خطبہحرم مدنی
"قلبی عبادت؛ توکل:مفہوم، ثمرات اور مغالطے" 22-02-2019 از حذیفی حفظہ اللہ



فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن حذیفی حفظہاللہ نے17 جمادی ثانیہ 1440کا خطبہ جمعہ بعنوان "قلبی عبادت توکل: مفہوم،ثمرات اور مغالطے" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی بیشبہا نعمتیں ہر وقت ہمارے ذہن میں ہونی چاہییں تا کہ اللہ کی تعظیم کرتے رہیں۔ قلبیپاکیزگی اسی وقت ممکن ہو گی جب دل کو ہمہ قسم کی بیماریوں سے پاک صاف کریں گے۔قلبی عبادت کا بدنی عبادت سے زیادہ مقام و مرتبہ ہے، کتاب و سنت میں قلبی عباداتکی کافی تلقین کی گئی ہے، قلبی عبادت کے لئے قلب سلیم حاصل ہو جائے تو یہ اللہ تعالیکی نعمت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی سے قلب سلیم عطا کرنے کی دعا فرمائی۔ سبلوگ قلبی اعمال میں یکساں مقام نہیں رکھتے، چنانچہ نصوص شریعت پر مکمل دسترس اورپختہ عقیدہ توحید رکھنے والے صحابہ کرام اور تابعین عظام جیسے لوگ قلبی اعمال میںبلند ترین درجہ رکھتے ہیں، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ان میں سب سے اعلی درجہ حاصلتھا۔ قلبی اعمال میں توکل جلیل القدر عمل ہے، توکل کے بغیر قرآن مجید میں ایمان کینفی کا اشارہ موجود ہے، اور توکل کا یہ مطلب ہے کہ شرعی طور پر جائز اسباب اپنا کرمکمل اعتماد اور بھروسا صرف اللہ تعالی پر کیا جائے، اور یہ شعور رکھے کہ انسان کےبس میں کچھ نہیں؛ اللہ تعالی جو بھی فیصلہ فرمائے گا اسے قبول ہو گا۔ توکل انبیائےکرام کے سرخ رو ہونے کا راز ہے، اور اس قوت کی بدولت انبیائے کرام اپنے دشمنوں پرغالب آتے تھے، توکل موحدین کی امتیازی خوبی ہے۔ خالصتاً قدرت الہیہ سے متعلقہ امورمیں غیر اللہ پر توکل شرک اکبر ہے؛ جبکہ دنیاوی امور میں اسباب پر مکمل بھروساکرنا شرک اکبر سے کم تو ہے لیکن حرام عمل ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ترینشخص بننے کے لئے اللہ پر توکل کر لیں؛ کامیاب ہو جاؤ گے، دوسرے خطبے میں انہوں نےتوکل کے اعلی درجات تک پہنچنے کی تلقین کی اور توکل سے متصادم تمام امور سے بچنےپر زور دیا اور آخر میں سب کے لئے جامع دعا فرمائی۔

مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔