اس دفعہ رمضان المبارک میں تو واقعی ختم قرآن کے اتنے سلسلے چلے کہ خود میں تھک گیا۔ آخر میں انسان ہوں اور وہ قوم جنات‘ میں اپنی مصروف زندگی میں ان کا ساتھ کیسے دے سکتا ہوں۔ لیکن ہر جن کا اصرار یہی تھا کہ آپ ہمارے ختم القرآن میں آئیں۔ مجبوراً مجھے جانا پڑا۔ ادھر میں تراویح پڑھ کے جسم ٹوٹا تھکا اپنے گھر آتا پانی کے چند گھونٹ پیتا‘ اُدھر ان کا تقاضا کہ ہمارے ہاں ختم القرآن پر چلیں۔ بعض راتیں تو ایسی تھیں کہ ایک ایک رات میں مجھے نو نو ختم القرآن کی مجالس میں حاضری دینی پڑی اور بعض اوقات سحری مجھے جنات کے پاس کرنی پڑی۔ میں جو چیز خاص طور پر آپ حضرات کو بتانا چاہوں گا وہ اُن حضرات کا قرآن سے تعلق‘ قرآن سے محبت اور قرآن سے الفت ہے میرا مشاہدہ اور سوفیصد مشاہدہ یہی ہے کہ جتنے بڑے بڑے قاری علماءمحدثین‘ مفسرین اور قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے والے جنات کے پاس ہیں شاید انسانوں میں صدیوں میں بھی پیدا نہ ہوئے ہوں۔
میں ایک کم علم رکھنے والا شخص لیکن میری تقریر کو وہ ایسی دل گرفتگی اور شوق سے سنتے ہیں کہ ان پر گریہ اور آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات سسکیاں اور اکثر آہ وبکا کی آوازیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ ابھی تیرہ رمضان کو درس قرآن اور تقریر کے دوران میں نے جنات کے بچوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر میرے اندر ایک خیال آیا کہ میرے اندر تو قوت تاثیر نہیں ہے بس ان حضرات کا قرآن سے لگائو اور محبت ہی ہے جس نے انہیں اتنا ذوق عطا کیا ہے اور یہ ذوق واقعی ان کے اندر بہت زیادہ ہے۔
اسی رمضان میں کل من علیہا فان .... کی تفسیر میں نے بیان کی بس اللہ پاک کی طرف سے مضامین کی آمد تھی اور میں بیان کرتا چلا گیا بس بیان کیا تھااللہ کی طرف سے کچھ توجہات تھیں۔ اتنی آہ وبکا تھی اور اتنا رونا تھا کہ کئی دفعہ مجھے خاموش ہونا پڑا کہ خود میری آواز اُس رونے میںدب گئی۔ اور مجھے چپ کرانا پڑا۔ ایک بار تو میں نے حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام کی ذمہ داری لگائی کہ وہ ان حضرات کو چپ کرائیں۔ لیکن وہ چپ ہوہی نہیں رہے تھے موت کا تذکرہ‘ آخرت کا تذکرہ‘ قبر کا تذکرہ اور خاتمہ بالخیر یہ ان حضرات کیلئے ایک جان لیوا مضمون اورمنظر تھا خود مجھے ایک ایسا احساس ہوا کہ موت کی حقیقت کو جتنا مسلمان جنات جانتے ہیں شاید ہم مسلمان انسان بھی کم جانتے ہیں۔ اسی تقریر کے بعد ایک بوڑھا جن جس نے اپنی عمر ساڑھے سترہ سو سال بتائی اور ساتھ والے جنات نے اس کی تصدیق بھی کی اور انوکھی بات یہ ہے کہ ساری زندگی اس کی سومنات کے مندر کے پجاری کے طور پر گزری کوئی دوست اس کو میری تقریر سنوانے کیلئے وہاں سے لایا تھا۔ جب اس نے کل من علیہا فان.... کی تفسیر اور موت‘ جہنم‘ قبر آخرت کا تذکرہ سنا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔
بعد میں میرے پاس آیا اور کہنے لگا میںمسلمان ہونا چاہتا ہوں اور میں نہیں بلکہ میرے ساتھ سومنات کے اور جنات پجاری بھی مسلمان ہونا چاہتے ہیں میں نے ان سب کو بلوالیا ہے میں نے انہیں کلمہ شہادت پڑھایا‘ایمان کی شرائط پڑھائیں اور ساتھ بیٹھے ایک عالم جن جن کا نام نعمان تھا انہیں تاکید کی کہ ان کے قبیلے میں جاکر انہیں اسلام ایمان اور اخلاق سکھائیں جس وقت میں انہیں کلمہ پڑھا رہا تھا وہ ہندو جنات کا ایک بہت بڑا گروہ تھا جب میں نے ان کی زبانوں سے کلمہ شہادت سنا میں خود بہت پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ یااللہ میں اس قابل کہ صدیوں پرانے سومنات کے پجاری میرے ہاتھوں کلمہ پڑھیں اور انہیں ایمان کی دولت نصیب ہو یہ تو نے کتنی بڑی سعادت میرے ہاتھوں لکھی ہے وہ ایسا جھوم جھوم کرکلمہ پڑھ رہے تھے کہ خود میرا دل یہی چاہ رہا تھا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا رہوں آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور ان کی چیخیں اور توبہ عرش الٰہی کو ہلا رہی تھیں۔ آخر میں ایک بار انہوں نے پھر دعا کا تقاضا کیا اب جو دعا ہوئی دل کی کیفیت ہی کچھ اور تھی اور ان حضرات کی آمین.... ظاہری طور پر بھی اور دل میں بھی ایک احساس ہورہا تھا کہ اللہ جل شانہ نے میری دعا کو سن لیا قبول فرمالیا‘ عرش الٰہی پر اٹھا لیا ان میں سے ہر جن کو میں نے ابتدائی سبق پانچ کروڑ دفعہ کلمہ پڑھنے کا دیا کہ پانچ کروڑ دفعہ کلمہ پڑھ کر پھر مجھ سے آئندہ سبق لیں اور باقی اپنی دینی زندگی عالم دین نعمان صاحب سے سیکھتے رہیں۔
جب میں اٹھ رہا تھا چونکہ اتنے لاکھوں جنات سے میں مصافحہ نہیں سکتا تھا تو میں نے سب سے اجتماعی سلام کہا اور جب وعلیکم السلام کا جب میں نے جواب سنا تو دل میں ایک احساس سا ہوا کہ یااللہ انہوں نے مجھ پر سلام بھیجا ہے اے اللہ اپنی بارگاہ کو اپنی میں قبول فرما کر پوری امت کو سلامتی پورے عالم کو سلامتی اور ہمارے ملک کو سلامتی عطا فرما۔ ویسے بھی جناتی دنیا میں سلام کرنے کا ذوق بہت زیادہ ہے۔ مجھے ایک بوڑھے جن نے جس کو میں نہیں جانتا لیکن وہ مجھ سے بیعت ہے۔ ایک دفعہ بتایا جس کھانے سے پہلے اکیس دفعہ یَاسَلاَمُ پڑھ لیا جائے یا دوائی کھانے سے یا کھانا کھانے سے پہلے یا کسی سفر سے پہلے یا کسی کام سے پہلے یا کسی مہم سے پہلے یا کسی مقصد سے پہلے اکیس دفعہ یَاسَلاَمُ پڑھ لیا جائے وہ کھانا شفاءاور صحت بن کر‘ وہ دوائی شفاءو صحت حتیٰ کہ بہت جلد وہ دوائی چھوٹ کر مکمل شفاءیابی ہوجاتی ہے اور جس مہم میں جائے‘ جس مقصد کیلئے جائے وہاں کی تکلیفوں سے دور ہوکر خیریں اس کا مقدر ہوجاتی ہیں اور برکتیں اور رحمتیں اس کے قدم چومتی ہیں اور مزید بوڑھے جن نے بتایا کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے ہوئے صرف پانچ یا سات بار یَاسَلاَمُ پڑھے گا گھر سے جھگڑے‘ تکلیفیں بیماریاں پریشانیاں اور مسائل ختم ہوجائیں گے‘ مشکلیں ختم ہوکر آسانیاں اور برکتیں اس گھر میں آجائیں گی اور واقعی میں نے جس جس کو یہ دونوں عمل بتائے اور جس نے بھی کیے انہوں نے اس کے کمالات سوفیصد پائے بلکہ اس سے بھی زیادہ پائے۔ (جاری ہے)