یونیورسٹی



اک لڑکی لائل پور کی
جو بنی ہے مست سرور کی
ہر بات پہ جگت لگائے

اک لڑکا ہے گجرات کا

اونچا، لمبا، جٹ ذات کا
آنکھوں سے رعب جمائے

اک عینک والی سوہنی

بھولی بھالی من موہنی
پیتی رہتی ہے چائے

اک سخت پڑھاکو بالکا

یہ حال ہے اس کے حال کا
دن رات کتابیں کھائے

اک گوری ہے لاہور کی

سنتی ہی نہیں کسی اور کی
کیا کوئی شعر سنائے

اک لڑکا ہے کشمیر کا

یوں جیسے مصرعہ میر کا
بس راگ پہاڑی گائے

اک نتھلی والی نار ہے

بس لڑنے کو تیار ہے
گھورے، ڈانٹے، دھمکائے

دو جڑواں بہنیں ، گوریاں

اک شکل کی دو دو چھوریاں
اک جائے تو اک آئے

کچھ میٹھے سے استاد ہیں

سب چہرے ان کو یاد ہیں
کوئی بچ کر کیسے جائے

اک ذمہ دار کلرک ہے

اس میں ، ہم میں یہ فرق ہے
وہ روز ہی دفتر آئے

اک روشن کوریڈور ہے

جس میں چاہت کا شور ہے
جو ہر دلکو دھڑکائے

کچھ ہیں معصوم محبتیں

کچھ ہنستی بستی چاہتیں
کچھ رنگ برنگے سائے

رب سے میری یہ عرض ہے

یہ عشق جو سب پہ فرض ہے
یہ فرض ادا ہوجائے


شاعر : رحمان فارس