Amelia

جاتے جاتے زندگی کا سبق دے گے

Rate this Entry
کتنی عجیب ہے نا یہ موت کبھی بھی کسی بھی پل آ سکتی ہے
نہ یہ وقت دیکھتی ہے نہ ہی عمر
کیسے ایک پل میں انسان باتیں کرتا کرتا دوسرے ہی پل میں اپنے دل کی دڑکن کھو بیٹھا ہے
ایک ہی پل میں انسان کا جسم سرخ سے سفید ہو جاتا ہے
ہاتھ گرم سے سرد
وہ آنکھوں کی رونک ایک ہی پل میں کہیں کھو سی جاتی ہے
تب انسان کو احساس ہوتا ہے کے کیا تھی میری زندگی
کیوں میں نے اپنے پیاروں کو اپنے آپ سے دور کر دیا
پھر سب ہی زندگی سے ایک اور موقع طلب کرتے ہیں
مگر زندگی تو ایک ہی بار ملتی ہے
شاید ہم یہ بات بہت آسانی سے بھول جاتے ہیں
یہ سب ان لوگوں کے نام جن کی میں مدد نہ کر سکی
اور جو جاتے جاتے مجھے زندگی جینے کا سبق دے گے
یہ ان سب لوگوں کے نام جن کی وجہ سے میری زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی
مجھے اپنے جینے کی مقصد مل گیا


دو چار دن لے کر آئیں ہیں ہم زمانے میں
گذر نہ جائے یہ زندگی اک دوسرے کو آزمانے میں

چھوٹی سی یہ زندگی ہے، رہو پیار و محبت سے اس میں
گذر نہ جائے یہ زندگی کہیں روٹھنے منانے میں

سالوں کا سفر بھی کٹ جاتا ہے لمحوں میں
دیر کتنی لگتی ہے یہاں آنے میں جانے میں

بھیجا ہے اس جہاں میں جس نے زندگی دے کر
دیر وہ کتنی کرتا ہے پھر واپس بلانے میں

جانے والے تو چلے جاتے ہیں ، رکتے نہیں
مگر سوچو دیر کتنی کرتے ہیں انہیں پھر
ہم بھول جانے میں

Submit "جاتے جاتے زندگی کا سبق دے گے" to Digg Submit "جاتے جاتے زندگی کا سبق دے گے" to del.icio.us Submit "جاتے جاتے زندگی کا سبق دے گے" to StumbleUpon Submit "جاتے جاتے زندگی کا سبق دے گے" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Amir Shahzad's Avatar
    Buhat khoob Aisha very nice sharing
  2. Amelia's Avatar
    Quote Originally Posted by Amir Shahzad
    Buhat khoob Aisha very nice sharing
    Sukriya brother
  3. Ahmed Lone's Avatar
    بہت خوب اچھی شاعری لکھی