Ahmed Lone

بلاعنوان

Rate this Entry
ایک طرف وارڈن والا کھڑا تو اور ایک طرف پولیس والا ، بنا نمبر پلیٹ والی بائیک تھی ، چُھٹی کے ٹائم سے پہلے گھر چھوڑنا تھا اُسے
اگر آپ فیصل آباد کنال روڈ سے لاہور روڈ پہ پہنچیں تو وہاں چونگی ہوا کرتی تھی تب ، اب کا پتہ نہیں شاید ختم کر دی ہو ، وہاں کچھ رکاوٹیں بھی تھیں ،
میں نے تیزی سے بائیک گزارنا چاہی ، وہ پیچھے سے اُچھلی ، دھڑام سے نیچے ، میں نے غصے میں کہا جلدی اٹھو دیر ہو رہی ہے ، بائیک سے اُترنے کا نہ موقع تھا نہ وقت
پولیس اور وارڈن والے نے آگے بڑھنا چاہا لیکن تب تک میں وہاں سے نکل چُکا تھا
زیادہ چوٹیں تو نہیں آئیں ، بس تھوڑی بہت خراشیں تھیں

خیر بات آئی گئی ہو گئی ، لیکن وہ اکثر روائتی محبوباؤں کی طرح طعنہ مار دیا کرتی تھی
تم بہت بیوفا ہو ، ذرا محبت نہیں تمہیں مجھ سے
میں بائیک سے گری پڑی تھی اور تُم نے اُتر کے اٹھایا تک نہیں مُجھے
میں پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتا کہ تب صورت حال ھی ایسی تھی کہ رکنا مناسب نہیں تھا ، لیکن ہر بار اسے قائل کرنے میں ناکام رہتا

ایک بار میرے فائنل پپر ہو رہے تھے کہ اس کا میسج آیا
جانو میں مارکیٹ آئی ہوں مجھے چوڑیاں لے کے دو ، میں نے کہا ایک گھنٹے بعد میرا پپر ہے پھر کبھی لے دوں گا
نہیں مجھے ابھی چاہیے
مرتا کیا نا کرتا ، تیاری ادھوری چھوڑ کے جانا پڑا
نواب زادی کو چوڑیاں لے کے دیں
وہ خوشی میں کہنے لگی
جانو اتنا پیار کرتے ہو مجھ سے ؟
اس سے بھی زیادہ
جھوٹ
اس دن میں بائیک سے گری پڑی تھی تو اور تم نے اتر کہ اٹھایا تک نہیں ، ذرا پیار نہیں تمہیں مجھ سے
طعنہ الگ ، سپلی الگ

ایک بار رات کے دو بجے مس کال آئی ، میں نے بیک کال کی تو بیلنس کی فرمائش
اتنی رات گئے کیا مصیبت آن پڑی ؟
وہ ابو باہر گئے ہیں اور میں نے پیزا لانے کا کہنا ہے انھیں
چار و ناچار جانا پڑا بیلنس کروانے گیا
بیلنس کروانے کے بعد اسکا میسج آیا
لو یو جانو
میں نے بھی رپلائ میں لکھ دیا
لو یو ٹو
جھوٹ نہ بولو تم
اس دن میں بائیک سے گری پڑی تھی اور ۔ ۔ ۔

ہاے وہ جوانی کے دن، میری پہلی اور آخری محبت( باقی سب محبتیں اسی دوران ہوئیں ) اور ہاسٹل لائف ، جھنگ بازار سے منسلک ریگل روڈ پہ ہمارا ہاسٹل ہوا کرتا تھا ، کیا خوب زندگی تھی وہ بھی ، اب بھی اگر کبھی وہاں سے گزر ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ہاتھ بڑھاؤں اور وہ دن واپس لے آؤں ، لیکن کہاں واپس آتی ہے گئی جوانی
خیر
روز صبح اس نے گزرنا ہوتا تھا اور جناب عاشق کی ڈیوٹی تھی کہ ہاسٹل کی چھت پہ جا کے اسے صبح کا سلام کیا جائے ، ذرا سی تاخیر کی صورت میں لا محدود وقت تک کے لیے ناراضگی کا سامنا رہتا تھا

ایک بار میسج آیا کہ کچھ لڑکے مجھے رستے میں تنگ کرتے ہیں ، میں نے کہا کہ ایسے لفنگوں کو اگنور کرنا ھی بہتر ہوتا
لیکن نہیں ، اسے اعتماد تھا مجھ پہ کہ ایسے 4،5 لفنگوں کو ٹھیک کرنا تو میرے بایئں ہاتھ کا کھیل ہے حالاں کہ ایسی شیخی کبھی نہیں ماری تھی میں نے ۔

اعتماد تو مجھے اس سے بھی زیادہ تھا خود پہ
4، 5 کیا ، چاہے 8،10 لفنگوں سے سامنا ھی کیوں نہ ہو جائے ، جان سے تو نہیں مارنے لگے نہ ، ہڈیوں کا کیا ہے ، ٹوٹتی ھی رہتی ہیں

3,4 دن ہسپتال میں رہنے کے بعد جب ملاقات ہوئی تو اس نے غائب رہنے کی وجہ پوچھی
جانو پولیس پکڑ کے لے گئی تھی ،
دیکھو پولیس کی مار سے زخم بھی آئے ہیں کافی
اوہو ، اتنا پیار کرتے ہو مجھ سے ؟
اس سے بھی زیادہ
جھوٹ
اس دن میں بائیک سے گری پڑی تھی اور ۔ ۔ ۔

اچھا چھوڑو ، آؤ گھومنے چلتے ہیں ، وہ مان گئی
ایک یو ٹرن پہ میں نے جان بوجھ کے فُل سپیڈ میں بائیک گھمائی ، وہ اُچھلی اور بائیک سے نیچے
میں جلدی سے بائیک سے اُترا ، اُسے اٹھایا اور قریبی ہسپتال لے کے پہنچا،
مرہم پٹی اور گھٹنے کو سیدھا کروا کے اسے گھر تک ڈراپ کر دیا
آٹھ سال گزر گئے ہیں لیکن پھر کبھی زندگی میں طعنہ نہیں سُنا
اُس دن میں بائیک سے گری پڑی تھی اور تُم نے اُتر کے اٹھایا تک نہیں مُجھے










Submit "بلاعنوان" to Digg Submit "بلاعنوان" to del.icio.us Submit "بلاعنوان" to StumbleUpon Submit "بلاعنوان" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Armaans's Avatar
    hahahahahahahahahahahaha
    every moment is amazing and full of fun.. excellent sharing dear
  2. Sabih's Avatar
    کم خرچ بالا نشیں
  3. ابو لبابہ's Avatar
    ہاہاہا
    بہت شوق تھا نا اسے بائیک سے گرنے کے بعد پیار سے اٹھائے جانے کا تو یہی ہونا تھا۔