Ahmed Lone

اگر ایسا ہوتا؟

Rate this Entry

سب لوگ اپنی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے.سب کے دل دھک دھک کر رہے تھے.سامنے کرسی پہ ایک موٹے ڈیل ڈول کا شخص بیٹھا تھا.چہرے پہ تناو,آنکھوں میں سنجیدگی لیے وہ سامنے رکھے رجسٹر پہ لکھی تحریر کو غور سے پڑھ رہا تھا.
ادھر بینچوں پہ بیٹھے خواتین وحضرات انتہائی سراسیمہ انداز میں اسے ہی دیکھ رہے تھے.ہر ایک کے ذہن میں ایک ہی سوال ہلچل مچاے ہوے تھا"نجانے کتنا وقت باقی ہے؟"
یہ ایک بڑا سا ہال نما کمرہ تھا.جس کے باہر لگے بورڈ پہ لکھا تھا "آئیے قدر کرنا سیکھیے!"
یہاں بہت سے خواتین و حضرات اس وقت موجود تھے.سب کے سب سوالیہ نشان بنے اسی موٹے ڈیل ڈول کے شخص کو تک رہے تھے کیوں کہ ان سب کی تقدیر کے فارمولے کا علم اسی کے پاس تھا.سب کے چہروں پہ خوف تھا اور سخت سردی کے باوجود بھی ان سب کے پسینے چھوٹ رہے تھے.وہ سب لوگ مسلسل سوچ رہے تھے."اب کیا ہو گا؟"
اچانک اس شخص نے ایک نام پکارا.."صائمہ نیازی"
اسپیکر سے یہ نام گونجتے ہی ایک باوقار خاتون اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور بے یقینی کی سی کیفیت میں چلتے ہوے اس شخص کے قریب پہنچی اور وہ اس کی کرسی کے نزدیک رکھے اسٹول پہ بیٹھ گئی.
اس کا نام گونجتے ہی سب لوگوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا اور اب سب نظریں اسی پہ تھیں.بہت سی آنکھوں میں دلچسپی تھی.وہ سب سوچ رہے تھے."دیکھئے!اس کو کتنا وقت ملتا ہے؟"
اس شخص نے رجسٹر پہ جھکے جھکے ہی پوچھا."صائمہ نیازی آپ ہیں؟"
"جج.......جی"وہ گھبراے ہوے لہجے میں بولی.
"ٹھیک ہے.....ابھی بتاتا ہوں."
اتنا کہہ کر اس نے سامنے رکھے کمپیوٹر کے چند بٹن دباے.جلد ہی اسکرین پہ ایک بڑی سی تحریر آگئی.وہ شخص تو اسے پڑھ ہی رہا تھا,صائمہ نیازی بھی انتہائی بے تابی سے اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی.اس شخص نے تحریر مکمل پڑھی اور پھر اس کی طرف متوجہ ہوا.
"آپ کے پاس ہیں پانچ سال.....!
"پپ.....پانچ.....صرف پانچ سال؟"
اتنا کہہ کر وہ عورت سسکیوں سے رونے لگی.ادھر وہ شخص انتہائی سپاٹ لہجے میں بولا:"آپ جا سکتی ہیں."
وہ عورت روتے ہوے رخصت ہو گئی تھی.اس ساری صورت حال نے وہاں موجود تمام لوگوں کو غمزدہ کر دیا تھا اور اب وہاں ہر فرد کی آنکھوں میں آنسو تھے.سب اپنی اپنی جگہ خوفزدہ بھی تھے بلکہ اب ان سب کا خوف بڑھ چکا تھا.
ادھر اسپیکر میں اگلا نام گونجا:"ریحان ملک......"
ایک لمبا تڑنگا شخص فورًا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا.تمام لوگوں نے درد انگیز نظروں سے اسے دیکھا.
وہ رومال سے پسینہ صاف کرتے اور اپنی حالت پہ بمشکل قابو پاتے ہوے جا کر اسی اسٹول پہ بیٹھ گیا.
موٹے شخص نے گہری نظروں سے اسے دیکھا,پھر پوچھا:"آپ اپنی عمر بتا سکتے ہیں؟"
"چا........چالیس سال"
ریحان ملک ہکلاتے ہوے بولا.
"ہوں....."اتنا کہہ کر موٹا شخص کمپیوٹر پہ مگن ہو گیا.لوگ اب قدرے سنبھل چکے تھے اور ایک نئی دلچسپی سے کمپیوٹر کو دیکھ رہے تھے جس کی اسکرین پہ اب ایک اور تحریر آچکی تھی.ریحان ملک بھی اس موٹے کے ساتھ آگے ہو کر وہ تحریر پڑھنے لگا.وہ جوں جوں پڑھتا جا رہا تھا,آنکھوں میں وحشت آتی جا رہی تھی.اسکرین پہ لکھا تھا
".تین سال باقی ہیں اور..... ریکارڈ کے مطابق پانچ ہزار نمازیں قضا کی گئی ہیں.نوے روزے کھاے گئے ہیں"
موٹے نے غصیلی نظروں سے ریحان ملک کو دیکھااور پھر کہا:
"اپنا حال تو آپ نے ملاحظہ خود ہی کر لیا,جائیے."
کک.....کیا کچھ وقت بڑھ سکتا ہے؟"
ریحان ملک نے ڈرتے ڈرتے پوچھا.
"مسٹر!یہ معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے.مجھے اوپر سے جو بتایا جا رہا ہے,وہی نوٹ کروا رہا ہوں."موٹے نے تقریبًا گرجتے ہوے کہاتو ریحان ملک کی چیخیں نکل گئیں.اس کا چیخنا کیا تھا,ہال میں بیٹھے سب لوگ اونچی آواز سے رونے لگے.
ریحان ملک روتا ہوا باہر جا چکا تھا.ادھر موٹے نے ایک اور نام پکارا "عبدالوہاب!"
یہ سنتے ہی ایک سفید جبے اور سیاہ عمامے والا شخص اپنی جگہ سے اٹھا.سب لوگوں نے انتہائی حیرت سے اسے دیکھا,کیوں کہ خلافِ معمول وہ قابلِ رشک اطمینان سے چلتا ہوا اسی اسٹول پہ جا بیٹھا تھا.
پہلی بار موٹے شخص کی آنکھوں میں نرمی نظر آئی.اس نے اس دل کش شخصیت کو حیرت سے دیکھا,پھر کہا:"مولانا!تیاری مکمل ہے؟"
"بھلا یہ کیسے کہہ سکتا ہوں"
مولانا عبدالوہاب انتہائی غمزدہ سے ہو گئے.اُدھر تھوڑی کھٹ پٹ کے بعد کمپیوٹر کی اسکرین پہ ایک نئی تحریر آچکی تھی.وہاں لکھا تھا:
"مبارک ہو تیاری کسی حد تک مکمل ہو چکی ہے بس بیس قضا نمازوں کی ادائیگی باقی ہے جو توبہ کرنے سے پہلے چھوڑی گئی تھیں اور چودہ روزے بھی ادا کرنا باقی ہیں.غیبت,چغلی,بہتان, جھوٹ,حسد,بغض,نفرت, کینہ,کچھ بھی آپ کے ریکارڈ میں نہیں,وقت دو سال کا باقی ہے."
یہ تحریر پڑھتے ہی مولانا عبدالوہاب کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی.دونوں ہاتھ اٹھا کر انہوں نے کہا تھا.
"تیرا شکر ہے مولا!میں باقی کام پورا کر کے جلد ہی تیرے پاس آنا چاہتا ہوں."پھر انہوں نے موٹے سے ہاتھ ملایا.خلافِ معمول موٹے شخص نے بھی گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر انہیں مبارک باد دی.
وہ جا رہے تھے,لوگ اپنا رونا بھول کر انہیں حسرت بھری نظروں سے تک رہے تھے.
ادھر موٹے نے ایک اور نام پکارا:"گل رعنا!"
یہ نام سنتے ہی ایک تیس سال کے لگ بھگ عمر کی عورت اپنی جگہ سے اٹھی.اس نے ایک سال کا بچہ اٹھایا ہوا تھا.پردے سے بے نیاز وجود,گلے میں لٹکتا دوپٹہ,شانوں تک کٹے بال,کندھے پہ لٹکا شولڈر بیگ.......لیکن اس بے نیازانہ حلیے کے باوجود اس کے چہرے پر پریشانی تھی.بچے کو بہلاتی ہوئی وہ اسی اسٹول پہ جا بیٹھی.
"کتنے بچے ہیں آپ کے؟"موٹے نے کمپیوٹر کے بٹن دباتے ہوے مصروف لہجے میں پوچھا.
"چچ.....چار.....ابھی چھوٹے چھوٹے ہیں."
آخری الفاظ اس نے منمناتے ہوے ادا کیے تھے.
چند بٹن دبانے کے بعد موٹے شخص نے اسکرین پہ نگاہیں جما دیں.اُدھر بچے نے رونا شروع کر دیا.شاید وہ اس موٹے شخص سے ڈر گیا تھا.گل رعنا بد حواسی کے عالم میں کبھی اسے چمکارتی,کبھی اسکرین کو دیکھنے کی کوشش کرتی.اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے لوگ نہایت دلچسپی سے اس موٹے شخص کو دیکھ رہے تھے.موٹے نے کمپیوٹر کی اسکرین پہ آئی تحریر مکمل پڑھی.خلافِ معمول وہ ایک دم پریشان سا ہو گیا تھا.ادھر بچہ بہل چکا تھا.گل رعنا نے بے تابی سے پوچھا"کتنے سال؟؟"
"سال نہیں ہیں."موٹا ٹھنڈی سانس بھر کر دھیمے لہجے میں بولا.
"تت....تو صرف مہینے؟"گل رعنا روہانسی ہو گئی.
"جی نہیں"
"پھر آخر کیا ہے؟جلدی بتائیے"گل رعنا کی آنکھوں میں آنسو آگئے.
"صرف آٹھ منٹ!"اتنا کہہ کر موٹا فر فر آنسو بہانے لگا.
"نن....نہیں"وہ سراسیمہ ہو کر بولی.اس کا رنگ ایک دم سفید ہو چکا تھا.جسم کا خون جیسے کسی نے نچوڑ لیا تھا.سسکیاں لے کر روتی ہوئی وہ بچے کو لے کر اٹھی تھی اور تقریبًا بھاگتی ہوئی ہال کا بڑا دروازہ عبور کر گئی تھی.
اب وہاں موجود تمام لوگ ایک بار پھر رو رہے تھے.موٹے نے کام روک دیا تھا.ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ ایک دھماکے کی آواز سنائی دی.سب لوگوں نے چونک کر ہال کے شیشوں سے باہر دیکھا جہاں ایک ٹرک ایک بس سے ٹکرا گیا تھا.چند لوگ تیزی سے اٹھ کر باہر کو لپکے تھے.آن کی آن میں ایکسیڈنٹ والی جگہ پہ ایک مجمع اکٹھا ہو گیا تھا.جہاں بہت سے لوگ زخمی تھے.اُدھر سب لوگ انتہائی خوف کی کیفیت میں باہر ہی دیکھ رہے تھے.موٹے شخص نے ابھی تک اپنا کام روکا ہوا تھا.باہر والے لوگ تقریبًا چِلّاتے ہوے اندر آے اور اطلاع دی"گل رعنا موقع پہ دم توڑ چکی ہے.وہ روڈ کے درمیان میں تھی جب بس اور ٹرک آپس میں ٹکرا گئے اور درمیان میں چار پانچ منٹ کے اندر اس عورت کے پرخچے اڑ گئے,البتہ بچہ معجزانہ طور پر بچ گیا."
سب لوگ دھاڑیں مار کر رونے لگے.
ادھر اسپیکر میں نام گونجا."توصیف ناصر"
اتنا سنتے ہی ایک پچیس سال کا نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا اور آنسو صاف کرتے ہوے اسٹول پہ بیٹھ گیا.
موٹے شخص نے خود کو سنبھالتے ہوے کمپیوٹر کے چند بٹن دباے اور پھر اسکرین پہ لکھی تحریر پڑھ کر اس کا رنگ اڑ گیا.
"اے.....ایک منٹ"اس کے یہ الفاظ,الفاظ نہیں ,انگارے تھے.
"کیا؟؟"یہ کہتے ہوے کئی لوگ اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے.
"نہیں.......نہیں"توصیف یہ کہتے ہوے روتا اور چِلّاتا ہوا اٹھ کر بھاگا....ابھی وہ ہال کے دروازے پر تھا کہ چکرا کر گر گیا.چند لوگ بجلی کی سی تیزی سے اس کے قریب گئے جہاں اس کا بے جان وجود موقع پر موجود تمام افراد کو بہت سے سبق سنا رہا تھا.اس کی موت یقینًا ہارٹ اٹیک سے ہوئی تھی.
عنقریب موت کی اطلاع ہی صدمہ بن کر اس کی موت کا باعث بن گئی تھی.گل رعنا اور توصیف ناصر کی زندگی ختم ہونے کی اطلاع جو موٹے نے دی,حرف بحرف سچ ثابت ہوئی تھی.لوگوں کے چہرے خوف کی شدت سے بھیانک ہو چکے تھے......
آن کی آن میں وہ سارا منظر غائب ہو گیا.
میں اپنے تخیّل کی دنیا سے واپس آچکی تھی جہاں صرف کاغذ,قلم تھا اور الفاظ تھے.
اگر ہر شخص کو اس کی زندگی میں ہی اس کی موت کا وقت یونہی بتا دیا جاتا تو کیا ہم پھر موج مستی والی زندگی گزارتے؟
اگر نہیں......... تو پھر جان لیجیے کہ آپ کی زندگی میں فقط چند لمحے,چند منٹ,چند گھڑیاں,چند گھنٹے,چند دن,چند ہفتے,چند مہینے یا پھر چند سال ہی باقی ہیں.
آئیے!اپنی زندگی کی قدر کرنا سیکھیے.یہ زندگی ہرگز ہرگز دوبارہ نہیں ملے گی
.

تحریر براے ڈیجیٹل کہانی

Submit "اگر ایسا ہوتا؟" to Digg Submit "اگر ایسا ہوتا؟" to del.icio.us Submit "اگر ایسا ہوتا؟" to StumbleUpon Submit "اگر ایسا ہوتا؟" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Aleesha's Avatar
    its realty i'm speachless
    thanks bhai very nice sharing
  2. Pardaisi's Avatar
    بہت ہی عمدہ شیئرنگ