Abdullah

‎ہاؤؤؤؤؤؤؤ!!!

Rate this Entry
‎سرپٹ دوڑتے ہوئے اُس نے ایک دفعہ پھر سے مُڑ کے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو میرا قصور کیا ہے؟ ملتجیانہ نظریں بار بار سوال کر رہی تھیں، ایک دفعہ میرا قصور تو بتا دو؟ اُسکا سانس پھولتا جا رہا تھا، ٹانگیں پسینے سے شرابور اور بھاری ہوتی جارہی تھیں قریب تھا کہ وہ گر جاتا لیکن اپنی طرف* بڑھتے ہوئے ہجوم کو دیکھ کر* *پھر سے ہمت جمع کر کے دوڑنا شروع کردیا۔

‎ہر گزرتے چوک کے بعد بھیڑ میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اس میں شامل ہر ایک اپنا راگ الاپ رہا تھا اور ہر کسی کا سُر دوسرے سے الگ تھا۔ اس سارے شور و غوغا میں کچھ بھی سمجھنا یا سمجھانا ممکن نہیں تھا۔ اب کوئی مدعا موجود نہ تھا بس ایک ہی جنوں تھا کہ پہلے شکار کون کرتا ہے۔ اس اعزاز کے لئے ہر کوئی سر توڑ کوششوں میں مصروف تھا۔

‎بھاگتے بھاگتے وہ گاوں کے آخری کونے پر پہنچ گیا۔ چھپڑ اور اسکے بعد کھیت اسکو زندگی کی* لائف بوٹ محسوس ہوئے۔ زندہ بچ جانے کی اس موہوم سی اُمید نے اسکے بدن کا ساتھ چھوڑتی ٹانگوں میں پھر سے جان بھر دی۔ اُس نے پھر سے مُڑ دیکھا اُسکی آنکھیں جیسے اُس شخص کو ڈھونڈ* رہی ہوں جس نے یہ معاملہ شروع کیا تھا۔ اب ہر ایک کی آنکھیں ایک ہی بات کہہ رہی تھی*اور ہر ایک کا چہرہ بتا*رہا تھا کہ انہیں*نہیں معلوم*مدعا کیا ہے۔

‎ہجوم اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ اتنے میں ایک آواز آئی اس نے کِیا کیا ہے؟ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھا گیا ہوا کیا ہے؟ ساری زبانیں گنگ تھیں۔ کسی کو جواب معلوم نہیں تھا کہ ایک آواز اُبھری دیکھو دوڑنے نہ پائے جلدی کرو اگر کھیتوں میں داخل ہو گیا تو ملنا مشکل ہے۔ یہ سنتے ہی سب دوبارہ اُسکی طرف لپکے۔* اسی دوران وہ چھپڑ کے فاصلے کو پاٹ چُکا تھا۔ کھیت اور اُسکے درمیان چند قدموں کا ہی فاصلہ تھا۔ منزل کو عین سامنے پا کر اُس نے ایک بار پھر ہجوم کی طرف نظر دوڑائی۔ یہ فاتحانہ نظر تھی۔ کسی ماہر گھڑ سوار کی نظر جو وہ عین رسی کو پار کرتے سمے ساتھی گھڑ سواروں پر ڈالتا ہے۔ اُس نے گردن واپس مُوڑی ہی تھی کہ اُسکو یوں محسوس ہوا جیسے اُسکے پیٹ میں گرم سُلاخ اتاری جا رہی ہو۔ گولی آواز سُنکر قریبی درختوں سے کوے اُڑ کر کائیں کائیں کرنے لگے۔ وہ گرا اور پھر اُٹھ کر دوڑنے کی کوشش کرنے لگا اتنے میں ایک اور)سلاخ اسکے بدن میں سوراخ کرتے گزر گئی۔

‎ہجوم رُک گیا۔ سب نے ستائشی نظروں سے گولی باز کی طرف دیکھا۔ ایک طرف پھر وہی آواز آئی لیکن اس نے کیا، کیا تھا۔ اب کی بار مجمع کو توڑتا ایک شخص سامنے آیا اور کہنے لگا جب جامع مسجد کی آذان شروع ہوتی تھی تو عین اُسی لمحے یہ بھونکنا شروع کر دیتا تھا بے ادبی کرتا تھا اور عجیب عجیب آوازیں نکالنے لگتے تھا جیسے وہ بتانے ہی لگا تھا کہ،

‎ہاؤؤؤؤؤؤؤ!!! کتے نے آواز نکالی جیسے اُسکی بات سُن لی ہو اور جواب دینے لگا ہو۔ لیکن اسکی آواز اسکے گلے میں ہی دب گئی ۔ شائد یہی اُسکا سوال اور یہی اُسکا جواب تھا "ہاؤ"
بلاگ کا ربط

Submit "‎ہاؤؤؤؤؤؤؤ!!!" to Digg Submit "‎ہاؤؤؤؤؤؤؤ!!!" to del.icio.us Submit "‎ہاؤؤؤؤؤؤؤ!!!" to StumbleUpon Submit "‎ہاؤؤؤؤؤؤؤ!!!" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Rubab's Avatar
    ‎بہت عمدہ عبداللہ بھائی۔ بہت خوبی سے آپ نے ہجوم کے روئے کو پیش کیا ہے جو معاملہ جاننے، سمجھنے اور اس کا حل نکالنے کی بجائے تشدد اور گولی کی زبان استعمال کرتا ہے۔ جب بات مذہب یا مسجد سے متعلق ہو تو بالخصوص تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور ہجوم کا قانون نافذ ہو جاتا ہے۔ آپ نے خوبصورتی سے کتے اور اس کے بھونکنے کی آواز کو استعمال کیا ہے۔ کتے کو ہم یہاں علامتی طور پہ لے سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی کئی افسوسناک مثالیں موجود ہیں جہاں ہجوم نے ایسا برتاؤ کیا ہے، پھر چاہے سامنے کتا ہو یا انسان ، نتیجہ ایک سا ہی رہتا ہے۔
  2. Rose's Avatar
    بڑی گھمبیر صورت حال ہے،،،،،،،جس کا دل چاہتا ہے وہ کوئی بھی الزام لگا کر کچھ بھی کر سکتا ہے۔
  3. Ahmed Lone's Avatar
    بہت خوب معاشرے کی صحیح عکاسی کی ہے

    ویسے میرے ہمسائیے میں ایک ورک شاپ ہے جو ڈیزل جنریٹر رئپیر کرتا ہے
    عجیب ہی اتفاق ہے جب بھی اذان ہو رہی ہو یا جماعت ہو رہی ہو تب ہی اس کی جنریٹر کی ٹیسٹنگ شروع ہو جاتی ہے
    وہ بھی سائلنسر اتار کر

    سوچ رہا ہوں اس بنگالی کو یہ بلاگ سناوں
  4. Fozan's Avatar
    فتوی بنتا هےجی
  5. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    تحریر اچھی ھے تاھم ھمارا اجتماعی آئی کیو لیول خطرناک اور مایوس کن حد تک کم ھے۔
    اس کو مد نظر رکھتے ھوئے جو کچھ ھو رھا ھے وہ عجیب نہیں ھے۔
    اللہ سب پر اپنا کرم کرے۔
  6. Ahmed Lone's Avatar
    ایک اور فنی بات کچھ دن سے ہو رہی ہے
    جب بھی عشا کی جماعت کھڑی ہو بادل اور تیز بارش شروع ہو جاتی ہے
    اتنی تیز آواز ہوتی ہے کہ امام کی آواز بیچ میں دب جاتی ہے

    اب ان بادلوں کو یہ بلاگ کون سنائے یا دیکھائے
  7. ابو لبابہ's Avatar
    معاشرے کی عمدہ عکاسی کرتی ہوئی تحریر۔
    بہترین انداز میں آپ نے معاشرے کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ بھیڑ کسی کی نہیں سنتی۔ بس کر گذرتی ہے۔

    گذشتہ سال دہلی کے قریب دادری میں ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ ہوا تھا جب بھیڑ نے غلط خبر کی بنیاد پر اخلاق نامی شخص کو بے دردی سے مار دیا تھا۔