Thanks Thanks:  3
Likes Likes:  46
Page 2 of 4 FirstFirst 1234 LastLast
Results 16 to 30 of 47

Thread: Forty Rules of Love

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    15- ہر انسان ایک تشنہءِ تکمیل فن پارہ ہے۔جسکی تکمیل کیلئے خدا ہر انسان کے ساتھ داخلی اور خارجی طور پر مصروفِ کار ہے ۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خدا ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ انفرادی سطح پر معاملہ کرتا ہے کیونکہ انسانیت ایک بیحد لطیف اور نفیس مصوری کا شہکار ہے جس پر ثبت کیا جانے والا ہر ایک نقطہ پوری تصویر کیلئے یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  2. #17
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    16- ایک بلند و برتر ذات اور ہر طرح کے نقص سے پاک خدا سے محبت کرنا بظاہر تو آسان سی بات معلوم ہوتی ہے۔، لیکن اس سے کہیں زیادہ مشکل بات یہ ہے کہ انسان اپنے ابنائے جنس سے محبت کرے جن میں ہر طرح کی کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ یاد رکھو کہ انسان اسی کو جان سکتا ہے جس سے وہ محبت کرنے پر قادر ہو۔ محبت کے بغیر کوئی معرفت معرفت نہیں ہوتی۔ جب تک ہم اللہ کی تخلیق سے محبت کرنا نہیں سیکھتے، تب تک ہم اس قابل نہیں ہوسکتے کہ اللہ سے حقیقی طور پر محبت کرسکیں اور اسکو جان پائیں۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  3. #18
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    17- اصل ناپاکی تو اندر کی ناپاکی ہے۔ باقی سب تو آسانی سے دُھل جاتا ہے۔ گرد و غبار کی بس ایک ہی قسم ہے جو پاکیزہ پانی سے صاف نہیں ہوپاتی، اور وہ ہے نفرت اور تعصب کے دھبے، جو روح کو آلودہ کردیتے ہیں۔ تم ترکِ دنیا سے اور روزے رکھنے سے اپنے بدن کا تزکیہ تو حاصل کرسکتے ہو، لیکن قلب کا تزکیہ صرف محبت سے ہی ہوگا۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    18- پوری کی پوری کائنات ایک انسان کے اندر موجود ہے۔ تم اور تمہارے ارد گرد جو کچھ تمہیں دکھائی دیتا ہے، تمام چیزیں خواہ تمہیں پسند ہوں یا ناپسند، تمام لوگ خواہ تم ان کیلئےرغبت رمحسوس کرتے ہو یا کراہت، یہ سب کے سب تمہارے اپنے اندر کسی نہ کسی درجے میں ملیں گے۔ چنانچہ، شیطان کو باہر مت دیکھو، بلکہ اپنے اندر تلاش کرو۔ شیطان کو ئی ایسی غیر معمولی قوت نہیں جو تم پر باہر سے حملہ آور ہوتی ہے ، بلکہ تمہارے اندر سے ابھرنے والی ایک معمولی سی آواز کا نام ہے۔ اگر تم پوری محنت اور دیانت سے کبھی اپنی ذات کے روشن اور تاریک گوشوں کو دیکھنے کے قابل ہوجاؤ تو تم پر ایک عظیم اور برتر شعور کا دریچہ کھلے گا۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو جان لیتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھی جان لیتا ہے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    19- اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ اپنے برتاؤ کو اور رویے کو تبدیل کردیں، تو اسکے لئے پہلے تمہیں اس رویے کو تبدیل کرنا ہوگا جو تم اپنے آپ کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہو۔ جب تک تم اپنے آپ سے پورے خلوص سے اور پوری طرح محبت کرنا نہیں سیکھتے، بہت مشکل ہے کہ تمہیں محبت نصیب ہو۔ اورجب یہ مرتبہ حاصل ہوجائے تو پھر ہر اُس کانٹے کیلئے بھی شکر گذار رہو جو تمہارے راستے میں پھینکا جائے۔ کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تم پر عنقریب پھول بھی نچھاور ہونگے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    20- اس بات پر پریشان مت ہو کہ راستہ کہاں لیکر جائے گا، بلکہ اپنی توجہ اپنے پہلے قدم پر رکھو۔ یہی تمہاری زمہ داری ہے اور یہی سب سےمشکل کام ہے۔ جب پہلا قدم اٹھالیا، تو پھر اسکے بعد ہر شئے کو اپنے قدرتی انداز میں کام کرنے دو اور تم دیکھو گے کہ راستہ خودبخود کھلتا جائے گا۔ بہاؤ کے ساتھ مت بہو، بلکہ خود ایک لہر بن جاؤ جسکا اپنا ایک بہاؤ ہوتا ہے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  7. #22
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    21- اُس نے ہم سب کواپنی صورت پر پیدا کیا ہے لیکن اسکے باوجود ہم سب ایک دوسرے سے مختلف اور یکتا و ممتاز ہیں۔ کوئی بھی دو انسان ایک جیسے نہیں۔ کوئی بھی دو دل یکساں طور پر نہیں دھڑکتے۔ اگر وہ چاہتا کہ سب لوگ ایک جیسے ہوجائیں، تو وہ انکو ایک جیسا ہی بناتا۔ چنانچہ اب ان اختلافات کی توہین و تنقیص کرنا اور اپنے افکار کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرنا دراصل پروردگارِ عالم کی قضا و قدر اور بلند پایہ حکمت کی توہین کے مترادف ہے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  8. #23
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    22- جب اسکا سچا چاہنے والا کبھی میکدے میں جا پہنچے، تو وہ میکدہ اسکے لئے محراب و مصلے کی صورت اختیار کرلیتا ہے، لیکن اگر کوئی بہکا ہوا مئے خوار مسجد میں بھی چلا جائے تو وہ اسکے لئے میخانہ بن جاتی ہے۔ جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں اس میں اصل کردار تو ہمارے دل کا ہے، ہمارے اندر کا ہے ، ظاہر کا نہیں۔ صوفی لوگوں کو انکے حلئے اور انکی وضع قطع سے نہیں جانچتے۔ جب ایک صوفی کسی پر اپنی نگاہ جماتا ہے تو وہ دراصل اپنی دونوں آنکھوں کو بند کرچکا ہوتا ہے اور ایک تیسری آنکھ سے(جو اسکے قلب میں ہے) اس منظر کے اندر کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔

    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  9. #24
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    23- زندگی تو ایک ادھار کی مانند ناپائیدار ہے اور اصل حقیقت کا ایک دھندلا سا خاکہ اور نقل۔ صرف بچے ہی اصل حقیقت کی بجائے کھلونوں سے بہلتے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود، لوگ کھلونوں پر فریفتہ ہوتے ہیں یا بے قدری سے انہیں توڑ ڈالتے ہیں۔ اس زندگی میں ہر قسم کی انتہاؤں سے دور رہو، کیونکہ انتہاپسندی تمہارے اندرونی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ صوفی اپنے رویوں میں انتہا پسند نہیں ہوتے بلکہ متوازن اور نرم ہوتے ہیں۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    24- پروردگار کی سلطنت میں انسان کو بہت خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ اللہ نے کہا ، ” اور میں نے اسکے اندر اپنی روح میں سے پھونک دیا”۔ ہم میں سے ہر ایک کو اس قابلیت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اسکا خلیفہ بن سکے۔ اپنے آپ سے پوچھو کہ کیا تمہارے اعمال اسکے خلیفہ جیسے ہیں؟ یاد رکھو کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اس رحمانی روح کو (جو ہم میں پھونکی گئی ہے) کو اپنے اندر دریافت کریں ، پہچانیں اور اسکے ساتھ جئیں۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    25- جنت اور دوزخ کے بارے میں فکرمند رہنا چھوڑدو کیونکہ جنت اور دوزخ یہیں ہیں اسی لمحہءِ موجود میں۔ جب بھی ہم محبت محسوس کرتے ہیں، جنت کا ایک زینہ طے کرتے ہیں اور جب بھی نفرت ، حسد اور جھگرے میں پڑتے ہیں، دوزخ کی لپٹوں کی زد میں ہوتے ہیں۔ کیا اس سے بھی بد تر کوئی دوزخ ہوسکتا ہے جب کوئی شخص اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ احساس پائے کہ اس سے کوئی بیحد غلط اور برا کام سرزد ہوگیا ہے۔ اس شخص سے پوچھ کردیکھو وہ تمہیں بتائے گا کہ دوزخ کسے کہتے ہیں۔ اور کیا اس سے بڑی بھی کوئی جنت ہوسکتی ہے جب کسی شخص پر خاص لمحات میں وہ سکینت نازل ہوتی ہے جب اس پر کائنات کے دریچے کشادہ ہوتے ہیں اور انسان اپنے رب کے ساتھ قرب کی حالت میں ابدیت کے اسرار سے ہمکنار ہوتا ہے؟ پوچھو اس شخص سے، وہ تمہیں بتائے گا کہ جنت کیا ہوتی ہے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  12. #27
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    26- کائنات ایک وجودِ واحد ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنے اپنے واقعات کے غیر مرئی دھاگوں سے ایک دوسرے کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ ہم سب جانے انجانے میں ایک خاموش مکالمے کا حصہ ہیں۔ کسی کو دکھ نہ دو، نرمی اور شفقت کا برتاؤ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھ اسکی برائی مت کرو خواہ ایک بے ضرر سا جملہ ہی کیوں نہ ہو۔ الفاظ جو ایک بار ہماری زبانوں سے نکل آتے ہیں، وہ کبھی فنا نہیں ہوتے بلکہ ایک لامحدود وسعت میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجاتے ہیں اور اپنے مقرر وقت میں واپس ہم تک آن پہنچتے ہیں۔ بالآخر،کسی بھی آدمی کی تکلیف، ہم سب کو ایک اجتماعی دکھ میں مبتلا کرجائے گی اورکسی بھی آدمی کی خوشی ہم سب کے ہونٹوں پر مسکان کا باعث بنے گی۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  13. #28
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    27- یہ دنیا اس برفانی پہاڑ کی طرح ہے جہان بلند کی گئی ہر آواز، پہاڑوں سے ٹکرا کر بازگشت کی صورت میں واپس ہم تک پہنچتی ہے۔ جب بھی تم کوئی اچھی یا بری بات کرو گے، تم تک واپس ضرور پلٹ کر آئے گی۔ چنانچہ اب اگر تم کسی ایسے شخص کیلئے برے کلمات منہ سے نکالو، جو ہر وقت تمہارا برا سوچتا رہتا ہے، تو یہ اس معاملے کو اور بھی گھمبیر بنادے گا اور تم منفی قوتوں کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں گھومتے رہو گے۔ بجائے اسکے کہ تم اسکے لئے کچھ برا کہو، چالیس دن تک اسکے لئے اچھا سوچو اور اچھی بات منہ سے نکالو، تم دیکھنا کہ چالیس دن بعد ہر شئے مختلف محسوس ہوگی، کیونکہ تم پہلے جیسے نہیں رہے اور اندر سے تبدیل ہوگئے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  14. #29
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    28- ماضی ایک تعبیر ہے ایک نقطہ نظر ہے، جبکہ مستقبل مایا (Illusion) ہے ، ایک سراب ہے۔ دنیا ایک خطِ مستقیم کی شکل میں وقت کے دھارے میں سے نہیں گذرتی جو ماضی سے مستقبل کی طرف جا رہا ہو، بلکہ وقت ہمارے اندر سے بتدریج پھیلتے ہوئی لامتناہی قوسوں (Spirals) کی صورت میں گذرتا ہے۔ ابدیت لامحدود وقت کو نہیں بلکہ وقت سے ماورا ہونے کا نام ہے۔ اگر تم ابدی روشنی کے حامل ہونا چاہتے ہو تو ماضی اور مستقبل کو اپنے ذہن سے نکال دو اور فقط لمحہءِ موجود میں باقی رہو۔ یہ لمحہءِ موجود ہی سب کچھ تھا اور سب کچھ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

  15. #30
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    1,308
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    29- تقدیر کا یہ مطلب نہیں کہ تمہاری زندگی کو مکمل طور پر باندھ کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہر بات کو مقدر پر چھوڑ دینا اور کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوئی کوشش نہ کرنا ،محض جہالت کی علامت ہے۔ کائناتی موسیقی ہر طرف سے پھوٹ رہی ہے اور اسکے چالیس مختلف درجات ہیں۔ تمہارا مقدر وہ درجہ ہے جس پر تم اپنا ساز بجا رہے ہو۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارا ساز تبدیل نہ کیا جاسکے، لیکن اس ساز سے جو نغمہ اور جو دُھن تم نکالتے ہو اسکا انحصار صرف اور صرف تم پر ہے۔
    سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ
    عَدَدَخَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ
    وَزِنَۃَ عَرْ شِہِ وَمِدَاْدَ کَلِمَاتِہْ

Page 2 of 4 FirstFirst 1234 LastLast

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •