Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 15 of 41

Thread: راجہ گدھ پر تبصرہ

Hybrid View

Previous Post Previous Post   Next Post Next Post
  1. #1
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    راجہ گدھ پر تبصرہ

    السلام علیکم معزز سوسائٹی ممبران۔۔۔

    یہاں کیونکہ سب لکھنے اور لکھنے کی طور طریقوں کو سمجھنا چاہنے والے ہیں تو اس زمن میں ایک یہ کوشش ہے کہ ہم ایک ماسٹر پیس "راجہ گدھ" از قدسیہ بانو کو پھر سے پڑھیں گے۔۔ اور ہر اس میں موجود فلسفے کی گہرائی ناپنے کی اور نظریات کو ایکسچینج کرنے کی کوشش کریں گے۔ ۔

    امید ہے اس میں آپ سب جنہوں نے اسے پڑھ رکھا ہے، ساتھ دیں گے۔۔ اور وہ جنہوں نے اسے ابھی نہیں پڑھا اور پڑھنے سے پہلے اسے تھوڑا جانچ لیں گے۔۔

    تو آئیں بسم اللہ کریں۔۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  2. #2
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    راجہ گدھ ایسی کتاب ہے جسے جتنی بار پڑھو اتنی بار ہی کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ پہلی بار میں نے جب راجہ گدھ کو پڑھا تو میرا ادبی ذوق اور سمجھ اتنی نہ تھی جتنی اب۔۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس میں سے جانوروں والا پورشن چھوڑ چھوڑ کر پڑھا کہ مجھے بس کہانی میں ہی دلچسپی تھی۔۔ علاوہ ازیں کہیں کوئی فلسفہ اچھا لگ جاتا تو واہ واہ کر اٹھتی۔۔

    لیکن پھر بھی کتان ختم ہونے پر میں اس کی کافی معترف تھی کہ مصنفہ نے بہت ہی اچھا لکھا۔۔ سب سے زیادہ اچھا مجھے حلال اور حرام کا کانسیپٹ لگا۔۔ لیکن ابھی اسے ڈسکس نہیں کر رہی۔۔ ان دنوں میں یہ کتاب ڈیڑھ بار پڑھنے کے بعد پھر سے پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔ تو اسے پڑھنے کے دوران جو جو کانسیپٹ آتا جائے گا اسے ان شاء اللہ یہاں ڈسکس کروں گی اور باقیوں کی رائے طلبی بھی ہو گی۔۔

    آپ بھی اپنا اور "راجہ گدھ" کا سفر ضرور شیئر کریں۔
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    واو راجہ گدھ پر تبصرہ۔ ۔ ۔ مزے کی بات ہے میں نے بھی کافی جانوروں والا حصہ اسکیپ کیا تھا۔۔۔۔۔ اور پڑھا بھی یہیں فورم میں تھا۔ ۔ اور اتنا بڑا ناول پڑھنا وہ بھی کمپیوٹر میں ہائےےےےےے افففف۔

    چلو آپ لوگ کریں تبصرے تاکہ اس کے مختلف پہلو سے مزید آگاہی ہو ۔۔۔۔۔ ویسے یہاں فورم میں جو راجہ گدھ پوسٹ ہوا ہے اس میں بہت زیادہ غلطیاں ہیں جس سے کافی الجھن ہوئی تھی پروف ریڈنگ کی سخت ضرورت ہے ۔ یا جس نے بھی کی ہے ذرا دھیان سے پروف ریڈنگ کرتا تو کیا ہی اچھی بات ہوتی۔

  4. #4
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    ناول شروع ہوتا ہے تو ہم ایم اے سوشیالوجی کی کلاس میں موجود کئی لوگوں سمیت کچھ اہم کرداروں جیسے سیمی شاہ، آفتاب، پروفیسر سہیل اور یہ کہانی بیان کرنے والے قیوم سے ملتے ہیں۔

    یہاں رائٹر نے کردار سازی خاص طور پر کسی پیراگراف سے پہلے کچھ تشبیہات کچھ طور طریقوں کو واضح کر کے پہلے قاری کو اندازہ لگانے کا وقت دیا ہے کہ وہ خود جج کر سکے کہ وہ کس طرح کے کردار کی مالک ہیں۔

    مثلاً ناول کی ہیروئن سیمی شاہ کے کردار کی ساخت کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے چند اچھوتی تشبیہات کا استعمال کیا ہے۔۔ جیسے۔۔۔۔

    "نئی کار جیسی لڑکی"
    "چولستانی ہرنی"

    دیگر کے بارے میں

    "یہ تمام لڑکیاں چہرے مہرے اور لباس سے ایسی لگتی تھیں، جنہوں نے اخباری کاغذوں پر چھپے ہوئے نوٹس رٹ رٹ کر بی اے کیا ہو۔"

    "کوثر اور سیمی شاہ ہماری کلاس کی آنکھیں ہیں۔ جگمگاتی، روشن، دعوت سے بھری۔"

    آفتاب کے بارے میں

    "آفتاب اٹھا، امریکی فلموں کا چڑھتا سورج آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔ موسیقی اور لَے کے ساتھ۔۔۔۔۔ روشن کرتا ہوا۔۔۔۔۔ گرمی پھیلاتا ہوا۔
    "


    "سکس ملین ڈالر مین۔۔۔۔"



    اس کے علاوہ بھی ہر صفحہ بھرا پڑا ہے ایسی تشبیہات اور تعارف سے۔۔۔ ان کا تعارفی انداز بہت خوب اور تعارف کے لیے تشبیہات۔۔۔ اور وہ بھی اچھوتی اور خوبصورت تشبیہات کا استعمال بہت ہی عمدہ ہے۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  5. #5
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    ایک اور بات جو اس ناول کے ابتدائی دو تین ابواب میں محسوس ہوئی وہ یہ کہ مصنفہ نے منظر کشی کے طریقے کو اپنانے کی بجائے ایک ماحول بنایا ہے۔ کرداروں کی باتوں۔۔ ان کے انداز اور تھوڑی ڈسکرپشن کو استعمال کیا ہے جس میں کرداروں کے ساتھ ساتھ سچویشن کی وضاحت بھی خوب ہو رہی ہے۔ ۔

    ایک اور چیز جس کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے وہ ہے انگریزی کے الفاظ۔۔ کہیں کہیں یہ محسوس ہوا کہ یہاں اردو کا لفظ بھی چل سکتا تھا لیکن پھر بھی مصنفہ نے اسے انگریزی میں ہی درج کیا۔۔ اور اچھی بات یہ کہ وہ الفاظ اوپرے بھی نہیں لگ رہے۔ ۔ جیسے کہ۔ ۔



    "ویسے میری Reputation والدین کے خوف اور اللہ کے فضل سے اچھی ہے۔"

    "اس لیے i warn you جب تک آپ میری کلاس میں رہیں ہمیشہ مجھے گرو سمجھیں۔ میرے علم کو زیادہ مانیں۔ کبھی کبھی یہ بالکل shallow ہو گا۔


    "میں اپنی whiskers منوا دوں گا۔"

    "دراصل خود کشی ایک symptom ہے۔"


    اور بھی بہت سے۔۔۔ لیکن یہ ابتدائی چند صفحات سے کوٹ کیئے گئے ہیں۔


    تو ان جگہوں پر اردو میں بھی کوئی مناسب لفظ لگایا جا سکتا تھا۔۔ لیکن مصنفہ نے اس بات سے بالکل بے نیاز ہو کر کہ قاری کا ذہن یوں دو زبانوں کا امتزاج برداشت کرے گا یا نہیں۔۔۔ اتنے کلاسک ناول میں بھی یہ مکسچر ڈالا ہے۔۔۔ اور ایز اے قاری مجھے یہ ماننے میں کوئی حرج بھی نہیں کہ کہیں بھی انگریزی کے یوں استعمال سے مجھے کوئی ناگواریت محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ احساس ہوا کہ مصنفہ نے آج کل کے زمانے کے مطابق جاندار مکالمے لکھیں ہیں، کیونکہ اگر غور کریں رو اپنی عام بول چال میں ہم کافی حد تک انگریزی کے الفاظ کی مدد لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  6. #6
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    مزید یہ کہ میں اب شروع کے کچھ صفحات سے کچھ جملے شیئر کرنا چاہوں گی۔۔ کچھ میں تو خوبصورت تشبہیات ہیں اور کچھ میں گہرا فلسلفہ۔۔۔

    آپ میں سے کوئی اس میں سے کسی فلسفے یا تشبیہہ کو اٹھا کر اس پر تفصیلی بات کرنا چاہے تو ضرور کریں۔ ان شاء باقی بھی ساتھ دیں گے۔ ۔ ۔ تو یہ دیکھیں قدسیہ بانو مختلف باتوں کو کن پیرائے میں کہتی ہیں۔۔


    "کچھ دنوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ گھڑی کے تابع نہیں رہتے، اپنی گنجائش اور سمائی کے مطابق گزرتے ہیں۔"


    "اس وقت وہ اولمپک کھیلوں میں آگ کی مشعل اٹھانے والے کھلاڑی کی طرح خوبصورت، کنوارہ اور مقدس نظر آ رہا تھا۔ شاید اسی لمحے سیمی نے اس کی طرف دیکھنے کی غلطی کی اور دیوانی ہو گئی۔"


    "پاگل پن نا آسودہ آرزوؤں سے پیدا ہوتا ہے۔۔۔some text is missing ۔۔۔ عشق لاحاصل سے دیوانگی پیدہ ہوتی ہے۔"


    "لیکن کتابوں نے مجھ سے زندگی کی ہلکی طرف کو پوشیدہ کر دیا۔ میں محسوس کرتا تھا، کتابوں سے محبت کرنے والے عموماً زندگی کی اس اہم سمت کو بھول جاتے ہیں۔ وہ اس قدر سنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ مزاح مکمل طور پر ان کی زندگی سے نکل جاتا ہے اور وہ لمبا جبہ پہن کر سارا وقت پڑھے ہوئے نظریات کی لاٹھی سے دوسروں کی پٹائی میں مصروف رہتے ہیں۔"


    "شاید ہر مرد کے اندر یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ عورت کو اس کی پٹری سے اتارے اور اپنے راستے پر لے کر چلے۔"


    "لو ہُما تو ازل کا احمق ہے بادشاہ چنتا پھرتا ہے دھرتی پر۔ ۔ ۔ ۔ بھائی ادھر دنیا کا ہر انسان بادشاہ ہے۔ چاہے کُھرلی میں سوئے، چاہے تخت پر۔ ہُما کم عقل یہ نہیں سمجھتا کہ ہر انسان اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے جن کے سر پر تکبر کا تاج ہو ان کو بادشاہ کیا بنانا۔"

    باقی آئندہ۔
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    وش میں نے ٹوٹل دو دفعہ اس بک کو پڑھا ہے۔
    آخری دفعہ کوئی چارک سال پہلے پڑھا تھا۔ اس طرح کا تبصرہ تو نہیں کر پاؤں گی اتنا ڈیٹیلڈ کہ میری یاد داشت اتنی اچھی نہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو مجھے یاد ہے۔

    جیسے کہ تمھیں معلوم ہو چکا ہو گا اب تک مجھے زیادہ فلسفہ ہضم نہیں ہوتا۔ پیٹ میں درد سا ہونے لگتا ھے۔ نبض بے قابو ہو جاتی ہے۔اس لئے غیر ضروری فلسفہ دونوں بارسکپ کر کر کے پڑھا~۔

    کہیں کہیں مجھے تھوڑا مجھے بےباک لگتا ہے۔ ایسا لگتا ھے ضرورت سے زیادہ انفو دی گئی ہے۔۔۔۔ تھوڑا ڈھکا چھپا ہونا چاہیے تھا۔۔

    کرداروں کی ڈیٹیلز اور فیلنگ کا بیان اس قدر خوبصورت ہے کہ جسکی انتہا نہیں۔ اس کے لئے میں بانو جی کو سلام کرتی ہوں۔ شاید ہی کوئی اور مصنف اس قدر اپنے کردار میں ڈوب کر لکھ سکے دوبارہ کبھی۔
    ایسا لگتا کے کہ کردار خود ہمارے سامنے سب کچھ کر کر کے دکھا رہے ہیں۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    میں نے ابھی پڑھنا اسٹارٹ کیا۔۔تھوڑا سا حصّٰہ ڈال دوں۔۔

    ۔تشبیہات کا استعمال کرداروں کے تعارف میں بہت اچھے سے کیا اور روانی اتنی ہے تحریر میں کہ سیمی شاہ کے تعارف میں جو بے باک زبان استعمال کی گئی اس کو قاری پہلی بار پڑھنے میں تو مائنڈ ہی نہیں کرتا۔۔۔ہاں دوسری بار میں کافی قابل اعتراض معلوم ہوتی ہے ۔۔۔

    سکس ملین ڈالر مین، گلبرکی معاشرہ اس قسم کے الفاظ ایک نوجوان ذہنیت کی مکمل عکاسی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے علم نہیں کہ بانو آپا نے یہ ناول کس سن میں لکھا۔۔ لیکن آج بھی پڑھنے میں آج کل ہی کلاس روم کا منظر معلوم ہوتا ہے ۔۔۔


    ایک اور بات جو محسوس ہوئی۔۔۔کلاس کا لکچر کچھ جلدی ہی شروع ہو گیا۔۔جو کہ ہو سکتا ہے کافی پڑھنے والوں کو آگے جمپ کرنے پر مجبور کر دیتا ہو۔۔۔لیکن اس کے فورا" بعد ہی سیمی اور آفتاب کا اک دوسرے سے متاثر ہونا۔۔قاری کی دلچسپی کو برقرارا بھی رکھ پاتا ہے

    ابھی اوپری جائزہ لیا ہے۔۔۔۔فلسفے کو آرام سے سمجھوں گی۔


    ون اردو پر جو ناول موجود ہے اس میں کتابت کی کافی غلطیاں ہیں ۔۔میں نے ابھی ڈحونڈ کر اس کا پی ڈی ایف ڈاّن لوڈ کیا ہے ۔۔اب ذرا بہتر ہے

  9. #9
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    مزید آگے بڑھیں تو بانو جی نے چھوٹے ھوٹے ڈائیلاگز میں ہمارے لیے سوچنے کے لیے اتنا کچھ دیا ہے کہ آپ کی سوچیں منجمد ہو جائیں گی لیکن ان کی گہرائی ختم نہ ہو گی۔ جیسے ایک جگہ جنگل والے حصہ میں وہ جانوروں کے بیچ مکالمے کے ذریعے کہتی ہیں۔ ۔ ۔ٴ


    "سائیں! ہم سب پرندے شہروں کو جاتے ہیں۔ پر لوٹ آتے ہیں۔ انسان کو اثر ہم پر بھی ہو جاتا ہے لیکن دیر پا نہیں ہوتا۔ پر اگر دیس نکالے کے بعد گدھ جاتی مکمل طور پر انسان کی صحبت میں رہی تو پھر۔ ۔ ۔ ہم بھی گنہگار ٹھہریں گے۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ انسان سے اور بہت سی بدی سیکھ لیں گے مثلاً بغض و حسد۔"


    یہاں پر سوچا جائے تو ہم انسانوں کو جیسے آئینہ دکھایا گیا ہو جس میں بڑے آرام سے ہماری کریہہ صورت ہم پر ہنس رہی ہو۔۔ اس کے علاوہ ایک اور بہت اہم پہلو اجاگر کرتی ہے اس پیرے کی یہ لائن۔


    اگر دیس نکالے کے بعد گدھ جاتی مکمل طور پر انسان کی صحبت میں رہی تو پھر۔ ۔ ۔ ہم بھی گنہگار ٹھہریں گے۔ ۔ ۔


    کتنا بڑا سچ چھپا ہے ان لائنوں میں ہمارے لیے کہ اگر انسان سے کبھی اس کی کج فہمی کی بنا پر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے جس سے کسی دوسرے پر منفی اثرات مرتب ہو۔۔ یا کبھی کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو بگاڑنے کی وجہ بن جائے تو وہ بھی گناہ گاروں کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ ۔ ۔

    ویری ٹریو اینڈ ٹچنگ۔ ۔



    Quote Originally Posted by Lubna Ali View Post
    واو راجہ گدھ پر تبصرہ۔ ۔ ۔ مزے کی بات ہے میں نے بھی کافی جانوروں والا حصہ اسکیپ کیا تھا۔۔۔۔۔


    لُبنیٰ سس آپ جانوروں والا حصہ دوبارہ ضرور پڑھنا۔۔ بڑی گہری نظر سے انسان کو تجزیہ کیا ہے اس حصہ میں بانو جی نے۔ ۔




    [SIGPIC][/SIGPIC]

  10. #10
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    2,077
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: راجہ گدھ پر تبصرہ

    مجھے اچھوتے اور اچھے موضوع والے ناولز پسند آتے ہیں۔

    راجہ گدھ کا موضوع، حرام حلال کا اثر کرنا، اچھا خیال تو ہے۔ اچھوتا نہیں لگا۔
    اس لئے کہ یہ اسلام کی بنیادی چیز مِیں سے ہے

    فلسفہ مِیں میرا انٹرسٹ نہیں ہے۔ (کھٹے انگور)،

    کہانی کا بہاؤ اچھا ہے۔

    پر صرف اس بیس پر کسی ناول کو بار بار نہیں پڑھ سکتی۔

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •