جب یہ ہر طرف سے مایوس ہوگئے تو میں نے انہیں یَاقَہَّارُ ہر نماز کے بعد ایک سو اکیس دفعہ اول و آخر تین دفعہ درود شریف اور اس کا نقش پینے پہننے اور گھروں میں لگانے کیلئے دیا اور مزید تاکید کی کہ اس پانی کے گھر میں چھینٹے ماریں‘ چھڑکیں اور کھانے پینے کی ہر چیز میں اس کو شامل ضرور کریں اورایسا ہی ہوا۔ دن اور رات چلتے رہے‘ ان کے گھر سے یہ مصیبتیں اور جناتی دنیا ایسی گئی کہ کہنے لگے کہ ہم نے خواب میں اب دیکھنا شروع کردیا ہے کہ وہ چیزیں آآ کر ہماری منتیں کرتی ہیں کہ آپ یہ پڑھنا چھوڑ دیں اور یہ عمل کرنا چھوڑ دیں اور اپنے گھروں سے نقش ہٹا دیں اور اپنے گلے سے نقش اتار دیں اور اس نقش کو پینا چھوڑ دیں انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ جنات ایسے کہتے ہیں میں نے کہا ہرگز نہ کرنا ان کا مقصد ہے یہ ان اعمال سے خالی کرکے تمہارے اوپر کوئی بڑا حملہ کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اپنے عمل میں لگے رہیں اور پہلے سے زیادہ کوشش محنت اور توجہ اور دھیان سے اس کو پڑھتے رہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اللہ کی رحمت سے ان کے مسائل حل ہوگئے۔ آج وہ گھرانہ اُس سوسائٹی میں سب سے زیادہ پرسکون گھرانہ ہے۔ ایک پلاسٹک فیکٹری کے مالک نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میرا مال پڑا پڑا خراب ہوجاتا ہے اس میں آگ لگ جاتی ہے‘ مشینیں ٹوٹ جاتی ہیں‘ ہر وقت خراب رہتی ہیں‘ کام بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں ملازم بھاگ جاتے ہیں‘ فیکٹری میں ایک وحشت‘ خوف اور مستقل پریشانی رہتی ہے‘ آپس میں لڑائی جھگڑے اور یونین بن گئی ہے۔ رزق آتا ہے لیکن برکت نہیں ہے ‘ رزق رکتا نہیں ہے۔ بعض اوقات فیکٹری میں رہنے والے ملازم طرح طرح کے انوکھے واقعے دیکھتے ہیں‘ کوئی بھیڑ ہے کوئی بکری ہے‘ کوئی کتے ہیں مستقل آپس میں کھیل رہے ہیں جب قریب جاتے ہیں تو وہ چیزیں غائب ہوجاتی ہیں۔
مزید کچھ لوگوں نے تویہاں تک دیکھا کہ کوئی میت ہے اس پر بہت سے لوگ رو رہے ہیں خواتین کھلے بالوں کے ساتھ بین کررہی ہیں‘ ان کا رونا اس حد تک بڑھ جاتا ہے خود دیکھنے والے کو بھی رونا آجاتا ہے وہ حقیقت کو بھول جاتا ہے یہ سب کچھ حقیقت ہے یا سچ ہے جھوٹ ہے یا دھوکہ ہے وہ روتے روتے دیوانہ ہوجاتا ہے اور جب قریب جاتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
وہ حیران ہوتا ہے کہ دور سے قہقہوں کی آواز آتی ہے اور یہ آواز آتی ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ جائو یہاں بہت پہلے ہمارا مندر ہوتا تھا پھر اس کو لوگوں نے مسمار کردیا اب اس جگہ فیکٹری بن گئی لہٰذا اب تمہاری خیر اس میں ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر یہاں سے چلے جائو۔ ملازم بیمار ہوجاتے ہیں ان کو تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی دوا سے ٹھیک ہی نہیں ہوتیں وہ تندرست نہیں ہوتے مستقل بے چین‘ بے قرار رہتے ہیں شفاءیابی کوئی امید نہیں آتی اب تو یہاں تک معاملہ ہوگیا ہے جو اس فیکٹری میں کام کرتے ہیں ان کے گھر بھر بیمار ہوتے ہیں‘ بچے بیمار‘ بیوی بیمار‘ گھر میں جھگڑے پریشانیاں شروع ہوگئی ہیں اور سب ملازموں کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے جو یہاں رہے گا برباد رہے گا یہاں سے چھوڑ جانے میں عافیت ہے لہٰذا سب ملازم اس بات کا عزم لیے ہوئے ہیں کہ ہمیں یہاں سے چھوڑ کر چلے جانا چاہیے اور بہت سے چھوڑ گئے اور بہت چھوڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ یہ غمناک کیس جب میرے سامنے آیا تو میں نے یَاقَہَّارُ لاکھوںکی تعداد میں پڑھنے کا کہا اور پھر اس کے نقش لگانے ‘پینے اور پہننے کو کہے اور حتیٰ کہ ہر مشین کے اوپر اکتالیس دفعہ کا یہ نقش چپکائیں اور جو ملازم نمازی ہیں ان سے کہیں کہ وہ یَاقَہَّارُمسلسل پڑھیں اور جو بے نمازی ہیں ان کو نماز کی ترغیب دیں اور ان سے بھی کہیں کہ یہ پڑھیں میں نے سارے جنات کو متوجے کرکے دعوے سے بات کہی کہ یہ عمل جب میں نے انہیں بتایا تو صرف پانچ ہفتے محنت کرنے سے فیکٹری کے اندر ایک دھماکہ ہوا اور بہت ساری مٹی اڑی اور چیخ وپکار شروع ہوئی‘ انہوں نے حیران ہوکر دیکھا تو کچھ تھا نہیں اور مٹی کا ایک بہت بڑا غبار دھماکے کے بعد ساری فیکٹری پر چھاگیا وہ میرے پاس پہنچے میں نے جنات کو تحقیق کیلئے بھیجا تو پتا چلا کہ وہ سب جن جل گئے اور ان میں ایک بہت بڑا دیو تھا جو ان کا سربراہ تھا یہ اس کے جلنے اورمرنے کی نشانیاں ہیں اور یہ چیخ و پکار اسی کی تھی۔
واقعی اس کے کمالات اور برکات اتنی زیادہ ہیں کہ میں اپنی عمر کے جتنے سال بھی بیت چکا ہوں اتنے سال اتنے مہینے اور اتنے دن جس میں ہر روز اس کی نئی کہانی اور نئی گفتگو شروع ہوتی ہے۔ جو شخص کسی بُری عادت سگریٹ‘ نشہ‘ چرس‘ افیون‘ ہیروئن یا زنا شراب‘ بدنظری‘ چھوٹا گناہ یا بڑا گناہ اس عادت سے چھٹکارا چاہتا ہو تو اسے چاہیے ہر نماز کے بعد اس کی ایک تسبیح پڑھے اور وہ نقش جو میں پہلے بتاچکا ہوں اس کو مستقل لکھ کر روزانہ ایک نقش پئے چالیس دن‘ خود لکھے یا کوئی اسے لکھ کر دے وہ پیے اگر کوئی شخص خود پینے کو تیار نہیں تو اس کا کوئی مخلص اس کی نیت کرکے پیے تو اس کی نیت کرکے پڑھے تو بھی ضرور اثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات چالیس سے زیادہ نقش پینے سے فائدہ ہوتا ہے یعنی جتنی دل کی سیاہی ہوگی اتنا اس پر محنت کرنے پڑے گی۔ اور جتنی محنت ہوگی اتنا صلہ ملے گا۔ میں جنات میں یہ گفتگو کر ہی رہا تھا ایک جن کی ایک زوردار چیخ نکلی وہ اتنی اونچی تھی کہ آسمان تک پہنچی اور اگر میں بھی حصار میں نہ ہوتا تو شاید زندہ نہ رہتا اور اس کی خوفناک چیخ سے پہاڑ اور پورا ویرانہ دہل اٹھا میں خاموش ہوگیا۔ وہ چیخ مار کر بیہوش ہوگیا‘ خادم جنات اسے اٹھا کر میرے پاس لائے محسوس یہ ہوتا تھا کہ اس کی آخری سانسیں ہیں پھر میں نے اپنے ایک خاص عمل کو نہایت توجہ دیکر اس کیلئے پڑھا اور محنت کی تھوڑی ہی دیر میں اس نے آنکھ کھولی میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے جتنی دیر آپ یَاقَہَّارُ کے کمالات بتاتے رہے اتنی دیر میں سانس روک کر اس کو مسلسل پوری طاقت اور یقین سے پڑھتا رہا ۔پڑھتے پڑھتے مجھے احساس ہوا کہ میرے جسم کے روئے روئے سے خون نکلنا شروع ہوگیا‘ میں نے محسوس کیا تو واقعی ایسا ہوچکا تھا‘ لیکن میں پھر بھی پڑھتا رہا‘ بس پھر مجھے خبر نہیں کیا ہوا؟ اور میں بے ہوش ہوگیا۔ میں نے دیکھا تو اس کا جسم جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا اور جسمانی حالات اس کے ناقابل بیان تھے۔ میں نے اس سے ایک سوال کیا سچ بتائو کیا تم نے کبھی کسی کے سود یا رشوت کے پیسے چرائے تھے۔ ٹھنڈی آہ بھر کے کہنے لگا ہاں میں نے ایک انسان کے پیسے مسلسل کئی سال چرائے ہیں۔ اس کا شبہ سود اور رشوت کا تھا میں نے کہا کلمہ پڑھو اس نے کلمہ پڑھا اور بہت اونچی آواز میں پڑھا اور زور زور سے پڑھا اور پھر بار بار کہنے لگا یااللہ مجھے معاف کردے۔ یااللہ مجھے معاف کردے یااللہ مجھے معاف کردے اور چوتھی بار یااللہ منہ سے نکلا آگے نہیں بولا اور اس کا دم ٹوٹ گیا۔ بہت افسوس زدہ خبر تھی .... اس کی میت کو اٹھا کر خادم جنات نے ایک طرف رکھ دیا۔ میں نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور وہی گفتگو میں آپ حضرات کو بتا رہا ہوں۔ ایک شخص میرے پاس بہت پرانی بات ہے اپنا ایک بیٹا لے کر آیا جس کی دونوں آنکھیں چندھیائی ہوئی تھیں عمر ستائیس اٹھائیس سال کے قریب تھی دن کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتا تھا رات کے اندھیرے میں اسے کچھ نہ کچھ نظر آتا تھا۔ میں نے پوری روحانی تحقیق کے بعد اس کے کیس کو چیک کیا تو محسوس ہوا کہ دراصل وہ کسی سیروتفریح کے سلسلے میں کالج کے دوستوں کے ساتھ پرانے کھنڈرات میں گیا ان پرانے کھنڈرات میں کچھ شریر جنات کا وجود تھا ان شریر جنات نے اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے اس پر عاشقی اور دوستی کا اظہار کیا اور اسے کسی عیب میں مبتلا کردیا تاکہ اس کی شادی نہ ہوسکے۔ اور یہ بات واضح بتاتا چلوں کہ بعض لڑکیوں اور لڑکوں کو چہرے یا جسم کے کسی ظاہری حصے پر اگر کوئی عیب شروع ہوجائے تو اس کے پیچھے اصل میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ظاہر میں بیماری ہوتی ہے۔ اور یہ لوگ اس کی شادی نہیں ہونے دیتے یعنی اس کو کسی دوسرے کے پہلو میں دیکھتے ہوئے ان کو غصہ آجاتا ہے۔ اس لیے اگر ان کی شادی ہوبھی جائے تو مسلسل تلخیاں ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
جب میں نے انہیں یہ تشخیص اور تحقیق بتائی تو اس جوان نے اعتراف کیا ہاں واقعی ایسا تھا۔ میں ایک ویرانے میں گیا تھا میں گانے بجانے میں بہت ماہر ہوں‘ میں نے وہاں ایک گلوکار کی غزل گائی تھی‘ گٹار میرے ساتھ تھا۔ اور اس کی دھن ایسی خوبصورت تھی نامعلوم کتنی اچھی تھی میں خود حیران ہوا۔ بس اسکے بعد میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھیں آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہیں۔ اور ایک چیز جو انوکھی بتائی وہ یہ بتائی کہ خواب میں اکثر میں دیکھتا ہوں کہ کچھ خوبصورت سی مخلوق ہے جو میرے جسم اور میری آنکھوںکو چومتی ہے جتنا وہ چومتی ہے اتنی میری آنکھیں بند ہوتی جاتی ہیں جب میری آنکھیں ساری بند ہوگئیں انہوں نے چومنا بھی چھوڑ دیا میں نے ان سے کہا گھبرائیں نہیںیَاقَہَّارُ ایک تسبیح ہر نماز کے بعد سارا دن کھلا ہزاروںکی تعداد میں اور اس کے نقش مسلسل نوے دن پئیں۔ انہوں نے ایسا کرنا شروع کردیا اور تقریباً چار پانچ مہینے کی محنت کے بعد وہ جوان بالکل تندرست ہوگیا آج اس کے پانچ بچے ہیں خود اس کا بیٹا جوان ہوگیا ہے اور وہ خوش و خرم ہے۔
قارئین! یہ بات بہت بڑی حقیقت ہےیَاقَہَّارُ جنات کا وظیفہ ہے اور جنات کا ورد ہے اور وہ جنات جو کسی عورت پر فریفتہ ہوجائے ان کو تو یہ وظیفہ بہت ہی زیادہ نفع دیتا ہے پچھلے دنوں میرے پاس ایک آدمی آیا جس کا تعلق پنجاب کے شہر ہارون آباد سے تھا وہ ایک ایسی مصیبت میںمبتلا تھا جو ظاہر بھی نہیں کرسکتا اور چھپا بھی نہیں سکتا تھا اس نے آتے ہی مجھے ایک دستی کاغذ خط کی شکل میں پکڑایا۔ اس میں لکھا تھا کہ میرا نام فلاں ہے میں اپنے علاقے میں بڑا زمیندار ہوںبہت اچھی کپاس کی اور گندم کی کاشت ہوتی ہے۔ بیٹے ہیں‘ بیٹیاں ہیں گھر ہے‘ زمینداراہ ہے زندگی بہت سکھی گزرر ہی ہے لیکن ایک روگ مجھے بہت کھائے جارہا ہے جس کا میں نے کچھ لوگوں کے سامنے اظہار کیا لیکن اس کا حل نہیں ہوسکا پھر میں نے استخارے کیے مسنون دعاکسی کے کہنے پر مسلسل سارا دن پڑھنا شروع کردی پہلے تو فوٹوکاپی کرا کر جیب میں رکھ لی پھر کچھ دنوں کے بعد وہ یاد بھی ہوگئی پھر اللہ سے کہنا شروع کردیا یااللہ! مجھے اس کا کوئی حل بتا.... تو خواب میں آپ کی شکل‘ آپ کا نام اور آپ کا مکمل پتہ بتایاگیا۔ اب میںبڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں بات دراصل یہ ہے کہ میں ابھی جوان تھا اور شادی کو تین سال ہوئے تھے میرے گھر میری بیٹی پیدا ہوئی میرے چونکہ پہلے دو بیٹے تھے بیٹی کی پیدائش پر میں بہت خوش ہوا اور میں نے بہت سی مٹھائی بانٹی۔ لوگ آرہے تھے اور مٹھائی لے رہے تھے ایک خاتون ایک دفعہ لے گئی‘ دوسری دفعہ لے گئی جب تیسری دفعہ آئی تو میں نے دینے سے انکار کردیا اس نے میرا ہاتھ تھاما کہنے لگی میرا منہ میٹھا کردے تیرا جسم میٹھا کردوں گی نامعلوم اس کے اس بول میں کیا تاثیر تھی حالانکہ وہ بالکل بوڑھی اور بہت بدشکل خاتون تھی میں نے اسے ڈھیر ساری مٹھائی دے دی۔
رات کو سویا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آئے انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہنے لگے تیری شادی ہم ایک جن عورت سے کرنے لگے ہیں میں نے کہا میں تو پہلے سے شادی شدہ ہوں‘ کہا نہیں وہ عورت جو آج تیرے پاس مٹھائی لینے آئی تھی اس کا اصرار ہے کہ میری اس سے شادی کرو اور ہمیں حکم ملا ہے۔ کیونکہ وہ عورت مالدار ہے اور ہم اس کے غلام ہیں اور اسے لے آئو۔ مجھے اٹھا کر لے گئے‘ میں احتجاج کرتا رہا۔ لیکن میرے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی ایسے محسوس ہورہا تھا کہ زبان تو ہل رہے‘ لفظ نہیں نکل رہی وہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب میں نے اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا۔ بہت دور لے جانے کے بعد سرسبز پہاڑیاں تھیں ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے کشمیر کی پہاڑیاں ہیں‘ وہاں ہر طرف کھانے پک رہے تھے گہما گہمی تھی کچھ موسیقی اور شادیانے بھی بج رہے تھے ہر طرف خوشی کی آوازیں تھی مجھے ایک بہت خوبصورت لباس پہنایا گیا اور میں اس خوبصورت لباس میں دولہے کی شکل بن گیا۔ میں پچھلے سارے غم بھول گیا میرے اندر بھی نئی شادی کی امنگ پیدا ہوئی پھر باقاعدہ شرعی طور پر میرا نکاح ہوا حجاب وقبول ہوا اور پھر مجھے اٹھا کر دلہن کے کمرے میں پہنچایا گیا۔
میری بیوی واقعی جیسا میں نے کوہ قاف کی پری کا حسن وجمال سنا تھا اتنی ہی خوبصورت اس کا سراپا اس کا جسم‘ اس کی خوبصورت آنکھیں خوبصورت گردن‘ گلابی ہونٹ‘ مہکتے رخسار‘ نشیلی پلکیں‘ دلربا آواز‘ خوبصورت ہاتھ اور کلائیاں جسم سسارا سونے اور ہیرے جواہرات سے لدا ہوا تھا میں نے رات اس کے ساتھ شب بسری کی۔ صبح خود ہی کہنے لگی اب میرے غلام آپ کو چھوڑ آئیں گے اپنی انسانی بیوی سے اس کا اظہار مت کرنا ورنہ وہ ناراض ہوگی۔ خط میں اس نے مزید لکھا کہ علامہ صاحب اس کہانی کو سالہا سال ہوگئے میری جننی بیوی جس کا نام عنایتاں اور میں اسے دلربا کہتاہوں بس میری دلربا کے ساتھ ایسی محبت بڑھی کہ اس میں سے میرے سات بچے ہیں جو کہ جن ہیں۔ ہماری کبھی لڑائی نہیں ہوئی‘ میں جب بہت غریب تھا جس وقت سے میری دلربا سے شادی ہوئی‘ دولت مال‘ چیزیں اور انعامات خداوندی مجھ پر بارش کی طرح برسی۔ ہمارے دن رات سالہا سال سے گزر رہے تھے ۔میں بعض اوقات بیوی کو کسی دوسرے شہر کے بہانے سے ہفتے میں دو تین دفعہ یا اپنے کسی دوست کے بہانے سے چلا جاتا ہوں اور دلربا کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ دلربا کے خادم مجھے لے جاتے ہیں وہ دور کشمیر کی پہاڑیوں پر رہتی ہے دنیا کے سب میوے اس کے پاس ہیں زمین کے خزانے اس کے تابع ہیں۔ وہ سات بچے مجھ سے محبت کرتے ہیں میں ان سے محبت کرتا ہوں جن میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے کا نام عدنان‘ برہان‘ تیسرے کا نام عترت اور چوتھے کا نام احمد اور پانچویں کا نام صادان اور دو بیٹیاں ایک کا نام فاطمہ اور ایک کا نام زینب ہے۔ اب میری اولاد جوان بھی ہوگئی ہے ادھر سے انسانی اولاد جوان ہوگئی ان کی شادیاں ہوگئیں۔(جاری ہے)