رات پھر جمع ہوئے شہر گریزاں والے
وہی چہرے تھے مرے دیدہ حیراں والے

سارے آشفتہ سراں اُن کے تعاقب میں رواں

وحشتیں کرتے ہوئے چشم غزالاں والے

چاند تاروں کی رداؤں میں چھپائے ہوئے جسم

اور انداز وہی خنجر عریاں والے

پاسداروں کا سرا پردۂ دولت پہ ہجوم

سلسلے چھت کی فصیلوں پہ چراغاں والے

نارسائی پہ بھی وہ لوگ سمجھتے تھے کہ ہم

شہر بلقیس میں ہیں ملک سلیماں والے

پھر کچھ اس طرح پڑے حلقہ زنجیر میں پاؤں

سب جنوں بھول گئے دشت و بیاباں والے

میں بھی اک شام ملاقات کا مارا ہوا ہوں

مجھ سے کیا پوچھتے ہیں وادئ ہجراں والے

اَب اُنہیں ڈُھونڈ رہا ہوں جو صدا دیتے تھے

اِدھر آ بے ابے او چاک گریباں والے

عرفان صدیقی