Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 6 of 6

Thread: روزہ۔۔۔ طبی فوائد

  1. #1
    Site Managers
    Points: 156,579, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 40.0%
    Achievements:
    SocialCreated Blog entryOverdriveTagger First ClassVeteran
    Awards:
    Posting Award


    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    50,925
    Points
    156,579
    Level
    100
    Blog Entries
    1
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    روزہ۔۔۔ طبی فوائد

    روزے کے طبی فوائد

    روزہ رکھنے سے نہ صرف روحانی ، پاکيزگی اور تزکيہ نفس ہوتا ہے بلکہ انسان مختلف امراض سے بھي نجات حاصل کرتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ اگر قا‏عدے سے روزہ رکھا جائے تو انسان کو صحت سے متعلق کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جن میں حد سے زیادہ وزن سے نجات شامل ہے۔


    روزہ سے جین میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور آئی جی ایف– ون نامی ہارمون کی نشوو نما میں کمی ہوتی ہے جس سے بڑھاپے میں کمی آتی ہے اور بڑھاپے سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر والٹر لونگو کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے آئی جی ایف – ون کی سطح میں کمی آتی ہے اور جسم مرمت موڈ میں آ جاتا ہے اور مرمت کرنے والے کئی جین جسم میں متحرک ہو جاتے ہیں۔

    روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ صحتِ انسانی کے لئے مفید چیز ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی بلکہ روزہ رکھنے سے صرف دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور درحقیقت 24 گھنٹوں میں جسم کو مجموعی طور پر اتنے حرارے
    (Calories)
    اور مائع (پانی) کی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی غذائیت (حرارے) عام دنوں کے مقابلے میں جسم کو اکثر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں اس کے علاوہ جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کر کے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے۔

    روزے سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں :۔

    ۔ روزہ سارے نظامِ ہضم کو ایک ماہ کے لئے آرام مہیا کر دیتا ہے۔ درحقیقت اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید اعمال بھی سرانجام دیتا ہے جس کی وجہ سے اس پر تھکن طاری ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف روزہ کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے جو روزہ کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔ کیونکہ بے حد معمولی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصے کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہو جائے تو پورا نظامِ انہضام اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور جگر فوراً مصروفِ عمل ہو جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے ماہرینِ طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہونا چاہیے۔

    ۔ روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو نہایت فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خلیوں کے درمیان
    (Inter Celluler)
    مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کا عمل بڑی حد تک سکون آشنا ہو جاتا ہے۔ لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں
    (Epitheliead)
    کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔ اسی طرح سے ٹشو یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر یہ ڈائسٹالک دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل آرام کی صورت میں ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یا ٹینشن کا شکار ہے۔ رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پریشر کو کم کرکے انسان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

    ۔ پھیپھڑے براہِ راست خون صاف کرتے ہیں اس لئے ان پر بلاواسطہ روزے کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو جائے تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام نظامِ جسمانی میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

    ۔ روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔

    ۔ خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ کھولا جاتا ہے اور غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق معلوم ہوا کہ صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔

    روزہ رکھنے سے اعضاء رئیسہ خاص طور سے دل و دماغ اور جگر کو تقویت ملتی ہے اور ان کے افعال میں درستگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ استحالہ کا عمل (Metabolic Function)
    بھی ترتیب میں آجاتا ہے، جسے سائنسدانوں نے بارہا ثابت کیا ہے اور اس کی رپورٹ نیشنل/ انٹرنیشنل میڈیکل جرنلوں میں شائع ہوچکی ہے۔

    روزہ رکھنے سے اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے۔ روزہ ذہنی تناو کو ختم کرنے میں ہم ادا رول کرتا ہے۔ وقت پر سحر اور افطار کرکے موٹاپا کے شکار لوگ اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔ وہ عورتیں جو موٹاپا کا شکار ہیں اور اولاد سے محروم ہیں ان کے لئے روزہ نہایت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ جدید میڈیکل سائنس کا ماننا ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد بے اولاد خواتین کے یہاں اولاد کی پیدائش کے امکانات میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہمارے معدے کے فاسد مادے زائل ہو جاتے ہیں۔ روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ جولوگ منشیات ، شراب اور تمباکو نوشی جیسی بری عادتوں کے عادی ہوچکے ہیں وہ روزہ کی مدد سے اس ان عادتوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ تجربات بتاتے ہیں کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے انسان کی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے کی وجہ سے ہمارا دل نظام ہضم میں اپنی توانائی صرف کرنے سے آزاد ہوجاتاہے اور وہ اس توانائی کو گلوبن پیدا کرنے پر صرف کرتا ہے ۔ گلوبن ہمارے جسم کی حفاظت کرنے والے مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتا ہے۔ روزہ قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ روزہ رکھنے کی وجہ سے دماغی خلیات کو فاضل مادوں سے نجات مل جاتی ہے اور اسی طرح سے دماغی صلاحیتیوں کو جلا ملتی ہے۔
    روزہ کی اہمیت وافادیت کا اندازہ پروفیسر نیکولای کے اس بیان ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب”صحت کی خاطر بھوک “ میں ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں”ہر انسان، خاص طور پر بڑے شہروں میں رہنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ سال میں تین چار ہفتہ تک کھانا کھانے سے باز رہے تاکہ وہ پوری زندگی صحت یاب رہے“۔



  2. #2
    Section Managers
    Points: 42,443, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 16.0%
    Achievements:
    SocialCreated Blog entryVeteranTagger First Class25000 Experience Points
    Awards:
    User with most referrers
    Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,387
    Points
    42,443
    Level
    100
    Blog Entries
    14
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: روزہ۔۔۔ طبی فوائد

    شکریہ عمران بھائی،
    بہت انفارمیشن لیے ہوئے عمدہ مضمون ہے۔۔

    کڑکتی بجلی، گرجتے بادل، برستی بارش
    تیری یاد کے سہارے بڑی دور نکل گئے



  3. #3
    Senior Member
    Points: 22,420, Level: 93
    Level completed: 7%, Points required for next Level: 930
    Overall activity: 7.0%
    Achievements:
    Veteran10000 Experience Points5000 Experience Points


    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    11,946
    Points
    22,420
    Level
    93
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: روزہ۔۔۔ طبی فوائد

    بہت ہی بہترین معلوماتی تحریر ۔۔۔۔بہت شکریہ بھائی شیئرنگ کے لئے

  4. #4
    Senior Member
    Points: 14,684, Level: 78
    Level completed: 59%, Points required for next Level: 166
    Overall activity: 0%
    Achievements:
    Veteran10000 Experience Points5000 Experience Points


    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    3,012
    Points
    14,684
    Level
    78
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: روزہ۔۔۔ طبی فوائد

    شکریہ اتنی اچھی معلومات کا
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  5. #5
    Site Managers
    Points: 65,030, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.7%
    Achievements:
    SocialCreated Blog entryVeteranOverdriveTagger First Class


    Join Date
    Apr 2008
    Location
    قطر
    Posts
    20,289
    Points
    65,030
    Level
    100
    Blog Entries
    12
    Mentioned
    44 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    ماہر دماغی و اعصابی امراض ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا ہے کہ روزے کا سب سے زیادہ فائدہ ڈپریشن کے مریضوں کو ہوتا ہے اور ان کی بیماری بہتر ہوجاتی ہے روزے سے نہ صرف ڈپریشن کم ہوجاتا ہے بلکہ مریض پر دواؤں کے اثرات بھی نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
    انھوں نے بتایا کہ روزے سے دماغی صحت پر اثرات جاننے کے لیے ماسکو کے انسٹیٹیوٹ آف سائیکاٹری میں ایک تحقیق کی گئی جس میں ہزاروں مریضوں پر تجربات کرکے ثابت کیا گیا کہ شیزوفرینیا اور پاگل پن کے جو مریض عام طور پر دواؤں سے کنٹرول میں نہیں آتے ان کو اگر روزہ رکھوایا جائے تو شیزوفرینیا کے مرض میں70 فیصدکمی ہوجاتی ہے.
    ان کا کہنا تھا کہ روزہ رکھنے سے اعصابی کمزوری ، ڈپریشن اور تشویش کی بیماری (اینزائٹی ) میں خاصہ افاقہ ہوتا ہے جبکہ جن لوگوں کو پینک اٹیک یعنی تشویش کے دورے پڑتے ہیں بار بار گھبراہٹ طاری ہوتی ہے۔ ان کی تکلیف میں بھی روزہ رکھنے سے کمی آجاتی ہے انھوں نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے بائی پولر ڈس آڈر جس میں موڈ یکلخت بدل جاتا ہے بھی کنٹرول ہو جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ جسمانی صحت کی طرح دماغی صحت بھی انسان کے لیے نہایت ضروری ہے دنیا میں دماغی بیماریاں نہ صرف عام ہیں بلکہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
    صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں

  6. #6
    Senior Member
    Points: 24,317, Level: 94
    Level completed: 97%, Points required for next Level: 33
    Overall activity: 62.0%
    Achievements:
    Created Blog entryVeteran10000 Experience Points5000 Experience PointsOverdrive


    Join Date
    Sep 2007
    Location
    Lahore
    Posts
    7,266
    Points
    24,317
    Level
    94
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    nice sharing paa gee
    کس نے کس کا ۔۔۔سکون لوٹا
    آؤ بیٹھیں! حساب کرتے ہیں




Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •