[right][right]
مہر افروز کی افسانہ نگاری

شاعر ادیب اپنی اصل میں‘ اپنے عہد کے شخص کے سماجی‘ معاشی‘ سیاسی حالات اس کے ذاتی کرب اور خوشی وغیرہ کو کسی ناکسی حوالہ سے کاغذ پر منتقل کرتے آئے ہیں۔ اس کے کاغذ پر منتقل کیے ہوئے لفظ ہی حقیقی انسانی تاریخ ہوتے ہیں۔ تاریخ مقتدرہ طبقوں کے قصیدے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ عید کے مورکھ کو سچائی سے زیادہ‘ چوری سے غرض ہوتی ہے۔ وہ شاہوں کے کھاتے میں‘ وہ وہ کچھ ڈال دیتا ہے جن کی ان کے فرشتوں تک کو خبر نہیں ہوتی۔ نہیں یقین آتا تو تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیجیے‘ شاہوں کے عہد کے کارنامے اصلاحات وغیرہ ہی نظر آئیں گی۔ عام شخص تو خیر کسی کھاتے میں نہیں آتا۔ اس بچارے کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں رہی۔ ہنرمند باصلاحیت اور ذہین و فطین اور مختلف فیلڈز میں کار ہائے نمایاں انجام دینے والے دور تک نظر نہیں آئیں گے۔ تاج محل کی تعمیر غلط تھی یا درست‘ یہ الگ سے بات ہے‘ جس سے پوچھو گے‘ تاج محل کس نے بنایا‘ یہ ہی کہے گا شاہ جہاں نے‘ حالاں کہ وہ مستری نہیں بادشاہ تھا جو زمین پر گری سوئی تک کو اٹھائی اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔ اس کا بیٹا ٹوپی سلار بھی یہ ہی کچھ تھا۔ ہنرمندوں کا کہیں ذکر تک نہیں۔
موبائل فون بن گیا ہے‘ ریڈیو اور وائرلیس وغیرہ ختم ہو گئے۔ مارکونی کو کوئی نہیں جانتا کون تھا‘ کہاں کا رہنے والا تھا۔ سومناتھ کا مندر گرانے والا ہر زبان پر رقصاں نظر آئے گا۔ تاریخوں میں مجموعی طور پر سچائی کا قحط ہی سواگت کرے گا۔ شخص کہیں نظر نہیں آئے گا ہاں البتہ مخصوص جھولی چک بھی دنداندتے اور موج مستی کرتے نظر آئیں گے۔
شاعر ادیب کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے بڑوں سے لے کے گلی کے ایک عام شخص کو بھی فوکس کیا ہے اور کسی لگی لپٹی کے بغیر اس کے حالات کو کاغذ پر منتقل کیا ہے۔ بڑوں کے ظالمانہ اور خود غرضی پر مبنی طور و انداز مختلف ذریعوں سے واضح کیا ہے۔ شاعر کے پاس مختلف شعری حربے ہوتے ہیں اور وہ ان کو تصرف میں لاتا ہے۔ افسانہ کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ جھوٹی کہانی حالاں کہ افسانہ جھوٹی کہانی نہیں ہوتا‘ وہ اپنے عہد کے شخص اس کے حالات اور فکری انداز اور مسائل وغیرہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے۔
اگر حقیقی انسانی تاریخ مرتب کرنا ہے تو افسانوی ادب کو لے لیا جائے‘ سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ شاہوں اور ان گماشتوں کی انسان دشمنی اور خود غرضی سے پردہ اٹھ جائے گا۔ نہیں یقین آتا تو میری گڑیا رانی مہر افروز کے افسانوں کا مطالعہ کر دیکھیں‘ عصری شخص کا دکھ سکھ پڑھنے کو مل جائے گا۔ ان افسانوں کے مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ میری بچی آج کے شخص کو کتنا قریب سے دیکھ رہی ہے۔
میری بیٹی مہر افروز حساس واقع ہوئی ہے۔ وہ غلط پر تڑپ اٹھتی ہے۔ ان افسانوں میں اس کی یہ شخصی حس باخوبی پڑھنے کو ملتی ہے تاہم یہ باور رہنا چاہیے کہ وہ اس شخصی حس کے ہاتھوں مجبور ہو کر‘ لگی لپٹی سے کام نہیں لیتی‘ جو دیکھتی اور محسوس کرتی ہے اسی طرح بلاملمع کاری کاغذ قلم کے حوالے کر دیتی ہے۔ آتے کل کو‘ اس کے یہ لفظ آج کی شخصی زندگی کو کھول دیں گے اور آج کے شورےفا کے کارناموں اور کم زور طبقوں کی حالات کی چکی میں پستی زندگی کو‘ کھول کر سامنے لے آئیں گے۔ آج جو کل کو ماضی ہو گا‘ کی حقیقی تصاویر پیش کریں گے۔
وہ لفظی تصویر کشی کا ہنر جانتی ہیں اور اس ہنر سے مہر افروز نے اپنی شاعری اور افسانوں میں خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ عورت ہیں‘ انہوں نے اپنے افسانوں میں عورت اور اس کے مسائل کو ہی نظر میں نہیں رکھا بل کہ ہر طبقہ کے مرد کو اور اس کے کرب اور مسائل کو بھی لفظ عطا کیے ہیں۔ میری بات پر نہیں یقین آتا تو اس کے افسانوں کو پڑھ دیکھیے یقین آ جائے گا۔ افسانے پڑھنے کا وقت نہیں ہے تو یہ چند اقتباس ہی پڑھ لیں:۔
خاندان والوں نے اسے یہودن کی بیٹی ہونے کی وجہ سے کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ وہ پاپا کی مسلمان بیٹی ہو کر بھی ان کے لیے اجنبی اور غیر ہی رہی۔ پاپا کی موت کے وقت اس نے کچھ رشتہ داروں کو دیکھا تو تھا جو بعد میں پلٹ کر کبھی ہیں آئے۔
ادھوری عورت
اس کی مذہبی کتابیں دہشت گردی کے نام پر ضبط کر لی گیئں۔ آج وہ فائنل ایگزام جیل سے دینے کے لیے آیا تھا۔
دہشت گرد
نئی نوکریوں کی تلاش فکر معاش بیوی بچوں کو پالنے کی ذمہ داری ان کے چہروں کی لکیریں گہری ہو گیئں۔ بالوں میں سفیدی در آئی۔
ٹوٹی سرحدیں
شکست اس کے چہرے سے مترشح تھی۔
دیکھو اب بھی یاد کرو۔ انسان نہ سہی کسی جانور یا پرند کو تم نے ایسا کرتے دیکھا ہو۔ رشی کی آواز میں ہم دردی اور تاکید واضح تھی۔۔۔۔۔۔۔۔استاد کی نظرکرم علم کو مکمل کرتی ہے‘ کہتا ہوا رشی اپنی راہ چل دیا۔
استاد
پیسہ جہاں ضرورت سے زیادہ آ جائے تو اس بندے کو جس کے پاس منصوبہ بندی اور غیراندیشی ہو تو پھر عیاشیاں ہی در آتی ہیں۔
زندگی بھر کھایا پیا انسان جس نے بیوی بچوں کو رعایا بنا کر راج کیا ہواسے قید تنہائی کب بھاتی ہے۔
پل صراط
یہ دونوں میری بیٹیاں ہیں صاحب ان کا باپ مر گیا ہے۔ یہ تھوڑی سی زمین رہ گئی ہے جو ہمارا آخری سہارا ہے۔ پنچایت کا اوھیکیش اسے بھی ہتھانا چاہتا ہے۔ میں اسی کی شکایت لے کر آپ کے دفتر گئی تھی صاحب ۔ وہ آپ کا افسر میری نہیں مان رہا۔
بابا الیکشن میں ہار گیے۔ الیکشن میں زمینیں بک گیئں اور بابا بار سمبھال سکے۔ زمینات سے زیادہ ان کو ہار کا بہت دکھ تھا۔
وشنو کا کیا ہوا تھا۔ شراب اسے پی گئی صاحب خون تھوکتا مر گیا۔
پھالگنی
ہر درد کا مرہم وقت ہوتا ہےاور بھوک ہر مرہم پر بھاری ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔۔ اس کے پیٹ میں اٹھتے مروڑ اسے خیمے سے باہر لے آئی‘ کھانے کے حصول میں لگی کیمپ کی لمبی قطار نے اسے مایوس کر دیا۔ وہاں کی چیخ وپکار اور دھکم پیل سے وہ خوف زدہ ہو کر خیمے میں واپس آئی۔ سوچا بھوکی رہے پر اس ذلت سے نہ گزرے۔
تعمیر نو
سوری اس محلے میں مسلمانوں کو گھر دینا منع ہے۔ ہم اس پر وشواس تو نہیں رکھتے مگر کیا کریں محلے والوں سے دشمنی تو نہیں لے سکتے، یہ سیکولر کہلانے والوں کا جواز ہوتا۔ سپنوں کے قاتل
ان چند لائینوں پر اکتفا کرتا ہوں ورنہ اس نوع کے سیکڑوں جملے ان افسانوں میں مل جائیں گے۔ خود ملاحظہ فرما لیں کہ یہ جملے کہاں تک آج کی حیات کے عکاس ہیں۔ کیا مورکھ نے کبھی شخصی حالات‘ جذبات اور مسائل کو فوکس کیا ہے۔ اسی معاشرت میں رہتے ہوئے‘ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی وہ انہیں نظر نہیں آتے۔ چوری سے نظر ہٹے تو ہی چیتھڑوں میں ملبوس جیون نظر آئے گا۔
مکھی پہ مکھی مارنے لکھے لکھائے گھڑے گھڑائے کو نئے نئے انداز و اطوار میں پیش کیا جاتا رہا۔ شاہوں یا ان کے گماشتوں کے خلاف بولنے والوں کے لیے فتوی سازی کا عمل بھی جاری رہا۔ حق سچ کہنے والے سرکاری سولی یا پھر اور زہر پیتے نظر آتے ہیں۔ شاعر اشاروں اور علامتوں میں سچ کہہ دیتے ہیں مثلا رحمان بابا کس خوبی سے اورنگی عہد کی تصویر کشی کرتے ہیں:۔
مجنوں کا کوئی کیا حال پوچھے یاں ہر گھر صحرا کا نقشا ہے
بیٹی مہر افروز نے بھی اپنے افسانوں میں سچ کا دامن تھامتے ہوئے اپنے عہد اور اس کے شخص کی تارٰیخ لکھ دی ہے۔ ان کے افسانوں کے عنوان بھی عصری حیات کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلا ادھوری عورت‘ دہشت گرد‘ کٹی پتنگ‘ جھوٹا سچ‘ بےچہرہ‘ سپنوں کے قاتل وغیرہ
اس کے لیے وہ تحسین کی مستحق ہے۔ میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن صحت عین غین سی ہے۔ اس کی زبان جو نئے نئے مرکبات اور مہاوروں کا مجموعہ ہے‘ پر کہنے کی ضروت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دعا ہے اللہ اسے سلامت رکھے اور اسی طور سے قلم کے سہارے حق سچ کی کہتی رہے۔