تو آپ کو ایک ایسی اسلامی چیز دیتا ہوں جو یقینا آپ کو زندگی کے وہ کمالات دے جو آپ کو اور آپ کی نسلوں کو سدا اور صدیوں یاد رہے محمد شاہ رنگیلا بادشاہ ایک دم چوکنا ہوکر بیٹھ گیا۔ اپنے تاج کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور کانوں کو قریب لے گیا تو پنڈت بھوگا رام بولا شہنشاہ اعظم آپ کے قرآن میں ایک لفظ ہے قہار یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کو آپ یَاقَہَّارُ جب بھی پڑھیں گے یہ شریر جادوگر‘ بدکار‘ جنات اور جادوگروں پر ایک ننگی تلوار ثابت ہوگی۔ آپ کے اوپر جادو کسی نے کردیا آپ اس کو توڑنے پر تیار ہیں کوئی جن آپ کا گھر‘ در اور دولت کا دشمن ہے اور آپ چاہتے ہیں اس جن سے چھٹکارا مل جائے تو ہرگز ہرگز پریشان نہ ہوں آپ فوراً اس اسم یَاقَہَّارُ کو اپنی زندگی کا ساتھ بنالیں‘ پاک ناپاک ہروقت اس کو وجد کی حالت میں پڑھیں‘ یعنی ڈوب کر پڑھیں اور بے قراری‘ بے چینی سے پڑھیں۔ بس جب بھی پڑھیں گے آپ کو اس کا کمال ملے گا تھوڑے عرصے میں یا زیادہ عرصے میں لیکن کمال ضرور ملے گا۔ وہ ہندو بوڑھا جن کہنے لگا یہ گفتگو میں نے خود سنی اور اس کے بعد محمد شاہ رنگیلے نے اپنی بھری دربار میں یہ واقعہ سب کو سنا دیا۔ اس کے دربار میں ہندو بھی تھے‘ مسلمان بھی تھے اور سکھ بھی تھے بوڑھا ہندو جن رو کر کہنے لگا مجھے یاد ہے رنگیلے کے دور میں جنات پر اس اسم کی وجہ سے جو قہر برسا وہ شاید پھر زندگی میں کبھی کسی پر نہ برسا اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ جنات کے پیرومرشد ہیں اور آپ کو علامہ لاہوتی پراسراری ایسے نہیں کہا جاتا‘ جنات کے قبائل در قبائل آپ کے مرید اور غلام ہیں لیکن براہ کرم اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات انسانوں تک نہ پہنچنے دیجئے۔ اگر وہ انسانوں تک پہنچ گئے تو انسانوں نے جنات کی نسلوں کی نسلیں جلا کر رکھ دینی ہیں۔

کیونکہ شریف جنات کم اور شریر جنات بہت زیادہ ہیں۔ میں نے جب بوڑھے ہندو جن کی یہ بات سنی تومیں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے مجھ ایک ایسا تاریخی واقعہ سنایا جس نے مجھے کافی تجربہ دیا لیکن میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ میں یہ واقعہ انسانوں تک نہ پہنچائوں کیونکہ انسانوں کا درد میری طبیعت کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے میں یہ وعدہ نہیں کرسکتا پھر اسم یَاقَہَّارُ کے واقعات میں نے جنات کو بتائے اور ختم القرآن میںمیں نے حافظ عبداللہ کو کہا میراجی کہتا ہے کہ حافظ صاحب آپ دعا کریں ان کا اصرار تھا کہ ہم نے تو دعا کیلئے آپ کو بلایا ہے ان سے عرض کیا میرا حکم ہے حکم کو مانتے ہوئے حافظ عبداللہ نے سوا گھنٹے کی دعا جس میں سسکیاں اب ختم ہوچکی تھیں اب تو آہ اور چیخ و پکار تھی اور ایک ہجوم انتیس رمضان کی رات کو اللہ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے رو رہا تھا۔ اس کی دلدوز دعا درد بھرے الفاظ اور غم میں ڈوبی ہوئی فریادیں عرش الٰہی کو ہلا رہی تھیں‘ وہاں ہر طرف جنات ہی جنات تھے سوائے مجھ ایک انسان کے.... اور ایک عجیب منظر تھا ....ایک عجیب سماں تھا.... اور ایک بالیقین کیفیت تھی کہ اللہ پاک جل شانہ نے سب دعائیں قبول فرمالیں اور ہر طرف رحمت اور مغفرت کا اعلان ہوگیا یقین بھی تھا‘گمان بھی تھا اور دل کو اطمینان بھی تھا۔ میں نے ان جنات کے سامنے اسم یَاقَہَّارُ کے جو کمالات بیان کیے اور یہ گفتگو تقریباً سوا تین گھنٹے تک چلتی رہی‘ اس میں سے کچھ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیے ہیں۔

وہ خاص خاص عمل جو یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں میں نے جنات کے لاکھوں ہجوم میں بیان کیے ان میں ایک یہ ہے جو شخص یاقہار کو جدا جدا حرف میں لکھے یعنی ”ی“ علیحدہ ”ا“ علیحدہ ”ق“ علیحدہ” ہ“ علیحدہ پھر”ا“ علیحدہ اور”ر“ علیحدہ اور پھر اسی طرح دوسری دفعہ یعنی کل اکتالیس دفعہ جدا جدا حروف میں لکھے اور کالی سیاہی گھلنے والی ہو جو پانی میں گھل جائے اس کو تعویذ بنا کر گلے میں بھی ڈال سکتا ہے‘ پی بھی سکتا ہے اور اپنے تکیے کے اندر بھی رکھ سکتا ہے جادو کا پرانا مارا ہوا‘ نظر بد کا ڈسا ہوا اور جنات کا بہت متاثر ہو ایسے گھر جن میں جنات آگ لگا دیتے ہیں‘ کپڑے کاٹ دیتے ہیں‘ کپڑوں پر خون کے یا گندی چیزوں کے نشان پڑ جاتے ہیں یا گھروں میںجگہ جگہ پاخانہ اور پیشاب ملتا ہے یا آوازیں آتی ہیں یا گھر بھر کو سونے نہیں دیا جاتا۔ گھر میںبیماری‘ پریشانی ایک مشکل سے نکلنا دوسری میں اور دوسری سے نکلنا تیسری میں.... ایسے تمام معاملات میں یَاقَہَّارُ کا اکتالیس دفعہ کا لکھا ہوا نقش نہایت موثر اور آزمودہ ہے آپ کیلئے ایک بات اور انوکھی ہوگی جنات بھی ایک دوسرے پر بہت جادو کرتے ہیں۔ مجھے ایک پڑھے لکھے عالم جو کہ سہارن پور کے ایک بڑے مدرسے میں اٹھارویں صدی میں پڑھے تھے انہوں نے بتایا کہ یَاقَہَّارُ کا یہ نقش جب تک ہم اپنے گھروں میں لگاتے ہیں کسی جن کا جادوئی وار ہمارے اوپر اثر نہیں کرتا اور اگر ہم اتار دیں تو اس کا وار اثر کرجاتا ہے۔

لہٰذا ہم بہت اہتمام سے یَاقَہَّارُ کا نقش گھروں میں ہر جگہ لگاتے بھی ہیں اپنے بچوں کے گلے میں ڈالتے بھی ہیں اور اس کو دھو کر اس کا پانی پیتے ہیں حتیٰ کہ اپنے کھانے پینے کی ہر چیز میں یہ پانی ڈالتے ہیں اور پانی بڑھاتے چلے جاتے ہیں مہینوں یہ نقش پیتے ہیں جب نقش بوسیدہ ہوجاتا ہے مزید لکھ کر اس میں ڈال دیتے ہیں اورپانی بڑھاتے جاتے ہیں اپنے گھروں میں چھینٹے بھی مارتے ہیں۔ اس عالم جن کی بات سننے کے بعد میں نے اس کو ایک بات سنائی کہ میرے پاس ایک واقعہ ایسا ہوا کہ جنات گھر میں پتھر مارتے تھے‘ مٹی کے ڈھیلے مارتے‘ گائے بھینس کا گوبر حتیٰ کہ بلی اور کتے کا پاخانہ جگہ جگہ گھر میں بکھیر دیتے‘ جگہ جگہ پیشاب کردیتے گھر بھر میں ایک عجیب و غریب افونت تھی اور غلاظت تھی اس عفونت اور غلاظت کی وجہ سے گھر میں رہنا دوبھر تھا۔ دنیا کا ہر علم اور اس کی کوشش کرکے دیکھ لی تھی کوئی فائدہ نہیں ہوا بہت عامل آئے کچھ تو ایسے تھے اپنا بیگ بھی چھوڑ کر بھاگ گئے جنات نے انہیں رہنے نہیں دیا اور جنات خود ان کے پیچھے پڑگئے۔ (جاری ہے)