کم نہ کر پائے جو چہرے کی اداسی دوستا
تو بتا کس کام کی وہ خوش لباسی دوستا

دیکھ لینا اب نیا بھگوان چن لے گی کوئی

تیرے مندر میں نہیں بھٹکے گی داسی ، دوستا

ہے پس پردہ مری بس ضد ، انا اور سرکشی

پاس دریا اور رہی پیاسی کی پیاسی ، دوستا

پھر جلایا ہاتھ تو نے ، پھر کٹی انگلی تری

بھید کھولے گی مسلسل بدحواسی دوستا

تو بھی دھوکہ کھا گیا اس شخص کی گفتار سے

کیا ہوئی آخر تری چہرہ شناسی دوستا

اب تو نفرت ہوگئی سچ کہہ رہی ہوں مان لے

اب کہاں باقی محبت ، بس ذرا سی ، دوستا


کومل جوئیہ