Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  2
Results 1 to 2 of 2

Thread: شٹر آئی لینڈ۔۔۔کہانی بیان

  1. #1
    Senior Member
    Points: 53,313, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.9%
    Achievements:
    VeteranTagger First ClassOverdrive1000 Experience Points25000 Experience Points
    Awards:
    Activity Award


    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    16,822
    Points
    53,313
    Level
    100
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    شٹر آئی لینڈ۔۔۔کہانی بیان

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیبیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
    فلم: شٹر آئی لینڈ_ 2010

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے ہالی ووڈ کے مقبول ترین ڈائریکٹر مارٹن سکورسز نے۔ فلم ماخوذ ہے ڈینس لیہینے کے ناول سے جس کا نام بھی یہی ہے۔۔ شٹر آئی لینڈ
    فلم کے ہیرو لیونارڈو ڈی کیپریو ہیں۔۔ مارٹن اور ڈی کیپریو کی جوڑی میں بننے والی یہ اکلوتی فلم نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی مارٹن اور ڈی کیپریو ایک ساتھ مل کر۔۔۔
    گینگز آف نیویارک
    دی ایوی ایٹر
    دی ڈیپارٹڈ
    اور وولف آف وال سٹریٹ
    جیسی سپر ہٹ موویز پیش کر چکے ہیں۔۔
    یہ فلم ایک سائیکالوجیکل تھرلر ہے۔ مارٹن اپنی فلموں کی پیش کش میں نت نئی تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔۔
    کیونکہ وہ ایک طرح کی فلمیں نہیں بناتے۔۔ پیریڈ ڈرامہ۔۔ رومانٹک۔۔ ایکشن۔ فینٹسی۔۔ تھرلر۔۔ ہر طرح کی فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔۔ شٹر آئی لینڈ کی ڈائریکشن میں الفریڈ ہچکاک کا انداز جھلکتا ہے۔
    فلم کا سکرین پلے بہت عمدہ ہے۔۔ بلکہ میں کہوں گا کہ سب سے زیادہ احتیاط اس فلم کے سکرین پلے لکھنے میں کی گئی ہے۔ آپ پہلی بار فلم دیکھئے آپ کہانی کے ساتھ چلتے ہوئے چند چھوٹی چیزیں مس کردیں گے۔۔اور یہی فلم میکر چاہتے بھی ہیں کہ آپ انہیں مس کریں لیکن دوسری بار اس فلم کو دیکھنے پر وہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ربط اس کہانی سے اتنا مربوط نظر آتا ہے کہ آپ سکرین پلے رائٹر اور ڈائریکشن کو داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔ خاص طور پر اگر آپ اس فلم کے کلائمکس کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اس فلم کے ہر کردار کی باڈی لینگوئج پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ سینما ٹو گرافی اور میوزک بہت اچھا ہے۔ لیکن فلم کی جان ہے لیونارڈو ڈی کیپریو کی شاندار اداکاری۔۔۔ کہیں بھی کردار کو ہلکے میں نہیں لیا۔۔ کہیں بھی اوور ایکٹنگ نہیں کی گئی۔
    اور کہانی تو ہے ہی کمال کی۔۔ بہت اچھا سسپنس اور تھرلر۔۔ جس کا اختتام یقینا چونکا دینے والا ہے اور پہلی بار فلم دیکھتے ہوئے آپ کو بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ کہانی کا اینڈ کیا ہوگا۔
    اگر اب تک آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں۔
    اب بات کرتے ہیں فلم کی کہانی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
    کہانی ہے 1954 کی جب ایک یو ایس مارشل ٹیڈی ڈینئل (ڈی کیپریو) اپنے پارٹنر "چیک" کے ساتھ بوسٹن کے ایک جزیرے "شٹر آئی لینڈ" پر پہنچتا ہے جہاں خطرناک پاگل قیدیوں کے لئے ایک دماغی ہسپتال نما جیل ہے۔ ٹیڈی کو بتایا گیا ہے کہ ہسپتال سے ایک مریضہ رچل سولانڈو غائب ہے۔۔ ٹیڈی کو اس کی تفتیش کرنی ہے۔۔ وہ پہنچتے ہی سب سے پہلے رچل کے کمرے میں جاتا ہے جہاں اسے پہلا کلیو ملتا ہے۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا ہے جس پر دو لائنیں درج ہیں
    1۔۔۔۔ لاء نمبر 4
    2۔۔۔۔ ہو از 67 ۔۔۔۔(67 کون ہے)
    ڈاکٹر جان کیلی اس جگہ کے انچارج ہیں۔۔
    ٹیڈی کو ابتدائی تفتیش میں کچھ باتوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔۔ جیسا کہ اس جزیرے سے بھاگنا ناممکن ہے۔۔ دوسرا ہسپتال انتظامیہ اور انچارج ڈاکٹر کا رویہ کچھ پراسرار سا ہے۔۔
    ٹیڈی کو شک گزرتا ہے کہ رچل نامی غائب مریضہ کو ہوسکتا ہے ہسپتال انتظامیہ نے ہی غائب کروایا ہو۔ لیکن پھر اچانک اگلے دن غائب مریضہ رچل سولانڈو مل جاتی ہے۔۔ یہاں رچل سولانڈو کے بارے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ وہ عورت ہے جس نے اپنے تین بچوں کو جھیل میں ڈبو کر مار دیا تھا۔ اور بعد میں اس نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنے دماغ میں ایک تصوارتی دنیا قائم کرلی۔۔ جس کے مطابق اس کے بچے زندہ ہیں اور اسکول گئے ہیں۔
    اس کے علاوہ یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ رچل کو جو ڈاکٹر آپریٹ کرتا ہے اس کا نام ڈاکٹر شیہن ہے جو کہ ٹیڈی کے آنے سے پہلے چھٹی پر چلاگیا تھا۔
    اس ہسپتال کے تین وارڈ ہیں۔۔ اے بی اور سی۔۔ سی وارڈ میں سب سے خطرناک قیدی یا مریض رکھے جاتے ہیں اس کے علاوہ جزیرے پر ایک لائٹ ہاوس ہے جس کے بارے میں ٹیڈی کو شبہ ہے کہ یہاں کوئی غیر قانونی کام ہوتا ہے۔
    ٹیڈی یعنی ڈی کیپریو اپنے پارٹنر چیک کو بتاتا ہے کہ ایک پاگل آدمی اینڈریو لیڈس نے اس کے گھر کوآگ لگادی تھی جس میں اس کی بیوی ڈولرس جل کر مرگئی تھی۔۔ (ٹیڈی اپنی مری ہوئی بیوی کے بارے میں بھی ڈیلوزن کا شکار ہے) اور لیڈس نامی وہ پاگل آدمی بھی اسی ہسپتال میں شاید وارڈ سی میں ہے۔۔ ٹیڈی یہ بھی بتاتا ہے کہ اسے شک ہے کہ اس جگہ پر مریضوں کا علاج ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ان پر غیر قانونی تجربات بھی کئے جاتے ہیں۔۔اور وہ یہ راز بھی جاننے آیا ہے۔
    دوسری اہم بات یہ کہ ٹیڈی ایک ریٹائر آرمی آفیسر بھی ہے جس نے جنگ میں بہت خون ریزی دیکھی۔۔ اس کے ڈیلوزن میں اس جنگ کے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔
    کہانی کی طرف پلٹتے ہیں۔۔ گمشدہ مریضہ واپس آجانے کے بعد ٹیڈی کا کام ختم ہوچکا لیکن ٹیڈی کوایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں کل 66 مریض ہیں لیکن ایک 67واں مریض بھی ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔۔۔وہ 67 ویں مریض اور لیڈس نامی پاگل کو تلاش کرنے نکلتا ہے۔۔ اس کے لئے وہ وارڈ سی میں جاتا ہے جہاں اسے ایک پاگل یہ کہتا ہے کہ تم یہاں آکر پھنس چکے ہو اب تم واپس نہیں جا سکتے۔۔
    ٹیڈی لائٹ ہاوس جانا چاہتا ہے تاکہ حقیقت جان سکے۔۔لیکن اس کا پارٹنر اسے روکنا چاہتا ہے تو وہ اسے اکیلا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے لیکن لائٹ ہاوس تک جانا آسان نہیں ہے۔۔ اسے واپس آنا پڑتا ہے
    تو اس کا پاٹنر چیک غائب ہوتا ہے۔۔ اس کی تلاش میں وہ ساحلی چٹانوں کی غاروں میں پہنچ جاتا ہے جہاں اسے ایک عورت ملتی ہے جو کہتی ہے کہ وہ "اصل رچل سولانڈو" ہے۔۔ یعنی وہ مریضہ جو گم ہوگئی تھی اورمل بھی گئی تھی۔۔لیکن یہ کوئی اور ہی تھی۔۔ رچل ٹیڈی کو بتاتی ہے کہ اس جگہ پر مریضوں پر تجربات ہوتے ہیں ان کے دماغوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔۔اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اب وہ یعنی ٹیڈی یہاں سے واپس نہیں جاسکتا۔۔کیونکہ وہ یہاں کے راز سے واقف ہوچکا ہے اور ہسپتال کی انتظامیہ اسے پاگل قرار دے کر یہاں قید کرلے گی تاکہ ٹیڈی اس جزیرے کا راز فاش نہ کرسکے۔
    ٹیڈی واپس آتا ہے اور ڈاکٹر جان سے اپنے پاٹنر کے بارے میں پوچھتا ہے تو ڈاکٹر اسے جواب دیتا ہے
    "کون سا پارٹنر۔۔تم تو اکیلے آئے تھے"
    ٹیڈی سمجھ جاتا ہے کہ ڈاکٹر جان کا کھیل شروع ہوچکا
    اب اگر وہ ضد کرتا کہ وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ آیا تھا تو اسے پاگل قرار دے کر قید کیا جا سکتا ہے۔
    ٹیڈی خاموش ہوجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کے پارٹنر چیک کو یقینا لائٹ لاوس لے جایا گیاہے اسے وہیں جا کر چیک کو بچانا چاہئے۔۔ سو وہ لائٹ ہاوس پہنچتا ہے۔۔ مگر وہاں کوئی آپریشن تھیٹر یا قید خانہ نہیں ہوتا بلکہ ڈاکٹر جان کیلے کا دفتر ہے اور وہ خود موجود ہے۔
    یہاں پر ڈاکٹر جان کیلے ٹیڈی کو بتاتا ہے کہ جس نمبر 67 کو وہ تلاش کر رہا ہے وہ خود ٹیڈی (ڈی کیپریو) ہی ہے۔۔ اور وہ یہاں دو سال سے بطور مریض رہ رہا ہے۔۔
    یہاں پر ٹیڈی کے ساتھ ساتھ ناظرین کو بھی یہی لگتا ہے کہ فلم کی اب تک کی کہانی کو لے کر ڈاکٹر جان۔۔ٹیڈی کے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہا ہے۔۔ مگر پھر انٹری ہوتی ہے ڈاکٹر شیہن کی (وہی ڈاکٹر جو چھٹی پر تھا) لیکن جب وہ اندر آتا ہے تو ٹیڈی حیران رہ جاتا ہے کہ ڈاکٹر شہین دراصل اس کا پارٹنر چیک ہی ہے۔۔۔
    ڈاکٹر جان اور شہین ٹیڈی کو بتاتے ہیں کہ تمہارا اصل نام ٹیڈی ڈینئل نہیں ہے بلکہ اینڈریو لیڈس ہے۔۔ (وہی لیڈس جسے ٹیڈی نے تصوراتی دنیا میں ایک پاگل آدمی قرار دے رکھا ہے کہ اس نے اسکی بیوی کو مارا تھا)۔۔
    اصل میں جب ڈی کیپریو جنگ سے واپس آیا تھا تو جنگ کی ہولناکیوں کا شکار تھا۔۔ جس کی وجہ سے وہ شراب کے نشے میں دھت رہنے لگا اور اپنے بیوی بچوں کو فراموش کردیا۔۔ اس بات پر اس کی بیوی ذہنی مریضہ بن گئی اس نے اپنے تینوں بچوں کو جھیل میں ڈبو کر مار دیا تھا۔۔جس پر ڈی کیپریو نے اپنی بیوی کو گولی ماردی تھی۔۔ یہ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ ڈی کیپریو نے اس حقیقت کو اپنے ذہن سے ختم کرنے کی کوشش کی۔۔
    اس نے ذہنی طور پر اپنے آپ کو ٹیڈی ڈینئل نامی یو ایس مارشل کی ایک شخصیت میں تبدیل کر لیا۔ رچل سولانڈو نام کی کوئی مریضہ نہیں تھی یہ اس کی بچی کا نام تھا
    ڈاکٹر جان نے اسے بتایا کہ وہ دو سال سے اس کا علاج کر رہے ہیں۔۔ مگر ڈی کپریو اپنی اصل شخصیت اینڈریو لیڈس میں واپس نہیں آتا کیونکہ پھر اسے اپنی بیوی بچوں کی موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    ذہنی طور پر مریض ڈی کیپریو چونکہ ایک فل ڈیکوریٹڈ آرمی آفیسر بھی ہے اس لئے یہ خطرناک ہوسکتا ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے۔۔ اس کا آخری علاج یہ ہے کہ اسے "لیبوٹومائز" کر دیا جائے۔۔ جس کے بعد اس کا دماغ ناکارہ ہوجائے گا۔۔ مگر ایسا کرنے سے پہلے ڈاکٹر جان نے ایک تجربہ کیا کہ ڈی کیپریو کو اس کی دوسری شخصیت ٹیڈی ڈینئل میں آزاد چھوڑ دیا جس کے ساتھ ڈاکٹر شیہن اس کے پارٹنر کے طور پر تھے۔
    تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ڈی کیپریو اپنی اس شخصیت میں اتر جانے کے بعد جب اپنی اصل حقیقت کو تلاش کرے گا تو وہ اپنی سچائی مان لے گا
    ڈی کیپریو۔۔۔ ان کی باتوں کو تسلیم کرلیتا ہے کہ واقعی وہ اینڈریو لیڈس ہی ہے۔۔ جسے اپنے بچوں اور بیوی کے مرنے کا دکھ ہے۔۔
    ڈاکٹر جان اسے بتاتے ہیں کہ ہم کچھ دن تمہیں اسی حقیقت کے ساتھ رہنا ہوگا کیونکہ پہلے بھی تقریبا نو ماہ قبک ایک بار تم اسے تسلیم کرنے کے بعد مکر گئے تھے۔وہ کہتے ہیں
    "اینڈریو تم بار بار خود کو ری سیٹ کرلیتے ہو۔۔ایک نہ ختم ہونے والے ٹیپ کی طرح جو ایک لوپ میں چلتی جاتی ہے"
    بہرحال ڈی کیپریو اس سچائی کو مان لیتا ہے کہ وہ ٹیڈی ڈینئل نہیں بلکہ اینڈریو لیڈس ہے۔
    فلم کا اختتام ہوتا ہے۔۔
    سین کچھ دن بعد کا ہے۔۔۔جب ڈاکٹر شیہن کے ساتھ بیٹھا ڈی کیپریو اسے چیک کے نام سے پکار کر کہتا ہے کہ "فکر مت کرو ہم یہاں سے نکل جائیں گے"
    ڈاکٹر شیہن مایوسی سے ڈاکٹر جان کو اشارہ کرتا ہے جس کا مطلب یہ کہ ڈی کیپریو پھر سے اپنی دوسری شخصیت میں لوٹ گیا ہے۔۔اب اس کا آخری علاج ہی ناگزیر ہے
    ڈی کیپریو یہاں ایک جملہ بولتا ہے کہ ایک درندے کی طرح جینے سے بہتر ہے بھلے آدمی کی طرح مر لیا جائے۔۔
    اور پھر اسے لبوٹومائز کے لئے لے جاتے ہیں۔
    اس فلم کا اینڈ پیچیدہ ہے۔۔۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ ڈاکٹر جان کا خدشہ درست نکلا اور ڈی کیپریو نے پھر سے خود کو ریسیٹ کرلیا اور حقیقت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔۔ لہذہ مجبورا اب اسے لبوٹومائز کیا جائے گا کہ وہ ٹھیک نہیں ہوسکتا۔۔۔
    لیکن اگر آپ غور سے آخری سین میں ڈی کیپریو کی اداکاری اور آخری جملہ سنیں
    "ایک درندے کی طرح جینے سے بہتر ہے کہ بھلے آدمی کی طرح مر لیا جائے"
    تو اس فلم کا اینڈ واضح ہوجائے گا
    کہ ڈی کیپریو ٹھیک ہوچکا تھا اس نے اپنی حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا لیکن اس کی حقیقت اتنی خوفناک تھی اور وہ اپنے بیوی بچوں کے قتل میں خود کو اتنا گلٹی تصور کرتا تھا کہ اسے معلوم تھا اس سچائی کے ساتھ وہ جی نہیں سکتا لہذہ اس نے جان بوجھ کر خود کو لبوٹومائزیشن کے لئے پیش کردیا۔۔ دوسرے الفاظ میں اس نے اپنے ہوش و حواس میں موت کو چن لیا تھا۔
    اس فلم کی کچھ باریکیوں کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔۔۔ شروع سے آخر تک۔۔۔ یہ فلم ختم ہونے کے بعد تقاضا کرتی ہے کہ اسے دوبارہ دیکھا جائے۔۔اور جب آپ اسے دوبارہ دیکھتے ہیں تو آپ کو ان باریکیوں کا احساس ہوتا ہے جوپہلے نہیں ہوا تھا۔۔۔ مثال کے طور پر۔۔۔ فلم کے شروع میں ڈی کیپریو ہسپتال کو دیکھتا ہے اور مریض ڈی کیپریو کو دیکھتے ہیں۔۔ آپ کو سمجھ نہیں آئے گی کہ اس میں خاص کیا ہے۔۔ لیکن فلم کے اختتام کو سمجھ لینے کے بعد آپ کو سمجھ آئے گی کہ وہ ایسے کیوں دیکھتا تھا۔۔ اور دوسری بار جب فلم دیکھیں گے تو آپ کو اس کے دیکھنے کا انداز ہی بہت کچھ بتا دے گا۔ (خاص طور پر اگر آپ کو ہیومن سائیکی سے تھوڑی بہت رغبت ہے تو)۔
    اس لئے میں نے کہا کہ یہ وہ فلم ہے جسے دوسری بار دیکھنا بھی بہت مزہ دیتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر: طاہر عمیر

  2. #2
    Site Managers
    Points: 151,359, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 100.0%
    Achievements:
    SocialVeteranOverdriveTagger First Class1000 Experience Points
    Awards:
    Community Award


    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,249
    Points
    151,359
    Level
    100
    Mentioned
    37 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    شٹر آئی لینڈ ایک عمدہ فلم تھی۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •