ناول "ام الیقین"کی دوسری اور آخری قسط سے اقتباس۔ (تحریر سمیرا حمید)


''زمین والوں کے لیے آسمان والے کا رحم کبھی کم نہیں پڑتا۔
ہم نے یہ یقین کیسے کھو دیا؟؟''


دبیسا پوچھ رہی تھی۔
سب چپ چاپ اسے سن رہے تھے۔
اس کی آواز کا جوش انہیں ، خوشی دے رہا تھا۔

''ہم نے یہ کیسے یقین کر لیا کہ وہ ہمیں چھوڑ چکا ہے۔
ہم نے کیسے مان لیا کہ اللہ کو ہم سے نفرت ہے؟''


''اس لیے کہ ہم کوڑھی ہو چکے ہیں ۔
یہ بیماری ہے اس کی ناراضی کا ثبوت۔۔۔''

کسی نے کہا۔

''بس؟
صرف اس لیے کہ ہمیں کوڑھ ہو گیا؟
صرف اس لیے کہ ہم بیمار ہو چکے ہیں۔ ہماری کھال جھڑنے لگی؟
تندرستی کے ساتھ بیماری ہے، جیسے زندگی کے ساتھ موت ہے۔
جس نے ایک کو بنایا، اس نے، اس کا جوڑ بھی بنایا۔
تو کیا ہم اس لیے دھتکاریں جائیں گے کہ ہم پر اللہ کا حکم پورا ہوا ہے؟
زندگی پر موت آتی ہے تو کیا وہ خدا کے حکم کی تکمیل نہیں ہوتی؟''


''خدا کے حکم کی تکمیل ہی ہوئی ہے۔۔۔
ہمارے گناہ پر خدا کی سزا کی صورت میں۔''

''گناہ۔۔۔؟؟کون سا گناہ؟؟''

''کوئی ایسا گناہ جس نے خدا کے قہر کو دعوت دی تھی۔
سزا میں اس نے ہمیں یہ بیماری دے دی ہے۔''


''تو کیا روئے زمین پر ہم اکیلے ہیں جو گناہ گار ہیں؟
کیا ہم سے پہلے کوئی گناہ گار نہیں ہوا؟''

وہ دنگ رہ گئے۔۔۔چپ ہو گئے۔۔۔لاجواب ہو گئے۔۔۔عجیب سوال تھا۔۔۔

''میں مان لیتی ہوں ہمیں ہمار ے کسی گناہ کی وجہ سے کوڑھ ہوا،
پھر ان دوبچوں کو کیوں ہوا ،
جنہیں پانچ سال پہلے یہ بیماری ہوئی تھی؟
بچوں نے کیا گناہ کیا ہو گا؟؟'

''ان کے ماں باپ کے گناہ۔۔۔شاید ان کی سزا۔۔۔''

ان کی آوازیں کمزور پڑنے لگی تھیں،
کیونکہ ان کی دلیلیں کمزور تھیں۔


''خدا کا خوف کر و ،اپنے خدا کے بارے میں ایسے گمان نہ کرو۔
کیا وہ معصوم روحوں کو، ایسے گناہ کی سزا دے سکتاہے جو انہوں نے کیا ہی نہ ہو ۔
ہمارے کمزور عقیدوں نے ہمیں بھٹکا دیا ہے۔
ہم نے اپنے رب کو غلط گمان سے پہچانا ہے۔
ہاں مجھے کوڑھ ہوا، میں بیمار ہوئی۔
لیکن یہ کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔
یہ خدا کا عذاب ، خدا کی لعنت نہیں ہو سکتی۔ ''

ا س کی آواز خوشی کے احساس سے منور تھی۔

''تم خوش گمان ہو رہی ہو دبیسا!
سب نشانیاں ہم پر لعنت کی ہیں۔
دیکھو ہماری شکلیں،
ہمارے زخم، ہمارے جسم،
مجھے تو خود سے نفرت محسوس ہوتی ہے
تو کیا خدا کو نہیں ہو تی ہو گی۔
میں اپنا عکس پانی میں نہیں دیکھ سکتا،
اتنا کریہہ صورت ہو چکا ہوں۔''

''تو کیا خدا خوبصورتیوں کا خدا ہے؟؟؟
وہ پھول کا خدا ہے لیکن کانٹے کا نہیں؟؟''
سب کو سکتہ ہو گیا تھا۔
''جواب دو مجھے؟؟ ''

ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا،
ان کے پاس بس ناسور تھے،
بد نصیبی تھی،
تڑپ اور تنہائی تھی۔


''ہم اس غلاظت کے ڈھیر پر خدا کی وجہ سے نہیں،
اس زمین کے انسانوں کی وجہ سے رہنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
خدا نے ہمیں نہیں چھوڑا، ہم بیمار ہیں،
اور اس وقت خدا کے رحم کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔''

اس نے دوٹوک کہا تھا، کامل یقین سے کہا تھا۔

''کیا رحم ایسے ہوتاہے؟''

ایک نے اپنا جسم کے زخم کے اس کے سامنے کر دیے تھے۔

''ہاں!یہ بھی رحم ہی ہے۔
ہمیں اس کے معاملات پر شک نہیں کرنا چاہیے۔
ہمارا رب ہماری طرف سب سے زیادہ متوجہ ہے۔
ہمیں صرف اس بات کو یاد رکھنا چاہیے۔ ''


''ہمیں ایسی امید نہ دو دبیسا! ہمار ا سینہ چھلنی نہ کرو۔''

ضعیفہ بھی تڑپ اٹھی تھی۔

'' ایک ماں کے چار بچے ہیں۔
ایک بچہ کھیل رہاہے۔
ایک بچہ سو رہا ہے۔
ایک اس کی گود میں ہے اور ایک بخار سے تڑپ رہا ہے۔ ہائے ، ہائے کر رہاہے۔
ماں کا دل کس بچے کی طرف کھینچے گا؟''

وہ ایک ایک کی طرف گھوم کر پوچھ رہی تھی۔

''جو بخار میں ہے۔۔۔''

ضعیفہ نے بے ساختہ کہا تھا۔یہ تو سامنے کی ہی بات تھی۔

''ہاں۔۔۔
اس ماں کا دل اس بچے کی طرف کھینچے گا جو تکلیف میں ہے۔
وہ اسی کی طرف زیادہ متوجہ ہو گی جسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی۔
جو روتا ، تڑپتا،بلبلاتا ہو گا۔یہ ایک ماں کی محبت ہے۔۔۔
اس کے بارے میں سوچو جس نے ماں کے دل پر ایسی محبت اتاری ہے۔۔۔
وہ کون ہے جو ایسی محبت کا خالق ہے۔۔۔؟؟
کون ہے؟؟


وہ ہمارا رب ہے۔۔۔
ہمارے رب نے ہمیں نہیں چھوڑا تھا،
ہم نے اسے چھوڑ دیا تھا۔
ہم نے اسے پکارا ہی نہیں تھا ۔
ہم دنیا والوں کے گمان کے ساتھ چلے، ہم نے اپنا ایمان کھو دیا۔
ہم نے مان لیا کہ ہم لعنتی ہیں، گناہ گار اور بد بخت ہیں۔
اگر ہم یہ سب ہیں تب بھی خدا نے ہمیں نہیں چھوڑا تھا۔
وہ سب کی سنتا ہے لیکن ہماری زیادہ سنتاہے کیونکہ ہم تنہا ہیں، تکلیف میں ہیں، ہم بیمار ہیں۔
وہ سب کے پاس ہے لیکن ہمارے پاس زیادہ ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
وہ سب پر رحم کرتاہے، لیکن ہمیں وہ اپنے رحم کے سب سے زیادہ قریب رکھتاہے۔
کیونکہ ہم دنیا کی بے رحمی کا سب سے زیادہ شکار ہوے ہیں۔ ''


کہتے کہتے دبیسا رو دی تھی۔
گھاٹیوں میں سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔
بس دبیسا کا پرندہ ھداتھا، جس کے پر پھڑ پھڑا رہے تھے۔۔۔


''تمہارا ایمان کیا کہتاہے۔۔۔جواب دو۔۔۔''

ایک ایک کو دیکھتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھی۔

ضعیفہ کے ہونٹ کپکپانے لگے تھے۔
''کہ اس نے مجھ سے میرا رزق نہیں چھینا۔
کوڑھی ہونے پر بھی مجھے ہر روز کھانے کے لیے ملتا رہا۔''

وہ سسکنے لگی تھی۔

''اور تمہارا۔۔۔؟''

اس نے دوسرے بیمار کی طرف اشارہ کیا۔
''تمہارا یقین کیا کہتا ہے؟''

''مجھے اندھیرے اور تنہائی سے ڈر لگا کرتا تھا،
جس دن میں پہلی بار یہاں آیا تھا،
اس رات میرا دل خوف سے بند ہو جانے کو تھا۔
بھیڑیے مجھے کاٹ رہے تھے اور سانپ مجھے ڈستے تھے۔
رات اندھیری تھی۔ بادل چھائے تھے۔۔۔
میں بلک بلک کر رونے لگا تھا۔کچھ وقت گزرا،
بادل چھٹ گئے اور چاند نکل آیا۔
اس کی کرنیں، عین میرے تاریک بستر پر پڑ رہی تھیں۔
میرے اندھیروں کے لیے، ہمیشہ کہیں نہ کہیں سے چاند نکل آیا۔
میری روشنی کا انتظام اس نے ہمیشہ کیے رکھا۔''

دبیسا اپنی گیلی آنکھیں رگڑ رہی تھی۔
''اور تم۔۔۔؟''
وہ تیسرے سے پوچھ رہی تھی۔

وہ ان سب میں سب سے کم عمر تھا۔
اس نے جھجکتے ہوئے اپنے ٹھکانے کی طرف اشارہ کیا۔
سب نے اس کے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا،
وہاں تھوڑا سبز ا اگا ہوا تھا۔
ایک چھوٹا سا پودا دکھائی دیتا تھا،
جس پر ایک چھوٹا سا پھول کھلا ہوا تھا۔

''جس رات میں یہ شکوہ کر کے سویا تھا کہ ا س نے مجھے بدصورتی کا تحفہ دیا ،
اس رات کی صبح، اس پودے پر یہ پھول کھلا تھا۔
دنیا کا سب سے خوب صورت پھول۔
میرا یقین ہے کہ یہ پھول اس زمین کا نہیں،
اس مقام کا ہے، جسے سب جنت کہتے ہیں۔''