Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 2 of 19 FirstFirst 123412 ... LastLast
Results 16 to 30 of 272

Thread: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    11,946
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    یہاں کی خاموشی خدا خدا کرتے ختم تو ہوئی۔اب ہمیں مزید تحاریر کا انتظار رہےگا
    ہمیں سچ میں اس طرح کے جھوٹے جادوگروں کے خلاف آواز اٹھانا چاہیےیہ دین اور دنیا دونوں کے لئے ضروری ہے۔اللہ ہم سب کو ہدایت دیے۔

  2. #17
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by *Maham* View Post



    فریادی اورفریبی


    ۔
    بہت ہی اچھا لکھا ہے جی "کوثر آپا" نے~;d;d۔
    اگر یہ کوثر آپا نہیں ہیں تو معافی چاہوں گی مگر پہلی نظر میں ان پر ہی شک کرنے والی اسمائیلی۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  3. #18
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    السلام علیکم۔

    آغاز تو بے حد شاندار ہوا ہے۔ شاید رائٹر سوسائٹی کے زیر اہتمام یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا مقابلہ ہے جس میں سماجی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ (اگر اس سے پہلے بھی اس موضوع پر لکھا گیا ہو تو میرے علم میں نہیں)۔ اب بات کی جائے تحریر کی۔

    فریادی اورفریبی


    تحریر کے ٹائٹل کا انتخاب اچھا رہا۔ آغاز میں خبر کا حوالہ دینا ایک اچھا امپریشن رہا، خبر پڑھ لینے سے ذہن میں خود بخود ایک پلاٹ بن گیا اور جب کہانی کہی گئی تو ذہن اسی پلاٹ پر اسے ترتیب دینے لگا۔

    مجھے پہلے پیراگراف میں بیان کردہ روحانی علاج کا تذکرہ بہت اچھا لگا۔ دوسرے پیراگراف کا آغاز بھی اچھا تھا مگر مصنف سے معذرت کے ساتھ جہاں پر اپنے ملک جانے کا تذکرہ کیا گیا وہاں پر مجھے کہانی کے لفظوں اور اس کے اصل مفہوم سے مطابقت میں کچھ کمی محسوس ہوئی۔ آپ نے جو کہا وہ بات سے میل ضرور کھاتا ہے مگر اس کو بیان کرنے کا انداز مزید بہتر ہوتا تو وہ کچھ جملے بھی کہانی کے ردھم کو برقرار رکھ پاتے۔

    اس کے بعد واقعہ پھر اسی بہاو میں کہا گیا جو شروع سے کہانی میں قائم تھا۔


    کتنی افسوس کی بات ہےپہلے بیٹی ساس نند کی شکایت بھی ماں سے کریے تو ماں ڈانٹ کر کہتی تھی کہ اچھی بیٹی سسرال کی باتیں میکہ میں نہیں کرتی اب جینا مرنا سب انہیں کے ساتھ ہے۔اور آج کی ماں عامل کے پاس لیے جاتی ہے کے داماد کوہاتھ میں رکھے ساس کچھ نہ کہیے ان کا منہ بندرہیے پہلے کی ماں اچھے اخلاق اور خدمت سے سب کے دل جیتنے کاگر سکھتی تھی۔بیمار ہوتو منجانب اللہ سمجھے ڈاکٹر کے باس جائےڈاکٹر کا علم اوردوا میں شفاءبھی اللہ ہی کی دیی ہوئی ہوتی ہے ساتھ دعا کریےوہ ہی چاہیے توسب ہوتا ہے۔ اور آج ہم سب کو۔کیا کررہے ہیں ا للہ کو چھوڑکراللہ اور ہمارے دشمن غیرمسلم سے مدد طلب کررہیے ہیں
    مجھے کہانی کا یہ پیراگراف بہت پسند آیا۔ اس میں واقعی معاشرے پر جو چوٹ کی گئی وہ بہت خوبصورت انداز میں کہی گئی ہے اور حقیقت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا سبق بھی ہے۔ بہت اچھے۔

    اختتامیہ پیغام بھی بہت اچھا رہا۔ اوورآل ایک اچھاامپریشن رہا۔ تحریر میں سماجی مسئلے کو ڈسکس کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مسئلہ بننے کی وجوہات بھی بتائی گئی اور کسی حد تک اس سے بچے رہنے کی ترکیب بھی۔ جو میری نظر میں تحریر کا ایک مضبوط پہلو ہے۔

    مصنف کو بہت مبارکباد اتنی بہترین تحریر سے مقابلے کے آغاز پر۔ ایک تحریر میں جو لوازمات ہونے چاہیں وہ قریب قریب سب ہی موجود تھے۔ بس ایک ادنٰی سی درخواست ہے تحریر بھیجنے اور پوسٹ کرنے والوں سے کہ پلیز یہاں پوسٹ کرنے اور بھیجنے سے قبل کم سے کم دو بار تحریر کو ضرور پڑھیں تاکہ الفاظ و املاء کی غلطیاں کم سے کم ہوں۔ یہ چھوٹی چھوٹی املاء کی غلطیاں لکھے ہوئے مضمون کا حُسن ماند کرتی ہیں۔

    بہت شکریہ۔
    Hazrat ALI A.S. Said

    Sermon 126:

    With regard to me, two categories of people will be ruined, namely he who loves me too much and the love takes him away from rightfulness, and he who hates me too much and the hatred takes him away from rightfulness.

    Nahjul Balagha.

  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    واہ واہ
    نور آپی اور ناعمہ آپی بہت شکریہ تبصرہ کرنے کا۔۔

    یقیناً رائٹر کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہوگی۔۔

  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2008
    Posts
    1,722
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    اسلام علیکم،
    میرے خیال سے اگر آخری تاریخ کو ایک ہفتے آگے بڑھا دیا جائے تو ہمیں اور بھی کافی تحریریں پڑھنے کو مل سکتی ہیں کیونکہ چودہ جولائی میں تو صرف چار دن باقی ہیں ۔اور چار دنوں میں کتنی تحریریں آجائیں گی۔

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2007
    Posts
    483
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    سوچنا پڑے گا، اتنے بڑے تحریری مقابلہ میں حصہ لینے کے لیے۔
    خود ہی کوئی مسلہ بناتے ہیں اور اسکا حل بھی خود ہی ڈھونڈتے ہیں، اور پہلا نمبر چاہے باٹم سے ہی سہی پاتے ہیں~، کیوں ماہم سسٹر، کیسا آئیڈیا ہے؟
    اور اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ سب امور کے لیے کافی ہے۔۔
    میری کتاب "الوداع"۔

    میرا بلاگ





  7. #22
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Prince Ijaz View Post
    سوچنا پڑے گا، اتنے بڑے تحریری مقابلہ میں حصہ لینے کے لیے۔
    خود ہی کوئی مسلہ بناتے ہیں اور اسکا حل بھی خود ہی ڈھونڈتے ہیں، اور پہلا نمبر چاہے باٹم سے ہی سہی پاتے ہیں~، کیوں ماہم سسٹر، کیسا آئیڈیا ہے؟
    ابھی تو بہت چھوٹا ہے۔۔ تین دن پرانا ہے۔۔
    بڑا تو آپ جب تحریر بھیجیں گے تب ہوگا نا۔۔ مسکہ لگانے والی اسمائیلی
    ہاہاہاہاہا جی جی بالکل بھائی۔۔۔ بس کوشش کیجئے گا مجھے مار نہ پڑ جائے۔۔ باقی سیٹ ہے۔

  8. #23
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    السلام علیکم
    ایک اور تحریر مقابلے کی رونق بڑھانے آرہی ہے۔
    بس چڑھ گئی۔۔ اترنے ہی والی ہے۔۔

  9. #24
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    شارٹ کٹ

    انسانی فطرت یا سماجی مسئلہ؟
    سفر زندگی کا ہو یا کوئی اور، اسکی کچھ نہ کچھ تو پلاننگ کی جاتی ہے۔ ٹرین کا ہو تو جب ٹکٹ گھر کی اس آدھی نقاب پوش کھڑکی تک رسائی ہوتی ہے، تو کلرک ضرور پوچھتا ہے کہ طوفان میل ایکسپریس سے جائیے گا یا پیسنجر ٹرین سے؟ اور آپ اپنے وقت کو کھنگالتے لگتے ہیں یا جیب میں پڑے والٹ کو، یہ دنیا بھی ایک مسافر خانہ ہے اور زندگی اس کی ٹرین، جس میں مسافر چڑھتے ہیں اترتے ہیں۔ اور ان کی جگہ دوسرے مسافر لے لیتے ہیں۔ یہ ٹرین رکنے والی نہیں۔ کاش اللہ میاں جی مسافروں سے انکی خودی کی رضا ہی جان لیتے کہ زندگی کا سفر پیسنجر ٹرین سے کرنا چاہو گے یا شارٹ کٹ میں ایکسپریس سے،

    اس کا لغوی معنی تو ہے چھوٹا راستہ، لیکن سمجھنے والوں نے اسے کیا کیا سمجھا اور کس طرح اسکا استعمال کیا۔ بچوں کو ایک سال میں دو کلاسز کروا کر جلدی تعلیمی سیڑھی چڑھوا دینا۔ راتوں رات امیر ہونے کے چکر میں دو نمبر کے کام کرنا اور اپنا ٹارگٹ جلد از جلد پانے کو شارٹ کٹ کے مفہوم کے قریب کر دیا گیا، جس میں وقت، پیسہ بھی کم لگے اور رزلٹ بھی من پسند ملے۔

    میں بچپن میں ایک مہربان کو انگلش نیوز سنتے ہوئے ساتھ تیزی سے لکھتے ہوئے بھی دیکھا کرتی تھی۔ اب یہ مت سمجھیے گا کہ وہ انگلش نیوز پہلے لکھ کر پھر پڑھا کرتے تھے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ شارٹ ہینڈ میں نیوز لکھ رہے ہیں۔ مجھے عجب سی ادھوری لکھی ہوئی لینگویج نظر آتی۔ سمجھ سے باہر، کچھ چینی زبان سے ملتی جلتی اور میں ایک لفظ بھی نہ پڑھ پاتی۔ میرا تجسس جوں کا توں برقرار رہتا اور میرے سوال ہی ختم نہ ہوتے۔ تب میری تسلی کی گئی کہ جس طرح ٹائپنگ کی سپیڈ ہوتی ہے اسی طرح انگلش کی مخفف زبان لکھ کرشارٹ ہینڈ کی سپیڈ بڑھائی جاتی ہے۔ میرے لیے یہ حیران کن تھا لیکن یہ میں نے اپنی زندگی کا سب سے پہلا شارٹ کٹ دیکھا تھا۔ انگلش زبان کو پہلے مکمل حالت میں سننا، بعد ازاں اس کے ٹکڑے کرنا اور پھر اس کو پزل کی طرح جوڑنا۔

    ویسے مقام شکر ہے کہ یہ صرف شارٹ ہینڈ ہی رہی، ورنہ غضب ہو جاتا اگر یہ شارٹ ماؤتھ ہو جاتی۔ اور لوگ اسے روزمرہ کی بول چال میں لے آتے تو کیا ہوتا۔ سننے والا تو اپنا سر ہی کھجاتا رہ جاتا۔ ایک بار رضیہ جمیل کا ایک ناول پڑھا تھا، جس میں کچھ رشتوں کو ذرا مبہم اور مخفف الفاظ دئیے گئے تھے۔ بڑے ابا کو بڑبا کہا جاتا تھا۔ بڑے بھیا کو بڑبھیا وغیرہ،
    اور ناموں کی عرفیت بھی تو اسی نکتے کو واضح کرتی ہے۔ کہ لوگ تابی، شینا، مینا، پپو، گڈو، مونی جیسے مخفف نام سے بلا کر اپنے تئیں وقت اور الفاظ کی فضول خرچی سے بچتے ہیں۔ ایک ماموں ہوا کرتے تھے جو بچوں کے ناموں پر بالکل دھیان نہیں دیتے تھے۔ اور وہ ہر لڑکی کو گڈی کہہ کر بلاتے تھے اور ہر لڑکے کو بلو، اور ان کے اس شارٹ کٹ پر سب مسکرا دیتے تھے۔

    بہت سے لوگ اپنے دستخط میں ہی اپنی شخصیت اور نام کو بہت مختصر الفاظ میں چھپا لیتے ہیں۔ جیسے کے ایل سہگل، ایس اے صدیقی، اے آر کاردار، او پی نیر، کم کم، ٹن ٹن، ایس سلیمان، اے نیر وغیرہ، تو یہ بھی شارٹ کٹ ہی کا طریقہ تھا۔ اپنے زمانے کی ایک مشہور ناول نگار تھیں جنہیں سب اے آر خاتون کے نام سے جانتے تھے۔ قارئین ان کے ناولز کے تو بڑے مداح تھے ہی، پر ان میں مصنفہ کا اصل نام جاننے کا تجسس بھی بھرپور تھا۔ آخر کار رائیٹر کو اپنے نام پر سے تب پردہ اٹھانا پڑا، جب ان کے ایک مداح نے انھیں یہ لکھ بھیجا کہ اسکے خیال میں ناول نگار کا نام اللہ رکھی ہے۔ اور اے آر اسی کا مخفف ہے۔ تب وہ اپنا اصل نام اپنے مداحوں کے سامنے لائیں۔

    درحقیقت لوگوں نے اس انگلش لفظ کو اپنی زندگی میں اک عام سی حالت میں شامل کر لیا ہے۔ جبکہ اس کی ظاہری حالت بالکل مجبوری کی سی ہے۔ انگریزوں کی ڈالی کوئی مجبوری۔ جو کسی ناگہانی صورتحال کا متبادل نظر آئے اور نام سے یہ کسی ایمبرجینسی کو شو کرتی ہے۔ البتہ اس کی تاثیر ٹیلی گرام جیسی لگتی ہے۔ اور اس کو استعمال کرنے والے اپنے آپ کو سمارٹ پرسن سمجھنے لگتے ہیں۔

    اب یہ اپنے تئیں سمارٹ سمجھنے والے اکثر دام میں آ جاتے ہیں۔ ایک عامل بابا نے ایک گھر کی پریشانیاں دور کرنے کے لیے سربراہ فیملی کو گھر سے پورے زیورات لانے کا حکم دیا کہ وہ یہ سارا سونا اپنے تکیے کے نیچے رکھ کرعمل کرے گا، جس سے گھر کی پریشانیاں، تکالیف دور ہوں گی۔ اور گھر میں خوشیوں اور رزق کی برسات ہو گی۔ جب اگلے روز وہ صاحب زیورات لینے واپس گئے، تو عامل بابا نے یہ کہہ کردینے سے انکار کر دیا کہ وہ سونا تو۔۔ جن ۔۔ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ اب آپ ہی کہیں کہ یہ رپٹ کہاں لکھوائی جائے؟ سو کہا جا سکتا ہے کہ شارٹ کٹ ایک لالچ کا ذریعہ بھی لگتا ہے۔ کبھی کبھی جس کی سیڑھی بندہ ایک طرف چڑھ کر دوسری طرف اوندھے منہ گر جاتا ہے۔ اسی کی بدولت نجومیوں کا دھندا کافی چمکا ہے۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ راتوں رات امیر ہونے کا خواب لوگوں کی اکثریت کے لیے کتنا دلفریب ہے۔

    قصہ بر طرف،
    اب تو لنچ اور ڈنربھی فاسٹ فوڈ کا شارٹ کٹ بن گیا ہے، جو بآسانی پیٹ بھر دیتا ہے۔ نہ کسی کو ٹفن لے جانے کی ضرورت اور نہ ہی بھوکا رہنے کی، اور نہ ہی اب ماں کو بچے کے بھوکا رہنے کی فکر تڑپاتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ اب گھر سے باہرکھانے میں مزے اڑانے کے بےشمار چھوٹے ذرائع دریافت ہو چکے ہیں۔ سٹوڈنٹ کے لیے تو ایک فش، چکن چیز برگر اور کولا کا ٹن ہی کافی ہے۔ پھر میکڈونلڈ، کے ایف سی، پزا ہٹ، برگرکنگ اب پرانی روایت اور روائیتی کھانوں کے متبادل کے طور پر آن موجود ہوئے ہیں۔ وہ مرد جس نے بڑی شایان شان زندگی گزاری ہے اور گھر کے کچن میں جھانکا تک نہیں۔ اب اس پر بھی ڈاکٹر وکیل بننے کا دباؤ نہیں اور انجینئر تو ویسے بھی اب لڑکیاں زیادہ بن رہی ہیں۔ سو شارٹ کٹ میں اب اسکا رحجان بھی کوکنگ ایکسپرٹ، ماسڑ شیف بننے کی طرف ہے اور کام بھی مندا نہیں سدا بہار ہے۔ آخر لوگ کھانا پینا کم تو نہیں کریں گے نا،

    اب تو یہ واضح طور پرمحسوس ہوتا ہے کہ شارٹ کٹ ایک سماجی مسئلہ بن چکا ہے اور اسے فیس کرنے کا طریقہ معاشرتی رویہ بن چکا ہے اور کسی نہ کسی طور یہ سب کی زندگیوں میں داخل ہونے کی کوشش میں ہے۔ جس کے چکر میں اپنی روایات سے ہٹا جا رہا ہے۔ اس نے نفسانفسی کو بھی بڑھاوا دے دیا ہے۔ کیونکہ اب لوگ جلد اپنا ٹارگٹ پانا چاہتے ہیں۔ اور اسکے لیے دوسرے بندے کو پیچھے دھکیلنا پڑے تو بھی عارنہیں سمجھتے، بلکہ اسے اپنی بقاء کی لڑائی کہہ کر دل کو سمجھا لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ مقام صبر سے بندے کو دور لے جاتا ہے۔ اک اطمینان اور سکون کی کیفیت کو ختم کر دیتا ہے۔ افرا تفری جلدی، تیزی مزاج کا حصہ بننے لگتی ہے۔ اور بندہ منٹوں، سیکنڈوں اور گھنٹوں کے مدار میں فٹ ہونے لگتا ہے۔ اور اسی افراتفری میں بلڈ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ غصہ بھی رگوں میں دوڑنے لگا ہے۔ اور پھر بی پی ہائی شوٹ ہو کر اک نئی فرسٹریشن کی صورت نمایاں ہونے لگتا ہے۔ اور معاشرے میں اسکا اخلاقی رویہ بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ اچھا لائف سٹائل اور بینک بیلنس مضبوط کرنے کی کیفیت میں اک دوڑ سی لگ جاتی ہے۔ تو اپنوں کے لیے بھی وقت محدود ہونے لگتا ہے اور یہیں سے ہی پریشانی در پریشانی بھی نمودار ہونے لگتی ہے۔ جبکہ ان سب کا محرک پیچھے شارٹ کٹ ہی ہے۔

    جبکہ بےچارے یوگا والے تو سب کو سمجھا سمجھا کر اپنی سی کر کے رہ گئے کہ بھائی صبح ساڑھے پانچ بجے اٹھو، یوگا کرو، دوچار گہری سانسیں لو اورآرام سکون سے تیار ہو کر اپنے اپنے کموں کاروں پر سدھارو۔ تو شام کو جم میں جا کر بھی جان مارنے کی کیا ضرورت ؟ لیکن کہاں جی لوگ آخری منٹ میں تیار ہونے والے سب کو اک ناچ نچا کر صبح کے پرسکون وقت کو افراتفری میں بدل کر گھر سے روانہ ہوتے ہیں یا مختصرا سورج نمسکار کر کے نکلنے کی کرتے ہیں۔

    اس موضوع کا ایک اور رخ بھی کافی تکلیف دہ ہے جب شارٹ کٹ مارنے کے چکر میں بہت سے لوگ ڈاکوں اور چوروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہی شارٹ کٹ اپنے معنی کے قریب تر ہے۔ چھوٹا راستہ، لیکن کیا کیجئے کہ تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں گے۔ گھڑی بھر کو تیرا دیدار کر کے ہم بھی دیکھیں گے۔ اور طویل راستے کی بجائے چھوٹے راستے پر سفر کرکے ہم بھی دیکھیں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ دیدار بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اور بندہ کنگال ہو کراپنی جان کی خیر مناتا ہوا گھر کو لوٹتا ہے۔

    قصہ مختصر، کچھ مہربان حق بندگی بھی شارٹ طریقے میں فورا سجدے پہ سجدہ دے کر پورا کر لیتے ہیں۔ اور لمبا راستہ مولوی اور علماء کے لیے رہنے دیتے ہیں۔ اب زندگی میں اس پہلو کی اہمیت کم ہے یا زیادہ پھر بھی اس بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ شارٹ کٹ کو کبھی پہلی ترجیح نہ بنایا جائے۔ بلکہ جب کوئی تدبیرنہ بھی کام آ رہی ہو تو اس وقت بھی ایک بار ضرور اپنے باطن کی آواز پر دھیان دے لیا جائے۔ ممکن ہے کہ سوچ کی گہرائی میں ہی مسئلے کا حل یا روشنی کی کوئی کرن موجود ہو۔ اور بندے کو شارٹ کٹ جیسے پرخطر راستے پر نہ ہی سفر کرنا پڑے۔

  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    شارٹ کٹ
    ویری نائس

    بغیر کسی شک کے میم یا سمارا پر یقین کرنے والی اسمائیلی۔

    یارا اس مقابلے کے دن تو بڑھاؤ ورنہ بہت کم تحاریر آنے کی امید ھے۔ کم سے کم ایک ویک اور۔۔۔۔۔پلیز
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    11,946
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    اس تیز رفتار سے دوڑتی زندگی کے مختلف پہلوں پر بہت اچھے سے اور روانی سے روشنی ڈالی گئی ہے بہت عمدہ تحریر ہے ۔واقعی میں اس مقابلہ کا ٹائم بڑھیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ تحاریر پڑھنے کو مل سکے ۔

  12. #27
    Senior Member

    Join Date
    May 2011
    Posts
    381
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Noor-ul-Ain Sahira View Post
    شارٹ کٹ
    ویری نائس

    بغیر کسی شک کے میم یا سمارا پر یقین کرنے والی اسمائیلی۔

    یارا اس مقابلے کے دن تو بڑھاؤ ورنہ بہت کم تحاریر آنے کی امید ھے۔ کم سے کم ایک ویک اور۔۔۔۔۔پلیز
    ﻟﮕﺘﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﻴﮟ ﻣﮕﺮ ﻣﺎﺿﯽ ﺷﺎﮨﺪ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻳﻨﭩﺮﯼ ﮐﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﻌﺪ ﺍﺳﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﻴﮟ

    ﺍﺱ ﺩﮬﺠﯽ ﮐﻮ ﮔﻠﻴﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﻟﻴﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﻴﮟ ﻃﻔﻼﮞ
    ﻳﮧ ﻣﻴﺮﺍ ﮔﺮﻳﺒﺎﮞ ﮨﮯ ﻳﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ

  13. #28
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    شارٹ کٹ


    بہت عمدہ ہلکی پھلکی سی تحریر ہے۔ املاء کی غلطیوں سے پاک اور اچھے الفاظ کے استعمال کے ساتھ۔ جس طرح شارٹ کٹ کی اصلاحات بیان کیں مجھے وہ انداز بہت اچھا لگا۔ مختصر لفظوں میں چھوٹے چھوٹے پیراگراف میں ہر مثال کو عمدگی سے بیان کیا گیا۔

    ناموں کے شارٹ کٹ والا پیراگراف بہت خوب رہا اور اس میں ہلکا سا مزاح کا بھی عنصر شامل تھا جس کی وجہ سے تحریر میں دلچپسی قائم رہی۔

    بہت اچھے طریقے سے چھوٹی مثالوں کو اصل مقصد سے ریلیٹ کیا گیا۔ مختصر واقعات کا تذکرہ کرنے کے بعد اصل مفہوم کو بیان کرنا اچھا لگا۔ مجھے مصنف کے نقطہ نظر سے بالکل اتفاق ہے آج کے اس مشینی دور میں ہر کوئی لمبے راستے کو چھوڑ کر کم وقت سے زیادہ فائدہ ہی اٹھانا چاہتا ہے۔

    کچھ مہربان حق بندگی بھی شارٹ طریقے میں فورا سجدے پہ سجدہ دے کر پورا کر لیتے ہیں۔ اور لمبا راستہ مولوی اور علماء کے لیے رہنے دیتے ہیں۔

    بجا فرمایا، مجھے یہ ایک مثال پوری تحریر کی جان لگی۔ بہت ہی خوب سوچ۔ بہت ہی خوب انداز۔ بے شک یہ ایک پرانے مصنف کا شاہکار ہے۔

    ویسے تو ماشاءاللہ سب ہی قابل ہیں مگر ساحرہ کے شک کے دائرے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں ایک اور نام بھی لینا چاہوں گی۔ مصنفہ کائنات سس بھی ہو سکتی ہیں۔
    Hazrat ALI A.S. Said

    Sermon 126:

    With regard to me, two categories of people will be ruined, namely he who loves me too much and the love takes him away from rightfulness, and he who hates me too much and the hatred takes him away from rightfulness.

    Nahjul Balagha.

  14. #29
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    ایک اور تحریر۔۔۔۔ پرسنلی میری فیورٹ

  15. #30
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,546
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: کالم/مضمون/نان فکشن تحاریر کا مقابلہ

    اردو زبان


    دنیا کے ہر ملک کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر ہماری بدقسمتی کہ اردو بحیثیت قومی زبان کے رائج نہ ہوسکی اسی طرح جیسے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام نافظ نہیں ہوسکا ساٹھ سال بعد بھی ہم اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ زبان اردو ہونی چاہئے یا انگریزی ۔ہمارے ملک کے طبقہ اشرافیہ کی زبان انگریزی ہے اور وہ اس پہ بہت فخر کرتے ہیں اور عموما بڑے فخر سے کہا کرتے ہیں کہ ہمیں اردو نہیں آتی اور غلط سلط اردو اپنے نوکروں سے بولتے ہیں تو یہ وہ لارڈ میکالے کی پالیسی جس پر ہم آزادی کے ساٹھ سال بعد بھی گامزن ہیں کہ براون مین بناو جو دیکھنے میں تو دیسی ہوں مگر وہ سوچیں انگریز کی طرح۔
    آج اگر ھم اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہم انگریز کی ہر چیز کی حفاظت اس طرح کر رہے ہیں کہ اپنے آپ سے شرم آنے لگتی ہے۔قوانین وہ جو انگریز کے بنائے ہوئے جمہوریت ہے تو وہ انگریزی ، لباس ،زبان غرض جس چیز پر بھی نظر ڈالتے ہیں ہر چیز ہی یہ دہائی دیتی نظر آتی ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔آج ھمارا معاشرہ خود غرضی ، جھوٹ اور منافقت کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔ ھم نہ انگریز بن سکے ،نہ پاکستانی ،نہ مسلمان۔ہم چاہیں جتنا بھی انگریزی لباس پہن لیں اور انگریزی زبان بولنے کی کوشش کریں انگریز ہمیں کمتر سمجھتا تھا اور سمجھتا رہے گا۔علامہ اقبال بہت پہلے کہ چکے ہیں۔
    انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر
    اگر ھم پوری دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو چین کا عظیم لیڈر ماو کہتا ہے کہ چین گونگا نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے آپ پہ فخر کرتے ہیں۔جاپان ، رشیا ،ساوتھ امریکہ ،یورپ اور عرب ممالک میں ہمیں کہیں نظر نہیں آتا کہ انگریزی سے کوئی اتنی والہانہ محبت کرتا ہو۔انگریزی ایک بین القوامی زبان ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں اور انگریزی سیکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن انگریزی سے مرعوب ہونا اور احساس کمتری میں مبتلا ہونا ایسے ہی ہے جیسے جرم ضعیفی۔
    جب مسلمان جزیرہ نما عرب سے نکلے اور انہوں نے قیصر و قصرا جیسی سلطنتیں روند ڈالیں تو اس کے بعد جو مسلم علم اور سائینس میں جو ترقی شروع ہوئی وہ یونانی علم کو عربی میں ترجمہ کرکے اور اس کے اوپر مزید ریسرچ کرکے حاصل ہوئی ۔دوسری مثال یورپی اقوام کی ہے جنہوں نے سلطنت ہسپانیہ کو فتح کرنے کے بعد تمام مسلم علم کو عربی سے اپنی زبانوں میں ترجمہ کیا۔ ویسے بھی قابلیت کا جو معیار ہے وہ ریاضی ، فلسفہ اور سائینس میں مہارت حاصل کرنا ہے نہ کہ صرف انگریزی ۔
    ہمیں اپنے ملک میں اردو کو سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر رائج کرنا ہوگا تبھی ہم سائنس اور دوسرے علوم میں نہ صرف مہارت حاسل کرسکتے ہیں بلکہ جابر بن حیان کے الجبرا کی طرح نئے مضامین بھی متعارف کرواسکتے ہیں ۔عوام کی اکثریت اردو زبان سمجھتی اور پڑھتی ہے اور اسی اردو زبان میں بنیادی تعلیم سے لے کر اعلا تعلیم اردو ہونی چاہیے۔لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم ذہنی اور فکری لحاظ سے آزاد نہیں ہوجاتے اور ایسا جب تک نہیں ہوسکتا جب تک ھم اپنے لباس ،زبان ،اور ثقافت پر فخر نہیں کرتے اور یہ ہونے کے لیے ہمیں ایک انتہائی اندرونی سماجی اور معاشرتی تبدیلی کی ضرورت ہے۔آج ہمیں پھر سرسید احمد خان ، مولانا محمد علی جوہر ،علامہ اقبال ،حسرت موہانی اور ان جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی سخت ضرورت ہے جنہوں نے آزادی سے پہلے مسلمان قوم کے اندر آزادی کی روح پھونک دی۔ آج ہمارے درمیان وہ شخصیات موجود نہیں لیکن ان کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔آئیے ہم عہد کریں کہ آئیندہ ہم مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر کریں گے۔

Page 2 of 19 FirstFirst 123412 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •