مجھے تو یاد نہ رہا کچھ عرصے اس کی بوڑھی ماں میرے پاس آئی کہنی لگی میرا فلاں بیٹا آپ کے پاس آیا تھا آپ نے یہ عمل بتایا تھا کیونکہ میں نے یہ عمل چند لوگوں کو بتایا اور اب دل میں آیا کہ اس عمل کو عبقری کے لاکھوں قارئین تک پہنچائوں مجھے وہ جوان اور اس کا غمگین چہرہ‘ اُس کی غربت اور تنگدستی یاد آئی تو فوراً یاد آیا اور میں نے کہا ہاں مجھے یاد ہے۔ کہنی لگی کہ بیٹا باعزت روزگار میں ہے۔ بیرون ملک چلا گیا ہے‘ اور اس کے ساتھ والے جو چار چار سال پہلے گئے تھے وہ پریشان ہیں‘ اور یہ برسرروزگار ہے‘ اس نے وہاں سے پیغام بھیجا ہے کہ اب میں کیا پڑھوں اور کیا کروں؟ میں نے فوراً کہ جس عمل کی وجہ سے اتنے باوقار ہوئے ہیں اس عمل کو کیوں چھوڑ رہے ہو؟ اور اسے کہو کہ یہ عمل پڑھتا رہے‘ خاتون کہنے لگی کہ بیٹیوں کی شادیوں کا مسئلہ ہے ان کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں تو کیا پڑھوں کیا میں یہ عمل کرلوں؟ میں نے ان سے کہا کہ زندگی کا کوئی مسئلہ ہو گھریلو کوئی الجھن ہو‘ مشکلات ناممکن ہوں‘ اس عمل کی آپ کو اجازت ہے اور یہ عمل کرو اس نے وہ عمل کیا اور جب عمل کیا تو عمل کو کرتے ہوئے بہت ہی عرصہ وہ خاتون نہ ملیں اور جب ملی تو روپڑی‘ او رکہنی لگی کہ میں آ نہ سکی کہ اللہ کریم نے مجھے اس عمل کی برکت سے بیٹیوں کی شادیاں بھی کردیں اور گھر بھی بڑا بنادیا‘رزق بھی وافر ہوگیا‘ صحت کے مسائل بھی حل ہوگئے‘ مشکلات بھی دور ہوگئیں‘ اور میں نے اب تک بے شمار گھرانوں کو ہر مسئلے کیلئے یہ عمل بتایا ہے۔ چونکہ آپ نے اجازت دی ہے۔ اور جس کو بھی بتایا ہے اس کا کام ہوگیا ہے۔ میں نے تو اس عمل کا نام دستگیر رکھ دیا ہے۔ جس کے ہاتھ میں بھی اس عمل کا پرچہ پکڑاتی ہوں اس کا کام سوفیصد ہوجاتا ہے۔ قارئین! یہ اس عمل کی آپ سب کو اجازت ہے کچھ عرصہ مستقل کرتے رہیں‘ اور مسلسل کرتے رہیں جتنا خشوع اور جتنا دھیان سے پڑھیں گے اتنا زیادہ اس کی تاثیر اور طاقت ہوگی اور آپ کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ جس کو بھی دینا چاہیں میری طرف سے اس کیلئے بھی خصوصی اجازت ہے۔
میرا تجربہ بار بار ایک بات کی غمازی کرتا ہے کہ جتنا زیادہ قرآن قوم جنات پڑھتی ہے شاید پوری دنیا کے قاری حافظ اور عالم پڑھتے ہوں‘ کیونکہ اس قوم کو قرآن پاک سے بہت زیادہ شرف ہے اور قرآن ان کے انگ انگ اور نس نس کے اندر گھلا ہوا ہے۔ ایک چیز قارئین کی معلومات کیلئے دینا چاہوں گا۔ آپ نے کبھی محسوس شاید نہیں کیا کہ پاکستان بھر میں اور دنیا بھر میں قرآن پاک سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ قرآن واحد کتاب ہے جو زندگی میں ایک یا دو بار گھر کیلئے لی جاتی ہے۔ کوئی اخبار یا رسالہ تو ہے نہیں کہ روزانہ یا ہفتہ وار یا مہینہ کے بعد لیا جائے اور ویسے بھی قرآن کا ذوق‘ تلاوت اور صبح صبح روزانہ کا پڑھنا ختم ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود قرآن پاک مسلسل چھپ رہا ہے‘ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں چھپتا ہے آخر وہ کہاں جاتا ہے؟
تو آج آپ پر یہ راز عرض کرتا ہوں کہ وہ قرآن قوم جنات پڑھتی ہے‘ جنات کے جہیز میں سب سے زیادہ قرآن پاک دئیے جاتے ہیں اور جنات کی بچیاں اور بچے قرآن پاک بہت پڑھتے ہیں۔ رمضان المبارک میں تو اس کا خاص اہتمام ہوتا ہے ایک رات میں پورا ختم کرنے والے‘ تین راتوں میں ختم کرنے والے‘ پانچ راتوں کو ختم کرنے والے‘ دس راتوں میں ختم کرنے والے توعام سی بات ہے۔
اب جنات کا تقاضا یہ ہوتا کہ میں ان کے ختم قرآن میں شامل ہوں۔ ظاہر ہے میں سب میں شامل نہیں ہوسکتا لیکن کچھ ختم قرآن ایسے ہیں جن میں مجھے شامل ہونا پڑتا ہے۔ حاجی صاحب کا بیٹا عبدالسلام قرآن پاک ختم کرتا ہے‘ ان کے بھتیجے ختم کرتے ہیں‘ میرے ساتھ صحابی بابا کی خاص محبت ہے‘ بعض اوقات ان کی طرف سے تقاضا ہوتا ہے کہ میں ختم قرآن میں شامل ہوں اور قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر کے کچھ نکات بیان کروں‘ اس کیلئے مجھے سفر کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض رمضان تو ایسے ہیں کہ کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ جس میں مجھے ختم قرآن کے سلسلے میں قوم جنات کے پاس نہ جانا پڑا ہو اور مجھے اس کیلئے بار بار جانا پڑتا ہے اور بار بار ان کے تقاضے کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ صفوں کی شکل میں قرآن پاک سناتے ہیں بلکہ صفوں کی صفیں ان کی قرآن پاک سن رہی ہوتی ہیں‘ جتنا لمبا ان کا قیام ہوتا ہے شاید ہم اتنا لمبا قیام نہ کرپائیں‘ ہمارے جسم کی طاقت ہمارا ساتھ نہ دے سکے اور ان سے جتنا لمبا رکوع ہوتا ہے ہم انسان سوچ بھی نہ سکیں اور جس لگن کیساتھ اور جس قرات کے ساتھ وہ قرآن پڑھتے ہیں‘ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ قرآن بول رہا ہے تقریباً پانچ رمضان پہلے میں نے صحابی بابا سے تقاضا کیا آپ نے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا ہے تو وہ قرآن مجھے سنائیں جو آپ نے سنا ہے تو فرمانے لگے بوڑھا ہوگیا ہوں‘ قرآن تو یاد ہے لیکن لمبی رکعات اور لمبے رکوع‘ قیام و سجود کی اب زیادہ ہمت نہیں‘ تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مختصر رکعات اور مختصر قیام میں مجھے سنائیں۔ خیر انہوں نے میری بات نہ ٹالی اور نہایت شفقت فرمائی۔ انہوں نے قرآن پاک سنایا۔ دس دن میں پورا ختم القرآن ہوا‘ ایسی طرز اور ایسا پڑھنے کا انداز کہ لفظ لفظ سینے میں اتر گیا۔ حرف حرف سے قرآن کی حقیقی خوشبو محسوس ہوئی اور طبیعت ایسی سرشار ہوئی کہ عقل حیران ہوگئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا واقعی ایسا قرآن پڑھا جاتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا قرآن کتابوں میں پڑھا‘ علماءسے سنا‘ تفسیر نے اس کی لذت اور چاشنی کو بیان کیا۔ لیکن جب میرے کانوں نے خود سنا تو میری عقل دنگ رہ گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایسا قرآن پڑھا جاتا تھا۔ دسویں دن حاجی صاحب کی تقریباً پون گھنٹہ رقت آمیز دعا‘ جنات کے لشکر کے لشکر تھے‘ آہوں اور سسکیوں کا ایک سمندر تھا‘ پون گھنٹے کے بعد حاجی صاحب کی دعا ختم ہوئی‘ حاجی صاحب نے تقاضا کیا کہ میں دعا کروائوں‘ تقریباً بیس منٹ میں نے دعا کروائی اور وہ دعا کیا تھی خود مجھے محسوس نہیں ہوا کہ کیا الفاظ تھے‘ کیا کیفیات تھیں اور کیا آنسو بہاچکا تھا۔ اس مجمع کی جو کہ جنات کا لشکر کا لشکر آہوں کے ساتھ آمین کہہ رہا تھا‘ مرد بھی‘ عورتیں بھی‘ بوڑھے بھی‘ بچے بھی .... (جاری ہے)