Thanks Thanks:  5
Likes Likes:  10
Results 1 to 7 of 7

Thread: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات کے بارے میں علمائے کرام کے اقوال

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,034
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات کے بارے میں علمائے کرام کے اقوال

    بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    اسلام عليكم


    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات کے بارے میں علمائے کرام کے اقوال اور ان میں سے راجح کا بیان


    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کا سال، مہینہ، تاریخ اور دن دیگر قدیم شخصیات کی طرح بعض پہلوؤں سے اختلافی رہا ہے۔ کیوں کہ قدیم دور میں ایسے ذرائع دستیاب نہیں تھے، نہ ہی سرکاری سطح پر ایسے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی طریقہ کار تھا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت جزیرہ نما عرب کے شہر مکہ میں ہوئی، جہاں اس وقت قبائلی نظام چل رہا تھا، وہ لوگ لکھنے کو برا خیال کرتے اور مضبوط حافظے کو ترجیح دیتے، البتہ نسب کو یاد کرنا اور اہمیت دینا ان کا خاصہ تھا۔

    اول
    سیرت نگار اور مؤرخین کا تاریخ، دن، اور ماہِ ولادت کی تعیین کے بارے میں اختلاف ہے، یہ ایک ایسا امر ہے جس کا معقول سبب بھی ہے، وہ یہ کہ کسی کو اس مبارک نومولود کی آئندہ شان کے بارے میں علم نہیں تھا، چنانچہ انہیں عام بچوں کی طرح سمجھا گیا، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی یقینی اور قطعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بارے میں تحدید نہیں کر سکتا۔

    ڈاکٹر محمد طیب نجار رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جس وقت آپکی پیدائش ہوئی تو کسی کو بھی آپکی عظمت شان کے بارے میں توقع نہ تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی پر اتنی توجہ نہیں دی گئی، تاہم جس وقت اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کو آپ کی ولادت سے چالیس سال بعد دعوت دینے کا حکم دیا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ یادوں کو واپس لانے لگے، اور آپکی زندگی کے بارے میں ہر چھوٹی بڑی چیز کے بارے میں پوچھنے لگے، اس کیلئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان کافی معاون ثابت ہوا، اسی طرح آپ کی زندگی سے منسلک صحابہ کرام اور دیگر افراد نے بھی آپکی زندگی سے متعلقہ واقعات بیان کیے۔
    اس وقت سے مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے متعلقہ کوئی بات بھی سنتے تو اسے محفوظ کر لیتے تا کہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کو سیرت النبی سے آگاہ کریں۔
    " القول المبين في سيرة سيد المرسلين " ص 78

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Very Nice Sharing
    جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرہ
    دور حاضر میں اس قسم کی معلومات کی بہت ضرورت ہے جہاں دین سے زیادہ کلچر اور روایات کو اہمیت حاصل ہے
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  3. #3
    Senior Member Pardaisi's Avatar

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    60,123
    Blog Entries
    19
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرہ
    کوئی مجبوریاں نہیں ہوتیں
    لوگ یونہی وفا نہیں کرتے


  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,034
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    دوم
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے متعلقہ متفقہ باتوں میں سال کیساتھ دن کی تعیین بھی شامل ہے۔
    سال
    سال کے بارے میں یہ رائے متفقہ ہے کہ یہ عام الفیل کا سال تھا، چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں
    اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے سال ہوئی۔
    " زاد المعاد في هدي خير العباد " ( 1 / 76 )

    محمد بن یوسف صالحی رحمہ اللہ کہتے ہیں
    "ابن اسحاق رحمہ اللہ کے مطابق ولادت کا سال عام الفیل ہے"

    ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں
    "جمہور کے ہاں یہی مشہور ہے"
    ابراہیم بن منذر حزامی رحمہ اللہ جو کہ امام بخاری کے استاد ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ
    اس کے بارے میں کسی بھی اہل علم کو شک و شبہ نہیں ہے۔

    جبکہ خلیفہ بن خیاط، ابن جزار، ابن دحیہ، ابن جوزی، اور ابن قیم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس بارے میں اجماع ہے۔
    " سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد " ( 1 / 334 ، 335 )

    ڈاکٹر اکرم ضیاء عمری حفظہ اللہ کہتے ہیں
    حق بات یہ ہے کہ اس موقف سے متصادم تمام روایات ضعیف ہیں، جن کا لب لباب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عام الفیل سے دس سال بعد ہوئی، یا 23 سال بعد ہوئی یا 40 سال بعد ہوئی، علمائے کرام کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ آپ کی ولادت عام الفیل میں ہوئی، انکے اس موقف کی تائید جدید تحقیقات نے بھی کی ہے جو مسلم اور مستشرق محققین کی جانب سے کی گئی ہیں، انہوں نے عام الفیل کو 570ء یا 571ء کے موافق پایا ہے"
    السيرة النبوية الصحيحة ( 1 / 97 )

    دن
    جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن سوموار کو بنتا ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن پیدا ہوئے، اسی دن رسالت سے نوازا گیا، اور اسی دن آپ نے وفات پائی، چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: (اس دن میں پیدا ہوا، اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا-یا مجھ پر وحی نازل ہوئی-) مسلم : ( 1162 )

  5. #5
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,034
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    سوم
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے متعلق اختلافی امور میں مہینے اور اس مہینے میں دن کی تعیین ہے، اس بارے میں بہت سے اقوال ملے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں۔

    ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں
    یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو ربیع الاول کو آپکی پیدائش ہوئی
    یہ قول ابن عبد البر نے "الاستیعاب" میں نقل کیا ہے، اور واقدی نے ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن مدنی سے بھی روایت کیا ہے"
    السيرة النبوية 1 / 199
    "
    یہ بھی کہا گیا ہے کہ آٹھ ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔
    یہ قول حمیدی نے ابن حزم سے بیان کیا ہے، اور مالک، عقیل، یونس بن یزید وغیرہ نے زہری کے واسطے سے محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کیا ہے، نیز ابن عبد البر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ مؤرخین اسی کو صحیح قرار دیتے ہیں، جبکہ حافظ محمد بن موسی خوارزمی نے اسی کو یقینی طور پر صحیح کہا ہے، حافظ ابو خطاب ابن دحیہ نے اسے اپنی کتاب التنوير في مولد البشیر النذير " میں اسے راجح قرار دیا ہے
    السيرة النبوية 1 / 199

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش دس ربیع الاول کو ہوئی، اسے ابن دحیہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، اور ابن عساکر نے ابو جعفر باقر سے بھی روایت کیا ہے، نیز مجالد نے شعبی سے یہی موقف بیان کیا ہے"
    السيرة النبوية 1 / 199

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ 12 ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی
    اسی موقف کی صراحت ابن اسحاق نے کی ہے، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب "المصنف" میں عفان سے انہوں نے سعید بن میناء سے انہوں نے جابر اور ابن عباس دونوں سے روایت کیا ہے
    السيرة النبوية 1 / 199
    اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی پیدائش رمضان میں ہوئی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ صفر میں اور اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی اس بارے میں موجود ہیں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے حوالے سے مضبوط ترین اقوال آٹھ ربیع الاول سے لیکر 12 ربیع الاول کے درمیان ہیں، اور کچھ مسلم محقق ماہرین فلکیات، اور ریاضی دان افراد نے یہ ثابت کیا ہے کہ سوموار کا دن ربیع الاول کی نو تاریخ کو بنتا ہے، چنانچہ یہ ایک نیا قول ہو سکتا ہے، لیکن یہ ہے مضبوط ترین قول، اور یہ شمسی اعتبار سے 20 اپریل 571ء کا دن ہے، اسی کو معاصر سیرت نگاروں نے راجح قرار دیا ہے، ان میں محمد الخضری، اور صفی الرحمن مبارکپوری بھی شامل ہیں۔

    ابو القاسم سہیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش شمسی اعتبار سے 20 اپریل بنتی ہے"
    " الروض الأُنُف " ( 1 / 282 )

    پروفیسر محمد خضری رحمہ اللہ کہتے ہیں
    " مرحوم محمود پاشا- جو کہ مصری ماہر فلکیات ہیں ، آپ فلکیات، جغرافیہ، حساب میں بہت ماہر تھے، انہوں نے کافی کتب اور تحقیقات شائع کی ہیں، 1885ء میں فوت ہوئے- انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش صبح سویریے 9 ربیع الاول بمطابق 20 اپریل 571ء کو ہوئی، جو کہ حادثہ فیل کا پہلا سال تھا، آپ کی ولادت شعب بنی ہاشم ، میں ابو طالب کے گھر ہوئی"
    " نور اليقين في سيرة سيد المرسلين " ( ص 9 )، اسی طرح دیکھیں: " الرحيق المختوم " ( ص 41

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,034
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    چہارم

    جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپکی وفات سوموار کو ہوئی، اور ابن قتیبہ سے جو نقل کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بدھ کے دن ہوئی تو یہ درست نہیں ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ انکی مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہو، تو یہ درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین بدھ کے دن ہوئی۔

    جبکہ وفات کے سال کے متعلق بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ سن گیارہ ہجری میں ہوئی۔

    اور ماہِ وفات کے بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپکی وفات ربیع الاول میں ہوئی

    جبکہ اس مہینے کے دن کے متعلق علمائے کرام میں اختلاف ہے کہ

    - تو جمہور علمائے کرام 12 ربیع الاول کے قائل ہیں

    - خوازمی کہتے ہیں کہ آپکی وفات ربیع الاول کی ابتدا میں ہوئی تھی
    - ابن کلبی ، اور ابو احنف کہتے ہیں کہ یہ ربیع الاول کو ہوئی ، اسی کی جانب سہیلی کا میلان ہے، اور حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔

    جبکہ مشہور وہی ہے جس کے بارے میں جمہور علمائے کرام کا موقف ہے کہ

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 12 ربیع الاول سن گیارہ ہجری کو ہوئی تھی۔

    دیکھیں: " الروض الأنف " از: سہیلی: ( 4 / 439 ، 440 ) ، " السيرة النبوية " از: ابن كثير( 4 / 509 ) ، " فتح الباری " از: ابن حجر ( 8 / 130 )
    واللہ اعلم

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات کے بارے میں علمائے کرام کے اقوال اور ان میں سے راجح کا بیان - اسلام سوال و جواب

  7. #7
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    34,711
    Blog Entries
    25
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)


    جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرہ


    تمام عالم اسلام کے جید علماء کو مل کر کسی ایک نقطہ پر متفق ہونا چاہیے جو کہ قریب ترین ہو،،،،، یوم وصال اور اور یوم ولادت کا عام مسلمان کو صحیح ادراک نہیں ہے اس لیے اس بارے میں ٹھیک ٹھیک راہنمائی ضروری ہے۔
    کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دُھلی خلقت ؟
    میرا تو دَم گُھٹ رھا ھے ، اِن پارساؤں میں

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •