Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 6 of 6

Thread: اشفاق احمد کا انٹرویو

Hybrid View

Previous Post Previous Post   Next Post Next Post
  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    126
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    اشفاق احمد کا انٹرویو

    اشفاق احمد

    پیدائش: 22 اگست، 1925ء

    انتقال: 7 ستمبر، 2004ء

    اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اےکیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبانمیں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میںروم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گوجاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔

    وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔

    ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔

    ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔

    کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویے کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا

    اشفاق احمد کا انٹرویو


    اگست2002

    عابدہ : سب سے پہلے تو خاں صاحب اپنی صحت کے بارے میں بتائیے ۔

    اشفاق: صحت، عابدہ، ویسی ہی چل رہی ہے ۔ عمر کے ایک خاص حصے میں پہنچ کر کچھ تھوڑا سا زوال آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں میرا بائی پاس ہوا معدے کا ۔ انتڑیوں کو جوڑا ۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا ۔ میں تو جانتا نہیں ہوں باریک باتوں کو ۔ تو اب میں بالکل صاحب فراش ہوں ۔ اور لیٹا ہوا ہی تمہیں یہ ٹیلیفون کر رہا ہوں ۔ آہستہ آہستہ ، میرا خیال ہے ، انشااللہ آپ کی دعا وں کا اثر ہوگا اور میں پھر چلنے پھرنے لگوں گا ۔ آسانی کے ساتھ

    عابدہ : انشااللہ

    اشفاق: ٹھیک ہے، اللہ کی مہربانی ہے ۔۔۔۔کبھی کبھی آواز بھی بند ہو جاتی ہے ۔ تو آج میں نے خاص طور پر کہا کہ میری آواز ٹھیک آپ تک پہنچے اور وضاحت کے ساتھ ریکارڈنگ ہو جائے تو اچھا ہے ۔

    عابدہ : جی، بہت شکریہ ۔ آپ تو ریڈیو کے آدمی ہیں ۔ آپ جانتے ہیں اس کی اہمیت کو ۔

    اشفاق: جی جی

    عابدہ : اگست کا مہینہ ہے ۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں کچھ یاد ہو تو بتائیے اس وقت تو آپ بہت چھوٹے ہونگے

    اشفاق: نہیں نہیں ۔ میں ہرگز چھوٹا نہیں تھا ۔ جب 14 اگست کو پاکستان بنا تو میں بی ۔اے کر چکا تھا ۔

    عابدہ : اچھا ؟

    اشفاق: ہاں، میں بہت بوڑھا آدمی ہوں ۔۔ ۔ قائد اعظم کے ساتھ بھی کام کیا ۔مسلم لیگ میں بھی کام کیا ۔ دو طاقت ور جماعتوں کے ساتھ لڑائی کی ۔ ایک ہندو تھا، ایک انگریز تھا ۔ دونوں کے ساتھ بیک وقت لڑنا ہماری چھوٹی سی کمیونٹی کے لئے بڑا مشکل تھا ۔ لیکن ہم لڑے ۔ اور پاکستان حاصل کیا ۔ اور پھر اس میں انڈیا کے ایما پر، ماؤنٹ بیٹن کے حکم سے آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ جسکی ہمیں یا قائد اعظم کو ہرگز توقع نہیں تھی ۔ لیکن انسانی تاریخ میں ایسے مقام آ جاتے ہیں ۔ بڑا تکلیف دہ وقت تھا ۔ بڑا سخت جانی اور مالی نقصان ہوا ۔ لیکن پاکستان قائم ہو گیا اور ہم بھول گئے ۔ کہ کوئی بات نہیں ۔ ایسے ہی ایک افتاد پڑی تھی جو گزر گئی ۔ اب 14 اگست آ رہا ہے اور بہت ساری یادیں اسکے ساتھ ۔ تلخ، ترش، شیریں ۔ وابستہ ہیں ۔ تو پاکستان جس مقصد، ارادے اور آرزو کے لئے بنا تھا، وہ تو ابھی پوری نہیں ہو سکی ۔ لیکن چلا جا رہا ہے اسکا کا م ۔ دباو اس پر بہت زیادہ پڑے ہوئے ہیں ۔اور اب تو یہ ایک خصوصی دباو میں آ گیا ہے ۔


    عابدہ : خاں صاحب، ایک بڑا طاقت ور نظریہ تو یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسکو اسلامی ملک ہی بننا تھا اور بننا چاہیے ۔ ۔ اسکے برعکس یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قائداعظم بہت سیکیولر خیالات کے تھے ۔ لہٰذہ ایک سیکیولر ملک بنانا ہی ان کی آرزو تھی اور پروگرام تھا ۔ آ پ بتائیے کہ کونسی بات درست ہے اور اگر دونوں ہی غلط ہیں تو صحیح بات کیا ہے ؟

    اشفاق: قائداعظم نے ہرگز ۔ ہرگز سیکیولر پاکستان نہیں بنایا تھا ۔ یہ سیکیولر کی اصطلاح آپ کے یہاں ۔ اور وائس آف امریکہ میں خاص طور پر بڑی شدت سے چل رہی ہے ۔ بری نہیں ہے ۔ لیکن انہوں نے یہ دو قومی تظریہ کے تحت بنایا تھا ۔ کہ ہم ثقافتی اعتبار سے بھی ، زبان ، کھانے پینے کے برتنوں، لباس کے اعتبار سے بھی بھی الگ ہیں ۔ تو ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں بھی تکلیف ہو ۔ ان کو بھی تکلیف ہو ۔ جیسے باپ کے مرنے کے بعد دو بھائی جائیداد تقسیم کر لیتے ہیں، ہم تقسیم کر لیں گے ۔ اور ہم اسکو اسلامی ملک بنائیں گے ۔ قائداعظم کی بہت ساری تقریریں ہیں ۔ اور اگر تم چاہو گی تو میں تمہیں اقتباسات بھیج دونگا ۔ ان کی بہت سی تقریریں ایسی ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ تظریہ اسلام کو فروغ دینے کے لئے جسکی بنیاد اور اساس عدل پر ہو، اسکے لئے بنایا ہے ۔ اور قائداعظم کی ایک تقریر، جو انہوں نے علیگڑھ میں کی تھی ۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں پاکستان کو ایک ایسی لیبارٹری بنانا چاہتا ہوں کہ جسکو دیکھنے دنیا کے دوسرے ممالک سے لوگ جوق در جوق آئیں ۔ اور ایک وقت ایسا آئے ، اور یہ میرے الفاظ ہیں ۔ ان کے نہیں ۔ کہ نیوزی لینڈ کی ایک نانی اپنے نواسے نواسیوں سے کہے کہ میں تو سفر کر نہیں سکتی، بوڑھی ہوں، گنٹھیے کی مریض ہوں ۔ لیکن تم لوگ اب کے جانا تو پاکستان دیکھ کے آنا، کہ وہ کیا کمال کا ملک بنا ہے جہاں حق و انصاف کا چلن ہے ۔ تو ویسا تو نہیں ہو سکا ۔ قائداعظم کی یہ آرزو پوری نہیں ہو سکی۔ اور جیسا وہ لے کے چلنا چاہتے تھے ویسا ہوا نہیں ۔

    عابدہ : قائداعظم کے ساتھ اگر کوئی ملاقات ہوئی ہو یا کسی جلسے میں ان کی کوئی بات سنی ہو جو آپ کو یاد ہو ؟

    اشفاق: یہ بات میں پہلی بار بتانے لگا ہوں اور عجیب اتفاق ہے کہ تم کو بتا رہا ہوں ۔ میں یہاں پہ والٹن کیمپ میں کلرک تھا ، جب پاکستان بنا ۔ پنسٹھ روپئے میری تنخواہ تھی لیکن چونکہ میں بڑا پڑھا لکھا، بی اے پاس تھا، بہت ذہین تھا ۔ اسلئے میں سارے سٹاف میں سب کی آنکھ کا تارہ تھا ۔ تو ایک دن ۔ میں، جو تندور لگا تھا، بہت بڑا ۔ کئی تندور تھے جہاں سے مہاجروں کو گرم گرم روٹی اور دال اور کبھی کبھی قیمہ اور آلو بھی ملتے تھے ۔ وہ لے کے چلا تھا ۔ اور میرے کمرے میں ممتاز مفتی اور خواجہ شفیع دہلوی بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم تینوں ایک جیسا کام کرتے تھے ۔ تو میں روٹی لے کے چلا اور مڑا وہاں سے، تنور سے ، تو ایک بڑے نحیف سے ہاتھ نے مجھے روکا ۔میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو قائداعظم تھے ۔ جو اس کیمپ میں آئے تھے، مہاجروں کی حالت زار دیکھنے کے لئے ۔

    عابدہ: اچھا؟

    اشفاق:ہاں ! تو اب میں ڈر گیا اور کانپنے لگ گیا ۔ اور مجھ سے تو بات نہ ہو ۔ کہنے لگے : ’یہ روٹی اچھی ہے‘؟ میں نے کہا: ’ہاں جی، بہت اچھی ہے ‘ ۔ مجھے کہنے لگے: ’کھا کے دکھاؤ ‘ ۔ میں نے ایک لقمہ توڑا، روکھی روٹی کا ، کھایا ۔ میں نے کہا: ’جی ٹھیک ہے ‘ ۔ کہنے لگے: ’ملاوٹ نہیں ہے‘؟ میں نے کہا: ’نہیں سر، کچھ نہیں ہے‘ ۔ کہنے لگے : ’ اچھا، شکریہ‘ ۔ بس یہی میری بات ان سے ہوئی ۔ اور اسی حد تک میں نے ان کو قریب سے دیکھا ۔ پھر وہ کیمپ کا معائنہ کرنے کے لئے چلے گئے ۔ ان کو شک تھا کہ روٹی میں شائد کوئی ملاوٹ وغیرہ ہو رہی ہے ۔ تو ملاوٹ تو ان کے ملک میں، بعد میں، 57 برس میں بہت زیادہ ہوئی ۔

    عابدہ : پاکستان میں دینی مدارس آجکل بڑے controversial ہیں ۔ اس بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟

    اشفاق: اس بارے میں ، میں نے بہت غور کیا ہے ۔ ہمارے یہاں پاکستان میں بطور خاص اور ہندوستان میں عمومی طور پر یہ مدارس پچھلے ایک ہزار برس سے چل رہے ہیں ۔ اور ایک ہزار برس سے انہوں نے بنی نوع انسان کی علمی، ادبی ، دینی اور اخلاقی طور پر بڑی خدمت کی ہے ۔ پچھلے دو سال سے ، دنیا کے مہذب ملکوں پر، اب یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سوچیں کہ وہ کیا ہوا کہ ان پاکیزہ، اخلاقی مدارس کو ایک بوجھ اور طرح کا اٹھانا پڑ گیا ۔ جو نا انصافی پر مبنی تھا ۔ اور جسکو انصاف میں بدلنے کی، یہ اپنے طور پر تراکیب سوچتے رہے ۔ دنیا کے مہذب ملکوں کو بیٹھ کر یہ سوچنا ہے کہ پچھلے ایک ہزار برس کے بعد، حال ہی میں کہیں ایسا تو نہیں ہو گیا کہ کسی ملک کے اوپر کسی اور ملک نے قبضہ کر نا شروع کر دیا ہو ۔ ویسٹ بینک پر عمارتیں بنانا شروع کر دی ہوں ۔ بلڈوزر لے کر ان کے قدیمی، سو دو سو سالہ گھر ڈھانے شروع کر دئے ہوں ۔ کیا ایسا تو نہیں ہو گیا کہ کشمیری لوگ جو بڑی نرم و نازک کشیدہ کاری کرتے تھے ۔ اور شالیں بناتے تھے ۔ ان کے اوپر ایسا تو نہیں ہو گیا کہ چھوٹی سی جگہ میں ساڑھے سات لاکھ فوج در اندازی کے لئے بھیج دی گئی ہو ۔ کہیں ایسا تو نہیں ہو گیا کہ چیچنیا اور ہرزگوینا میں کچھ ظلم ہونے لگے ۔ اور یہ ایک ہی کمیونٹی ایک ہی گروہ انسانی ، ایک ہی مذہب والوں پہ کیوں ہوا ؟ ہم کتنے سیکیولر لوگ تھے ۔ لیکن ہمارے ہاتھ سے وہ سیکیولرازم کی فاختہ کیوں چھوٹ گئی اور عقاب میں کیوں تبدیل ہو گئی ؟ تو یہ ذمے داری ان مدرسوں پہ عائد نہیں ہوتی ہے جو آپ کے خیال میں مورد الزام ہیں ۔ بلکہ ان لوگوں پہ عائد ہوتی ہے جن کے پاس بلڈوزر ہیں اور جن کے بلڈوزر کے مقابلے میں ربڑ کی غلیلیں لے کے وہ لوگ نکلے ہوئے ہیں جن کے گھروں کے اوپر یہ بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہت ممکن ہے کوئی آدمی غور کر بھی رہا ہو ۔ اور بہت ممکن ہے کہ غور ہو بھی ۔ جب انگریز نے امریکیوں پر ظلم ڈھانا شروع کیا ۔ اور یہاں سے پیسے بٹور بٹور کر لے جا نا شروع کیا ۔ اور بوسٹن ٹی پارٹی کا ذکر آپ نے سنا ہوگا ۔ بہت بڑی جنگ یہاں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔

    عابدہ : جی جی

    اشفاق: امریکہ کی جنگ آزادی ۔ تو ساری چائے بوسٹن کی بندرگاہ پر سمندر میں گرا دی ۔ جہاں سے اس جنگ کا آغاز ہوتا ہے ۔ کچھ وجہ ہوتی ہے تو تب ایسا ہوتا ہے ۔

    عابدہ : صحیح

    اشفاق: اگر انگریز ایمانداری کے ساتھ رہتے تو آج بھی امریکہ کے ساتھ ان کے ویسے ہی تعلقات ہوتے ۔ اب وہ ایک نیچے لگے ہوئے تعلقات ہیں ۔ تو یہ باتیں ہیں جو غور کرنے کی ہیں ۔ اور جن پر توجہ دی جانی چاہیے ۔

    عابدہ : پاکستان کے نظام تعلیم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

    اشفاق: پاکستان میں دو طرح کا نظام تعلیم چل رہا ہے، عابدہ بی بی ۔ ایک تو ولائتی ہے جس میں ہم پڑھ کر یونیورسٹیوں سے برآمد ہوتے ہیں ۔ ایک ان دینی مدرسوں کا نظام تعلیم ہے ۔ ہم جو پڑھے لکھے لوگ ہیں، یہ بار بار تقاضہ کرتے ہیں کہ دینی مدرسوں کا نظام تعلیم بھی ہمارے جیسا کر دیا جائے ۔ اور ان کو ماڈرن تعلیم بھی دی جائے جسکی بنیاد فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، باٹنی ، زوالوجی ، جیالوجی پر ہے ۔ تو میں بھی اس سے بڑا متاثر ہوا ۔ تو میرا چونکہ مدرسوں میں آنا جانا ہے، میں ان سے ملتا ہوں ۔ اور وہ مہربانی کرتے ہیں مجھ پہ ۔ میری باتیں سن لینے ہیں، تلخ ترش ۔ تو میں نے ان سے کہا کہ یہ چیزیں آپ کے نصاب میں ہونی چاہئیں کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ ہم اپنا وہی پرانا نصاب تعلیم اور نصاب اخلاق ہی جاری رکھیں گے ۔ ہم معذرت چاہتے ہیں کہ ہم دوسرے مضامین کو اپنے نصاب میں داخل نہیں کر سکتے ۔

    عابدہ: اچھا ، کیوں؟

    اشفاق: میں نے کہا وہ کیوں ۔ کہنے لگے: ہم آپ سے دست بستہ درخواست کریں گے اشفاق صاحب کہ آپ اپنے آپ کو، اپنے پوتوں کو، اپنے نواسے نواسیوں کو یہ تعلیم ضرور دلوائیں جو آپ دلوا رہے ہیں ۔ اسکا فائدہ ہم کو یہ ہوگا کہ جب کوئی ہمارا مولوی بیمار ہوگا ۔ تو ہم ٹیلیفون کریں گے کہ اس کے پیٹ میں بلا کا درد ہے ۔ تو تم ڈاکٹری پڑھے ہوئے ہو، کہو گے کہ اس کو فوراُ یہاں بھیج دو ۔ اور وہاں جائے گا تو وہ اسکا اپریشن کرینگے ۔ اور کہیں گے یہ اپنڈکس تھا ۔ پھٹ جاتا تو نقصان ہوتا ۔ تو یہ ہمارا فائدہ ہوا ۔۔ ۔ جب عید آئے گی اور اسی ڈاکٹر صاحب کی بیوی پریشان پھرے گی اور پوچھتی پھرے گی کہ عید کے روز فطرانہ جو دیا جاتا وہ کتنا ہوتا ہے ؟ تو یہ مجھے ٹیلیفون کرے گی ۔ تو میں بتاؤں گا کہ چار روپئے اسی پیسے فطرانہ ہے ۔ تو ہماری تعلیم اس طرح سے بٹی ہوئی ہے ۔ جو لمبی بات ہے ۔ یہ تو پھر کبھی کریں گے ۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگا کے، جب فرصت ہوگی ۔ تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ:’ ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ دونوں سسٹم الگ الگ رہیں ‘ ۔ وہ سوچتے ہونگے کہ یہ تو کل کو کہیں گے کہ ایل ایل بی کے پرچے میں ٹیڈی بکری پالنے کے طریقے بھی سکھائیں جائیں ۔ اور میڈیکل میں ہلدی کی گانٹھیں سکھانے کے گر بھی سکھائیں ۔ تو یہ نہیں ہوا کرتا ۔ اس میں ہم چونکہ صاحب حیثیت ہیں ۔ ہم پڑھے لکھوں کی حکمرانی ہے اسلئے ہم ان کو دبا لیتے ہیں اور وہ دب بھی جاتے ہیں اور مرعوب بھی ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے یہاں پر جمہوریت کی وہ سطح نہیں ہے جو ہونی چاہئے ۔ اور یہ جو مدرسوں والے ہیں وہ لڑتے ہیں ۔ میں نے جو تحقیق کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مغرب والے ہمارے بادشاہی نظام کو جمہوریت میں کیوں تبدیل نہیں ہونے دیتے ہمارے عوام کے ساتھ کیوں نہیں ملتے ۔ ہمارا نظام تعلیم کیوں بدلنا چاہتے ہیں ۔ اور ہمارے بادشاہوں سے ہمارے آمروں سے ہمارے جرنیلوں سے کیوں محبت رکھتے ہیں ۔

    عابدہ: صرف جرنیلوں ہی سے

    اشفاق: ہاں ،کرتے ہیں ۔ کیا کریں، ولایت والوں کی بھی ، بیچاروں کی اپنی ڈیمانڈ ہے ۔ وہ بھی معصوم لوگ ہیں، پریشان ہیں ۔ کیا کریں ۔ ان کو بھی اپنا کاروبار چلانا ہے ۔

    عابدہ: آپ کے پروگرام تلقین شاہ کی اس قدر بے پناہ مقبولیت کا راز کیا ہے کہ دنیا میں اسکا ریکارڈ ہے کہ کسی ایک شخص کا لکھا ہوا کوئی پروگرام ریڑیو پر اتنی دیر چلا ہو ۔ کتنا عرصہ ہو گیا ہے اسے چلتے ہوئے ؟

    اشفاق: تلقین شاہ کو چلتے ہوئے چالیس برس ہو گئے ہیں ۔

    عابدہ : ماشاء اللہ

    اشفاق: بالکل unbroken پروگرام چلتا چلا جا رہا ہے ۔ اور چونکہ وہ عوام کے قریب ہے اور خواص بھی اسے پسند کرتے ہیں، تو بعض اوقات ایسی چیز چل پڑتی ہے ۔ تو اب بھی لوگ بڑی محبت سے اسکو سنتے ہیں ۔ اس میں بڑی تنقید ہوتی ہے ۔ لیکن وہ لوگوں سے حاصل کی ہوئی ہوتی ہے، کتابوں سے نہیں ۔ اسلئے سارے لوگ اسے بڑے شوق سے اور قریب ہو کر سنتے ہیں ۔ اور پڑھے لکھے لوگ اسلئے سنتے ہیں کہ اس میں کچھ ایسی خیال انگیز باتیں بھی ہوتی ہیں جو ا ن کو اخباروں میں اور کتابوں میں نہیں ملتیں ۔ بلکہ یہ میری اپنی، جیسے ایک fiction writer کی سوچ ہوتی ہے، وہ ہے ۔

    عابدہ: تعلیم کی بات بیچ ہی میں رہ گئی ۔ آپ کے خیال میں اسے بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟

    اشفاق: ہمارے یہاں، عابدہ ، ضرورت اس بات کی ہے ۔ اور تم بھی دعا کرو، دور بیٹھی ہوئی، کہ ہمارے یہاں پر جو دو سوچیں، دو نظام چل رہے ہیں ۔ جو کہ بڑی اچھی بات ہے، ہونے چاہئیں ۔ ان کے درمیان کوئی یگانگت پیدا ہو ۔

    عابدہ: تو خاں صاحب، یہ یگانگت کون پیدا کرے گا ؟ آپ ماشاء اللہ بہت بڑے اصلاح کار ہیں ، آپ نے اس سلسلے میں کچھ کیا ہے؟

    اشفاق: ہاں ۔ میرا گھر ہے چھوٹا سا ۔ اس میں بیس پچیس آدمی ڈرائنگ روم میں آ سکتے ہیں ۔ تو میں کبھی کبھی ملاؤں کو بلا کر ۔ اور ادیبوں کو بلا کر ۔ ان کو ملا کر بات کرتا ہوں ۔ کہ آپ ان کی بات سنیں اور آپ ان کی ۔ تمہیں حیرانی ہوگی کہ ملا تو پھر بھی سن لیتے ہیں، مگر ادیب بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ’دفع کرو جی، ایہناں نوں کیہ عقل اے، ملا لوگاں نوں‘ اور کہ ’ان ملاؤں کی بہت محدود سوچ ہے اور یہ بہت محدود بات کرتے ہیں ‘ ۔ لیکن میں کہتا ہوں پھر بھی کر لو ۔ تو تین ایسی میٹنگیں ہو چکی ہیں ۔ پھر میں بیمار ہو گیا ۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ خلیج جو ان کے درمیان ہے، یہ پاٹی جائے ۔ بجائے اس کے کہ یہ کہیں، مثلأ یہ ہماری ایجوکیشن کی منسٹر بیچاری کہے کہ ’یہ ساری کی ساری تعلیم ہماری اختیار کر لو جو ہم نے یورپ سے بڑی محنت سے حاصل کی ہے ۔ جو اتا ترک نے بڑی محنت سے ولایت سے حاصل کی ‘ ۔ اتا ترک نے اسمبلی میں ایک بیان دیا کہ جو لوگ یہاں پر بیٹھے ہیں ترکی ٹوپی پہنے، ان سب کے دماغ غلیظ اور پراگندہ ہیں ۔ کیونکہ اس لال ٹوپی کے نیچے جو ٹنڈ ہوتی ہے، جو سر ہوتا ہے، وہ نالائق اور نامعقول ہوتا ہے ۔ اگر تم ابھی اتار کر سول ا ہیٹ پہن لو تو تمھارے دماغ اجاگر ہو جائیں گے، روشن ہو جائیں گے اور تمھیں اچھی اچھی باتیں سوجھنے لگیں گی ۔

    عابدہ: استغفراللہ

    اشفاق: میرے پاس اسکا تراشہ پڑا ہے، مجھے تاریخ یاد نہیں ۔ تو ہم بھی اب ایسی ہی سوچ میں ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ صحیح نہیں ہے ۔ میرا خیال ہے، میرا اندازہ ہے کہ جلد ہی، آٹھ دس سال میں مغرب کو یہ سمجھ آنے لگے گی کہ جو ہمارے علوم ہیں ، جو ہمارے پیغمبروں کے علوم ہیں ، جو گوتم بدھ کا علم ہے، جو شری کرشن جی کا علم ہے، جو گیتا کا علم ہے، جو قرآن کا ہے، جو حضرت عیسی کا علم ہے ۔ ۔۔ یہ بھی ایک علم ہے ۔ اور یہ بڑا طاقتور علم ہے ۔ کیونکہ یہ براہ راست روحوں پہ اثر کرتا ہے۔

    عابدہ: جی، بالکل

    اشفاق:جہاں تم رہتی ہو ۔ اسکا علم بدن پہ اثر کرتا ہے ۔ یہ صرف بدن کو ٹھیک کرتے ہیں ۔ اور چیزوں کی کثرت میں یقین رکھتے ہیں ۔ یہ تمہیں کثرت سے چیزیں عطا کرتے رہیں گے ۔ اور بے چینیاں ملتی رہیں گی ۔ نفسیاتی ڈاکٹر اور ساکیٹرسٹ پیدا کرتے رہیں گے ۔ نفسیاتی معالج بناتے رہیں گے ۔ لیکن روح کے علم کا انکو پتہ نہیں ، جو بندے میں پھونکی گئی ہے ۔ کیا کریں ہم میں ہے ۔ جانوروں میں جان ہے ۔ کتے میں ، بلی میں، بندر میں، ضرافے میں، شیر ببر میں، اژدہا میں ۔ لیکن انسان صرف جاندار نہیں ہے، اسکے ساتھ روح کا بھی ایک چھلا لگا ہوا ہے ۔ وہ کیا ہے؟ اس کو دریافت کرنا ہے ۔ اسی کو دریافت کرنے کے لئے لارڈ بدھا بوڑھ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ۔ کہ یا اللہ، یہ روح کا علم عطا کر، یہ کیا ہے ؟ ہم نے مغرب میں رہ کر انسانوں کو جانداروں کی طرح سمجھنا شروع کر دیا ہے ۔ میرے دوست، میرے بچے آتے ہیں۔ میری لڑکیاں کہتی ہیں کہ بابا، ہم بھی انسان ہیں ۔ جاندار ہیں ۔ جیسے کتا، بلی behaveکرتے ہیں، جنس کے معاملے میں ۔ ہم کو بھی کرنا چاہیے ۔ اور جیسے بھینس کرتی ہے، کھیت میں گذرتے ہوئے، سلیمان کے کھیت میں بھی منہ مارتی ہے، ابراہیم کے کھیت میں بھی، ہمیں بھی ایسے ہی کرنا چاہئے ۔ تو میں کہتا ہوں، پیارے بچو ۔ جان سب میں مشترک ہے ۔ لیکن animal میں روح نہیں ہے ۔ اسکا سراغ لگانا ہے ۔

    عابدہ :بہت خوب !

    اشفاق: تو میرا ذاتی خیال ہے کہ اب جو لٹریچر آپ کے یہاں سے آ رہا ہے ۔ تھوڑا تھوڑا ۔ اس میں کچھ اسکے traces ملنے لگے ہیں ۔ اور مغرب کے آدمی چاہتے ہیں کہ ہم کو بتایا جائے کہ اے مشرق تم اس میں اتنے کنجوس نہ بنو اور ہم کو کھل کر بتاؤ کہ یہ روح کا علم کیا ہے ۔ تاکہ انسان، انسان کے ساتھ مل سکے

    عابدہ: دوسرے انسانوں کے ساتھ اچھی طرح رہنے کا درس تو مغرب میں بھی بہت دیا جاتا ہے ۔ ہمسایوں کے ساتھ محبت سے رہنے کا سبق بچوں کو ۔۔۔

    اشفاق:یہ محبت کا جو دھوکا ہے کہ Love thy neighbour as thyself اور محبت کا چلن ۔ اور یہ ساری جو باتیں بنائی گئی ہیں ۔ یہ دو ہزار برس ہو گئے چل نہیں سکیں، ابھی تک ۔ اور ہمارے رسول نے کہا کہ ’تم لوگ آپس میں محبت نہیں کر سکو گے‘ ۔ اب دیکھو نا، اگر مجھے عابدہ کی شکل ہی پسند نہیں تو میں کیسے اس کے ساتھ محبت کروں، عشق لڑاؤں اور اس پر نظمیں لکھوں؟ تو میں یہ نہیں کر سکتا ۔ لیکن ہمارے پیغمبر کہتے ہیں کہ عدل آپ کو کرنا پڑے گا ۔ تو دو ہزار برس کے بعد مغرب نے ’عدل‘ کا لفظ تو استعمال نہیں کیا، ہمارے نبی کا ۔ لیکن انہوں نے ایک نیا لفظ نکالا ہے، اسے ’انسانی حقوْق‘ کہتے ہیں ۔ وہ سارا سفر کر کے آخر کار وہیں آگئے ہیں ۔ یہ بات ہمارے نبی نے بہت پہلے کہی تھی کہ ’جب تک عدل نہیں ہوگا، Love کوئی چیز نہیں ہے‘ یہ جھوٹی چیز نکلی ۔ ایسے ہی نظمیں لکھی جاتی رہیں ۔ ایسے ہی ذکر ہوتا رہا ۔ یہ ذکر اذکار ہے ۔ تو میں بہت پر امید ہوں، بہت ۔ کہ مشرق اپنی کنجوسی چھوڑ دے ۔ جزرسی چھوڑ دے اورجتنا کچھ جانتا ہے روح کے بارے میں ، وہ کھل کر مغرب کو بتائے تاکہ West سے جو یہ ڈپریشن کی دوائیاں ہیں ، Prozaic وغیرہ ، یہ دفع ہوں ۔ اور روح کھلکھلاتی ہوئی پھیلتی چلی جائے ۔ اور لوگوں کے درمیان یگانگت ہو ۔ اور وہ چیز پیدا ہو جو ہمارا طرہ امتیاز تھا ۔ جو باباے اعظم کے زمانے سے اب تک ہم کو مل نہیں سکی ۔ لو بچے، اب میں تھک گیا ہوں، واقعی -
    ************************************************** ************************************************** ******************************

  2. #2
    Sisters Society

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    21,589
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: اشفاق احمد کا انٹرویو

    بہت خوب زحال
    A winner listens, a loser just waits untill it is their turn to talk!!!

  3. #3
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    30,846
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: اشفاق احمد کا انٹرویو

    گریٹ شیئرنگ ۔۔۔۔
    شیئر کرنے کا بہت سارا شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔
    دریاؤں سے کچھ ربط ہوا اِتنا زیادہ
    پانی پہ لکھی لگتی ہے تقدیر ہماری
    اے وقت! اِسے اپنی کسی موج پہ لکھ لے
    مٹ جائے کہیں ہم سے نہ تحریر ہماری


  4. #4
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: اشفاق احمد کا انٹرویو

    بہت شکریہ زحال

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  5. #5
    Section Managers

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    19,779
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: اشفاق احمد کا انٹرویو

    گریٹ شیئرنگ ۔۔۔۔
    شیئر کرنے کا
    بہت شکریہ زحال ۔۔۔۔۔۔۔

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2008
    Posts
    2,992
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: اشفاق احمد کا انٹرویو

    i love u baba ji u r great
    Quote Originally Posted by Zeewaqar View Post
    اشفاق احمد


    پیدائش: 22 اگست، 1925ء

    انتقال: 7 ستمبر، 2004ء

    اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اےکیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبانمیں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میںروم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گوجاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔

    وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔

    ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔

    ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔

    کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویے کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا

    اشفاق احمد کا انٹرویو


    اگست2002

    عابدہ : سب سے پہلے تو خاں صاحب اپنی صحت کے بارے میں بتائیے ۔

    اشفاق: صحت، عابدہ، ویسی ہی چل رہی ہے ۔ عمر کے ایک خاص حصے میں پہنچ کر کچھ تھوڑا سا زوال آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں میرا بائی پاس ہوا معدے کا ۔ انتڑیوں کو جوڑا ۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا ۔ میں تو جانتا نہیں ہوں باریک باتوں کو ۔ تو اب میں بالکل صاحب فراش ہوں ۔ اور لیٹا ہوا ہی تمہیں یہ ٹیلیفون کر رہا ہوں ۔ آہستہ آہستہ ، میرا خیال ہے ، انشااللہ آپ کی دعا وں کا اثر ہوگا اور میں پھر چلنے پھرنے لگوں گا ۔ آسانی کے ساتھ

    عابدہ : انشااللہ

    اشفاق: ٹھیک ہے، اللہ کی مہربانی ہے ۔۔۔۔کبھی کبھی آواز بھی بند ہو جاتی ہے ۔ تو آج میں نے خاص طور پر کہا کہ میری آواز ٹھیک آپ تک پہنچے اور وضاحت کے ساتھ ریکارڈنگ ہو جائے تو اچھا ہے ۔

    عابدہ : جی، بہت شکریہ ۔ آپ تو ریڈیو کے آدمی ہیں ۔ آپ جانتے ہیں اس کی اہمیت کو ۔

    اشفاق: جی جی

    عابدہ : اگست کا مہینہ ہے ۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں کچھ یاد ہو تو بتائیے اس وقت تو آپ بہت چھوٹے ہونگے

    اشفاق: نہیں نہیں ۔ میں ہرگز چھوٹا نہیں تھا ۔ جب 14 اگست کو پاکستان بنا تو میں بی ۔اے کر چکا تھا ۔

    عابدہ : اچھا ؟

    اشفاق: ہاں، میں بہت بوڑھا آدمی ہوں ۔۔ ۔ قائد اعظم کے ساتھ بھی کام کیا ۔مسلم لیگ میں بھی کام کیا ۔ دو طاقت ور جماعتوں کے ساتھ لڑائی کی ۔ ایک ہندو تھا، ایک انگریز تھا ۔ دونوں کے ساتھ بیک وقت لڑنا ہماری چھوٹی سی کمیونٹی کے لئے بڑا مشکل تھا ۔ لیکن ہم لڑے ۔ اور پاکستان حاصل کیا ۔ اور پھر اس میں انڈیا کے ایما پر، ماؤنٹ بیٹن کے حکم سے آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ جسکی ہمیں یا قائد اعظم کو ہرگز توقع نہیں تھی ۔ لیکن انسانی تاریخ میں ایسے مقام آ جاتے ہیں ۔ بڑا تکلیف دہ وقت تھا ۔ بڑا سخت جانی اور مالی نقصان ہوا ۔ لیکن پاکستان قائم ہو گیا اور ہم بھول گئے ۔ کہ کوئی بات نہیں ۔ ایسے ہی ایک افتاد پڑی تھی جو گزر گئی ۔ اب 14 اگست آ رہا ہے اور بہت ساری یادیں اسکے ساتھ ۔ تلخ، ترش، شیریں ۔ وابستہ ہیں ۔ تو پاکستان جس مقصد، ارادے اور آرزو کے لئے بنا تھا، وہ تو ابھی پوری نہیں ہو سکی ۔ لیکن چلا جا رہا ہے اسکا کا م ۔ دباو اس پر بہت زیادہ پڑے ہوئے ہیں ۔اور اب تو یہ ایک خصوصی دباو میں آ گیا ہے ۔


    عابدہ : خاں صاحب، ایک بڑا طاقت ور نظریہ تو یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسکو اسلامی ملک ہی بننا تھا اور بننا چاہیے ۔ ۔ اسکے برعکس یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قائداعظم بہت سیکیولر خیالات کے تھے ۔ لہٰذہ ایک سیکیولر ملک بنانا ہی ان کی آرزو تھی اور پروگرام تھا ۔ آ پ بتائیے کہ کونسی بات درست ہے اور اگر دونوں ہی غلط ہیں تو صحیح بات کیا ہے ؟

    اشفاق: قائداعظم نے ہرگز ۔ ہرگز سیکیولر پاکستان نہیں بنایا تھا ۔ یہ سیکیولر کی اصطلاح آپ کے یہاں ۔ اور وائس آف امریکہ میں خاص طور پر بڑی شدت سے چل رہی ہے ۔ بری نہیں ہے ۔ لیکن انہوں نے یہ دو قومی تظریہ کے تحت بنایا تھا ۔ کہ ہم ثقافتی اعتبار سے بھی ، زبان ، کھانے پینے کے برتنوں، لباس کے اعتبار سے بھی بھی الگ ہیں ۔ تو ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں بھی تکلیف ہو ۔ ان کو بھی تکلیف ہو ۔ جیسے باپ کے مرنے کے بعد دو بھائی جائیداد تقسیم کر لیتے ہیں، ہم تقسیم کر لیں گے ۔ اور ہم اسکو اسلامی ملک بنائیں گے ۔ قائداعظم کی بہت ساری تقریریں ہیں ۔ اور اگر تم چاہو گی تو میں تمہیں اقتباسات بھیج دونگا ۔ ان کی بہت سی تقریریں ایسی ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ تظریہ اسلام کو فروغ دینے کے لئے جسکی بنیاد اور اساس عدل پر ہو، اسکے لئے بنایا ہے ۔ اور قائداعظم کی ایک تقریر، جو انہوں نے علیگڑھ میں کی تھی ۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں پاکستان کو ایک ایسی لیبارٹری بنانا چاہتا ہوں کہ جسکو دیکھنے دنیا کے دوسرے ممالک سے لوگ جوق در جوق آئیں ۔ اور ایک وقت ایسا آئے ، اور یہ میرے الفاظ ہیں ۔ ان کے نہیں ۔ کہ نیوزی لینڈ کی ایک نانی اپنے نواسے نواسیوں سے کہے کہ میں تو سفر کر نہیں سکتی، بوڑھی ہوں، گنٹھیے کی مریض ہوں ۔ لیکن تم لوگ اب کے جانا تو پاکستان دیکھ کے آنا، کہ وہ کیا کمال کا ملک بنا ہے جہاں حق و انصاف کا چلن ہے ۔ تو ویسا تو نہیں ہو سکا ۔ قائداعظم کی یہ آرزو پوری نہیں ہو سکی۔ اور جیسا وہ لے کے چلنا چاہتے تھے ویسا ہوا نہیں ۔

    عابدہ : قائداعظم کے ساتھ اگر کوئی ملاقات ہوئی ہو یا کسی جلسے میں ان کی کوئی بات سنی ہو جو آپ کو یاد ہو ؟

    اشفاق: یہ بات میں پہلی بار بتانے لگا ہوں اور عجیب اتفاق ہے کہ تم کو بتا رہا ہوں ۔ میں یہاں پہ والٹن کیمپ میں کلرک تھا ، جب پاکستان بنا ۔ پنسٹھ روپئے میری تنخواہ تھی لیکن چونکہ میں بڑا پڑھا لکھا، بی اے پاس تھا، بہت ذہین تھا ۔ اسلئے میں سارے سٹاف میں سب کی آنکھ کا تارہ تھا ۔ تو ایک دن ۔ میں، جو تندور لگا تھا، بہت بڑا ۔ کئی تندور تھے جہاں سے مہاجروں کو گرم گرم روٹی اور دال اور کبھی کبھی قیمہ اور آلو بھی ملتے تھے ۔ وہ لے کے چلا تھا ۔ اور میرے کمرے میں ممتاز مفتی اور خواجہ شفیع دہلوی بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم تینوں ایک جیسا کام کرتے تھے ۔ تو میں روٹی لے کے چلا اور مڑا وہاں سے، تنور سے ، تو ایک بڑے نحیف سے ہاتھ نے مجھے روکا ۔میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو قائداعظم تھے ۔ جو اس کیمپ میں آئے تھے، مہاجروں کی حالت زار دیکھنے کے لئے ۔

    عابدہ: اچھا؟

    اشفاق:ہاں ! تو اب میں ڈر گیا اور کانپنے لگ گیا ۔ اور مجھ سے تو بات نہ ہو ۔ کہنے لگے : ’یہ روٹی اچھی ہے‘؟ میں نے کہا: ’ہاں جی، بہت اچھی ہے ‘ ۔ مجھے کہنے لگے: ’کھا کے دکھاؤ ‘ ۔ میں نے ایک لقمہ توڑا، روکھی روٹی کا ، کھایا ۔ میں نے کہا: ’جی ٹھیک ہے ‘ ۔ کہنے لگے: ’ملاوٹ نہیں ہے‘؟ میں نے کہا: ’نہیں سر، کچھ نہیں ہے‘ ۔ کہنے لگے : ’ اچھا، شکریہ‘ ۔ بس یہی میری بات ان سے ہوئی ۔ اور اسی حد تک میں نے ان کو قریب سے دیکھا ۔ پھر وہ کیمپ کا معائنہ کرنے کے لئے چلے گئے ۔ ان کو شک تھا کہ روٹی میں شائد کوئی ملاوٹ وغیرہ ہو رہی ہے ۔ تو ملاوٹ تو ان کے ملک میں، بعد میں، 57 برس میں بہت زیادہ ہوئی ۔

    عابدہ : پاکستان میں دینی مدارس آجکل بڑے controversial ہیں ۔ اس بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟

    اشفاق: اس بارے میں ، میں نے بہت غور کیا ہے ۔ ہمارے یہاں پاکستان میں بطور خاص اور ہندوستان میں عمومی طور پر یہ مدارس پچھلے ایک ہزار برس سے چل رہے ہیں ۔ اور ایک ہزار برس سے انہوں نے بنی نوع انسان کی علمی، ادبی ، دینی اور اخلاقی طور پر بڑی خدمت کی ہے ۔ پچھلے دو سال سے ، دنیا کے مہذب ملکوں پر، اب یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سوچیں کہ وہ کیا ہوا کہ ان پاکیزہ، اخلاقی مدارس کو ایک بوجھ اور طرح کا اٹھانا پڑ گیا ۔ جو نا انصافی پر مبنی تھا ۔ اور جسکو انصاف میں بدلنے کی، یہ اپنے طور پر تراکیب سوچتے رہے ۔ دنیا کے مہذب ملکوں کو بیٹھ کر یہ سوچنا ہے کہ پچھلے ایک ہزار برس کے بعد، حال ہی میں کہیں ایسا تو نہیں ہو گیا کہ کسی ملک کے اوپر کسی اور ملک نے قبضہ کر نا شروع کر دیا ہو ۔ ویسٹ بینک پر عمارتیں بنانا شروع کر دی ہوں ۔ بلڈوزر لے کر ان کے قدیمی، سو دو سو سالہ گھر ڈھانے شروع کر دئے ہوں ۔ کیا ایسا تو نہیں ہو گیا کہ کشمیری لوگ جو بڑی نرم و نازک کشیدہ کاری کرتے تھے ۔ اور شالیں بناتے تھے ۔ ان کے اوپر ایسا تو نہیں ہو گیا کہ چھوٹی سی جگہ میں ساڑھے سات لاکھ فوج در اندازی کے لئے بھیج دی گئی ہو ۔ کہیں ایسا تو نہیں ہو گیا کہ چیچنیا اور ہرزگوینا میں کچھ ظلم ہونے لگے ۔ اور یہ ایک ہی کمیونٹی ایک ہی گروہ انسانی ، ایک ہی مذہب والوں پہ کیوں ہوا ؟ ہم کتنے سیکیولر لوگ تھے ۔ لیکن ہمارے ہاتھ سے وہ سیکیولرازم کی فاختہ کیوں چھوٹ گئی اور عقاب میں کیوں تبدیل ہو گئی ؟ تو یہ ذمے داری ان مدرسوں پہ عائد نہیں ہوتی ہے جو آپ کے خیال میں مورد الزام ہیں ۔ بلکہ ان لوگوں پہ عائد ہوتی ہے جن کے پاس بلڈوزر ہیں اور جن کے بلڈوزر کے مقابلے میں ربڑ کی غلیلیں لے کے وہ لوگ نکلے ہوئے ہیں جن کے گھروں کے اوپر یہ بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہت ممکن ہے کوئی آدمی غور کر بھی رہا ہو ۔ اور بہت ممکن ہے کہ غور ہو بھی ۔ جب انگریز نے امریکیوں پر ظلم ڈھانا شروع کیا ۔ اور یہاں سے پیسے بٹور بٹور کر لے جا نا شروع کیا ۔ اور بوسٹن ٹی پارٹی کا ذکر آپ نے سنا ہوگا ۔ بہت بڑی جنگ یہاں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔

    عابدہ : جی جی

    اشفاق: امریکہ کی جنگ آزادی ۔ تو ساری چائے بوسٹن کی بندرگاہ پر سمندر میں گرا دی ۔ جہاں سے اس جنگ کا آغاز ہوتا ہے ۔ کچھ وجہ ہوتی ہے تو تب ایسا ہوتا ہے ۔

    عابدہ : صحیح

    اشفاق: اگر انگریز ایمانداری کے ساتھ رہتے تو آج بھی امریکہ کے ساتھ ان کے ویسے ہی تعلقات ہوتے ۔ اب وہ ایک نیچے لگے ہوئے تعلقات ہیں ۔ تو یہ باتیں ہیں جو غور کرنے کی ہیں ۔ اور جن پر توجہ دی جانی چاہیے ۔

    عابدہ : پاکستان کے نظام تعلیم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

    اشفاق: پاکستان میں دو طرح کا نظام تعلیم چل رہا ہے، عابدہ بی بی ۔ ایک تو ولائتی ہے جس میں ہم پڑھ کر یونیورسٹیوں سے برآمد ہوتے ہیں ۔ ایک ان دینی مدرسوں کا نظام تعلیم ہے ۔ ہم جو پڑھے لکھے لوگ ہیں، یہ بار بار تقاضہ کرتے ہیں کہ دینی مدرسوں کا نظام تعلیم بھی ہمارے جیسا کر دیا جائے ۔ اور ان کو ماڈرن تعلیم بھی دی جائے جسکی بنیاد فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، باٹنی ، زوالوجی ، جیالوجی پر ہے ۔ تو میں بھی اس سے بڑا متاثر ہوا ۔ تو میرا چونکہ مدرسوں میں آنا جانا ہے، میں ان سے ملتا ہوں ۔ اور وہ مہربانی کرتے ہیں مجھ پہ ۔ میری باتیں سن لینے ہیں، تلخ ترش ۔ تو میں نے ان سے کہا کہ یہ چیزیں آپ کے نصاب میں ہونی چاہئیں کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ ہم اپنا وہی پرانا نصاب تعلیم اور نصاب اخلاق ہی جاری رکھیں گے ۔ ہم معذرت چاہتے ہیں کہ ہم دوسرے مضامین کو اپنے نصاب میں داخل نہیں کر سکتے ۔

    عابدہ: اچھا ، کیوں؟

    اشفاق: میں نے کہا وہ کیوں ۔ کہنے لگے: ہم آپ سے دست بستہ درخواست کریں گے اشفاق صاحب کہ آپ اپنے آپ کو، اپنے پوتوں کو، اپنے نواسے نواسیوں کو یہ تعلیم ضرور دلوائیں جو آپ دلوا رہے ہیں ۔ اسکا فائدہ ہم کو یہ ہوگا کہ جب کوئی ہمارا مولوی بیمار ہوگا ۔ تو ہم ٹیلیفون کریں گے کہ اس کے پیٹ میں بلا کا درد ہے ۔ تو تم ڈاکٹری پڑھے ہوئے ہو، کہو گے کہ اس کو فوراُ یہاں بھیج دو ۔ اور وہاں جائے گا تو وہ اسکا اپریشن کرینگے ۔ اور کہیں گے یہ اپنڈکس تھا ۔ پھٹ جاتا تو نقصان ہوتا ۔ تو یہ ہمارا فائدہ ہوا ۔۔ ۔ جب عید آئے گی اور اسی ڈاکٹر صاحب کی بیوی پریشان پھرے گی اور پوچھتی پھرے گی کہ عید کے روز فطرانہ جو دیا جاتا وہ کتنا ہوتا ہے ؟ تو یہ مجھے ٹیلیفون کرے گی ۔ تو میں بتاؤں گا کہ چار روپئے اسی پیسے فطرانہ ہے ۔ تو ہماری تعلیم اس طرح سے بٹی ہوئی ہے ۔ جو لمبی بات ہے ۔ یہ تو پھر کبھی کریں گے ۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگا کے، جب فرصت ہوگی ۔ تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ:’ ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ دونوں سسٹم الگ الگ رہیں ‘ ۔ وہ سوچتے ہونگے کہ یہ تو کل کو کہیں گے کہ ایل ایل بی کے پرچے میں ٹیڈی بکری پالنے کے طریقے بھی سکھائیں جائیں ۔ اور میڈیکل میں ہلدی کی گانٹھیں سکھانے کے گر بھی سکھائیں ۔ تو یہ نہیں ہوا کرتا ۔ اس میں ہم چونکہ صاحب حیثیت ہیں ۔ ہم پڑھے لکھوں کی حکمرانی ہے اسلئے ہم ان کو دبا لیتے ہیں اور وہ دب بھی جاتے ہیں اور مرعوب بھی ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے یہاں پر جمہوریت کی وہ سطح نہیں ہے جو ہونی چاہئے ۔ اور یہ جو مدرسوں والے ہیں وہ لڑتے ہیں ۔ میں نے جو تحقیق کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مغرب والے ہمارے بادشاہی نظام کو جمہوریت میں کیوں تبدیل نہیں ہونے دیتے ہمارے عوام کے ساتھ کیوں نہیں ملتے ۔ ہمارا نظام تعلیم کیوں بدلنا چاہتے ہیں ۔ اور ہمارے بادشاہوں سے ہمارے آمروں سے ہمارے جرنیلوں سے کیوں محبت رکھتے ہیں ۔

    عابدہ: صرف جرنیلوں ہی سے

    اشفاق: ہاں ،کرتے ہیں ۔ کیا کریں، ولایت والوں کی بھی ، بیچاروں کی اپنی ڈیمانڈ ہے ۔ وہ بھی معصوم لوگ ہیں، پریشان ہیں ۔ کیا کریں ۔ ان کو بھی اپنا کاروبار چلانا ہے ۔

    عابدہ: آپ کے پروگرام تلقین شاہ کی اس قدر بے پناہ مقبولیت کا راز کیا ہے کہ دنیا میں اسکا ریکارڈ ہے کہ کسی ایک شخص کا لکھا ہوا کوئی پروگرام ریڑیو پر اتنی دیر چلا ہو ۔ کتنا عرصہ ہو گیا ہے اسے چلتے ہوئے ؟

    اشفاق: تلقین شاہ کو چلتے ہوئے چالیس برس ہو گئے ہیں ۔

    عابدہ : ماشاء اللہ

    اشفاق: بالکل unbroken پروگرام چلتا چلا جا رہا ہے ۔ اور چونکہ وہ عوام کے قریب ہے اور خواص بھی اسے پسند کرتے ہیں، تو بعض اوقات ایسی چیز چل پڑتی ہے ۔ تو اب بھی لوگ بڑی محبت سے اسکو سنتے ہیں ۔ اس میں بڑی تنقید ہوتی ہے ۔ لیکن وہ لوگوں سے حاصل کی ہوئی ہوتی ہے، کتابوں سے نہیں ۔ اسلئے سارے لوگ اسے بڑے شوق سے اور قریب ہو کر سنتے ہیں ۔ اور پڑھے لکھے لوگ اسلئے سنتے ہیں کہ اس میں کچھ ایسی خیال انگیز باتیں بھی ہوتی ہیں جو ا ن کو اخباروں میں اور کتابوں میں نہیں ملتیں ۔ بلکہ یہ میری اپنی، جیسے ایک fiction writer کی سوچ ہوتی ہے، وہ ہے ۔

    عابدہ: تعلیم کی بات بیچ ہی میں رہ گئی ۔ آپ کے خیال میں اسے بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟

    اشفاق: ہمارے یہاں، عابدہ ، ضرورت اس بات کی ہے ۔ اور تم بھی دعا کرو، دور بیٹھی ہوئی، کہ ہمارے یہاں پر جو دو سوچیں، دو نظام چل رہے ہیں ۔ جو کہ بڑی اچھی بات ہے، ہونے چاہئیں ۔ ان کے درمیان کوئی یگانگت پیدا ہو ۔

    عابدہ: تو خاں صاحب، یہ یگانگت کون پیدا کرے گا ؟ آپ ماشاء اللہ بہت بڑے اصلاح کار ہیں ، آپ نے اس سلسلے میں کچھ کیا ہے؟

    اشفاق: ہاں ۔ میرا گھر ہے چھوٹا سا ۔ اس میں بیس پچیس آدمی ڈرائنگ روم میں آ سکتے ہیں ۔ تو میں کبھی کبھی ملاؤں کو بلا کر ۔ اور ادیبوں کو بلا کر ۔ ان کو ملا کر بات کرتا ہوں ۔ کہ آپ ان کی بات سنیں اور آپ ان کی ۔ تمہیں حیرانی ہوگی کہ ملا تو پھر بھی سن لیتے ہیں، مگر ادیب بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ’دفع کرو جی، ایہناں نوں کیہ عقل اے، ملا لوگاں نوں‘ اور کہ ’ان ملاؤں کی بہت محدود سوچ ہے اور یہ بہت محدود بات کرتے ہیں ‘ ۔ لیکن میں کہتا ہوں پھر بھی کر لو ۔ تو تین ایسی میٹنگیں ہو چکی ہیں ۔ پھر میں بیمار ہو گیا ۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ خلیج جو ان کے درمیان ہے، یہ پاٹی جائے ۔ بجائے اس کے کہ یہ کہیں، مثلأ یہ ہماری ایجوکیشن کی منسٹر بیچاری کہے کہ ’یہ ساری کی ساری تعلیم ہماری اختیار کر لو جو ہم نے یورپ سے بڑی محنت سے حاصل کی ہے ۔ جو اتا ترک نے بڑی محنت سے ولایت سے حاصل کی ‘ ۔ اتا ترک نے اسمبلی میں ایک بیان دیا کہ جو لوگ یہاں پر بیٹھے ہیں ترکی ٹوپی پہنے، ان سب کے دماغ غلیظ اور پراگندہ ہیں ۔ کیونکہ اس لال ٹوپی کے نیچے جو ٹنڈ ہوتی ہے، جو سر ہوتا ہے، وہ نالائق اور نامعقول ہوتا ہے ۔ اگر تم ابھی اتار کر سول ا ہیٹ پہن لو تو تمھارے دماغ اجاگر ہو جائیں گے، روشن ہو جائیں گے اور تمھیں اچھی اچھی باتیں سوجھنے لگیں گی ۔

    عابدہ: استغفراللہ

    اشفاق: میرے پاس اسکا تراشہ پڑا ہے، مجھے تاریخ یاد نہیں ۔ تو ہم بھی اب ایسی ہی سوچ میں ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ صحیح نہیں ہے ۔ میرا خیال ہے، میرا اندازہ ہے کہ جلد ہی، آٹھ دس سال میں مغرب کو یہ سمجھ آنے لگے گی کہ جو ہمارے علوم ہیں ، جو ہمارے پیغمبروں کے علوم ہیں ، جو گوتم بدھ کا علم ہے، جو شری کرشن جی کا علم ہے، جو گیتا کا علم ہے، جو قرآن کا ہے، جو حضرت عیسی کا علم ہے ۔ ۔۔ یہ بھی ایک علم ہے ۔ اور یہ بڑا طاقتور علم ہے ۔ کیونکہ یہ براہ راست روحوں پہ اثر کرتا ہے۔

    عابدہ: جی، بالکل

    اشفاق:جہاں تم رہتی ہو ۔ اسکا علم بدن پہ اثر کرتا ہے ۔ یہ صرف بدن کو ٹھیک کرتے ہیں ۔ اور چیزوں کی کثرت میں یقین رکھتے ہیں ۔ یہ تمہیں کثرت سے چیزیں عطا کرتے رہیں گے ۔ اور بے چینیاں ملتی رہیں گی ۔ نفسیاتی ڈاکٹر اور ساکیٹرسٹ پیدا کرتے رہیں گے ۔ نفسیاتی معالج بناتے رہیں گے ۔ لیکن روح کے علم کا انکو پتہ نہیں ، جو بندے میں پھونکی گئی ہے ۔ کیا کریں ہم میں ہے ۔ جانوروں میں جان ہے ۔ کتے میں ، بلی میں، بندر میں، ضرافے میں، شیر ببر میں، اژدہا میں ۔ لیکن انسان صرف جاندار نہیں ہے، اسکے ساتھ روح کا بھی ایک چھلا لگا ہوا ہے ۔ وہ کیا ہے؟ اس کو دریافت کرنا ہے ۔ اسی کو دریافت کرنے کے لئے لارڈ بدھا بوڑھ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ۔ کہ یا اللہ، یہ روح کا علم عطا کر، یہ کیا ہے ؟ ہم نے مغرب میں رہ کر انسانوں کو جانداروں کی طرح سمجھنا شروع کر دیا ہے ۔ میرے دوست، میرے بچے آتے ہیں۔ میری لڑکیاں کہتی ہیں کہ بابا، ہم بھی انسان ہیں ۔ جاندار ہیں ۔ جیسے کتا، بلی behaveکرتے ہیں، جنس کے معاملے میں ۔ ہم کو بھی کرنا چاہیے ۔ اور جیسے بھینس کرتی ہے، کھیت میں گذرتے ہوئے، سلیمان کے کھیت میں بھی منہ مارتی ہے، ابراہیم کے کھیت میں بھی، ہمیں بھی ایسے ہی کرنا چاہئے ۔ تو میں کہتا ہوں، پیارے بچو ۔ جان سب میں مشترک ہے ۔ لیکن animal میں روح نہیں ہے ۔ اسکا سراغ لگانا ہے ۔

    عابدہ :بہت خوب !

    اشفاق: تو میرا ذاتی خیال ہے کہ اب جو لٹریچر آپ کے یہاں سے آ رہا ہے ۔ تھوڑا تھوڑا ۔ اس میں کچھ اسکے traces ملنے لگے ہیں ۔ اور مغرب کے آدمی چاہتے ہیں کہ ہم کو بتایا جائے کہ اے مشرق تم اس میں اتنے کنجوس نہ بنو اور ہم کو کھل کر بتاؤ کہ یہ روح کا علم کیا ہے ۔ تاکہ انسان، انسان کے ساتھ مل سکے

    عابدہ: دوسرے انسانوں کے ساتھ اچھی طرح رہنے کا درس تو مغرب میں بھی بہت دیا جاتا ہے ۔ ہمسایوں کے ساتھ محبت سے رہنے کا سبق بچوں کو ۔۔۔

    اشفاق:یہ محبت کا جو دھوکا ہے کہ Love thy neighbour as thyself اور محبت کا چلن ۔ اور یہ ساری جو باتیں بنائی گئی ہیں ۔ یہ دو ہزار برس ہو گئے چل نہیں سکیں، ابھی تک ۔ اور ہمارے رسول نے کہا کہ ’تم لوگ آپس میں محبت نہیں کر سکو گے‘ ۔ اب دیکھو نا، اگر مجھے عابدہ کی شکل ہی پسند نہیں تو میں کیسے اس کے ساتھ محبت کروں، عشق لڑاؤں اور اس پر نظمیں لکھوں؟ تو میں یہ نہیں کر سکتا ۔ لیکن ہمارے پیغمبر کہتے ہیں کہ عدل آپ کو کرنا پڑے گا ۔ تو دو ہزار برس کے بعد مغرب نے ’عدل‘ کا لفظ تو استعمال نہیں کیا، ہمارے نبی کا ۔ لیکن انہوں نے ایک نیا لفظ نکالا ہے، اسے ’انسانی حقوْق‘ کہتے ہیں ۔ وہ سارا سفر کر کے آخر کار وہیں آگئے ہیں ۔ یہ بات ہمارے نبی نے بہت پہلے کہی تھی کہ ’جب تک عدل نہیں ہوگا، Love کوئی چیز نہیں ہے‘ یہ جھوٹی چیز نکلی ۔ ایسے ہی نظمیں لکھی جاتی رہیں ۔ ایسے ہی ذکر ہوتا رہا ۔ یہ ذکر اذکار ہے ۔ تو میں بہت پر امید ہوں، بہت ۔ کہ مشرق اپنی کنجوسی چھوڑ دے ۔ جزرسی چھوڑ دے اورجتنا کچھ جانتا ہے روح کے بارے میں ، وہ کھل کر مغرب کو بتائے تاکہ West سے جو یہ ڈپریشن کی دوائیاں ہیں ، Prozaic وغیرہ ، یہ دفع ہوں ۔ اور روح کھلکھلاتی ہوئی پھیلتی چلی جائے ۔ اور لوگوں کے درمیان یگانگت ہو ۔ اور وہ چیز پیدا ہو جو ہمارا طرہ امتیاز تھا ۔ جو باباے اعظم کے زمانے سے اب تک ہم کو مل نہیں سکی ۔ لو بچے، اب میں تھک گیا ہوں، واقعی -
    ************************************************** ************************************************** ******************************

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •