Ahmed Lone

Must Read This

Rate this Entry
آپ نے دیکھا ہوگا کہ #اہرام مصر بڑی بڑی چٹانوں سے تیار کیا گیا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے آیا اس دور میں ایسی کون سی سائنسی ایجاد تھی جس کی مدد سے ٹنوں من وزنی پتھر اونچائی تک پہنچائے گئے ۔۔ ؟؟
آئیے آپ کو ایک دلچسب بات بتاوں
کئی صدیوں پرانی بات ہے کہ ایک بادشاہ کے دربار میں مضبوط جسم والا ایک پہلوان آیا کرتا تھا جس کے بارے میں چرچا ہونے لگا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں ہے ضرور کوئی الگ مخلوق ہوگی کیونکہ ایسی جسامت والے عام طور پر انسان نہیں ہوا کرتے ۔۔۔
ہوا یوں کہ ایک دن بادشاہ شکار پر گیا تو اس نے دیکھا کہ وہی پہلوان ایک درخت اپنے کندھے پر رکھ کر جنگل کیطرف جا رہا ہے ۔۔
بادشاہ نے دبے پاوں اس پہلوان کا پیچھا کیا تو دیکھا کہ وہاں کئی درخت کٹے پڑے ہیں اور پہلوان اکیلا ان سب کو کاٹ رہا ہے یہ دیکھ کر پہلوان کو بلایا اور پوچھا کہ یہ سب اکیلے کیسے کر لیتے ہو ؟؟
پہلوان خاموش رہا ۔۔۔ بادشاہ کے اصرار پر اس نے ہاتھ بڑھا کر قریب ہی لگا درخت ہلایا تو اس سے پھل گرنے لگے ۔۔۔ بادشاہ کو اب پہلوان کی طاقت کا اندازہ ہو چکا تھا ۔۔۔
بادشاہ نے واپس جانے کا فیصلہ کیا اور پہلوان سے کہا آج سے تم میرے خاص لوگوں میں شامل ۔۔ یہ کہ کر بادشاہ چلتا بنا ۔۔۔
پہلوان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا ۔۔۔ اگلے ہی روز پہلوان دربار میں گیا اور جاتے ہی بادشاہ کے سامنے ہاتھ باندہ کر کھڑا ہو گیا کہ کوئی حکم ہو تو بجا لاوں ۔۔بادشاہ اسکی فرمانبرداری دیکھ کر خوش ہوا اور اسے سرکاری انعام سے نوازا ۔۔۔


جہاں تک اہرام مصر کی بات ہے تو مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں

Submit "Must Read This" to Digg Submit "Must Read This" to del.icio.us Submit "Must Read This" to StumbleUpon Submit "Must Read This" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Rubab's Avatar
    سنتے ہیں کہ ہاتھی کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اس کے ایک پاؤں میں رسی ڈال کے باندھ دیا جاتا ہے۔ ہاتھی کا بچہ اس رسی کو توڑ کے آزاد ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن نہیں کر پاتا کیونکہ رسی مضبوط ہوتی ہے اور وہ چھوٹا اور کمزور۔ پھر وہ بچہ بڑا ہو جاتا ہے اور تب بھی اس کا مالک اس کے ایک پیر میں رسی ڈال کے باندھ دیتا ہے اور ہاتھی بندھا رہتا ہے کیونکہ اس کے اندر یہ بات پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ رسی اس کی طاقت سے زیادہ مضبوط ہے۔

    اہرام مصر کو ماہرین فن تعمیر کا شاہکار قرار دیتے ہیں۔ یہ بات ماہرین کو حیران کرتی ہے کہ قدیم زمانے کا انسان جس کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی کس طرح ان کی تعمیر کر سکتا ہے۔ اہرام کی تعمیر میں جو پتھر استعمال کیے گئے ہیں ان کا سائز اتنا بڑا ہے کہ جدید مشینری کے ذریعے بھی ان کو اٹھانا اور تعمیر کے لیے استعمال کرنا قریباً ناممکن ہی ہے تو دور قدیم کے انسان نے کیسے ان پتھروں کو تعمیر میں استعمال کیا۔

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عام اندازے کے برعکس قدیم انسان علم اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں موجودہ انسان سے آگے تھا اور اس کے لیے اہرام تعمیر کرنا مشکل نہ تھا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دور قدیم کا انسان بہت بڑی جسامت کا مالک تھا اس لیے وہ باآسانی اتنے بڑے پتھروں کو اٹھا سکتا تھا۔ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان اہرام کی تعمیر میں دوسری دنیاؤں کی مخلوق کی مدد شامل ہے۔

    قرآن پاک میں ہیکل سلیمانی کا ذکر ہے۔ وہ محل جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنوایا تھا۔ اس محل کی تعمیر میں آپ نے جنوں سے کام لیا تھا۔ لیکن بعد کے زمانے کی جنگوں کی وجہ سے یہ ہیکل مکمل طور پہ تباہ ہو گیا۔ اب اس کی ایک دیوار کے علاوہ کچھ باقی نہیں ہے اب یہ یہودیوں کی مقدس ترین عبادت گاہ ہے۔

    ساری باتیں صرف قیاس آرائیاں ہیں۔ حتمی علم صرف اللہ کی ذات کے پاس ہے۔

    بلاگ کا نام اگر اردو میں ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔

    شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ۔
  2. Ahsan_Yaz's Avatar
    ہاہاہا۔ بہت عمدہ جناب۔
  3. Meem's Avatar
    لاعلمی بھی نعمت ہے بھائی۔۔
    اور پتا کر کے کیا آپ نے اہرام مصر جیسا کچھ بنا لینا ہے۔

    اور بادشاہ کے خاص آدمیوں میں ہونے سے آزاد ہونا بہتر ہے۔۔
  4. Ahmed Lone's Avatar
    Quote Originally Posted by Rubab
    سنتے ہیں کہ ہاتھی کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اس کے ایک پاؤں میں رسی ڈال کے باندھ دیا جاتا ہے۔ ہاتھی کا بچہ اس رسی کو توڑ کے آزاد ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن نہیں کر پاتا کیونکہ رسی مضبوط ہوتی ہے اور وہ چھوٹا اور کمزور۔ پھر وہ بچہ بڑا ہو جاتا ہے اور تب بھی اس کا مالک اس کے ایک پیر میں رسی ڈال کے باندھ دیتا ہے اور ہاتھی بندھا رہتا ہے کیونکہ اس کے اندر یہ بات پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ رسی اس کی طاقت سے زیادہ مضبوط ہے۔

    اہرام مصر کو ماہرین فن تعمیر کا شاہکار قرار دیتے ہیں۔ یہ بات ماہرین کو حیران کرتی ہے کہ قدیم زمانے کا انسان جس کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی کس طرح ان کی تعمیر کر سکتا ہے۔ اہرام کی تعمیر میں جو پتھر استعمال کیے گئے ہیں ان کا سائز اتنا بڑا ہے کہ جدید مشینری کے ذریعے بھی ان کو اٹھانا اور تعمیر کے لیے استعمال کرنا قریباً ناممکن ہی ہے تو دور قدیم کے انسان نے کیسے ان پتھروں کو تعمیر میں استعمال کیا۔

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عام اندازے کے برعکس قدیم انسان علم اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں موجودہ انسان سے آگے تھا اور اس کے لیے اہرام تعمیر کرنا مشکل نہ تھا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دور قدیم کا انسان بہت بڑی جسامت کا مالک تھا اس لیے وہ باآسانی اتنے بڑے پتھروں کو اٹھا سکتا تھا۔ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان اہرام کی تعمیر میں دوسری دنیاؤں کی مخلوق کی مدد شامل ہے۔

    قرآن پاک میں ہیکل سلیمانی کا ذکر ہے۔ وہ محل جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنوایا تھا۔ اس محل کی تعمیر میں آپ نے جنوں سے کام لیا تھا۔ لیکن بعد کے زمانے کی جنگوں کی وجہ سے یہ ہیکل مکمل طور پہ تباہ ہو گیا۔ اب اس کی ایک دیوار کے علاوہ کچھ باقی نہیں ہے اب یہ یہودیوں کی مقدس ترین عبادت گاہ ہے۔

    ساری باتیں صرف قیاس آرائیاں ہیں۔ حتمی علم صرف اللہ کی ذات کے پاس ہے۔

    بلاگ کا نام اگر اردو میں ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔

    شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ۔


    اردو میں وہ شدت نہیں آنی تھی جو انگلش میں ٹاپک لکھنے آتی


    باقی اللہ گواہ ہے میرا کوئی ہاتھ نہیں اہرام مصر میں
  5. Ahmed Lone's Avatar
    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz
    ہاہاہا۔ بہت عمدہ جناب۔

    شکریہ پخیر راگلے سنگے دے جوڑے دے
  6. Ahmed Lone's Avatar
    Quote Originally Posted by Meem
    لاعلمی بھی نعمت ہے بھائی۔۔
    اور پتا کر کے کیا آپ نے اہرام مصر جیسا کچھ بنا لینا ہے۔

    اور بادشاہ کے خاص آدمیوں میں ہونے سے آزاد ہونا بہتر ہے۔۔
    مجھے یقین تھا



    چلو ہن دس دیو کنج بنیا سی
    یعنی اپ بتا دیں کیسا بنا تھا اہرام مصر


    باقی خوب پتے کی بات کہی کہ آدمی آزاد ہی اچھا

    اسی لیے شیخ رشید شادی نہیں کر رہا
  7. Salman Sallo's Avatar
    بھائی جنات نے ہیکل سلیمانی تعمیر فرمائی تھی تو اہرام مصر جیسی تعمیر جنات ہی ممکن بنا سکتی ہے ۔۔جو لوگ جنوں کو نہیں مانتے یہ سوال وہ ہی لوگ اٹھاتے ہیں ۔۔
  8. Meem's Avatar
    مجھے بھی کیا کرنا ہے کہ کیسے بنے تھے اہرام مصر۔
    مجھے توpanarottis کیسے بنتے ہیں۔
    یہ بھی نہیں پتا۔۔

    اچھااا۔ ان کے گرو تو اس جنجال میں تیسری بار پھنس گئے۔
    ۔
    Quote Originally Posted by Ahmed Lone
    مجھے یقین تھا



    چلو ہن دس دیو کنج بنیا سی
    یعنی اپ بتا دیں کیسا بنا تھا اہرام مصر


    باقی خوب پتے کی بات کہی کہ آدمی آزاد ہی اچھا

    اسی لیے شیخ رشید شادی نہیں کر رہا
  9. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    ماشاءاللہ اچھی تحریر ھے ۔ شکریہ

    گھر ھیں یا مصر کے اھرام ذرا سوچو تو
    ماسوا زیست کے ھر شے کی فراوانی ھے
  10. Amaan's Avatar
    bohat khoob janab