Ahmed Lone

تعویذات اور من گھڑت وظیفے

Rate this Entry
آج کل جعلی تعویزات اور من گھڑت وظائف کا کاروبار اپنے عروج پر ہے، کوئی بھی چینل لگا لیں وہاں آپ کو دین سے بے بہرہ حضرات ٹیلی فون کالز کے جوابات میں کچھ اس طرح کے دینی ٹوٹکے بتاتےنظرآئیں گے:

۔۔۔۔ ایک مدنی بہن نے رزق کی کشادگی کے لئے کہا تو وظیفہ پیش خدمت ہے ” ہر نماز کے بعد اول و

آخر درود شریف کے ساتھ یا رزاق پڑھیں انشاء اللہ رزق میں فراوانی ہو گی”۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ صرف ایک مثال تھی در حقیقت روزمرہ کے مختف مسائل جیسے شادی میں رکاوٹ، بلاؤں کو ٹالنا، اولاد کا حصول، یا کسی بھی خاص خواہش کی تکمیل کے لئے ایسے ہی جعلی وظیفوں کا استعمال معمول بن چکا ہے جس کی قرآن و سنت تو دور کی بات بلکہ صحابہ کرام، تابعین اور سلف صالحین کے دور میں بھی کوئی دلیل نہیں ملتی۔

ایک مثال

اگر آپ قرآن و احادیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو رزق میں کشادگی، اولاد کے حصول، مصیبتوں سے بچنے غرض ہر مسئلے کا حل مل جائے گا۔ مثال کے طور پر رزق میں کشادگی کے لئے کتاب و سنت کی تعلیمات درج زیل ہیں:

من أحب أن يبسط له في رزقه، وينسأ له في أثره، فليصل رحمه»

۔[رواه البخاري 5986 ومسلم 2557]

ترجمہ: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جو چاہتا ہو کہ اس کی روزی میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو تو اسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا چاہیے۔

حضرت مصعب بن سعد ضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ، تو (انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا) جس پر رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” کمزوروں کے طفیل ہی تم کو رزق ملتا ہے اورتمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ ( بخاری، کتاب الجہاد والسیر:179/14,108)

اسی طرح قرآن پاک میں کئی مقامات پر توبہ واستغفار کے ذریعہ رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا ذکر ہے جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا قول قرآن پاک میں منقول ہے:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا، وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا (سورة نوح، آیت:12-10)

ترجمہ: میں نے ان ( قوم) سے کہا اپنے رب سے معافی مانگو ، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، تمہیں مال واولاد کی فراوانی بخشے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔

یعنی کتاب و سنت کی تعلیمات سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو تو اسے چاہئے کے اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے، کمزوروں و محتاجوں کی مدد کرے اور ہر حال میں استغار کرتا رہے۔

لیکن افسوس!

چونکہ رزق کی کشادگی کے لئے کتاب و سنت میں درج کردہ احکامات پر عمل کرنا مشکل اور جعلی وظیفوں کا 111 مرتبہ ورد کرنا آسان عمل ہے اس لئے عوام کی ایک عظیم اکثریت صحیح اور خالص دین کو چھوڑ کر جاہلوں کے ایجاد کردہ نقلی دین پر عمل پیرا ہے۔

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا دین نامکمل تھا جو لوگوں کو ایسی شریعت سازی کی ضرورت پیش آ گئی؟ کیا اس نام نہاد دینی گروہ میں زرا بھی خوف خدا نہیں رہا کہ لوگوں کو کتاب و سنت کی تعلیمات سے دور کر کے اپنے بنائے ہو گمراہ کن دین پر لگانے میں مشغول ہیں؟

Submit "تعویذات اور من گھڑت وظیفے" to Digg Submit "تعویذات اور من گھڑت وظیفے" to del.icio.us Submit "تعویذات اور من گھڑت وظیفے" to StumbleUpon Submit "تعویذات اور من گھڑت وظیفے" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Meem's Avatar
    سب وظیفے من گھڑت نہیں ہوتے۔۔
    ہاں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں آپ سے کہوں اور آپ کسی اور سے۔۔ اس دوران الفاظ بدل جائیں۔۔
    یہ غلط ہے یقیناً۔
    بہت سارے وطائف بزرگوں سے منقول ہیں۔۔

    ہاں آپ کی یہ بات بجا ہے کہ۔۔ ہر کوئی بیٹھا۔ وظیفے بانٹ رہا ہوتا ہے۔۔
    گویا یہ وہی ہوگیا کہ کمپاؤنڈر ڈاکٹر بن کے سب کو گلابی دوا دے۔۔

    یہ بھی صحیح ہے کہ قرآن خود پڑھنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے۔
    جس سے تقریبا ہم سب ہی محروم ہیں۔
  2. Ahmed Lone's Avatar
    Quote Originally Posted by Meem
    سب وظیفے من گھڑت نہیں ہوتے۔۔
    ہاں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں آپ سے کہوں اور آپ کسی اور سے۔۔ اس دوران الفاظ بدل جائیں۔۔
    یہ غلط ہے یقیناً۔
    بہت سارے وطائف بزرگوں سے منقول ہیں۔۔

    ہاں آپ کی یہ بات بجا ہے کہ۔۔ ہر کوئی بیٹھا۔ وظیفے بانٹ رہا ہوتا ہے۔۔
    گویا یہ وہی ہوگیا کہ کمپاؤنڈر ڈاکٹر بن کے سب کو گلابی دوا دے۔۔

    یہ بھی صحیح ہے کہ قرآن خود پڑھنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے۔
    جس سے تقریبا ہم سب ہی محروم ہیں۔
    وظیفے اذکار وہی ہیں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں
    یہ جو لوگ بیٹھے بیٹھائے بغیر کسی سیاق و سباق کسی حوالے کے بتاتے ہیں یہ قرآن و حدیث سے نہیں ہیں

    اور جو مثال دی ہے اسی لیے دی تھی
    باقی اگر قرآن کا ترجمہ پڑھ لیا جائے تو انسان کی ہر مشکل کا حل اس میں بیان ہے
  3. Ahsan_Yaz's Avatar
    شاندار بات کہی احمد بھائی۔
    قرآن پاک یہ بتاتا ہے کہ دنیا دارالعمل ہے اور یہاں صرف عمل سے بیڑے پار ہو سکتے ہیں۔
    جبکہ ہمارے مولوی، عامل، پیر، فقیر اور اسی طرح کے دیگر لونڈے یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں الفاظ و فقرات پڑھ لو اور ہاتھ پیر توڑ کے بیٹھ بھی جاؤ تو ہر مراد پوری ہو گی، محبوب آپ کے قدموں میں ۔۔ وغیرہ وغیرہ
  4. Rubab's Avatar
    ہم لوگ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یعنی محنت نہ کرنی پڑے اور بیٹھے بٹھائے کام ہو جائے۔ ایسے میں کئی ایسے لوگ مل جائیں گے جو ایسے شارٹ کٹی وظیفے بتانے میں ماہر ہوں گے۔ کیونکہ ہم بطور سوسائٹی مذہب سے وابستہ باتوں اور لوگوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہیں، اس لیے ایسے شارٹ کٹی وظیفے مذہب کے لفافے میں ملفوف کر کے دئے جاتے ہیں۔
    جب تک شارٹ کٹ کی خواہش ہمارے اندر رہے گی تب تک ایسے عاملوں، ٹی وی پروگراموں، تعویزات وظیفے والوں، وغیرہ کے کاروبار ترقی کرتے رہیں گے۔
  5. Salman Sallo's Avatar
    بطور علاج تو علمائے دین نے اس کو جائز فرمایا ہے بشرطیکہ کسی کے خلاف اس کو استعمال نہ کیا جائے اور کلمات شرکیا نہ ہو ۔۔جو لوگ پیسے لیکر تعوذ دیتے ہیں ان کے تعویزات میں اثر نہیں ہوتا۔۔تعویزات اور عملیات زیادہ تر احادیث و قرآن شریف سے ثابت نہیں جیسے اسماء الحسنی پڑھنے کے فضائل و برکات کہ فلاں کام کیلئے فلاں اسم مبارک کو اتنے مرتبہ پڑھا جائے ۔۔اب یہ اسماء الحسنی تو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں مگر ان کے جو فضائل ذکر کئے گئے ہیں وہ فقط بزرگوں کے تجربات یا معمولات یا مشاہدات ہیں قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ۔۔اسماء حسنی کے بارئے میں صحیح بخاری شریف کی حدیث شریف ہے۔۔جو کوئی شخص ان کو خوب اچھی طرح یاد کرے گا جنت میں داخل ہوگا ۔۔۔تو اب ان اسمائے حسنی کو مخصوص تعداد میں پڑھنے کو بھی من گھڑت ہی کہا جاسکتا ہے مگر چونکہ اسمائے حسنی ثابت ہیں تو علماء ان کا بطور علاج پڑھنا جائز فرمایا ہے۔
    ۔
  6. Barvi's Avatar
    وَ لِلہِ الۡاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی:
    اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے ہیں

    قُلِ ادْعُواْ اللّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى
    تم فرماؤ اللہ کہہ کر پکارو رحمان کہہ کر، جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں

    اَحادیث میں اسماءِ حسنیٰ کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے دو احادیث درج ذیل ہیں :

    (1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (2)

    حضرت علامہ یحیٰ بن شرف نووی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الٰہیہ ننانوے میں مُنْحَصِر نہیں ہیں ، حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔ (3)

    (2)…ایک روایت میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کوقبول فرمائے گا۔ (4)

    ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــ

    1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۰، ۲/۱۶۲.

    2…بخاری، کتاب الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط والثّنیا فی الاقرار۔۔۔ الخ، ۲/۲۲۹، الحدیث: ۲۷۳۶.

    3…نووی علی المسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ۔۔۔ الخ، باب فی اسماء اللہ تعالٰی وفضل من احصاہا، ۹/۵، الجزء السابع عشر.

    4…جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۱۴۳، الحدیث: ۲۳۷۰.

    جب ہم کسی خاص مقصد کے حصول کےلیے اللہ کو پکارتے ہیں تو اسے اس کی اسی صفت سے پکارتے ہیں، مثلاً رحم کا سوال کرنا ہو تو یا رحمٰن سے اسے یاد کریں گے،
    اس کے کرم کی طلب ہوگی تو یا کریم سے پکاریں گے
    اپنی بخشش کی دعا کریں گے تو یا غفور سے پکاریں گے
    اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے تو یا تواب کہیں گے، یا ستار سے پکاریں گے وغیرہ وغیرہ
    تو اگر کسی نے رزق کے حصول کے لیے یارزاق یعنی اے رزق دینے والے کا وظیفہ بتا دیا تو اس میں کیا حرج ہے، کسی آیت یا حدیث سے منع ہے یا انکار ہے؟
    البتہ قرآنی آیات کے علاوہ کوئی اپنی طرف سے گھڑا ہوا وظیفہ کوئی بتائے تو اس پہ اعتراض ہوسکتا ہے۔
  7. Amaan's Avatar
    السلام علیکم
    میرے علم کے مطابق بھی دم، تعویز جائز ہے اور اسکی مثال احادیث میں ملتی ہے اور وہ بھی صحیح سند کے ساتھ
    صحابہ کرام رضی اللہ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم زمانہ جاہلیت میں مریض کی تندرستی اور دیگر معاملات میں دم اور کچھ پڑھا کرتے تھے، تو کیا اب بھی ہم وہ کرسکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دم میرے اوپر پیش کرو، تو صحابہ کرام نے وہ پڑھ کر سنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں کوئی کفریہ یا شرکیہ الفاظ نہیں اس لیے پڑھ سکتے ہو۔
    اسی طرح بہت سے مسنون اذکار اور کلمات احادیث سے ثابت ہیں جو کہ نظر بد سے، حفاظت کے لیے اور تندرستی اور کشادگی رزق کے لیے پڑھے جاسکتے ہیں مگر یقین کامل اللہ کی ذات پر کہ وہ محض اپنے کرم اور رحمت سے عطا فرمائے گا۔
    یہاں اک بات اور قابل غور ہے اور محدث حضرات اور فقہی حضرات کے زیر نظر رہی ہے کہ قران سے ہٹ کر کوئی ایسا کلمہ جس میں نا تو کفر ہو نا شرک تو وہ پڑھنے میں کوئی منع نہیں۔
    یعنی قرانی آیات سے ہٹ کر یا کسی دوسری زبان میں۔
    رہی بات پیسے لینے کی تو، یہ بات بھی صحیح سند سے مسلم شریف میں درج ہے حدیث کی صورت میں کہ ایک صحابی رضی اللہ نے سورہ فاتحہ کا دم کیا تھا اک مسافر پر جس کہ سانپ یا بچھو نے ڈسا تھا، اور اس کے عوض بکریوں کا ریوڑ لیا تھا، جس پر صحابہ کرام کے درمیاں اختلاف بھی ہوا کہ یہ لینا چاہئے تھا کہ نہیں، معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے ان بکریوں کے ریوڑ میں سے اک بکری کا گوشت تناول فرمایا تھوڑا سا۔
    مگر شرط وہی ہے کہ وہ دم تعویز یا جو بھی، ان میں کوئی کفر شرک شامل نہیں ہو، تب جائز ہے
    باقی معاملہ رہا میڈیا کے عالم اور رجحان کا تو وہ اپنی عقل و بساط کی کسوٹی پر رکھ کر کوئی صحیح کہتا ہے تو وہ اس کا معاملہ اور کوئی غلط تو وہ بھی اس کا معاملہ۔

    یہ میری معلومات ہیں، رد کا اختیار آپ کے پاس ہے کسی لڑائی جھگڑے اور بحث میں پڑے بغیر اللہ حافظ
    دعا میں یاد رکھیے گا۔