اسی رمضان میں جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ رمضان المبارک کی تقاریب مسلسل بیانات‘ دعا اور ختم القرآن میں جانا گزشتہ رمضان کی نسبت زیادہ ہوا۔ ٹھٹھہ کی قدیمی جیل اور جنات کا عقوبت خانہ جہاں بدمعاش اور شریرجنات کو قید کیا جاتا ہے اور ان کو سزا دی جاتی ہے۔ مجھے ایک دوست جن کے ذریعے پیغام موصول ہوا کہ وہاں کے ایک قیدی جن جس کا نام حافظ عبداللہ ہے نے قرآن ختم کیا ہے اس کی خواہش ہے آپ ختم القرآن میں برکت کیلئے چند الفاظ بیان کریں اور دعا کرائیں۔
باوجود مصروفیات کے میں 29 رمضان کی رات کو ٹھٹھہ کے میلوں پھیلے صدیوں پرانے قبرستان مکلی میں جنات کی مخصوص سواری کے ذریعے حاضر ہوا۔ حافظ عبداللہ دراصل اپنے کیے کی ایک سزا کاٹ رہا ہے اس کا جرم یہ تھا کہ ایک رات وہ اپنی خالہ کے گھرکی طرف سفر میں جارہا تھا ایک حسین خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھیں چاندنی رات اس خاتون کے کھلے بال اور حسن و جمال نکھرا ہوا تھا۔ اس کی نیت میں خرابی پیدا ہوئی اس نے اس خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ دل بہک گیا اور طبیعت مچل گئی دراصل وہ خاتون ایک صالح اور بہت نیک تھی اس نے اور تو کچھ نہیں کیا یَاقَہَّارُ کثرت سے پڑھنا شروع کردیا اور اتنا پڑھا کہ وجد اور وجدان سے بھی آگے نکل گئی بس اس کا کام سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھنا تھا اور اللہ سے فریاد کرنا تھا کہ اے اللہ! یہ جن جس نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے میری پہنچ سے تو بالا تر ہے کیا یااللہ تو بھی بے بس ہے؟ اے اللہ ! میں اسے ہرگز معاف نہیں کرونگی اسے اپنی غیبی پکڑ میں لے اور میرا انتقام لے۔
بس پھر قدرت کی اندیکھی لاٹھی حرکت میں آئی۔ حافظ عبداللہ کا اپنے قریبی چچازاد سے کچھ گھریلو معاملات میں جھگڑا ہوگیا اور اس کے ہاتھوں ناچاہتے ہوئے وہ چچازاد قتل ہوگیا اب یہ اسی کی سزا بھگت رہا ہے کیونکہ دل کا اچھا‘ اندر کا نیک ہے‘ پہلے عورت سے غلطی کربیٹھا پھر اس کی بددعا نے اس انجام تک پہنچا دیا اور ویسے بھی یَاقَہَّارُ کا وجد کی حالت میں ہزاروں لاکھوں دفعہ پڑھنا جنات کو ایسے قہر میں مبتلا کرتے ہیں اور جادو کی کاٹ کو ایسے انداز سے واپس پلٹاتے ہیں کہ انسان گمان نہیں کرسکتا ہاں کوئی دیوانہ وار پڑھنے والا ہو تو۔ اب حافظ عبداللہ کی قید کٹ رہی ہے وہ ایک ایک دن سوچ سوچ کر گن رہا ہے جن ہے خطا کا پتلا ہے‘ اس کی زندگی میں بہت زیادہ نیکیاں لیکن بعض اوقات بعض خطائیں ایسی ہوتی ہیں جو نیکیوں کے ترازو سے بڑھ کر انسان کو کسی عذاب اور بلا میں مبتلا کردیتی ہے بالکل یہی حال حافظ عبداللہ جن کا ہوا۔ آپ یقین جانیے جب میں نے اس کا قرآن سنا اور اس قرآن کے اندر جب آیت وعدہ یعنی جس سے مومنوں سے جنت‘ نصرت‘ انعامات اور اللہ کی مدد کا وعدہ ہے تو جب یہ آیت پڑھتا تو اس کے لہجے کی رعنائی اور خوشی بشاشت ایسے ٹپکتی اور ایسے واضح ہوتی کہ جیسے ابھی اللہ کی رحمت مدد اور وعدے اتر رہے ہیں اور جب آیات وعید پڑھتا یعنی جہنم‘ عذاب اللہ کی مدد کا ہٹنا‘ دھمکی‘ ڈر خوف جب یہ آیات آتیں تو اس کے آنسو ہچکیاں‘ سسکیاں ایسی کیفیت کہ خود سننے والے بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔
اس دفعہ پورے ٹھٹھہ کی جیل کو حافظ عبداللہ نے تمام مسلمان جنات کو تراویح میں قرآن سنایا۔ اور تمام جنات مستقل بیس تراویح ہی پڑھتے ہیں ختم القرآن کے موقع پر جب میں نے حافظ عبداللہ سے اس کی گرفتاری اور قید کے واقعات سنے تو دل میں اس کی ذات کیلئے ایک ہمدردی پیدا ہوئی اور ہمدردی بھی ایسی پیدا ہوئی کہ جی میں آیا کہ میں اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات‘ برکات‘ ثمرات اور انوکھے کرشمات بیان کروں۔ کیونکہ اسم یَاقَہَّارُ ہی کی وجہ سے حافظ عبداللہ آج جیل کی سخت قید کاٹ رہا ہے اور اس کیلئے ترس اس لیے آیا کہ اے کاش یہ ایسا نہ کرتا تو آج یہ کہیں اور ہوتا۔ اتنی کڑی اور سخت جیل میں نہ ہوتا۔
میرے جی میں تھا کہ اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات آج کے بیان میں جنات کے لاکھوں کے مجمع میں وضاحت سے بیان کروں لیکن اس سے پہلے ایک انوکھا واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک بوڑھا قیدی جن جو کہ ہندو تھا وہ میرے قریب آیا ہاتھ ملایا‘ بوسہ دیا اور رونے بیٹھ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا درد آپ کے اندر۔ مجھے کہنے لگا آپ اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات انسانوں سے بیان نہ کریں۔ مجھے خبر ہے آپ عبقری رسالہ میں لکھتے ہیں اور جس سے لاکھوں لوگ فیض پاتے ہیں اگر اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات کا انسانوں کو پتہ چل گیا تو انسان جنات کو بھون کر رکھ دیں گے پھر کہنے لگے میری عمر ساری کالی دیوی کے چرنوں میں گزری ہے ایک جرم کی پاداش میں۔ میں کلکتہ کے قریب رہنے والا ہوں وہاں سے لاکر یہاں ہمیں قید کردیا گیا ہے کیونکہ انسانوں کے درمیان ملکوںکی سرحدیں ہیں ہمارے ہاں ملکوں کی کوئی سرحدیں نہیں ہمارے لیے پوری دنیا سارے ملک‘ سارے صوبے ایک ہی ملک کی مانند ہیں۔ ہمارے ایک بہت بڑے پنڈت تھے جو کہ انسان تھے اور یہ بات اس دور کی ہے جب محمدشاہ رنگیلے کا دور تھا وہ پنڈت اپنے علوم اور کمالات میں ایسا ماہر تھا کہ محمدشاہ رنگیلا بادشاہ بھی اس کی ایسی قدر کرتا تھا کہ شاید ماں کی بھی کم کرتا ہو۔
محمد شاہ رنگیلا جہاں اپنے رنگیلے کردار کی وجہ سے رنگیلا تھا لیکن اس میں ایک ایسی خوبی تھی جو کم بادشاہوں میں تھی کہ وہ صاحب کمال کوئی بھی شخص ہو اور کسی بھی فن کا ہو اس کا بہت قدر دان تھا۔ تو ہمارے ہندو پنڈت جن کا نام پنڈت بھوگا رام تھا سے ایک دفعہ سوال کربیٹھا کہ ماہراج کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جو جنات اور جادو کا آخری ہتھیار ہو‘ ننگی تلوار ہو اور جب بھی اس کو پڑھا جائے تو جادو جنات ایسے ٹوٹے جیسے میرے ہاتھ سے جام پتھر کے فرش پر ٹوٹ کر چکنا چور ہوجاتا تھا۔ پنڈت بھوگا رام اپنی جاپ میں تھی سر اٹھایا ان کی سرخ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے تو پنڈت نے کہا آپ کو ایک چیز بتاتا ہوں کیونکہ آپ مسلمان ہیں (جاری ہے)