نہ جانے کب سے بیٹھی هوں
جلا کر آگ چولہے میں
بڑے سے دیگچے میں پھر
بہت سا پانی ڈالا هے
کبھی چمچ چلاتی هوں
کبھی ڈھکن هٹاتی هوں
مگر پتھر نہیں گلتے
میرے سب بچے بھوکے هیں
مجھے بھی بھوک کھاتی هے
نه سالن هے نه روٹی هے
فقط پتھر هی باقی هیں
پکانے کا سلیقه هے
بہت آساں طریقه هے
مگر پتھر نہیں گلتے
سنا هے دور وہ بھی تھا
خلیفہ خود نکلتا تھا
کوئی بھوکا، کوئی پیاسا
اگر اس رات هوتا تھا
بھرا گندم سے اک تھیلا
کمر پہ لاد لاتا تھا
یہاں کوئی نہیں آیا
نہ جانے کب سے بیٹھی هوں
مجھے جو بھی میسر هے
میں بچوں کو کھلا تو دوں
مگر پتھر نہیں گلتے