Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 3 of 3

Thread: جادو سے بچاؤ کے لیئے قرآنی علاج

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Lightbulb جادو سے بچاؤ کے لیئے قرآنی علاج

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع اللہ رحمٰن ورحیم کے نام سے 🕋

    السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

    جادو کرنا کفر ہے اور بہت بڑا گنا ہ ہے اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے جادو کرنے والے کو جادو سے باز آ جانا چاہئے ورنہ قیامت کے دن وہ پچھتائے گا اور اس دن کا پریشان ہونا کسی کام نہیں آئے گا ۔
    جس کو جادو کی شکایت ہے وہ ان قرآنی آیات اور دعاؤں کوبا وضو ہو کر بار بار پڑھے۔اور پانچ وقت نماز باجماعت کا اہتمام کرے ،صدقہ خیرات کرے ،اور جو بھی ان کو پڑھتا رہے گا اس پر جادو اثر نہیں کر سکے گا ۔ان شاء اللہ العزیز العظیم

    🔘 (1) سورة الفاتحہ :

    اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ﴿٦﴾ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾.....آمین
    شکر کا سزاوارِ حقیقی اللہ ہے ، کائنات کا رب *رحمٰن اور رحیم *جزا وسزا کے دن کا مالک *ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں * ہمیں سیدھے رستے کی ہدایت بخش *ان لوگوں کے رستے کی ، جن پر تونے اپنا فضل فرمایا...آمین

    🔘 (2) سورة البقرہ کی ابتدائی پانچ آیات :

    الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ ۖ ۛفِیۡہِ ۚ ۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲﴾ۙ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾
    یہ الم ہے۔یہ کتابِ الہٰی ہے ۔ اس ( کے کتابِ الہٰی ہونے ) میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کیلئے ۔
    ان لوگوں کیلئے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں ، نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ اور ان کیلئے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں ۔ یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

    🔘 (3) سورة البقرہ (آیت ١٠٢ ) :

    وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ ؕ وَ لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
    اور ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے ، جو سلیمانؑ کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے ، حالانکہ سلیمانؑ نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں ہی نے کفر کیا ۔ یہی لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس چیز میں پڑ گئے ، جو بابل میں دو فرشتوں – ہاروت اور ماروت – پر اتاری گئی تھی ، حالانکہ یہ کسی کو سکھاتے نہیں تھےجب تک اس کو خبردار نہ کردیں کہ ہم تو بس آزمائش کیلئے ہیں تو تم کفر میں نہ پڑ جانا ۔ پس یہ لوگ ان سے وہ علم سیکھتے ، جس سے میاں اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں ، حالانکہ یہ اس کے ذریعہ سے ، خدا کی مشیت کے بغیر ، کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں بن سکتے تھے اور یہ وہ چیز سیکھتے تھے ، جو ان کو نقصان پہنچائے ، نفع نہ پہنچائے ، حالانکہ ان کو پتا تھا کہ جس نے اس چیز کو اختیار کیا ، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز ، جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا ۔ اے کاش! وہ اس کو سمجھتے ۔

    🔘 (4) سورة البقرہ (آیت ١٦٣ تا ١٦٤ ) :

    وَ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۳﴾٪
    اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
    اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ رحمٰن اور رحیم ہے *
    بیشک آسمانوں اور زمین کی خلقت ، رات اور دن کی آمدوشد اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کیلئے سمندر میں نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے بادلوں سے اتارا ہے اور جس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشی اور جس سے اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلائے اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان وزمین کے درمیان مامور ہیں ، ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں ، جو عقل سے کام لیتے ہیں *

    🔘 (5) آیة الکرسی :

    اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾
    اللہ ہی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہ زندہ ہے ، سب کا قائم رکھنے والا ہے ۔ نہ اس کو اونگھ لاحق ہوتی ہے نہ نیند ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، سب اسی کی ملکیت ہے ۔ کون ہے جو اس کے حضور ، اس کی اجازت کے بغیر ، کسی کی سفارش کرسکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے ۔ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین ، سب پر حاوی ہے اور ان کی حفاظت اس پر ذرا بھی گراں نہیں اور وہ بلند اور عظیم ہے ۔

    🔘 (6) اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ :

    اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾
    لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۸۶﴾٪
    رسول ایمان لایا اس چیز پر ، جو اس پر اس کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور مؤمنین ایمان لائے ۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ۔ ( ان کا اقرار ہے کہ ) ہم خدا کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی ۔ اے ہمارے پروردگار! ہم تیری مغفرت
    ( کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔
    اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ ہر ایک پائے گا جو کمائے گا اور بھرے گا جو کرے گا ۔ اے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بھیٹیں تو ہم سے مواخذہ نہ فرمانا اور اے ہمارے پروردگار! ہمارے اوپر اس طرح کا کوئی بار نہ ڈال ، جیسا تونے ان لوگوں پر ڈالا ، جو ہم سے پہلے ہو گذرے اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ لاد ، جس کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف کر ، ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما ۔ تو ہمارا مولیٰ ہے ، پس کافروں کے مقابل میں ہماری مدد کر!

    🔘 ( 18 ) سورة الاخلاص :

    قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمۡ یَلِدۡ ۬ ۙوَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾
    کہہ دو: اللہ سب سے الگ ہے * کہہ دو: اللہ سب سے بےنیاز ہے * نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا ! * نہ کوئی اس کا ہمسر ہے

    🔘 (19 ) سورة الفلق :

    قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ﴿۲﴾ وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾ وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ ۙ﴿۴﴾
    وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ ۙ﴿۴﴾
    کہہ دو: میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے خداوند کی * ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے * اور اندھیرے کی آفت سے جب وہ چھا جائے * اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کی آفت سے * اور حسد کرنے والے کی آفت سے جب وہ حسد کرے ۔

    🔘 ( 20 ) سورة النّاس :

    قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾ اِلٰہِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ ۙالۡخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾
    کہہ دو: میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی * لوگوں کے بادشاہ کی * لوگوں کے معبود کی * وسوسہ ڈالنے والے ، دبک جانے والے کی آفت سے * جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے * جنوں میں سے اور انسانوں میں سے *

    واللہ تعالی اعلم بالصواب
    تحریر: شیخ جرجیس انصاری
    والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  2. #2
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,796
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    جزاک اللہ خیر

    اچھی باتیں ہیں۔ عمل کرنا چاہئے۔
    * خسرو *

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by ابو لبابہ View Post
    جزاک اللہ خیر

    اچھی باتیں ہیں۔ عمل کرنا چاہئے۔
    Aameen Wa Jazaka Khair Bhai
    Is thread per abhi kaam baqi hay
    Mai ne just approval k liye send kia tha
    Thanks for approval
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •