے سنائیں۔ خیر انہوں نے میری بات نہ ٹالی اور نہایت شفقت فرمائی۔ انہوں نے قرآن پاک سنایا۔ دس دن میں پورا ختم القرآن ہوا‘ ایسی طرز اور ایسا پڑھنے کا انداز کہ لفظ لفظ سینے میں اتر گیا۔ حرف حرف سے قرآن کی حقیقی خوشبو محسوس ہوئی اور طبیعت ایسی سرشار ہوئی کہ عقل حیران ہوگئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا واقعی ایسا قرآن پڑھا جاتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا قرآن کتابوں میں پڑھا‘ علماءسے سنا‘ تفسیر نے اس کی لذت اور چاشنی کو بیان کیا۔ لیکن جب میرے کانوں نے خود سنا تو میری عقل دنگ رہ گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایسا قرآن پڑھا جاتا تھا۔ دسویں دن حاجی صاحب کی تقریباً پون گھنٹہ رقت آمیز دعا‘ جنات کے لشکر کے لشکر تھے‘ آہوں اور سسکیوں کا ایک سمندر تھا‘ پون گھنٹے کے بعد حاجی صاحب کی دعا ختم ہوئی‘ حاجی صاحب نے تقاضا کیا کہ میں دعا کروائوں‘ تقریباً بیس منٹ میں نے دعا کروائی اور وہ دعا کیا تھی خود مجھے محسوس نہیں ہوا کہ کیا الفاظ تھے‘ کیا کیفیات تھیں اور کیا آنسو بہاچکا تھا۔ اس مجمع کی جو کہ جنات کا لشکر کا لشکر آہوں کے ساتھ آمین کہہ رہا تھا‘ مرد بھی‘ عورتیں بھی‘ بوڑھے بھی‘ بچے بھی ....
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    جوان بھی وہ سب شامل تھے۔ حاجی صاحب کا ختم القرآن ہندوستان کے پہاڑی علاقے مسوری میں تھا۔ حسب معمول گدھ کی شکل کی اڑن سواری مجھے وہاں لے گئی، چند ہی لمحوں میں اس نے وہاں مجھے پہنچایا، ختم القرآن ہو اور پھر حاجی صاحب کا ہو، کیا عجیب لذت، کیا عجیب مزہ، کیا عجیب چاشنی،میں اس وقت لکھ رہا ہوں لیکن آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ میرا قلم میرا ساتھ نہیں دے رہا اور میں رک رک جاتا ہوں اور ٹھہر ٹھہر جاتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں، مجھے وہ قرآن کی لذت سے آشنائی اور وہ دور جب حاجی صاحب نے خود قرآن سنایا اور صحابی بابا نے خود قرآن سنایا، آپ محسوس نہیں کرسکتے۔ ایک خاص چیز جو میں نے دیکھی کہ صحابی بابا کے قرآن پڑھنے کا انداز خالص عربی تھا جو میں نے حج کی حاضری میں وہاں کے آئمہ سے سنا وہاں کے آئمہ نے جس طرز پر قرآن پاک پڑھا بالکل وہی طرز انہی کا تھا اور بالکل وہی طرز اور وہی انداز صحابی بابا کا تھا۔
    دعا کے بعد ایک خاص قسم کی مٹھائی جو کہ قوم جنات میں بنائی جاتی ہے جس میں زعفران، تل اور خاص قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ انسانوں کی دنیا کا آدمی تو ایک لڈو کے برابر شاید نہ کھاسکے جبکہ ان کے ہاں من و کی من بنائی جاتی ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ اور لاکھوں من خوب کھائی جاتی ہے۔ میں اس مٹھائی کی لذت، ذائقہ اور چاشنی کسی اور مٹھائی سے مشابہت دیکر بیان نہیں کرسکتا کیونکہ انسانوں کے پاس وہ مٹھائی ہے ہی نہیں۔ اس مٹھائی کو جنات اپنی زبان میں ڈبی کہتے ہیں۔ ڈبی وہ مٹھائی ہے جس میں دنیا کی قیمتی چیزیں ڈالی جاتی ہیں اور یہ مہنگی مٹھائی وہ خاص مواقع پر ہی بناتے ہیں۔ چونکہ صحابی بابا کا ختم القرآن تھا اور میں بطور خاص وہاں بلایا گیا تھا اس لئے انہوں نے بہت زیادہ اہتمام کیا اور ایسا اہتمام کہ میں اور آپ سوچ نہیں سکتے۔ ایک اور ختم القرآن میں مجھے جانا ہوا جو کہ حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام کا تھا۔ عبدالسلام بھی صحابی بابا کی طرز پر قرآن پڑھتا ہے، جوان ہے زیادہ عمر نہیں ہے۔ جنوں کی کم عمر بھی دو ڈھائی صدی کی ہوتی ہے لیکن ڈیڑھ صدی، دو صدی، ڈھائی صدی کا جوان ہوتا ہے۔ عبدالسلام نے مجھے آیت دی کہ ختم القرآن میں سورة الناس کی آخری آیت من الجنة والناس کی تفسیر بیان کروں۔ اللہ کے نام کی برکت سے جب میں وہ تفسیر بیان کرنے بیٹھا تو ایسی لذت ملی اور ایسے راز و رموز اور عقدے کھلے اور بے شمار جنات وہ باتیں لکھ رہے تھے، تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ میں نے اس کے تفسیری نکات فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کیے۔ بعد میں وہ سب لکھا ہوا انہوں نے مجھے دکھایا جو کہ ماشاءاللہ چھپ کر جنات کی دنیا میں کتابی شکل میں بھی آچکا ہے۔ اس کا نام بھی انہوں نے ”تفسیر من الجنة والناس،، رکھا ہے۔ ساڑھے تین سو صفحات کی وہ کتاب بنی ہے۔ میں حیران ہوں کہ اللہ پاک نے اپنے خاص نام کی برکت سے میرا سینہ ایسے کھول دیا کہ میری عقل خود دنگ رہ گئی کہ میں حیران ہوگیا کہ کیا واقعی میں نے یہ بیان کیا؟
    میں نے دو نفل شکرانے کے ادا کیے کہ اللہ تیرا شکر ہے، واقعی تو نے جب سینہ کھولنا ہوتا ہے تو ایسے ہی کھولتا ہے اور اللہ پاک نے میرا سینہ کھولا۔ ایک بات اسی مجمع میں مجھ تک پہنچی اور وہ یہ پہنچی کہ ہمارے اکثر جنات مدارس میں پڑھتے ہیں اور اکثر جنات ختم القرآن میں کسی اچھے اور متقی قاری کی تلاوت سننے ضرور جاتے ہیں، نماز تراویح میں جتنا زیادہ رش انسان نمازیوں کا ہوتا ہے اس سے ہزار گنا زیادہ ہجوم جنات کی قوم کا ہوتا ہے اور قوم جنات قرآن سننے میں عاشقانہ اور والہانہ انداز لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کوئی مسجد ایسی نہیں ہوتی جس میں جنات قرآن نہ سنتے ہوں اور کوئی جگہ ایسی نہ ہوگی جہاں رمضان المبارک میں جنات قرآن نہ پڑھتے ہوں۔ وہ پڑھتے بھی بہت زیادہ ہیں، وہ سنتے بھی بہت زیادہ ہیں ،وہ سمجھتے بھی بہت زیادہ ہیں۔ ان کے اندر تفسیری علوم ( قرآن پاک کے متعلق) بہت زیادہ ہیں۔ ایک رمضان میں میں اپنے ایک خاص دوست کو جنات کے ختم القرآن میں لے گیا۔ انسان دوست میرے ساتھ اس اڑن سواری میں بیٹھے، خوفزدہ تھے، ڈر رہے تھے تو میں نے ان کے اوپر سانس روک کر سات دفعہ ”ولایودہ حفظہما وھوالعلی العظیم،، پڑھ کر دم کیا تب انہیں سکون آگیا جب انہوں نے وہاں کے کھانے کھائے، ختم القرآن کے مناظر دیکھے، سواری کو اڑتے، سواری کو اندھیرے کے پاتال سے نکلتے اور عجیب و غریب جنات کی خوفناک شکلوں کو دیکھا چونکہ میں ساتھ بیٹھا تھا اور میرا روحانی ہاتھ تھا اس لیے انہیں ہلکا سا خوف تو ہوا لیکن زیادہ خوفزدہ نہ ہوئے، ورنہ تو عام آدمی کا ہارٹ فیل ہوسکتا ہے، اتنے زیادہ خوفناک مناظر ہیں، قلم کی دنیا میں بیان کرنا تو بڑی بات ان کیلئے قلم اٹھانا ہی بڑی بات ہے، وہ بیان سے باہر ہے اور انہوں نے جب کھانے کھائے تو حیران ہوگئے کہ ایسے کھانے تو دنیا میں ہیں ہی نہیں، مجھے کہاں سے مل گئے اور وہ کھائے جاتے تھے اور حیران ہوتے جاتے تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ کھانا بس یہیںکھانا ہے اس کو ساتھ نہیں لے جانا۔ انہوں نے کھانا کھایا اور خوب جی بھر کے کھایا، پھر میں انہیں واپس لایا اور سختی سے تاکید کی کہ کسی سے تذکرہ نہ کرنا ورنہ تمہاری موت واقع ہوجائے گی کیونکہ اس طرح کے کئی واقعات میری آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں اور واقعی انہوں نے کسی سے ابھی تک بیان نہیں کیا۔
    یہ کائنات کا سربستہ راز ہے جو کچھ کچھ میں آپ کے سامنے بیان کررہا ہوں، سارے بیان نہیں کرسکتا ایک تو اجازت نہیں، دوسرا میری یہی باتیں ہی بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہورہیں، برتن بہت چھوٹے ہیں، کیسے بیان کرسکتا ہوں۔ اس لیے سب سے بہتر چیز خاموشی اور سکون ہے جو کہ میرے مزاج کا حصہ ہے۔ رمضان کے کچھ معمولات آج کے صفحات میں میں نے آپ کے سامنے بیان کیے کہ رمضان المبارک جنات کے ہاں کیسے گزرتا ہے اور جنات رمضان المبارک سے کیسے استفادہ کرتے ہیں اور جنات رمضان المبارک کا والہانہ کیسے استقبال کرتے ہیں ان کی عیدکی نماز میں بھی میں شامل ہوا، عید کیا تھی، نماز کیا تھی، واقعی ایک سماں تھا جس میں برکت، رحمت اورکرم کا دریا بہہ رہا تھا۔ ان کی نماز بہت طویل ہوتی ہے، میں اس میں شامل ہوا اور عید کے بعد ایک دوسرے کو طرح طرح کے کھانے اور میٹھی ڈشیں کھلاتے ہیں، ان کھانوں اور میٹھی ڈشوں کے اندر طرح طرح کے ذائقے اور خوشبوئیں ہوتی ہیں یہ پھر کبھی بیان کروں گا۔ اللہ پاک جل شانہ جنات کی طرح ہمیں بھی رمضان المبارک کا ادب اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  12. #27
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اس دفعہ رمضان المبارک میں تو واقعی ختم قرآن کے اتنے سلسلے چلے کہ خود میں تھک گیا۔ آخر میں انسان ہوں اور وہ قوم جنات‘ میں اپنی مصروف زندگی میں ان کا ساتھ کیسے دے سکتا ہوں۔ لیکن ہر جن کا اصرار یہی تھا کہ آپ ہمارے ختم القرآن میں آئیں۔ مجبوراً مجھے جانا پڑا۔ ادھر میں تراویح پڑھ کے جسم ٹوٹا تھکا اپنے گھر آتا پانی کے چند گھونٹ پیتا‘ اُدھر ان کا تقاضا کہ ہمارے ہاں ختم القرآن پر چلیں۔ بعض راتیں تو ایسی تھیں کہ ایک ایک رات میں مجھے نو نو ختم القرآن کی مجالس میں حاضری دینی پڑی اور بعض اوقات سحری مجھے جنات کے پاس کرنی پڑی۔ میں جو چیز خاص طور پر آپ حضرات کو بتانا چاہوں گا وہ اُن حضرات کا قرآن سے تعلق‘ قرآن سے محبت اور قرآن سے الفت ہے میرا مشاہدہ اور سوفیصد مشاہدہ یہی ہے کہ جتنے بڑے بڑے قاری علماءمحدثین‘ مفسرین اور قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے والے جنات کے پاس ہیں شاید انسانوں میں صدیوں میں بھی پیدا نہ ہوئے ہوں۔
    میں ایک کم علم رکھنے والا شخص لیکن میری تقریر کو وہ ایسی دل گرفتگی اور شوق سے سنتے ہیں کہ ان پر گریہ اور آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات سسکیاں اور اکثر آہ وبکا کی آوازیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ ابھی تیرہ رمضان کو درس قرآن اور تقریر کے دوران میں نے جنات کے بچوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر میرے اندر ایک خیال آیا کہ میرے اندر تو قوت تاثیر نہیں ہے بس ان حضرات کا قرآن سے لگائو اور محبت ہی ہے جس نے انہیں اتنا ذوق عطا کیا ہے اور یہ ذوق واقعی ان کے اندر بہت زیادہ ہے۔
    اسی رمضان میں کل من علیہا فان .... کی تفسیر میں نے بیان کی بس اللہ پاک کی طرف سے مضامین کی آمد تھی اور میں بیان کرتا چلا گیا بس بیان کیا تھااللہ کی طرف سے کچھ توجہات تھیں۔ اتنی آہ وبکا تھی اور اتنا رونا تھا کہ کئی دفعہ مجھے خاموش ہونا پڑا کہ خود میری آواز اُس رونے میںدب گئی۔ اور مجھے چپ کرانا پڑا۔ ایک بار تو میں نے حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام کی ذمہ داری لگائی کہ وہ ان حضرات کو چپ کرائیں۔ لیکن وہ چپ ہوہی نہیں رہے تھے موت کا تذکرہ‘ آخرت کا تذکرہ‘ قبر کا تذکرہ اور خاتمہ بالخیر یہ ان حضرات کیلئے ایک جان لیوا مضمون اورمنظر تھا خود مجھے ایک ایسا احساس ہوا کہ موت کی حقیقت کو جتنا مسلمان جنات جانتے ہیں شاید ہم مسلمان انسان بھی کم جانتے ہیں۔ اسی تقریر کے بعد ایک بوڑھا جن جس نے اپنی عمر ساڑھے سترہ سو سال بتائی اور ساتھ والے جنات نے اس کی تصدیق بھی کی اور انوکھی بات یہ ہے کہ ساری زندگی اس کی سومنات کے مندر کے پجاری کے طور پر گزری کوئی دوست اس کو میری تقریر سنوانے کیلئے وہاں سے لایا تھا۔ جب اس نے کل من علیہا فان.... کی تفسیر اور موت‘ جہنم‘ قبر آخرت کا تذکرہ سنا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔
    بعد میں میرے پاس آیا اور کہنے لگا میںمسلمان ہونا چاہتا ہوں اور میں نہیں بلکہ میرے ساتھ سومنات کے اور جنات پجاری بھی مسلمان ہونا چاہتے ہیں میں نے ان سب کو بلوالیا ہے میں نے انہیں کلمہ شہادت پڑھایا‘ایمان کی شرائط پڑھائیں اور ساتھ بیٹھے ایک عالم جن جن کا نام نعمان تھا انہیں تاکید کی کہ ان کے قبیلے میں جاکر انہیں اسلام ایمان اور اخلاق سکھائیں جس وقت میں انہیں کلمہ پڑھا رہا تھا وہ ہندو جنات کا ایک بہت بڑا گروہ تھا جب میں نے ان کی زبانوں سے کلمہ شہادت سنا میں خود بہت پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ یااللہ میں اس قابل کہ صدیوں پرانے سومنات کے پجاری میرے ہاتھوں کلمہ پڑھیں اور انہیں ایمان کی دولت نصیب ہو یہ تو نے کتنی بڑی سعادت میرے ہاتھوں لکھی ہے وہ ایسا جھوم جھوم کرکلمہ پڑھ رہے تھے کہ خود میرا دل یہی چاہ رہا تھا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا رہوں آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور ان کی چیخیں اور توبہ عرش الٰہی کو ہلا رہی تھیں۔ آخر میں ایک بار انہوں نے پھر دعا کا تقاضا کیا اب جو دعا ہوئی دل کی کیفیت ہی کچھ اور تھی اور ان حضرات کی آمین.... ظاہری طور پر بھی اور دل میں بھی ایک احساس ہورہا تھا کہ اللہ جل شانہ نے میری دعا کو سن لیا قبول فرمالیا‘ عرش الٰہی پر اٹھا لیا ان میں سے ہر جن کو میں نے ابتدائی سبق پانچ کروڑ دفعہ کلمہ پڑھنے کا دیا کہ پانچ کروڑ دفعہ کلمہ پڑھ کر پھر مجھ سے آئندہ سبق لیں اور باقی اپنی دینی زندگی عالم دین نعمان صاحب سے سیکھتے رہیں۔
    جب میں اٹھ رہا تھا چونکہ اتنے لاکھوں جنات سے میں مصافحہ نہیں سکتا تھا تو میں نے سب سے اجتماعی سلام کہا اور جب وعلیکم السلام کا جب میں نے جواب سنا تو دل میں ایک احساس سا ہوا کہ یااللہ انہوں نے مجھ پر سلام بھیجا ہے اے اللہ اپنی بارگاہ کو اپنی میں قبول فرما کر پوری امت کو سلامتی پورے عالم کو سلامتی اور ہمارے ملک کو سلامتی عطا فرما۔ ویسے بھی جناتی دنیا میں سلام کرنے کا ذوق بہت زیادہ ہے۔ مجھے ایک بوڑھے جن نے جس کو میں نہیں جانتا لیکن وہ مجھ سے بیعت ہے۔ ایک دفعہ بتایا جس کھانے سے پہلے اکیس دفعہ یَاسَلاَمُ پڑھ لیا جائے یا دوائی کھانے سے یا کھانا کھانے سے پہلے یا کسی سفر سے پہلے یا کسی کام سے پہلے یا کسی مہم سے پہلے یا کسی مقصد سے پہلے اکیس دفعہ یَاسَلاَمُ پڑھ لیا جائے وہ کھانا شفاءاور صحت بن کر‘ وہ دوائی شفاءو صحت حتیٰ کہ بہت جلد وہ دوائی چھوٹ کر مکمل شفاءیابی ہوجاتی ہے اور جس مہم میں جائے‘ جس مقصد کیلئے جائے وہاں کی تکلیفوں سے دور ہوکر خیریں اس کا مقدر ہوجاتی ہیں اور برکتیں اور رحمتیں اس کے قدم چومتی ہیں اور مزید بوڑھے جن نے بتایا کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے ہوئے صرف پانچ یا سات بار یَاسَلاَمُ پڑھے گا گھر سے جھگڑے‘ تکلیفیں بیماریاں پریشانیاں اور مسائل ختم ہوجائیں گے‘ مشکلیں ختم ہوکر آسانیاں اور برکتیں اس گھر میں آجائیں گی اور واقعی میں نے جس جس کو یہ دونوں عمل بتائے اور جس نے بھی کیے انہوں نے اس کے کمالات سوفیصد پائے بلکہ اس سے بھی زیادہ پائے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  13. #28
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    اسی رمضان میں جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ رمضان المبارک کی تقاریب مسلسل بیانات‘ دعا اور ختم القرآن میں جانا گزشتہ رمضان کی نسبت زیادہ ہوا۔ ٹھٹھہ کی قدیمی جیل اور جنات کا عقوبت خانہ جہاں بدمعاش اور شریرجنات کو قید کیا جاتا ہے اور ان کو سزا دی جاتی ہے۔ مجھے ایک دوست جن کے ذریعے پیغام موصول ہوا کہ وہاں کے ایک قیدی جن جس کا نام حافظ عبداللہ ہے نے قرآن ختم کیا ہے اس کی خواہش ہے آپ ختم القرآن میں برکت کیلئے چند الفاظ بیان کریں اور دعا کرائیں۔
    باوجود مصروفیات کے میں 29 رمضان کی رات کو ٹھٹھہ کے میلوں پھیلے صدیوں پرانے قبرستان مکلی میں جنات کی مخصوص سواری کے ذریعے حاضر ہوا۔ حافظ عبداللہ دراصل اپنے کیے کی ایک سزا کاٹ رہا ہے اس کا جرم یہ تھا کہ ایک رات وہ اپنی خالہ کے گھرکی طرف سفر میں جارہا تھا ایک حسین خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھیں چاندنی رات اس خاتون کے کھلے بال اور حسن و جمال نکھرا ہوا تھا۔ اس کی نیت میں خرابی پیدا ہوئی اس نے اس خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ دل بہک گیا اور طبیعت مچل گئی دراصل وہ خاتون ایک صالح اور بہت نیک تھی اس نے اور تو کچھ نہیں کیا یَاقَہَّارُ کثرت سے پڑھنا شروع کردیا اور اتنا پڑھا کہ وجد اور وجدان سے بھی آگے نکل گئی بس اس کا کام سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھنا تھا اور اللہ سے فریاد کرنا تھا کہ اے اللہ! یہ جن جس نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے میری پہنچ سے تو بالا تر ہے کیا یااللہ تو بھی بے بس ہے؟ اے اللہ ! میں اسے ہرگز معاف نہیں کرونگی اسے اپنی غیبی پکڑ میں لے اور میرا انتقام لے۔
    بس پھر قدرت کی اندیکھی لاٹھی حرکت میں آئی۔ حافظ عبداللہ کا اپنے قریبی چچازاد سے کچھ گھریلو معاملات میں جھگڑا ہوگیا اور اس کے ہاتھوں ناچاہتے ہوئے وہ چچازاد قتل ہوگیا اب یہ اسی کی سزا بھگت رہا ہے کیونکہ دل کا اچھا‘ اندر کا نیک ہے‘ پہلے عورت سے غلطی کربیٹھا پھر اس کی بددعا نے اس انجام تک پہنچا دیا اور ویسے بھی یَاقَہَّارُ کا وجد کی حالت میں ہزاروں لاکھوں دفعہ پڑھنا جنات کو ایسے قہر میں مبتلا کرتے ہیں اور جادو کی کاٹ کو ایسے انداز سے واپس پلٹاتے ہیں کہ انسان گمان نہیں کرسکتا ہاں کوئی دیوانہ وار پڑھنے والا ہو تو۔ اب حافظ عبداللہ کی قید کٹ رہی ہے وہ ایک ایک دن سوچ سوچ کر گن رہا ہے جن ہے خطا کا پتلا ہے‘ اس کی زندگی میں بہت زیادہ نیکیاں لیکن بعض اوقات بعض خطائیں ایسی ہوتی ہیں جو نیکیوں کے ترازو سے بڑھ کر انسان کو کسی عذاب اور بلا میں مبتلا کردیتی ہے بالکل یہی حال حافظ عبداللہ جن کا ہوا۔ آپ یقین جانیے جب میں نے اس کا قرآن سنا اور اس قرآن کے اندر جب آیت وعدہ یعنی جس سے مومنوں سے جنت‘ نصرت‘ انعامات اور اللہ کی مدد کا وعدہ ہے تو جب یہ آیت پڑھتا تو اس کے لہجے کی رعنائی اور خوشی بشاشت ایسے ٹپکتی اور ایسے واضح ہوتی کہ جیسے ابھی اللہ کی رحمت مدد اور وعدے اتر رہے ہیں اور جب آیات وعید پڑھتا یعنی جہنم‘ عذاب اللہ کی مدد کا ہٹنا‘ دھمکی‘ ڈر خوف جب یہ آیات آتیں تو اس کے آنسو ہچکیاں‘ سسکیاں ایسی کیفیت کہ خود سننے والے بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔
    اس دفعہ پورے ٹھٹھہ کی جیل کو حافظ عبداللہ نے تمام مسلمان جنات کو تراویح میں قرآن سنایا۔ اور تمام جنات مستقل بیس تراویح ہی پڑھتے ہیں ختم القرآن کے موقع پر جب میں نے حافظ عبداللہ سے اس کی گرفتاری اور قید کے واقعات سنے تو دل میں اس کی ذات کیلئے ایک ہمدردی پیدا ہوئی اور ہمدردی بھی ایسی پیدا ہوئی کہ جی میں آیا کہ میں اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات‘ برکات‘ ثمرات اور انوکھے کرشمات بیان کروں۔ کیونکہ اسم یَاقَہَّارُ ہی کی وجہ سے حافظ عبداللہ آج جیل کی سخت قید کاٹ رہا ہے اور اس کیلئے ترس اس لیے آیا کہ اے کاش یہ ایسا نہ کرتا تو آج یہ کہیں اور ہوتا۔ اتنی کڑی اور سخت جیل میں نہ ہوتا۔
    میرے جی میں تھا کہ اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات آج کے بیان میں جنات کے لاکھوں کے مجمع میں وضاحت سے بیان کروں لیکن اس سے پہلے ایک انوکھا واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک بوڑھا قیدی جن جو کہ ہندو تھا وہ میرے قریب آیا ہاتھ ملایا‘ بوسہ دیا اور رونے بیٹھ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا درد آپ کے اندر۔ مجھے کہنے لگا آپ اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات انسانوں سے بیان نہ کریں۔ مجھے خبر ہے آپ عبقری رسالہ میں لکھتے ہیں اور جس سے لاکھوں لوگ فیض پاتے ہیں اگر اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات کا انسانوں کو پتہ چل گیا تو انسان جنات کو بھون کر رکھ دیں گے پھر کہنے لگے میری عمر ساری کالی دیوی کے چرنوں میں گزری ہے ایک جرم کی پاداش میں۔ میں کلکتہ کے قریب رہنے والا ہوں وہاں سے لاکر یہاں ہمیں قید کردیا گیا ہے کیونکہ انسانوں کے درمیان ملکوںکی سرحدیں ہیں ہمارے ہاں ملکوں کی کوئی سرحدیں نہیں ہمارے لیے پوری دنیا سارے ملک‘ سارے صوبے ایک ہی ملک کی مانند ہیں۔ ہمارے ایک بہت بڑے پنڈت تھے جو کہ انسان تھے اور یہ بات اس دور کی ہے جب محمدشاہ رنگیلے کا دور تھا وہ پنڈت اپنے علوم اور کمالات میں ایسا ماہر تھا کہ محمدشاہ رنگیلا بادشاہ بھی اس کی ایسی قدر کرتا تھا کہ شاید ماں کی بھی کم کرتا ہو۔
    محمد شاہ رنگیلا جہاں اپنے رنگیلے کردار کی وجہ سے رنگیلا تھا لیکن اس میں ایک ایسی خوبی تھی جو کم بادشاہوں میں تھی کہ وہ صاحب کمال کوئی بھی شخص ہو اور کسی بھی فن کا ہو اس کا بہت قدر دان تھا۔ تو ہمارے ہندو پنڈت جن کا نام پنڈت بھوگا رام تھا سے ایک دفعہ سوال کربیٹھا کہ ماہراج کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جو جنات اور جادو کا آخری ہتھیار ہو‘ ننگی تلوار ہو اور جب بھی اس کو پڑھا جائے تو جادو جنات ایسے ٹوٹے جیسے میرے ہاتھ سے جام پتھر کے فرش پر ٹوٹ کر چکنا چور ہوجاتا تھا۔ پنڈت بھوگا رام اپنی جاپ میں تھی سر اٹھایا ان کی سرخ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے تو پنڈت نے کہا آپ کو ایک چیز بتاتا ہوں کیونکہ آپ مسلمان ہیں
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  14. #29
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    تو آپ کو ایک ایسی اسلامی چیز دیتا ہوں جو یقینا آپ کو زندگی کے وہ کمالات دے جو آپ کو اور آپ کی نسلوں کو سدا اور صدیوں یاد رہے محمد شاہ رنگیلا بادشاہ ایک دم چوکنا ہوکر بیٹھ گیا۔ اپنے تاج کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور کانوں کو قریب لے گیا تو پنڈت بھوگا رام بولا شہنشاہ اعظم آپ کے قرآن میں ایک لفظ ہے قہار یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کو آپ یَاقَہَّارُ جب بھی پڑھیں گے یہ شریر جادوگر‘ بدکار‘ جنات اور جادوگروں پر ایک ننگی تلوار ثابت ہوگی۔ آپ کے اوپر جادو کسی نے کردیا آپ اس کو توڑنے پر تیار ہیں کوئی جن آپ کا گھر‘ در اور دولت کا دشمن ہے اور آپ چاہتے ہیں اس جن سے چھٹکارا مل جائے تو ہرگز ہرگز پریشان نہ ہوں آپ فوراً اس اسم یَاقَہَّارُ کو اپنی زندگی کا ساتھ بنالیں‘ پاک ناپاک ہروقت اس کو وجد کی حالت میں پڑھیں‘ یعنی ڈوب کر پڑھیں اور بے قراری‘ بے چینی سے پڑھیں۔ بس جب بھی پڑھیں گے آپ کو اس کا کمال ملے گا تھوڑے عرصے میں یا زیادہ عرصے میں لیکن کمال ضرور ملے گا۔ وہ ہندو بوڑھا جن کہنے لگا یہ گفتگو میں نے خود سنی اور اس کے بعد محمد شاہ رنگیلے نے اپنی بھری دربار میں یہ واقعہ سب کو سنا دیا۔ اس کے دربار میں ہندو بھی تھے‘ مسلمان بھی تھے اور سکھ بھی تھے بوڑھا ہندو جن رو کر کہنے لگا مجھے یاد ہے رنگیلے کے دور میں جنات پر اس اسم کی وجہ سے جو قہر برسا وہ شاید پھر زندگی میں کبھی کسی پر نہ برسا اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ جنات کے پیرومرشد ہیں اور آپ کو علامہ لاہوتی پراسراری ایسے نہیں کہا جاتا‘ جنات کے قبائل در قبائل آپ کے مرید اور غلام ہیں لیکن براہ کرم اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات انسانوں تک نہ پہنچنے دیجئے۔ اگر وہ انسانوں تک پہنچ گئے تو انسانوں نے جنات کی نسلوں کی نسلیں جلا کر رکھ دینی ہیں۔

    کیونکہ شریف جنات کم اور شریر جنات بہت زیادہ ہیں۔ میں نے جب بوڑھے ہندو جن کی یہ بات سنی تومیں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے مجھ ایک ایسا تاریخی واقعہ سنایا جس نے مجھے کافی تجربہ دیا لیکن میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ میں یہ واقعہ انسانوں تک نہ پہنچائوں کیونکہ انسانوں کا درد میری طبیعت کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے میں یہ وعدہ نہیں کرسکتا پھر اسم یَاقَہَّارُ کے واقعات میں نے جنات کو بتائے اور ختم القرآن میںمیں نے حافظ عبداللہ کو کہا میراجی کہتا ہے کہ حافظ صاحب آپ دعا کریں ان کا اصرار تھا کہ ہم نے تو دعا کیلئے آپ کو بلایا ہے ان سے عرض کیا میرا حکم ہے حکم کو مانتے ہوئے حافظ عبداللہ نے سوا گھنٹے کی دعا جس میں سسکیاں اب ختم ہوچکی تھیں اب تو آہ اور چیخ و پکار تھی اور ایک ہجوم انتیس رمضان کی رات کو اللہ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے رو رہا تھا۔ اس کی دلدوز دعا درد بھرے الفاظ اور غم میں ڈوبی ہوئی فریادیں عرش الٰہی کو ہلا رہی تھیں‘ وہاں ہر طرف جنات ہی جنات تھے سوائے مجھ ایک انسان کے.... اور ایک عجیب منظر تھا ....ایک عجیب سماں تھا.... اور ایک بالیقین کیفیت تھی کہ اللہ پاک جل شانہ نے سب دعائیں قبول فرمالیں اور ہر طرف رحمت اور مغفرت کا اعلان ہوگیا یقین بھی تھا‘گمان بھی تھا اور دل کو اطمینان بھی تھا۔ میں نے ان جنات کے سامنے اسم یَاقَہَّارُ کے جو کمالات بیان کیے اور یہ گفتگو تقریباً سوا تین گھنٹے تک چلتی رہی‘ اس میں سے کچھ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیے ہیں۔

    وہ خاص خاص عمل جو یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں میں نے جنات کے لاکھوں ہجوم میں بیان کیے ان میں ایک یہ ہے جو شخص یاقہار کو جدا جدا حرف میں لکھے یعنی ”ی“ علیحدہ ”ا“ علیحدہ ”ق“ علیحدہ” ہ“ علیحدہ پھر”ا“ علیحدہ اور”ر“ علیحدہ اور پھر اسی طرح دوسری دفعہ یعنی کل اکتالیس دفعہ جدا جدا حروف میں لکھے اور کالی سیاہی گھلنے والی ہو جو پانی میں گھل جائے اس کو تعویذ بنا کر گلے میں بھی ڈال سکتا ہے‘ پی بھی سکتا ہے اور اپنے تکیے کے اندر بھی رکھ سکتا ہے جادو کا پرانا مارا ہوا‘ نظر بد کا ڈسا ہوا اور جنات کا بہت متاثر ہو ایسے گھر جن میں جنات آگ لگا دیتے ہیں‘ کپڑے کاٹ دیتے ہیں‘ کپڑوں پر خون کے یا گندی چیزوں کے نشان پڑ جاتے ہیں یا گھروں میںجگہ جگہ پاخانہ اور پیشاب ملتا ہے یا آوازیں آتی ہیں یا گھر بھر کو سونے نہیں دیا جاتا۔ گھر میںبیماری‘ پریشانی ایک مشکل سے نکلنا دوسری میں اور دوسری سے نکلنا تیسری میں.... ایسے تمام معاملات میں یَاقَہَّارُ کا اکتالیس دفعہ کا لکھا ہوا نقش نہایت موثر اور آزمودہ ہے آپ کیلئے ایک بات اور انوکھی ہوگی جنات بھی ایک دوسرے پر بہت جادو کرتے ہیں۔ مجھے ایک پڑھے لکھے عالم جو کہ سہارن پور کے ایک بڑے مدرسے میں اٹھارویں صدی میں پڑھے تھے انہوں نے بتایا کہ یَاقَہَّارُ کا یہ نقش جب تک ہم اپنے گھروں میں لگاتے ہیں کسی جن کا جادوئی وار ہمارے اوپر اثر نہیں کرتا اور اگر ہم اتار دیں تو اس کا وار اثر کرجاتا ہے۔

    لہٰذا ہم بہت اہتمام سے یَاقَہَّارُ کا نقش گھروں میں ہر جگہ لگاتے بھی ہیں اپنے بچوں کے گلے میں ڈالتے بھی ہیں اور اس کو دھو کر اس کا پانی پیتے ہیں حتیٰ کہ اپنے کھانے پینے کی ہر چیز میں یہ پانی ڈالتے ہیں اور پانی بڑھاتے چلے جاتے ہیں مہینوں یہ نقش پیتے ہیں جب نقش بوسیدہ ہوجاتا ہے مزید لکھ کر اس میں ڈال دیتے ہیں اورپانی بڑھاتے جاتے ہیں اپنے گھروں میں چھینٹے بھی مارتے ہیں۔ اس عالم جن کی بات سننے کے بعد میں نے اس کو ایک بات سنائی کہ میرے پاس ایک واقعہ ایسا ہوا کہ جنات گھر میں پتھر مارتے تھے‘ مٹی کے ڈھیلے مارتے‘ گائے بھینس کا گوبر حتیٰ کہ بلی اور کتے کا پاخانہ جگہ جگہ گھر میں بکھیر دیتے‘ جگہ جگہ پیشاب کردیتے گھر بھر میں ایک عجیب و غریب افونت تھی اور غلاظت تھی اس عفونت اور غلاظت کی وجہ سے گھر میں رہنا دوبھر تھا۔ دنیا کا ہر علم اور اس کی کوشش کرکے دیکھ لی تھی کوئی فائدہ نہیں ہوا بہت عامل آئے کچھ تو ایسے تھے اپنا بیگ بھی چھوڑ کر بھاگ گئے جنات نے انہیں رہنے نہیں دیا اور جنات خود ان کے پیچھے پڑگئے۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

  15. #30
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    573
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)

    جب یہ ہر طرف سے مایوس ہوگئے تو میں نے انہیں یَاقَہَّارُ ہر نماز کے بعد ایک سو اکیس دفعہ اول و آخر تین دفعہ درود شریف اور اس کا نقش پینے پہننے اور گھروں میں لگانے کیلئے دیا اور مزید تاکید کی کہ اس پانی کے گھر میں چھینٹے ماریں‘ چھڑکیں اور کھانے پینے کی ہر چیز میں اس کو شامل ضرور کریں اورایسا ہی ہوا۔ دن اور رات چلتے رہے‘ ان کے گھر سے یہ مصیبتیں اور جناتی دنیا ایسی گئی کہ کہنے لگے کہ ہم نے خواب میں اب دیکھنا شروع کردیا ہے کہ وہ چیزیں آآ کر ہماری منتیں کرتی ہیں کہ آپ یہ پڑھنا چھوڑ دیں اور یہ عمل کرنا چھوڑ دیں اور اپنے گھروں سے نقش ہٹا دیں اور اپنے گلے سے نقش اتار دیں اور اس نقش کو پینا چھوڑ دیں انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ جنات ایسے کہتے ہیں میں نے کہا ہرگز نہ کرنا ان کا مقصد ہے یہ ان اعمال سے خالی کرکے تمہارے اوپر کوئی بڑا حملہ کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اپنے عمل میں لگے رہیں اور پہلے سے زیادہ کوشش محنت اور توجہ اور دھیان سے اس کو پڑھتے رہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اللہ کی رحمت سے ان کے مسائل حل ہوگئے۔ آج وہ گھرانہ اُس سوسائٹی میں سب سے زیادہ پرسکون گھرانہ ہے۔ ایک پلاسٹک فیکٹری کے مالک نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میرا مال پڑا پڑا خراب ہوجاتا ہے اس میں آگ لگ جاتی ہے‘ مشینیں ٹوٹ جاتی ہیں‘ ہر وقت خراب رہتی ہیں‘ کام بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں ملازم بھاگ جاتے ہیں‘ فیکٹری میں ایک وحشت‘ خوف اور مستقل پریشانی رہتی ہے‘ آپس میں لڑائی جھگڑے اور یونین بن گئی ہے۔ رزق آتا ہے لیکن برکت نہیں ہے ‘ رزق رکتا نہیں ہے۔ بعض اوقات فیکٹری میں رہنے والے ملازم طرح طرح کے انوکھے واقعے دیکھتے ہیں‘ کوئی بھیڑ ہے کوئی بکری ہے‘ کوئی کتے ہیں مستقل آپس میں کھیل رہے ہیں جب قریب جاتے ہیں تو وہ چیزیں غائب ہوجاتی ہیں۔
    مزید کچھ لوگوں نے تویہاں تک دیکھا کہ کوئی میت ہے اس پر بہت سے لوگ رو رہے ہیں خواتین کھلے بالوں کے ساتھ بین کررہی ہیں‘ ان کا رونا اس حد تک بڑھ جاتا ہے خود دیکھنے والے کو بھی رونا آجاتا ہے وہ حقیقت کو بھول جاتا ہے یہ سب کچھ حقیقت ہے یا سچ ہے جھوٹ ہے یا دھوکہ ہے وہ روتے روتے دیوانہ ہوجاتا ہے اور جب قریب جاتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
    وہ حیران ہوتا ہے کہ دور سے قہقہوں کی آواز آتی ہے اور یہ آواز آتی ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ جائو یہاں بہت پہلے ہمارا مندر ہوتا تھا پھر اس کو لوگوں نے مسمار کردیا اب اس جگہ فیکٹری بن گئی لہٰذا اب تمہاری خیر اس میں ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر یہاں سے چلے جائو۔ ملازم بیمار ہوجاتے ہیں ان کو تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی دوا سے ٹھیک ہی نہیں ہوتیں وہ تندرست نہیں ہوتے مستقل بے چین‘ بے قرار رہتے ہیں شفاءیابی کوئی امید نہیں آتی اب تو یہاں تک معاملہ ہوگیا ہے جو اس فیکٹری میں کام کرتے ہیں ان کے گھر بھر بیمار ہوتے ہیں‘ بچے بیمار‘ بیوی بیمار‘ گھر میں جھگڑے پریشانیاں شروع ہوگئی ہیں اور سب ملازموں کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے جو یہاں رہے گا برباد رہے گا یہاں سے چھوڑ جانے میں عافیت ہے لہٰذا سب ملازم اس بات کا عزم لیے ہوئے ہیں کہ ہمیں یہاں سے چھوڑ کر چلے جانا چاہیے اور بہت سے چھوڑ گئے اور بہت چھوڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ یہ غمناک کیس جب میرے سامنے آیا تو میں نے یَاقَہَّارُ لاکھوںکی تعداد میں پڑھنے کا کہا اور پھر اس کے نقش لگانے ‘پینے اور پہننے کو کہے اور حتیٰ کہ ہر مشین کے اوپر اکتالیس دفعہ کا یہ نقش چپکائیں اور جو ملازم نمازی ہیں ان سے کہیں کہ وہ یَاقَہَّارُمسلسل پڑھیں اور جو بے نمازی ہیں ان کو نماز کی ترغیب دیں اور ان سے بھی کہیں کہ یہ پڑھیں میں نے سارے جنات کو متوجے کرکے دعوے سے بات کہی کہ یہ عمل جب میں نے انہیں بتایا تو صرف پانچ ہفتے محنت کرنے سے فیکٹری کے اندر ایک دھماکہ ہوا اور بہت ساری مٹی اڑی اور چیخ وپکار شروع ہوئی‘ انہوں نے حیران ہوکر دیکھا تو کچھ تھا نہیں اور مٹی کا ایک بہت بڑا غبار دھماکے کے بعد ساری فیکٹری پر چھاگیا وہ میرے پاس پہنچے میں نے جنات کو تحقیق کیلئے بھیجا تو پتا چلا کہ وہ سب جن جل گئے اور ان میں ایک بہت بڑا دیو تھا جو ان کا سربراہ تھا یہ اس کے جلنے اورمرنے کی نشانیاں ہیں اور یہ چیخ و پکار اسی کی تھی۔
    واقعی اس کے کمالات اور برکات اتنی زیادہ ہیں کہ میں اپنی عمر کے جتنے سال بھی بیت چکا ہوں اتنے سال اتنے مہینے اور اتنے دن جس میں ہر روز اس کی نئی کہانی اور نئی گفتگو شروع ہوتی ہے۔ جو شخص کسی بُری عادت سگریٹ‘ نشہ‘ چرس‘ افیون‘ ہیروئن یا زنا شراب‘ بدنظری‘ چھوٹا گناہ یا بڑا گناہ اس عادت سے چھٹکارا چاہتا ہو تو اسے چاہیے ہر نماز کے بعد اس کی ایک تسبیح پڑھے اور وہ نقش جو میں پہلے بتاچکا ہوں اس کو مستقل لکھ کر روزانہ ایک نقش پئے چالیس دن‘ خود لکھے یا کوئی اسے لکھ کر دے وہ پیے اگر کوئی شخص خود پینے کو تیار نہیں تو اس کا کوئی مخلص اس کی نیت کرکے پیے تو اس کی نیت کرکے پڑھے تو بھی ضرور اثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات چالیس سے زیادہ نقش پینے سے فائدہ ہوتا ہے یعنی جتنی دل کی سیاہی ہوگی اتنا اس پر محنت کرنے پڑے گی۔ اور جتنی محنت ہوگی اتنا صلہ ملے گا۔ میں جنات میں یہ گفتگو کر ہی رہا تھا ایک جن کی ایک زوردار چیخ نکلی وہ اتنی اونچی تھی کہ آسمان تک پہنچی اور اگر میں بھی حصار میں نہ ہوتا تو شاید زندہ نہ رہتا اور اس کی خوفناک چیخ سے پہاڑ اور پورا ویرانہ دہل اٹھا میں خاموش ہوگیا۔ وہ چیخ مار کر بیہوش ہوگیا‘ خادم جنات اسے اٹھا کر میرے پاس لائے محسوس یہ ہوتا تھا کہ اس کی آخری سانسیں ہیں پھر میں نے اپنے ایک خاص عمل کو نہایت توجہ دیکر اس کیلئے پڑھا اور محنت کی تھوڑی ہی دیر میں اس نے آنکھ کھولی میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے جتنی دیر آپ یَاقَہَّارُ کے کمالات بتاتے رہے اتنی دیر میں سانس روک کر اس کو مسلسل پوری طاقت اور یقین سے پڑھتا رہا ۔پڑھتے پڑھتے مجھے احساس ہوا کہ میرے جسم کے روئے روئے سے خون نکلنا شروع ہوگیا‘ میں نے محسوس کیا تو واقعی ایسا ہوچکا تھا‘ لیکن میں پھر بھی پڑھتا رہا‘ بس پھر مجھے خبر نہیں کیا ہوا؟ اور میں بے ہوش ہوگیا۔ میں نے دیکھا تو اس کا جسم جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا اور جسمانی حالات اس کے ناقابل بیان تھے۔ میں نے اس سے ایک سوال کیا سچ بتائو کیا تم نے کبھی کسی کے سود یا رشوت کے پیسے چرائے تھے۔ ٹھنڈی آہ بھر کے کہنے لگا ہاں میں نے ایک انسان کے پیسے مسلسل کئی سال چرائے ہیں۔ اس کا شبہ سود اور رشوت کا تھا میں نے کہا کلمہ پڑھو اس نے کلمہ پڑھا اور بہت اونچی آواز میں پڑھا اور زور زور سے پڑھا اور پھر بار بار کہنے لگا یااللہ مجھے معاف کردے۔ یااللہ مجھے معاف کردے یااللہ مجھے معاف کردے اور چوتھی بار یااللہ منہ سے نکلا آگے نہیں بولا اور اس کا دم ٹوٹ گیا۔ بہت افسوس زدہ خبر تھی .... اس کی میت کو اٹھا کر خادم جنات نے ایک طرف رکھ دیا۔ میں نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور وہی گفتگو میں آپ حضرات کو بتا رہا ہوں۔ ایک شخص میرے پاس بہت پرانی بات ہے اپنا ایک بیٹا لے کر آیا جس کی دونوں آنکھیں چندھیائی ہوئی تھیں عمر ستائیس اٹھائیس سال کے قریب تھی دن کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتا تھا رات کے اندھیرے میں اسے کچھ نہ کچھ نظر آتا تھا۔ میں نے پوری روحانی تحقیق کے بعد اس کے کیس کو چیک کیا تو محسوس ہوا کہ دراصل وہ کسی سیروتفریح کے سلسلے میں کالج کے دوستوں کے ساتھ پرانے کھنڈرات میں گیا ان پرانے کھنڈرات میں کچھ شریر جنات کا وجود تھا ان شریر جنات نے اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے اس پر عاشقی اور دوستی کا اظہار کیا اور اسے کسی عیب میں مبتلا کردیا تاکہ اس کی شادی نہ ہوسکے۔ اور یہ بات واضح بتاتا چلوں کہ بعض لڑکیوں اور لڑکوں کو چہرے یا جسم کے کسی ظاہری حصے پر اگر کوئی عیب شروع ہوجائے تو اس کے پیچھے اصل میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ظاہر میں بیماری ہوتی ہے۔ اور یہ لوگ اس کی شادی نہیں ہونے دیتے یعنی اس کو کسی دوسرے کے پہلو میں دیکھتے ہوئے ان کو غصہ آجاتا ہے۔ اس لیے اگر ان کی شادی ہوبھی جائے تو مسلسل تلخیاں ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
    جب میں نے انہیں یہ تشخیص اور تحقیق بتائی تو اس جوان نے اعتراف کیا ہاں واقعی ایسا تھا۔ میں ایک ویرانے میں گیا تھا میں گانے بجانے میں بہت ماہر ہوں‘ میں نے وہاں ایک گلوکار کی غزل گائی تھی‘ گٹار میرے ساتھ تھا۔ اور اس کی دھن ایسی خوبصورت تھی نامعلوم کتنی اچھی تھی میں خود حیران ہوا۔ بس اسکے بعد میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھیں آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہیں۔ اور ایک چیز جو انوکھی بتائی وہ یہ بتائی کہ خواب میں اکثر میں دیکھتا ہوں کہ کچھ خوبصورت سی مخلوق ہے جو میرے جسم اور میری آنکھوںکو چومتی ہے جتنا وہ چومتی ہے اتنی میری آنکھیں بند ہوتی جاتی ہیں جب میری آنکھیں ساری بند ہوگئیں انہوں نے چومنا بھی چھوڑ دیا میں نے ان سے کہا گھبرائیں نہیںیَاقَہَّارُ ایک تسبیح ہر نماز کے بعد سارا دن کھلا ہزاروںکی تعداد میں اور اس کے نقش مسلسل نوے دن پئیں۔ انہوں نے ایسا کرنا شروع کردیا اور تقریباً چار پانچ مہینے کی محنت کے بعد وہ جوان بالکل تندرست ہوگیا آج اس کے پانچ بچے ہیں خود اس کا بیٹا جوان ہوگیا ہے اور وہ خوش و خرم ہے۔
    قارئین! یہ بات بہت بڑی حقیقت ہےیَاقَہَّارُ جنات کا وظیفہ ہے اور جنات کا ورد ہے اور وہ جنات جو کسی عورت پر فریفتہ ہوجائے ان کو تو یہ وظیفہ بہت ہی زیادہ نفع دیتا ہے پچھلے دنوں میرے پاس ایک آدمی آیا جس کا تعلق پنجاب کے شہر ہارون آباد سے تھا وہ ایک ایسی مصیبت میںمبتلا تھا جو ظاہر بھی نہیں کرسکتا اور چھپا بھی نہیں سکتا تھا اس نے آتے ہی مجھے ایک دستی کاغذ خط کی شکل میں پکڑایا۔ اس میں لکھا تھا کہ میرا نام فلاں ہے میں اپنے علاقے میں بڑا زمیندار ہوںبہت اچھی کپاس کی اور گندم کی کاشت ہوتی ہے۔ بیٹے ہیں‘ بیٹیاں ہیں گھر ہے‘ زمینداراہ ہے زندگی بہت سکھی گزرر ہی ہے لیکن ایک روگ مجھے بہت کھائے جارہا ہے جس کا میں نے کچھ لوگوں کے سامنے اظہار کیا لیکن اس کا حل نہیں ہوسکا پھر میں نے استخارے کیے مسنون دعاکسی کے کہنے پر مسلسل سارا دن پڑھنا شروع کردی پہلے تو فوٹوکاپی کرا کر جیب میں رکھ لی پھر کچھ دنوں کے بعد وہ یاد بھی ہوگئی پھر اللہ سے کہنا شروع کردیا یااللہ! مجھے اس کا کوئی حل بتا.... تو خواب میں آپ کی شکل‘ آپ کا نام اور آپ کا مکمل پتہ بتایاگیا۔ اب میںبڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں بات دراصل یہ ہے کہ میں ابھی جوان تھا اور شادی کو تین سال ہوئے تھے میرے گھر میری بیٹی پیدا ہوئی میرے چونکہ پہلے دو بیٹے تھے بیٹی کی پیدائش پر میں بہت خوش ہوا اور میں نے بہت سی مٹھائی بانٹی۔ لوگ آرہے تھے اور مٹھائی لے رہے تھے ایک خاتون ایک دفعہ لے گئی‘ دوسری دفعہ لے گئی جب تیسری دفعہ آئی تو میں نے دینے سے انکار کردیا اس نے میرا ہاتھ تھاما کہنے لگی میرا منہ میٹھا کردے تیرا جسم میٹھا کردوں گی نامعلوم اس کے اس بول میں کیا تاثیر تھی حالانکہ وہ بالکل بوڑھی اور بہت بدشکل خاتون تھی میں نے اسے ڈھیر ساری مٹھائی دے دی۔
    رات کو سویا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آئے انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہنے لگے تیری شادی ہم ایک جن عورت سے کرنے لگے ہیں میں نے کہا میں تو پہلے سے شادی شدہ ہوں‘ کہا نہیں وہ عورت جو آج تیرے پاس مٹھائی لینے آئی تھی اس کا اصرار ہے کہ میری اس سے شادی کرو اور ہمیں حکم ملا ہے۔ کیونکہ وہ عورت مالدار ہے اور ہم اس کے غلام ہیں اور اسے لے آئو۔ مجھے اٹھا کر لے گئے‘ میں احتجاج کرتا رہا۔ لیکن میرے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی ایسے محسوس ہورہا تھا کہ زبان تو ہل رہے‘ لفظ نہیں نکل رہی وہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب میں نے اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا۔ بہت دور لے جانے کے بعد سرسبز پہاڑیاں تھیں ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے کشمیر کی پہاڑیاں ہیں‘ وہاں ہر طرف کھانے پک رہے تھے گہما گہمی تھی کچھ موسیقی اور شادیانے بھی بج رہے تھے ہر طرف خوشی کی آوازیں تھی مجھے ایک بہت خوبصورت لباس پہنایا گیا اور میں اس خوبصورت لباس میں دولہے کی شکل بن گیا۔ میں پچھلے سارے غم بھول گیا میرے اندر بھی نئی شادی کی امنگ پیدا ہوئی پھر باقاعدہ شرعی طور پر میرا نکاح ہوا حجاب وقبول ہوا اور پھر مجھے اٹھا کر دلہن کے کمرے میں پہنچایا گیا۔
    میری بیوی واقعی جیسا میں نے کوہ قاف کی پری کا حسن وجمال سنا تھا اتنی ہی خوبصورت اس کا سراپا اس کا جسم‘ اس کی خوبصورت آنکھیں خوبصورت گردن‘ گلابی ہونٹ‘ مہکتے رخسار‘ نشیلی پلکیں‘ دلربا آواز‘ خوبصورت ہاتھ اور کلائیاں جسم سسارا سونے اور ہیرے جواہرات سے لدا ہوا تھا میں نے رات اس کے ساتھ شب بسری کی۔ صبح خود ہی کہنے لگی اب میرے غلام آپ کو چھوڑ آئیں گے اپنی انسانی بیوی سے اس کا اظہار مت کرنا ورنہ وہ ناراض ہوگی۔ خط میں اس نے مزید لکھا کہ علامہ صاحب اس کہانی کو سالہا سال ہوگئے میری جننی بیوی جس کا نام عنایتاں اور میں اسے دلربا کہتاہوں بس میری دلربا کے ساتھ ایسی محبت بڑھی کہ اس میں سے میرے سات بچے ہیں جو کہ جن ہیں۔ ہماری کبھی لڑائی نہیں ہوئی‘ میں جب بہت غریب تھا جس وقت سے میری دلربا سے شادی ہوئی‘ دولت مال‘ چیزیں اور انعامات خداوندی مجھ پر بارش کی طرح برسی۔ ہمارے دن رات سالہا سال سے گزر رہے تھے ۔میں بعض اوقات بیوی کو کسی دوسرے شہر کے بہانے سے ہفتے میں دو تین دفعہ یا اپنے کسی دوست کے بہانے سے چلا جاتا ہوں اور دلربا کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ دلربا کے خادم مجھے لے جاتے ہیں وہ دور کشمیر کی پہاڑیوں پر رہتی ہے دنیا کے سب میوے اس کے پاس ہیں زمین کے خزانے اس کے تابع ہیں۔ وہ سات بچے مجھ سے محبت کرتے ہیں میں ان سے محبت کرتا ہوں جن میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے کا نام عدنان‘ برہان‘ تیسرے کا نام عترت اور چوتھے کا نام احمد اور پانچویں کا نام صادان اور دو بیٹیاں ایک کا نام فاطمہ اور ایک کا نام زینب ہے۔ اب میری اولاد جوان بھی ہوگئی ہے ادھر سے انسانی اولاد جوان ہوگئی ان کی شادیاں ہوگئیں۔
    یا اللہ دنیا میں کہیں ایسی کوئی جگا ہوتی

    اکیلے بیٹھے رہتے یاد تیری دل نشیں ہوتی۔

Page 2 of 3 FirstFirst 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •