Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 3 of 19 FirstFirst 1234513 ... LastLast
Results 31 to 45 of 272

Thread: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

  1. #31
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    ناعمہ آپی
    بہت بہت شکریہ اتنے اچھے تبصروں پر۔۔
    رائٹرز کی ہمت بڑھا رہی ہیں یقیناً
    خوش رہیں۔

  2. #32
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post
    ناعمہ آپی
    بہت بہت شکریہ اتنے اچھے تبصروں پر۔۔
    رائٹرز کی ہمت بڑھا رہی ہیں یقیناً
    خوش رہیں۔

    منا یہ تو بتاؤ
    تم نے تاریخ بڑھائی کہ نہیں؟ورنہ ان تین مضامین پر ہی ججز کا فیصلہ لینا پڑے گا۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  3. #33
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post
    اردو زبان



    دنیا کے ہر ملک کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر ہماری بدقسمتی کہ اردو بحیثیت قومی زبان کے رائج نہ ہوسکی اسی طرح جیسے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام نافظ نہیں ہوسکا ساٹھ سال بعد بھی ہم اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ زبان اردو ہونی چاہئے یا انگریزی ۔ہمارے ملک کے طبقہ اشرافیہ کی زبان انگریزی ہے اور وہ
    یارا یہ تحریر جس نے بھی لکھی ہے بہت ہی اچھی لکھی ھے اپنی جگہ۔

    یعنی لکھنے کا طریقہ بہت اچھا ھے مگر تھوڑے پیراگراف اور اسپیسیز دیے جائیں تو زیادہ اچھا لگتا ہے۔

    شک ھے فہد پر یا فارس یا آزاد سحر۔ احمدلون

    -------------------------------
    اس مضمون سے ہٹ کر اس موضوع پر میری بھی ایک رائے ہے مگرابھی دینا نہیں چاہوں گی۔۔۔اب تو تھریڈ بنے ہی بنے۔(بہت صبر کر چکی میں;d)
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  4. #34
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Noor-ul-Ain Sahira View Post
    منا یہ تو بتاؤ
    تم نے تاریخ بڑھائی کہ نہیں؟ورنہ ان تین مضامین پر ہی ججز کا فیصلہ لینا پڑے گا۔
    میں تو نہیں بڑھا سکتی نا
    ہاں اگر آپ دینے کا وعدہ کرو تحریر تو کہا گیا ہے پانچ دن بڑھا لوں ونک۔۔
    تو وعدہ کررہی ہیں نا پھر۔۔

  5. #35
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post
    میں تو نہیں بڑھا سکتی نا
    ہاں اگر آپ دینے کا وعدہ کرو تحریر تو کہا گیا ہے پانچ دن بڑھا لوں ونک۔۔
    تو وعدہ کررہی ہیں نا پھر۔۔

    افففففففففففففففف
    آ بیل مجھے مار اسمائیلی

    خوش باش بیٹھے ہوئے اچانک منجی سے نیچے گر جانے والی اسمائیلی

    تم کو کیسے پتہ ابھی تک میں نے نہیں دی;d؟
    ہو سکتا ھے دے چکی ہوں;d۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  6. #36
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Noor-ul-Ain Sahira View Post
    افففففففففففففففف
    آ بیل مجھے مار اسمائیلی

    خوش باش بیٹھے ہوئے اچانک منجی سے نیچے گر جانے والی اسمائیلی

    تم کو کیسے پتہ ابھی تک میں نے نہیں دی;d؟
    ہو سکتا ھے دے چکی ہوں;d۔
    رات جب سونے لیٹیں گی نا خواب میں ضرور بیل مارنے آئے گا۔۔

    مجھے اس لئے پتا کہ آپ تو مجھے انگلا دکھا کر چلی گئی تھیں۔۔ پر اوپر بیٹھے والوں نے بھی کہا۔۔ کہ جو کہہ رہے ہیں کہ بڑھاؤ تاریخ ان سے کہو پہلے تحریر بھیجیں۔۔

    یہ ایویں مذاق ہے۔۔

  7. #37
    Senior Member

    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    7,798
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    فریادی اور فریبی
    رائٹر نے بہت اچھے مسئلے پر قلم اٹھایا ہے۔ انداز بیاں بہت اچھا ہے لیکن کچھ جگہ پر ربط کی کمی لگی۔ کچھ باتوں یا واقعات کو پیراگراف میں الگ الگ کرنے کی بجائے اکٹھا کر دیا گیا۔ مسئلے کا حل بھی اچھا پیش کیا گیا ۔ تھوڑی اور تفصیل شامل کر دی جاتی تو زیادہ اچھا اثر پڑتا۔
    اوورآل یہ ایک بہت اچھی کوشش تھی۔ امید ہے آئندہ بھی ان کی تحریریں پڑھنے کو ملیں گی۔
    کچھ مخصوص الفاظ کی وجہ سے رائٹر کا نام کوثر آپا ہی ذہن میں آتا ہے۔
    شارٹ کٹ
    یہ بھی فی زمانہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کا۔ وہ ہر چیز اور ہر کام جلد سے جلد اور مختصر ترین طریقے سے کرنا چاہتے ہیں۔
    انداز بیاں بہت اچھا اور غلطیوں سے مبرا تھا۔
    رائٹر کا شک آمنہ سس، حرا قریشی یا کائنات سس کی طرف جاتا ہے۔
    ​The Quraan breaks hard hearts and heals broken hearts.

    Grow
    where you are planted

  8. #38
    Senior Member

    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    7,798
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post
    اردو زبان


    دنیا کے ہر ملک کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر ہماری بدقسمتی کہ اردو بحیثیت قومی زبان کے رائج نہ ہوسکی اسی طرح جیسے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام نافظ نہیں ہوسکا ساٹھ سال بعد بھی ہم اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ زبان اردو ہونی چاہئے یا انگریزی ۔ہمارے ملک کے طبقہ اشرافیہ کی زبان انگریزی ہے اور وہ اس پہ بہت فخر کرتے ہیں اور عموما بڑے فخر سے کہا کرتے ہیں کہ ہمیں اردو نہیں آتی اور غلط سلط اردو اپنے نوکروں سے بولتے ہیں تو یہ وہ لارڈ میکالے کی پالیسی جس پر ہم آزادی کے ساٹھ سال بعد بھی گامزن ہیں کہ براون مین بناو جو دیکھنے میں تو دیسی ہوں مگر وہ سوچیں انگریز کی طرح۔
    آج اگر ھم اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہم انگریز کی ہر چیز کی حفاظت اس طرح کر رہے ہیں کہ اپنے آپ سے شرم آنے لگتی ہے۔قوانین وہ جو انگریز کے بنائے ہوئے جمہوریت ہے تو وہ انگریزی ، لباس ،زبان غرض جس چیز پر بھی نظر ڈالتے ہیں ہر چیز ہی یہ دہائی دیتی نظر آتی ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔آج ھمارا معاشرہ خود غرضی ، جھوٹ اور منافقت کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔ ھم نہ انگریز بن سکے ،نہ پاکستانی ،نہ مسلمان۔ہم چاہیں جتنا بھی انگریزی لباس پہن لیں اور انگریزی زبان بولنے کی کوشش کریں انگریز ہمیں کمتر سمجھتا تھا اور سمجھتا رہے گا۔علامہ اقبال بہت پہلے کہ چکے ہیں۔
    انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر
    اگر ھم پوری دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو چین کا عظیم لیڈر ماو کہتا ہے کہ چین گونگا نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے آپ پہ فخر کرتے ہیں۔جاپان ، رشیا ،ساوتھ امریکہ ،یورپ اور عرب ممالک میں ہمیں کہیں نظر نہیں آتا کہ انگریزی سے کوئی اتنی والہانہ محبت کرتا ہو۔انگریزی ایک بین القوامی زبان ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں اور انگریزی سیکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن انگریزی سے مرعوب ہونا اور احساس کمتری میں مبتلا ہونا ایسے ہی ہے جیسے جرم ضعیفی۔
    جب مسلمان جزیرہ نما عرب سے نکلے اور انہوں نے قیصر و قصرا جیسی سلطنتیں روند ڈالیں تو اس کے بعد جو مسلم علم اور سائینس میں جو ترقی شروع ہوئی وہ یونانی علم کو عربی میں ترجمہ کرکے اور اس کے اوپر مزید ریسرچ کرکے حاصل ہوئی ۔دوسری مثال یورپی اقوام کی ہے جنہوں نے سلطنت ہسپانیہ کو فتح کرنے کے بعد تمام مسلم علم کو عربی سے اپنی زبانوں میں ترجمہ کیا۔ ویسے بھی قابلیت کا جو معیار ہے وہ ریاضی ، فلسفہ اور سائینس میں مہارت حاصل کرنا ہے نہ کہ صرف انگریزی ۔
    ہمیں اپنے ملک میں اردو کو سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر رائج کرنا ہوگا تبھی ہم سائنس اور دوسرے علوم میں نہ صرف مہارت حاسل کرسکتے ہیں بلکہ جابر بن حیان کے الجبرا کی طرح نئے مضامین بھی متعارف کرواسکتے ہیں ۔عوام کی اکثریت اردو زبان سمجھتی اور پڑھتی ہے اور اسی اردو زبان میں بنیادی تعلیم سے لے کر اعلا تعلیم اردو ہونی چاہیے۔لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم ذہنی اور فکری لحاظ سے آزاد نہیں ہوجاتے اور ایسا جب تک نہیں ہوسکتا جب تک ھم اپنے لباس ،زبان ،اور ثقافت پر فخر نہیں کرتے اور یہ ہونے کے لیے ہمیں ایک انتہائی اندرونی سماجی اور معاشرتی تبدیلی کی ضرورت ہے۔آج ہمیں پھر سرسید احمد خان ، مولانا محمد علی جوہر ،علامہ اقبال ،حسرت موہانی اور ان جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی سخت ضرورت ہے جنہوں نے آزادی سے پہلے مسلمان قوم کے اندر آزادی کی روح پھونک دی۔ آج ہمارے درمیان وہ شخصیات موجود نہیں لیکن ان کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔آئیے ہم عہد کریں کہ آئیندہ ہم مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر کریں گے۔
    یہ بھی بہت اچھا موضوع ہے۔ اچھے طریقے سے بیان کیا گیا۔ املاء اور اسپیس کی غلطیوں کو چھوڑ کر۔
    لگتا ہے اسے احسان بھائی نے لکھا ہے۔
    ​The Quraan breaks hard hearts and heals broken hearts.

    Grow
    where you are planted

  9. #39
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    11,946
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔اندراگاندھی کا کہنا تھاکہ اگر کسی قوم کو ختم کرنا ہے توان کی زبان کو مٹا دو وہ خود مٹ جائگی اس ہی طرح اگر بقا چاھتے ہو تو اپنی زبان کو زندہ رکھنا بہت ضروری ہے بہت اچھا پیغام دیا ہے۔

  10. #40
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    اردو زبان


    خوب۔ مسئلے کا چناو بہت اچھا ہے۔ مجھے یہ اب تک کہ بیان کردہ سماجی مسائل میں سے پہلا ایسا مسئلہ محسوس ہوا جس پر بات چیت کیے جانے کی بہت گنجائش ہے۔

    مصنف سے اتفاق کرتے ہوئے اس بات کی تائید کروں گی کہ قومی یا بین الاقوامی سطح پر اپنی زبان کی بے وقعتی پر کیا رونا کہ جب معاشرتی سطح پر ہی اس کی کوئی وقعت نہ سمجھی جاتی ہو۔

    آج کل تو جس گھر کے بچے انگریزی میں بات چیت نہ کریں سمجھا جاتا ہے کہ کسی ایویں سے اسکول میں زیر ِتعلیم ہیں۔ خود لوگوں نے انگریزی کو اچھی اور ناقص تعلیم کے لیے ایک اسٹینڈرڈ بنا دیا ہے۔ میرے خیال میں تو اردو زبان کی اہمیت اب صرف سیاست تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔


    مصنف سے ایک بات پر، کہنے کو شاید اختلاف کہا جائے پر میں تو اس پر بات کرنا چاہتی ہوں۔ جہاں تک تجاویز پیش کرنے کی بات ہے تو بالکل درست کہا آپ نے۔

    ہمیں اپنے ملک میں اردو کو سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر رائج کرنا ہوگا تبھی ہم سائنس اور دوسرے علوم میں نہ صرف مہارت حاصل کرسکتے ہیں بلکہ جابر بن حیان کے الجبرا کی طرح نئے مضامین بھی متعارف کرواسکتے ہیں ۔
    مگر یہ ایک جملہ وضاحت طلب ہے شاید الفاظ کے استعمال نے آپ کی بات کو کچھ سے کچھ اور بنا دیا ہے۔

    اردو کو سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر رائج کرنے کی صلاح اچھی ہے لیکن اس بناء پر ہم سائنس یا دوسرے علوم میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں اس بات سے مجھے اتفاق نہیں۔

    حالیہ صورت حال دیکھی جائے تو تمام مضامین اور علوم کی تعلیم میں بے شک انگریزی کو اردو سے زیادہ اہمیت حاصل ہے مگر یہ علوم پڑھنے والوں کو مہارت بھی حاصل ہے اور وہ یقینا قابل ہیں۔ ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے ملک میں زیر تعلیم افراد اپنی فیلڈ یا اپنے مضمون میں ماہر نہیں۔ پھر چاہے وہ یہ سب انگریزی میں سیکھ رہے ہیں۔ یہاں بات صرف تجویز تک ہی کی جائے تو زیادہ مناسب ہے۔

    آخر میں کہی بات بھی بھی صحیح ہے ہمیں وہی لیڈر چاہیں جنہوں نے ایک بار پاکستان کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ مگر شاید ان لوگوں کی کہی باتیں سمجھنے اور ماننے کی صلاحیت بھی اُسی دور کے پاکستانیوں میں تھی۔ آج ان لیڈرز کی خواہش کی جا سکتی ہے لیکن آج کے دور کے ان پاکستانیوں کا کیا جو ان عظیم رہنماوں کو سمجھنے اور ماننے سے ہی قاصر ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کم سے کم ان کی کہی کچھ باتیں تو ہم لوگ آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہوتے۔

    ویسے مصنف/مصنفہ جی جتنا شاندار ٹاپک آپ نے چنا اتنی ہی الفاظ کی کنجوسی دکھائی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس ٹاپک پر خوب سارا سوچ کر نہیں لکھا کچھ جلدی دکھائی۔ بہرحال جتنا بھی لکھا بہت اچھا لکھا ہے۔ کیپ رائٹنگ۔
    Hazrat ALI A.S. Said

    Sermon 126:

    With regard to me, two categories of people will be ruined, namely he who loves me too much and the love takes him away from rightfulness, and he who hates me too much and the hatred takes him away from rightfulness.

    Nahjul Balagha.

  11. #41
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post
    ناعمہ آپی
    بہت بہت شکریہ اتنے اچھے تبصروں پر۔۔
    رائٹرز کی ہمت بڑھا رہی ہیں یقیناً
    خوش رہیں۔
    ویلکم جی ویلکم۔

    بہت عرصے بعد تو کوئی مقابلہ انجوائے کر رہی ہوں۔ ورنہ عام طور پر مصروفیت میں سے وقت نکال کر تحاریر پڑھنی پڑتی تھیں۔ اس بار تو بڑے ٹائم پر شروع کیا گیا ہے جب میں ویلی ہوں۔

    اب یہ بھی دعا کرو جی کہ یہ تبصرے پڑھ کر رائٹرز بھی خوش رہیں۔~



    اردو زبان والی تحریر کے لیے میرا بھی شک کا ووٹ بھائیوں کی طرف جاتا ہے۔ یقینا یہ کسی بھائی کا ہی شاہکار ہے۔
    Hazrat ALI A.S. Said

    Sermon 126:

    With regard to me, two categories of people will be ruined, namely he who loves me too much and the love takes him away from rightfulness, and he who hates me too much and the hatred takes him away from rightfulness.

    Nahjul Balagha.

  12. #42
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post
    رات جب سونے لیٹیں گی نا خواب میں ضرور بیل مارنے آئے گا۔۔

    مجھے اس لئے پتا کہ آپ تو مجھے انگلا دکھا کر چلی گئی تھیں۔۔ پر اوپر بیٹھے والوں نے بھی کہا۔۔ کہ جو کہہ رہے ہیں کہ بڑھاؤ تاریخ ان سے کہو پہلے تحریر بھیجیں۔۔

    یہ ایویں مذاق ہے۔۔

    ڈانٹ کھا کر چپ چاپ کونے میں بیٹھنے والی اسمائیلی
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  13. #43
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Noor-ul-Ain Sahira View Post
    ڈانٹ کھا کر چپ چاپ کونے میں بیٹھنے والی اسمائیلی
    نہ نہ مرشد سیئین۔۔ گستاخی معاف۔۔ کم عقل ایویں سرچڑھ کر بول رہی تھی۔۔

    آپی میں نے کہا ہوا ہے اب دیکھیں، اگر نہیں ٹائم بڑھتا تو پلیز دعا کریں کہ تحریریں تو آٹھ دس آجائیں پرسوں تک۔۔ ورنہ مجھے بہت نموشی ہونی ہے

  14. #44
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    السلام علیکم
    آہاا
    ایک اور تحریر آئی ہے۔۔ ابھی لاتی ہوں۔۔

  15. #45
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    وطن عزیر میں بجلی کا بحران اور ہماری زمہ داری

    وطن عزیز کو اس وقت بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔بیروزگاری،بدامنی،مہنگا ئی،لاقانونیت اور لوڈشیڈنگ(بجلی کا بحران) ۔۔۔یہ آخر الذکر بیان کردہ بحران تو اب تقریبا''ہر گھر کا مسئلہ خاص بن چکا ہے امیر ہو ،یا غریب،بچے بوڑھے جوان ،خواتین سبھی اس سے متاثر نظر آتے ہیں۔۔اور پھر موسم ہو شدید گرمی کا درجہ حرارت پینتالیس،پچاس ڈگری ہو ایسے میں بجلی نہ ہو،پانی نہ ہو اس عذاب کا درست اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو بذات خود اس عذاب سے گزرے ہوں۔۔

    اسوقت پاکستان میں دو کمپنیاں بجلی بنا رہی ہے ۔پیپکو(پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی) اور کے ای سی ایس(کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن)۔۔ پیپکو کے مطابق اسوقت بہ مورخہ تیرہ جولائی دو ہزار گیارہ، پاکستان میں بجلی کی طلب تقریبا'' اٹھارہ ہزار میگا واٹس ہیں جبکہ رسد یا پیداوار چودہ ہزار میگا واٹس ہیں۔۔یہ چار ہزار میگا واٹس کی جو کمی ہے اس کو پورا کرنے کیلئے دیہی علاقوں میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے اور شہری علاقوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔۔

    اک سروے کے مطابق کل پیداوار کا سب سے زیادہ چوالیس اعشاریہ دو فیصد بجلی گھریلو صارفین استعمال کر رہے ہیں۔۔جبکہ صنعتوں کیلئے اکتیس اعشاریہ ایک فیصد ،زراعت کیلئے چودہ اعشاریہ 3 فیصد ،گورنئمینٹ سیکٹر کیلئے سات اعشاریہ چار فیصد اور کمرشل استعمال کیلئے پانچ فیصد بجلی مہیا کی جارہی ہے۔۔۔

    اسوقت تین مختلف ذرائع سے بجلی حاصل کی جارہی ہے۔۔
    تھرمل پاور پلانٹ سے : اس طریقے میں باہر سے درآمد شدہ مٹی کا تیل و قدرتی گیس سے الیکٹرک جنریٹر کو ایندھن مہیا کیا جاتا ہے اور بجلی پیدا کی جاتی ہے،کل پیداوار کا تقریبا'' پینسٹھ فیصد بجلی اس طریقے سے حاصل کی جاتی ہے۔۔یہ نہ صرف اک کافی مہنگا طریقہ ہے بلکہ ماحول کی آلودگی کا سبب بھی بن رہا ہے۔تقریبا'' ستائیس عدد آئی پی پی ایس(اینڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس) کمپنیوں سے یہ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔۔

    ہایڈرو پاور پلانٹ (پن بجلی گھر) سے:اس طریقہ کار میں ڈیموں(تربیلا،منگلا،ورسک ڈیمز وغیرہ) کی پانی سے ٹربائن کو چلایا جاتا ہے ،اور بجلی پیدا کی جاتی ہے تھرمل پاور کے مقابلے میں نہ صرف ہایڈرو پاور انتہائی سستا ہے بلکہ جو پانی ٹربائنز سے گزر جاتا ہے وہ نیچے دریا کی شکل میں زمینوں کو سیراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔۔اسوقت ہایڈرو پاور پلانٹ سے کل پیداوار کا تقریبا'' تینتیس فیصد بجلی حاصل کی جارہی ہے۔۔۔

    نیوکلیئر پاور پلانٹ (جوہری بجلی گھر):پاکستان الحمداللہ اک جوہری طاقت رکھنا والا ملک ہے جو یورینیم کی آفزودگی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔۔اندازہ لگائیں صرف ایک ٹن قدرتی یورینیم کی آفزودگی سے اتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جتنا 80 ہزار بیرل تیل جلا کر حاصل کی جاسکتی ہو۔۔لیکن بدقسمتی سے کچھ بین الاقوامی قوانین کیوجہ سے پاکستان یورینیم کی آفزودگی نہیں کرسکتا اور اس وقت دو عدد اٹیمی ریکٹریز سے کل پیداوار کا فقط دو فیصد بجلی ہی حاصل کی جا رہی ہے۔۔

    اب سوال یہ ہے کہ اسوقت چار ہزار میگا واٹس کا جو شارٹ فال یا کمی ہے بجلی کی اس کو کیسے پورا کیا جائے؟۔۔اسکا فورا'' حل رینٹل پاور پلانٹس کی تنصیب ہیں ۔۔ایک پن بجلی گھر کی مکمل تعمیر و تنصیب میں تقریبا'' پانچ سال جبکہ تھرمل بجلی گھر کی مکمل تعمیر و نصیب کیلئےکم از کم تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ رینٹل(کرایہ پر) پاور پلانٹس چند مہینوں میں کام شروع کرسکتی ہے۔۔
    دوم۔۔۔تھر کول پروجیکٹ ،صحرا تھر میں موجود کوئلے کو بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔۔بقول معروف اٹیمی سائنسدان ثمر مبارک مند صحرا تھر میں کوئلے کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جس سے آئیندہ تیس سالوں تک یومیہ بیس ہزار میگا واٹس بجلی بنائی جاسکتی ہے۔۔
    سستی بجلی کی حصول کیلئے بڑے ڈیموں کی تعمیر،کالاباغ ڈیم پر صوبوں کا اتفاق نہ ہونے کیوجہ سے چھوٹے ڈیمز بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔۔
    اس کے علاوہ سولر انرجی(شمسی توانائی) و وینڈ مل (پن چکیوں) سے بھی بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔۔
    یہ تو حکومت کے کرنے کے کام ہوئے۔۔بطور پاکستان کے اک عام شہری ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟۔۔کس طرح اس بجلی کے بحران پر قابو پایا جائے؟۔۔

    ملک و قوم کے لئے بجلی بچانے و اپنی گھر کی بجلی کے بل میں کمی کیلئے چند مفید تجاویز پیش خدمت ہیں۔۔جس پر عمل کرکے اگر بہت زیادہ نہیں تو لوڈشیڈنگ کے دورنیے میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور واقع ہوسکتی ہے۔۔۔قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔۔آپ اپنے حصہ کا کام کیجئے ،مثبت کام کا رزلٹ ہمیشہ مثبت ہی آتا ہے۔۔۔

    گھر کی تمام غیر ضروری لائیٹس و بجلی سے چلنی والی اشیاء کو بند رکھیں۔۔۔۔
    بجلی سے چلنی والی اوون (تندور) کا استعال نہ کریں۔۔۔۔۔
    اے سی کی جگہ بجلی کے پنکھے یا روم کولر کا استعمال کیجئے۔ایک عدد اے سی ایک گھنٹے میں دو ہزار واٹس تک بجلی خرچ کرتی ہے جبکہ ایک پنکھا صرف سو واٹس۔۔اور روم کولر دو سو واٹس ۔۔۔۔۔۔
    اے سی کے تھرموسٹیٹ کو 26 ڈگری پر رکھیں۔۔
    عام سو واٹس والا زرد بلب کی جگہ انرجی سیور بلب کا استعمال کیجئے۔۔عام سو واٹس والا زرد روشنی والا بلب میں نوے فیصد بجلی حرارت میں تبدیل ہو کر ضائع ہوجاتی ہے اور فقط دس فیصد سے روشنی حاصل ہوتی ہے۔۔اس کے مقابلے میں انرجی سویر بلب فقط 22 واٹس بجلی خرچ کرتی ہے اور مکمل روشنی دیتی ہے۔۔ایک عدد ٹیوب لائیٹ ایک گھنٹے میں 40 واٹس بجلی خرچ کرتی ہے۔۔سو انرجی سیور بلب کا استعمال سب سے اچھا ہے زرد روشنی والا بلب ہرگز استعمال نہ کریں۔۔
    شام چھ بجے سے لیکر دس بجے تک استری،گریزر،پانی گرم کرنے والا ہیٹر،ٹوسٹر،ایئر کنڈیشن،سپلٹ اے سی،واشنگ میشن،پمپ موٹر کا استعمال ہرگز نہ کریں۔۔۔
    کھڑکیوں و دروازوں پر دبیز پردے آوازں کریں۔۔۔
    سایہ دار درخت لگائیں۔۔
    اپنے گھر کی انرجی کی تشخیص کیجئے کہ آپ کتنے یونٹس کی بجلی استعمال کرتے ہیں اور ماہرین سے بجلی کی اشیاء و تار وغیرہ کی چیک اپ کروائیں کہ کہیں خرابی کیوجہ سے بجلی ضائع تو نہیں ہو رہی ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق بجلی کی موجودہ پیداوار میں سے تقریبا'' 35 فیصد بجلی کنڈا سسٹم یا میٹرز وغیرہ میں گڑبڑ کی وجہ سے چوری کر لی جاتی ہے۔۔۔بقول نمائندہ پیپکو اگر یہ پینتیس فیصد چوری شدہ بجلی واپس مل جاتی ہیں تو چار ہزار میگا واٹس کی جو کمی ہے وہ کمی دور ہوسکتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوسکتا ہے۔۔۔اگر خداناخوستہ آپ خود اس جرم میں ملوث ہیں تو اس سے توبہ کیجئے ناصرف یہ اپنے ملک و قوم سے غداری ہے بلکہ روز قیامت بھی آپ سے اس کی پوچھ ہوگی آپ ان لوگوں کے مجرم ہونگے جن لوگوں نے آپکی چرائی ہوئی بجلی کے بلوں کی ادائیگی کیں۔۔۔بجلی چوروں کو پکڑنے کیلئے متعلقہ ادارہ کا ساتھ دیجئے اور اس نمبر پر مفت کال کرکے بجلی چوری کی اطلاع دیں۔۔۔۔نمبر ہے0800-84338۔۔۔۔۔۔



    حوالاجات۔۔۔
    www.pepco.gov.pk
    www.energysavers.gov

Page 3 of 19 FirstFirst 1234513 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •