Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 15 of 41

Thread: راجہ گدھ پر تبصرہ

  1. #1
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    راجہ گدھ پر تبصرہ

    السلام علیکم معزز سوسائٹی ممبران۔۔۔

    یہاں کیونکہ سب لکھنے اور لکھنے کی طور طریقوں کو سمجھنا چاہنے والے ہیں تو اس زمن میں ایک یہ کوشش ہے کہ ہم ایک ماسٹر پیس "راجہ گدھ" از قدسیہ بانو کو پھر سے پڑھیں گے۔۔ اور ہر اس میں موجود فلسفے کی گہرائی ناپنے کی اور نظریات کو ایکسچینج کرنے کی کوشش کریں گے۔ ۔

    امید ہے اس میں آپ سب جنہوں نے اسے پڑھ رکھا ہے، ساتھ دیں گے۔۔ اور وہ جنہوں نے اسے ابھی نہیں پڑھا اور پڑھنے سے پہلے اسے تھوڑا جانچ لیں گے۔۔

    تو آئیں بسم اللہ کریں۔۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  2. #2
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    راجہ گدھ ایسی کتاب ہے جسے جتنی بار پڑھو اتنی بار ہی کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ پہلی بار میں نے جب راجہ گدھ کو پڑھا تو میرا ادبی ذوق اور سمجھ اتنی نہ تھی جتنی اب۔۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس میں سے جانوروں والا پورشن چھوڑ چھوڑ کر پڑھا کہ مجھے بس کہانی میں ہی دلچسپی تھی۔۔ علاوہ ازیں کہیں کوئی فلسفہ اچھا لگ جاتا تو واہ واہ کر اٹھتی۔۔

    لیکن پھر بھی کتان ختم ہونے پر میں اس کی کافی معترف تھی کہ مصنفہ نے بہت ہی اچھا لکھا۔۔ سب سے زیادہ اچھا مجھے حلال اور حرام کا کانسیپٹ لگا۔۔ لیکن ابھی اسے ڈسکس نہیں کر رہی۔۔ ان دنوں میں یہ کتاب ڈیڑھ بار پڑھنے کے بعد پھر سے پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔ تو اسے پڑھنے کے دوران جو جو کانسیپٹ آتا جائے گا اسے ان شاء اللہ یہاں ڈسکس کروں گی اور باقیوں کی رائے طلبی بھی ہو گی۔۔

    آپ بھی اپنا اور "راجہ گدھ" کا سفر ضرور شیئر کریں۔
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    واو راجہ گدھ پر تبصرہ۔ ۔ ۔ مزے کی بات ہے میں نے بھی کافی جانوروں والا حصہ اسکیپ کیا تھا۔۔۔۔۔ اور پڑھا بھی یہیں فورم میں تھا۔ ۔ اور اتنا بڑا ناول پڑھنا وہ بھی کمپیوٹر میں ہائےےےےےے افففف۔

    چلو آپ لوگ کریں تبصرے تاکہ اس کے مختلف پہلو سے مزید آگاہی ہو ۔۔۔۔۔ ویسے یہاں فورم میں جو راجہ گدھ پوسٹ ہوا ہے اس میں بہت زیادہ غلطیاں ہیں جس سے کافی الجھن ہوئی تھی پروف ریڈنگ کی سخت ضرورت ہے ۔ یا جس نے بھی کی ہے ذرا دھیان سے پروف ریڈنگ کرتا تو کیا ہی اچھی بات ہوتی۔

  4. #4
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    ناول شروع ہوتا ہے تو ہم ایم اے سوشیالوجی کی کلاس میں موجود کئی لوگوں سمیت کچھ اہم کرداروں جیسے سیمی شاہ، آفتاب، پروفیسر سہیل اور یہ کہانی بیان کرنے والے قیوم سے ملتے ہیں۔

    یہاں رائٹر نے کردار سازی خاص طور پر کسی پیراگراف سے پہلے کچھ تشبیہات کچھ طور طریقوں کو واضح کر کے پہلے قاری کو اندازہ لگانے کا وقت دیا ہے کہ وہ خود جج کر سکے کہ وہ کس طرح کے کردار کی مالک ہیں۔

    مثلاً ناول کی ہیروئن سیمی شاہ کے کردار کی ساخت کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے چند اچھوتی تشبیہات کا استعمال کیا ہے۔۔ جیسے۔۔۔۔

    "نئی کار جیسی لڑکی"
    "چولستانی ہرنی"

    دیگر کے بارے میں

    "یہ تمام لڑکیاں چہرے مہرے اور لباس سے ایسی لگتی تھیں، جنہوں نے اخباری کاغذوں پر چھپے ہوئے نوٹس رٹ رٹ کر بی اے کیا ہو۔"

    "کوثر اور سیمی شاہ ہماری کلاس کی آنکھیں ہیں۔ جگمگاتی، روشن، دعوت سے بھری۔"

    آفتاب کے بارے میں

    "آفتاب اٹھا، امریکی فلموں کا چڑھتا سورج آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔ موسیقی اور لَے کے ساتھ۔۔۔۔۔ روشن کرتا ہوا۔۔۔۔۔ گرمی پھیلاتا ہوا۔
    "


    "سکس ملین ڈالر مین۔۔۔۔"



    اس کے علاوہ بھی ہر صفحہ بھرا پڑا ہے ایسی تشبیہات اور تعارف سے۔۔۔ ان کا تعارفی انداز بہت خوب اور تعارف کے لیے تشبیہات۔۔۔ اور وہ بھی اچھوتی اور خوبصورت تشبیہات کا استعمال بہت ہی عمدہ ہے۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  5. #5
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    ایک اور بات جو اس ناول کے ابتدائی دو تین ابواب میں محسوس ہوئی وہ یہ کہ مصنفہ نے منظر کشی کے طریقے کو اپنانے کی بجائے ایک ماحول بنایا ہے۔ کرداروں کی باتوں۔۔ ان کے انداز اور تھوڑی ڈسکرپشن کو استعمال کیا ہے جس میں کرداروں کے ساتھ ساتھ سچویشن کی وضاحت بھی خوب ہو رہی ہے۔ ۔

    ایک اور چیز جس کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے وہ ہے انگریزی کے الفاظ۔۔ کہیں کہیں یہ محسوس ہوا کہ یہاں اردو کا لفظ بھی چل سکتا تھا لیکن پھر بھی مصنفہ نے اسے انگریزی میں ہی درج کیا۔۔ اور اچھی بات یہ کہ وہ الفاظ اوپرے بھی نہیں لگ رہے۔ ۔ جیسے کہ۔ ۔



    "ویسے میری Reputation والدین کے خوف اور اللہ کے فضل سے اچھی ہے۔"

    "اس لیے i warn you جب تک آپ میری کلاس میں رہیں ہمیشہ مجھے گرو سمجھیں۔ میرے علم کو زیادہ مانیں۔ کبھی کبھی یہ بالکل shallow ہو گا۔


    "میں اپنی whiskers منوا دوں گا۔"

    "دراصل خود کشی ایک symptom ہے۔"


    اور بھی بہت سے۔۔۔ لیکن یہ ابتدائی چند صفحات سے کوٹ کیئے گئے ہیں۔


    تو ان جگہوں پر اردو میں بھی کوئی مناسب لفظ لگایا جا سکتا تھا۔۔ لیکن مصنفہ نے اس بات سے بالکل بے نیاز ہو کر کہ قاری کا ذہن یوں دو زبانوں کا امتزاج برداشت کرے گا یا نہیں۔۔۔ اتنے کلاسک ناول میں بھی یہ مکسچر ڈالا ہے۔۔۔ اور ایز اے قاری مجھے یہ ماننے میں کوئی حرج بھی نہیں کہ کہیں بھی انگریزی کے یوں استعمال سے مجھے کوئی ناگواریت محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ احساس ہوا کہ مصنفہ نے آج کل کے زمانے کے مطابق جاندار مکالمے لکھیں ہیں، کیونکہ اگر غور کریں رو اپنی عام بول چال میں ہم کافی حد تک انگریزی کے الفاظ کی مدد لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  6. #6
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    مزید یہ کہ میں اب شروع کے کچھ صفحات سے کچھ جملے شیئر کرنا چاہوں گی۔۔ کچھ میں تو خوبصورت تشبہیات ہیں اور کچھ میں گہرا فلسلفہ۔۔۔

    آپ میں سے کوئی اس میں سے کسی فلسفے یا تشبیہہ کو اٹھا کر اس پر تفصیلی بات کرنا چاہے تو ضرور کریں۔ ان شاء باقی بھی ساتھ دیں گے۔ ۔ ۔ تو یہ دیکھیں قدسیہ بانو مختلف باتوں کو کن پیرائے میں کہتی ہیں۔۔


    "کچھ دنوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ گھڑی کے تابع نہیں رہتے، اپنی گنجائش اور سمائی کے مطابق گزرتے ہیں۔"


    "اس وقت وہ اولمپک کھیلوں میں آگ کی مشعل اٹھانے والے کھلاڑی کی طرح خوبصورت، کنوارہ اور مقدس نظر آ رہا تھا۔ شاید اسی لمحے سیمی نے اس کی طرف دیکھنے کی غلطی کی اور دیوانی ہو گئی۔"


    "پاگل پن نا آسودہ آرزوؤں سے پیدا ہوتا ہے۔۔۔some text is missing ۔۔۔ عشق لاحاصل سے دیوانگی پیدہ ہوتی ہے۔"


    "لیکن کتابوں نے مجھ سے زندگی کی ہلکی طرف کو پوشیدہ کر دیا۔ میں محسوس کرتا تھا، کتابوں سے محبت کرنے والے عموماً زندگی کی اس اہم سمت کو بھول جاتے ہیں۔ وہ اس قدر سنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ مزاح مکمل طور پر ان کی زندگی سے نکل جاتا ہے اور وہ لمبا جبہ پہن کر سارا وقت پڑھے ہوئے نظریات کی لاٹھی سے دوسروں کی پٹائی میں مصروف رہتے ہیں۔"


    "شاید ہر مرد کے اندر یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ عورت کو اس کی پٹری سے اتارے اور اپنے راستے پر لے کر چلے۔"


    "لو ہُما تو ازل کا احمق ہے بادشاہ چنتا پھرتا ہے دھرتی پر۔ ۔ ۔ ۔ بھائی ادھر دنیا کا ہر انسان بادشاہ ہے۔ چاہے کُھرلی میں سوئے، چاہے تخت پر۔ ہُما کم عقل یہ نہیں سمجھتا کہ ہر انسان اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے جن کے سر پر تکبر کا تاج ہو ان کو بادشاہ کیا بنانا۔"

    باقی آئندہ۔
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    وش میں نے ٹوٹل دو دفعہ اس بک کو پڑھا ہے۔
    آخری دفعہ کوئی چارک سال پہلے پڑھا تھا۔ اس طرح کا تبصرہ تو نہیں کر پاؤں گی اتنا ڈیٹیلڈ کہ میری یاد داشت اتنی اچھی نہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو مجھے یاد ہے۔

    جیسے کہ تمھیں معلوم ہو چکا ہو گا اب تک مجھے زیادہ فلسفہ ہضم نہیں ہوتا۔ پیٹ میں درد سا ہونے لگتا ھے۔ نبض بے قابو ہو جاتی ہے۔اس لئے غیر ضروری فلسفہ دونوں بارسکپ کر کر کے پڑھا~۔

    کہیں کہیں مجھے تھوڑا مجھے بےباک لگتا ہے۔ ایسا لگتا ھے ضرورت سے زیادہ انفو دی گئی ہے۔۔۔۔ تھوڑا ڈھکا چھپا ہونا چاہیے تھا۔۔

    کرداروں کی ڈیٹیلز اور فیلنگ کا بیان اس قدر خوبصورت ہے کہ جسکی انتہا نہیں۔ اس کے لئے میں بانو جی کو سلام کرتی ہوں۔ شاید ہی کوئی اور مصنف اس قدر اپنے کردار میں ڈوب کر لکھ سکے دوبارہ کبھی۔
    ایسا لگتا کے کہ کردار خود ہمارے سامنے سب کچھ کر کر کے دکھا رہے ہیں۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    میں نے ابھی پڑھنا اسٹارٹ کیا۔۔تھوڑا سا حصّٰہ ڈال دوں۔۔

    ۔تشبیہات کا استعمال کرداروں کے تعارف میں بہت اچھے سے کیا اور روانی اتنی ہے تحریر میں کہ سیمی شاہ کے تعارف میں جو بے باک زبان استعمال کی گئی اس کو قاری پہلی بار پڑھنے میں تو مائنڈ ہی نہیں کرتا۔۔۔ہاں دوسری بار میں کافی قابل اعتراض معلوم ہوتی ہے ۔۔۔

    سکس ملین ڈالر مین، گلبرکی معاشرہ اس قسم کے الفاظ ایک نوجوان ذہنیت کی مکمل عکاسی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے علم نہیں کہ بانو آپا نے یہ ناول کس سن میں لکھا۔۔ لیکن آج بھی پڑھنے میں آج کل ہی کلاس روم کا منظر معلوم ہوتا ہے ۔۔۔


    ایک اور بات جو محسوس ہوئی۔۔۔کلاس کا لکچر کچھ جلدی ہی شروع ہو گیا۔۔جو کہ ہو سکتا ہے کافی پڑھنے والوں کو آگے جمپ کرنے پر مجبور کر دیتا ہو۔۔۔لیکن اس کے فورا" بعد ہی سیمی اور آفتاب کا اک دوسرے سے متاثر ہونا۔۔قاری کی دلچسپی کو برقرارا بھی رکھ پاتا ہے

    ابھی اوپری جائزہ لیا ہے۔۔۔۔فلسفے کو آرام سے سمجھوں گی۔


    ون اردو پر جو ناول موجود ہے اس میں کتابت کی کافی غلطیاں ہیں ۔۔میں نے ابھی ڈحونڈ کر اس کا پی ڈی ایف ڈاّن لوڈ کیا ہے ۔۔اب ذرا بہتر ہے

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ






    لیجئے جناب ۔۔۔میں راجہ گدھ کی پی ڈی ایف تلاش کرتے کرتے بانو آپا کے اس انٹرویو تک پہنچ گئی۔۔۔۔جس میں انہوں نے راجہ گدھ کو لکھنے کے ارے میں بیان کیا۔۔۔امید ہے کہ آپ سب کو پسند آءے گا۔۔۔۔اگر ہاں تو بقیہ بھی پوسٹ کر دوں گی۔۔۔پتہ نہیں یہاں پوسٹ کرنا چاہئے یا نہیں۔۔خیر بعد میں ڈیلیٹ کردوں گی




    سوال: کبھی اتنا کچھ لکھنے کے بعد یا لکھنے کے دوران یہ خیال آیا کہ آپ لکھتی کیوں ہیں ہیں یا اس کی ضرورت کی ۔ ۔ ۔!

    ب ق: تحریک اس کی کیا ہے؟ تو میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ کیا کسی پھول کو معلوم ہوا ہے کہ وہ کھلتا کیوں ہے؟ کسی پھل کو پتہ چلا ہے کہ وہ کیوں پکتا ہے؟ اور کیوں اس میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے؟ تخلیقی کاموں کا جس بندے کو علم ہو گیا کہ وہ کیوں لکھتا ہے تو میرے خیال میں وہ مشقت سے لکھتا ہے اور اس کا نام ہسٹری میں آ نہیں سکتا۔

    سوال: کیسے محسوس ہوتا ہے جب ایک کہانی ۔ ۔ ۔!

    ب ق: وہ کہانی وارد ہو جاتی ہے۔ اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیسے آتی ہے۔ وہ چلتے چلتے وارد ہو جاتی ہے۔

    سوال: اور پھر آپ اس پر۔ ۔ ۔!

    ب ق: وہ خود ہی پکڑی جاتی ہے۔ خود ہی ذہن اسے پکڑ لیتا ہے اور خود ہی اس پر کام کرنے لگ جاتا ہے۔ جس طرح غزل نازل ہوتی ہے، آمد سے بھی زیادہ، میں کہتی ہوں نازل ہوتی ہے، تو پتہ تو نہیں ہوتا کہ کیسے شعر اتریں گے اور کیسے بن جائیں گے۔ بن جاتی ہے تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو پوری غزل ہی ہو گئی۔

    سوال: اور ناول، تو کیا ناول میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے؟

    ب ق: دیکھیے میں آپ کو دوسرے ناولوں کی بات تو بعد میں بتاؤں گی، میں ’راجہ گدھ‘ کے متعلق آپ کو بتا سکتی ہوں۔ آج وہ سترہ اٹھارہ سال سے سی ایس ایس کے امتحان میں لگا ہوا ہے۔ ڈاکٹر اجمل آپ کو یاد ہوگا، نفسیات دان تھے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ انہوں نے اسے مقابلہ کے اس امتحان میں لگایا تھا۔ میں یہاں پر بیٹھی تھی اور میرا کوئی ارداہ نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا ناول لکھوں گی۔ ’راجہ گدھ‘ کی طرح کا، ان دنوں ہمارے گھر میں ایک امریکن لڑکا ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ امریکن تہذیب، امریکن زندگی، امریکن اندازِ زیست سب کے بارے میں یہ ثابت کرے کہ وہ ہم سے بہتر ہے۔ مسلمانوں سے بہتر ہے۔ تو ایک روز وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا: اچھا مجھے دو لفظوں میں، ایک جملے میں بتائیے، آپ صرف چھوٹی سی بات مجھ سے کیجیے کے اسلام کا ایسنس (جوہر) کیا ہے؟ میں نے اس سے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ عیسائیت کا ایسنس کیا ہے؟ اس نے کہا: عیسائیت کا ایسنسن ہے Love - "Love thy neighbour as thyself" یہ ایسنسن ہے عیسائیت کا۔ میں نے کہا اسلام کا جو ایسنس ہے وہ اخوت ہے، برابری ہے، بھائی چارہ ہے brotherhood ہے۔ کہنے لگا چھوڑیے یہ کس مذہب نے نہیں بتایا کہ برابری ہونی چاہیے۔ یہ تو کوئی ایسنس نہیں ہے یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا۔ یقین کیجیے، یہاں پر پہلے ایک بہت بڑا درخت ہوتا تھا سندری کا درخت۔ سندری کا درخت ہوتا ہے جس سے سارنگی بنتی ہے۔ اس کے بڑے بڑے پتے تھے اور وہ یہاں لان کے عین وسط میں لگا ہوا تھا۔ وہ ایک دم سفید ہو گیا اور اس پر مجھے یوں لگا جیسے لکھا ہوا آیا ہو: اسلام کا ایسنس حرام و حلال ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اسے میں نے کیوں کہا۔ کیونکہ اس ہر ایکشن (عمل) سے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جتنے کمانڈمنٹس ہیں یا تو وہ حرام ہیں یا حلال ہیں۔حلال سے آپ کی فلاح پیدا ہوتی ہے اور حرام سے آپ کے بیچ میں تشنج پیدا ہوتا ہے۔ آپ میں ڈپریشن پیدا ہوتا ہے آپ میں بہت کچھ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے اس امریکی لڑکے کو بلایا اور اسے کہا: یاد رکھنا اسلام حرام و حلال کی تمیز دیتا ہے اور یہی اس کا ایسنس ہے۔ اس کےبعد میں نے یہ کتاب لکھی اور میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ کس طرح اللہ نے میری رہنمائی کی اور میری مدد فرمائی اور مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ کتاب میں نے نہیں لکھی مجھ سے کسی نے لکھوائی ہے۔ اس کے بعد آپ کو پتہ کہ میری بہت ساری کتابیں ہیں۔ پچیس کے قریب کتابیں میری ہو چکی ہیں۔ اور جتنا بھی اس پر کام ہوا ہے میں آپ کو بتا ہی نہیں سکتی کہ کس طرح ہوا ہے۔

    سوال: ٹھیک ہے، بنیادی خیال تو آپ کو آ گیا لیکن پھر اس کا تانا بانا ۔ ۔ ۔!

    ب ق: جی میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ کس طرح میری رہنمائی ہوئی ہے، جس طرح شاعر نہیں بتا سکتا کہ غزل کس طرح لکھی گئی، اس طرح میں آپ کو نہیں بتا سکتی

  10. #10
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,435
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    سسٹرز ۔۔۔ سب سے پہلے تو اس کتاب کا کوئی لنک بھی یہاں ایڈ کریں تا کہ ۔۔۔۔ جو نہیں پڑھ پائے انھیں پڑھنے کا موقع ملے۔ سب سے پہلے تو میں ہی ہوں گی ۔
    اس کتاب کی شہرت تو سنی لکین جب بھی پڑھنے کی کوشش کی تو تھوڑے صفحے پڑھ کر چھوڑ دی۔ دراصل بانو قدسیہ کو پڑھنا ۔۔۔ مطلب بہت فلسفہ پڑھنا ہے۔ اس سے طبیعت فورا ہٹ جاتی ہے۔ لیکن اب اس کتاب کو آخر میں پڑھ ہی لوں۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  11. #11
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    راجہ گدھ کے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ "دس از دی بیسٹ"۔
    مصنفہ نے کمال کر دیا ہے یہ ناول لکھ کے۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  12. #12
    Severus
    Guest

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    Quote Originally Posted by Yazghil View Post
    راجہ گدھ کے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ "دس از دی بیسٹ"۔
    مصنفہ نے کمال کر دیا ہے یہ ناول لکھ کے۔
    متفق۔۔۔
    مزید یہ کہ اس ناول کو بلاشبہ اردو ادب کے نمائندہ ناولز کی پہلی صف میں جگہ دی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔باقی رہا فلسفہ اور مقاماتِ آہ و فغاں، تو وہ اپنی اپنی نظر کی بات ہے۔ میں ذاتی طور پہ اسے آگ کا دریا سے زیادہ نمبر دیتا ہوں۔۔۔آگ کا دریا بھی میرا پسندیدہ ہے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن سی۔

  13. #13
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    Quote Originally Posted by Severus View Post
    متفق۔۔۔
    مزید یہ کہ اس ناول کو بلاشبہ اردو ادب کے نمائندہ ناولز کی پہلی صف میں جگہ دی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔باقی رہا فلسفہ اور مقاماتِ آہ و فغاں، تو وہ اپنی اپنی نظر کی بات ہے۔ میں ذاتی طور پہ اسے آگ کا دریا سے زیادہ نمبر دیتا ہوں۔۔۔آگ کا دریا بھی میرا پسندیدہ ہے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن سی۔
    درست کہا جناب۔ اردو ادب کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ تعداد میں اچھے ناولز موجود نہیں ہیں۔ باقی بہت سی زبانوں کو اس میں بہت زیادہ ایج حاصل ہے۔
    تاہم جتنے بھی ناولز ہیں، ان میں راجہ گدھ، آگ کا دریا ٹاپ پہ جگہ پاتے ہیں۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    16,115
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    اداس نسلیں کو کیا ہوا جی۔
    اس کی کیا غلطی ہے



  15. #15
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    Quote Originally Posted by Kashfeen View Post
    اداس نسلیں کو کیا ہوا جی۔
    اس کی کیا غلطی ہے
    اپنی اپنی پسند ہے جی۔ اداس نسلیں اور آگ کا دریا کی genre ایک ہے تو اس میں آگ کا دریا کافی سارا اوپر گریڈ کیا جاتا ہے۔ ورنہ عبداللہ حسین بھی اچھے ناول نگار ہیں۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •