سہیل احمد کا آشیانہ

لکھنا روشنی ہے۔۔۔۔تخیل و تخلیق

Rate this Entry
تخلیق کا عمل اتنا آسان نہیں جتنا اس کو سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر یہ سہل ہوتا تو یہ ہر کسی کی قوت اور اختیار میں ہوتا کہ جب چاہا قلم ،پنسل اُٹھائی ،شور اور بے ہنگم آوازوں کے درمیان بیٹھ کر لگا کاغذ پہ موتی بکھیرنے۔ معذرت کے ساتھ ۔۔۔ایسے تو صرف کاغذ کالے کیے جا سکتے ہیں لیکن ذہن کی بھرپور صلاحیتون کو اجاگر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی اسی طرح کی حالت میں بااثر لکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو میں ہر گز انکار بھی نہیں کرتا۔ لیکن میرا ذاتی طور پر ماننا یہ ہے کہ وُہ مواد جو ذہن کی کونوں نے کاغذ پہ اس حالت میں آئے کہ ذہن ایک وقت میں صرف تخلیقی سوچوں میں محو ہو تو اس سے تخلیق بھی ہوتی ہے اور کلام بھی با اثر ہوتا ہے۔ بھر تخلیق ایک عطابھی ہے۔ کسی کو یہ کم اور کسی کو یہ زیادہ عطا ہوتی ہے۔ ہاں اس بات کا انکار بھی نہیں کہ اس کو ذہن سے کاغذ پہ منتقل کرنے کے لیے زبان دانی ، تحقیق میں مہارت، سابقہ مواد کا احسن علم و مطالعہ اورمشاہدات وغیرہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

S.T.Coleridgeنے جب اپنی نظم Kubla Khanلکھی تو اُس کو بھی اسی طرح کی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ وُہ اپنے فارم ہاؤس پہ محو خواب تھا۔ بیداری پہ اُس کو اس بات کا پقین تھا کہ وُہ کم از کم دو سو لائنوں پہ مشتمل ایک نظم لکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پھر اس نے چھٹی حس کا استعمال کیا۔تخیل کا برش پکڑا اور کاغذ کے کینوس پہ الفاظوں کے رنگ بکھیر دے۔الفاظی ایسی تھی کہ پڑھنے والے کو تخیل کی ایسی پرواز دی کہ وُہ میلوں کا فاصلہ لمحوں میں کرتا ہوااس محل تک جا پہنچا۔ گویا وُہ خود اپنا محل ذہن میں بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے باوجودوُہ جب لکھنے بیٹھا تو ابھی کم و بیش 50لائنیں ہی لکھی ہوں گی کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔ مہمان کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ مہمان کے جانے کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو تخیل ختم ہو چکا تھا۔ گویا تخلیق کا عمل وہی رک گیا۔ اس لیے وُہ نظم ادھوری ہی رہ گئی۔

تخیل لکھاری اورقاری کے درمیان پل یعنی رابطے کا کام کرتا ہے۔ لکھاری اپنے تخیل کی طاقت سے الفاظ کو کاغذ کی زینت بناتا ہے ۔ وُہ جو کچھ ذہن میں دیکھ رہا ہوتا ہے اُسی کو الفاظی کا لبادہ اُڑھاتا ہے۔ اب لکھاری کا تخیل اور الفاظی میں جتنی طاقت ہو گی اُتنی ہی تحریر پراُثر ہو گی۔قاری کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوتا ہے ۔ وُہ الفاظ کو پڑھ کر تخیل قائم کرتا ہے۔ اب قاری جتنا زیادہ زبان کا علم رکھتا ہوگا اُتنا ہی طاقت ور اُس کا تخیل ہو گا۔ اُتنا کی تحریر کو وُہ آسانی سے اور بہتر سمجھ سکے گا۔

ایک دفعہ اسلامک یونیورسٹی میں ہونے والے لیکچر"افسانے کو لکھنے کا طریقہ"کو پڑھنے کا موقع ملا۔ کہنے والے نے بے شمار اصول وضع کیا۔ لکھنے آخر پی کہنے لگا "وُہ شخص جو انگلیوں کو کی بورڈ پہ رکھے ہوئے ہے یا جو قلم کو ہاتھ میں تھامے ہوئے ہے میں اس کو کہوں گا کہ وُہ یہ سارے اصول چھوڑ کر اُس کو لکھے جو اس کے ذہن میں ابھرا"یہ تخیل ہے جو تخلیق کرواتا ہے۔

Submit "لکھنا روشنی ہے۔۔۔۔تخیل و تخلیق" to Digg Submit "لکھنا روشنی ہے۔۔۔۔تخیل و تخلیق" to del.icio.us Submit "لکھنا روشنی ہے۔۔۔۔تخیل و تخلیق" to StumbleUpon Submit "لکھنا روشنی ہے۔۔۔۔تخیل و تخلیق" to Google

Categories
ذاتی سوچیں

Comments

  1. Rubab's Avatar
    ویلکم ٹو دی کلب سہیل بھائی۔ بالآخر آپ کے قلم کی چپ بھی ٹوٹی۔ تخیل، لکھاری اور قاری کے مابین اچھا تعلق بیان کیا ہے آپ نے کہ لکھاری اپنے تخیل کو الفاظ کا روپ دیتا ہے اور پھر قاری الفاظ پڑھ کے تخیل قائم کرتا ہے۔
    اس میں زیادہ مشکل لکھاری کی ہے کہ اس کو تخیل میں ابھرنے والی کہانی یا تخلیق کو بروقت الفاظ کا روپ دینا ہے، ورنہ پھر وہ گرفت سے نکل جائے گی۔ اصل تخلیق وہی ہوتی ہے جو بہتے جھرنے کی طرح ہو، تخیل سے براہ راست قلم پہ منتقل ہو۔ بہت زیادہ سوچ کے یا دماغی طور پہ گھڑ کے لکھی گئی کہانیوں میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
    کیپ اٹ اپ
  2. Meem's Avatar
    بہت خوبصورت انداز میں آپ نےتخیل سے لے کر قلم پکڑنے اور پھر اس کو صفحہ قرطاس تک پہنچانے سے متعلق لکھا ہے۔
    سب سے اہم چیز یہی ہوتی ہے کہ قاری دراصل وہ سمجھے تو مصنف کے تخیل میں تھا۔
    کیپ رائٹنگ سہیل بھائی۔
  3. Sohail Ahmad's Avatar
    بہت شکریہ رباب۔ کافی وقت بعد کچھ لکھا۔ پھر جو ذہن میں آیا پس لکھ دیا۔ اب لکھتا رہوں گا۔
  4. Sohail Ahmad's Avatar
    بہت شکریہ میم ۔۔۔۔۔آپ نے ٹھیک کہا کہ قاری وُہ سمجھے جو لکھاری کے تخیل میں تھا۔۔۔ جدید نظریات والے بھی یہی کہتے ہیں کہ مطلب نکالنے کی ذمہ داری اب زیادہ قاری پر اور نقاد پر ہے۔