Thanks Thanks:  2,744
Likes Likes:  470
Page 199 of 205 FirstFirst ... 99149189197198199200201 ... LastLast
Results 2,971 to 2,985 of 3066

Thread: قرآن فہمی، آئیے مل کر پڑھیں ترجمہ قرآن

  1. #2971
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    بلوغ کے بعد بچوں کے لیے بھی بڑوں والے حکم
    وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ

    وَاِذَا
    : اور جب بَلَغَ : پہنچیں الْاَطْفَالُ : لڑکے مِنْكُمُ : تم میں سے الْحُلُمَ : (حد) شعور کو فَلْيَسْتَاْذِنُوْا : پس چاہیے کہ وہ اجازت لیں كَمَا : جیسے اسْتَاْذَنَ : اجازت لیتے تھے الَّذِيْنَ : وہ جو مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے كَذٰلِكَ : اسی طرح يُبَيِّنُ اللّٰهُ : اللہ واضح لَكُمْ : تمہارے لیے اٰيٰتِهٖ : اپنے احکام وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : جاننے ولاا، حکمت والا

    اور جب تم میں سے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں پس چاہیے کی وہ اجازت لیں جس طرح وہ لوگ اجازت لیتے تھے جو ان سے پہلے تھے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔۵۹


  2. #2972
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    عمر رسیدہ عورتوں کے لئے پردہ کی احتیاط کے ساتھ رعایت
    وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ

    وَالْقَوَاعِدُ
    : اور خانہ نشین بوڑھی مِنَ النِّسَآءِ : عورتوں میں سے الّٰتِيْ : وہ جو لَا يَرْجُوْنَ : آرزو نہیں رکھتی ہیں نِكَاحًا : نکاح فَلَيْسَ : تو نہیں عَلَيْهِنَّ : ان پر جُنَاحٌ : کوئی گناہ اَنْ يَّضَعْنَ : کہ وہ اتار رکھیں ثِيَابَهُنَّ : اپنے کپڑے غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ : نہ ظاہر کرتے ہوئے بِزِيْنَةٍ : زینت کو وَاَنْ : اور اگر يَّسْتَعْفِفْنَ : وہ بچیں خَيْرٌ : بہتر لَّهُنَّ : ان کے لیے وَاللّٰهُ : اور اللہ سَمِيْعٌ : سننے والا عَلِيْمٌ : جاننے والا

    اور (بوڑھی) بیٹھ رہنے والی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتی ہوں تو ان پر کوئی حرج نہیں اگر وہ اپنے (اضافی) کپڑے (مثلا چادریں،دوپٹے) اتار دیا کریں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں اور اگر وہ اس معاملے میں احتیاط کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ اوراللہ سننے، جاننے والا ہے۔۶۰


  3. #2973
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    معذوروں کے لیے رخصت و رعایت
    لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ

    لَيْسَ
    : نہیں عَلَي الْاَعْمٰى : نابینا پر حَرَجٌ : کوئی گناہ وَّلَا : اور نہ عَلَي الْاَعْرَجِ : لنگڑے پر حَرَجٌ : کوئی گناہ وَّلَا : اور نہ عَلَي الْمَرِيْضِ : بیمار پر حَرَجٌ : کوئی گناہ وَّلَا : اور نہ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ : خود تم پر اَنْ تَاْكُلُوْا : کہ تم کھاؤ مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ : اپنے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ اٰبَآئِكُمْ : یا اپنے باپوں کے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ : یا اپنی ماؤں کے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ : یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ : یا اپنی بہنوں کے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ : یا اپنے تائے چچاؤں کے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ عَمّٰتِكُمْ : یا اپنی پھوپھیوں کے اَوْ بُيُوْتِ اَخْوَالِكُمْ : یا اپنے خالو، ماموؤں کے گھروں سے اَوْ بُيُوْتِ خٰلٰتِكُمْ : یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے اَوْ : یا مَا مَلَكْتُمْ : جس (گھر) کی تمہارے قبضہ میں ہوں مَّفَاتِحَهٗٓ : اس کی کنجیاں اَوْ صَدِيْقِكُمْ : یا اپنے دوست (کے گھر سے) لَيْسَ : نہیں عَلَيْكُمْ : تم پر جُنَاحٌ : کوئی گناہ اَنْ : کہ تَاْكُلُوْا : تم کھاؤ جَمِيْعًا : اکٹھے مل کر اَوْ : یا اَشْتَاتًا : جدا جدا فَاِذَا :

    اندھے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی گناہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھائو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں کے گھروں سے یا اپے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا (ایسے گھروں سے) جن کی چابیاں تمارے پاس ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالیا کرو۔ اور تمہارے اوپر اس بات کا گناہ نہیں ہے کہ تم سب مل کر کھائو یا الگ الگ کھائو۔۶۱الف


  4. #2974
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    سلام اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ
    فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ ۧ

    فَاِذَا : پھر جب دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا : تم داخل ہو گھروں میں فَسَلِّمُوْا : تو سلام کرو عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ : اپنے لوگوں کو تَحِيَّةً : دعائے خیر مِّنْ : سے عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کے ہاں مُبٰرَكَةً : بابرکت طَيِّبَةً : پاکیزہ كَذٰلِكَ : اسی طرح يُبَيِّنُ اللّٰهُ : اللہ واضح کرتا ہے لَكُمُ : تمہارے لیے الْاٰيٰتِ : احکام لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم تَعْقِلُوْنَ : سمجھو

    پھر جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو۔ یہ سلام برکت والا پاکیزہ تحفہ اور دعا ہے جو اللہ کی طرف سے ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔۶۱ب

  5. #2975
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    ایمان کی نشانی
    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

    اِنَّمَا
    : اس کے سوا نہیں الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن (جمع) الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے (یقین کیا) بِاللّٰهِ : اللہ پر وَرَسُوْلِهٖ : اور اس کے رسول پر وَاِذَا : اور جب كَانُوْا : وہ ہوتے ہیں مَعَهٗ : اس کے ساتھ عَلٰٓي : پر۔ میں اَمْرٍ جَامِعٍ : جمع ہونے کا کام لَّمْ يَذْهَبُوْا : وہ نہیں جاتے حَتّٰى : جب تک يَسْتَاْذِنُوْهُ : وہ اس سے اجازت لیں اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ : اجازت مانگتے ہیں آپ سے اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ الَّذِيْنَ : وہ جو يُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں بِاللّٰهِ : اللہ پر وَرَسُوْلِهٖ : اور اس کے رسول پر فَاِذَا : پس جب اسْتَاْذَنُوْكَ : وہ تم سے اجازت مانگیں لِبَعْضِ : کسی کے لیے شَاْنِهِمْ : اپنے کام فَاْذَنْ : تو اجازت دیدیں لِّمَنْ : جس کو شِئْتَ : آپ چاہیں مِنْهُمْ : ان میں سے وَاسْتَغْفِرْ : اور بخشش مانگیں لَهُمُ اللّٰهَ : ان کے لیے اللہ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ غَفُوْرٌ : بخشنے والا رَّحِيْمٌ : نہایت مہربان

    جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں انہیں جب کبھی رسول ﷺ کسی اہم کام کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتے ہیں تو جب تک رسول ﷺ سے اجات نہیں لیتے وہاں سے نہیں جاتے۔ بیشک جو لوگ آپ ﷺ سے اجازت مانگتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ (اے نبی ﷺ جب وہ آپ سے کسی کام کے لئے جانے کی اجازت مانگیں تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دے دیجئے اور ان کے لئے بخشش کی دعاکیجئے۔ بےشک اللہ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔۶۲


  6. #2976
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    آپ ﷺ کو پکارنے کے آداب
    لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ

    لَا تَجْعَلُوْا
    : تم نہ بنا لو دُعَآءَ : بلانا الرَّسُوْلِ : رسول کو بَيْنَكُمْ : اپنے درمیان كَدُعَآءِ : جیسے بلانا بَعْضِكُمْ : اپنے بعض (ایک) بَعْضًا : بعض (دوسرے) کو قَدْ يَعْلَمُ : تحقیق جانتا ہے اللّٰهُ : اللہ الَّذِيْنَ : جو لوگ يَتَسَلَّلُوْنَ : چپکے سے کھسک جاتے ہیں مِنْكُمْ : تم میں سے لِوَاذًا : نظر بچا کر فَلْيَحْذَرِ : پس چاہیے کہ وہ ڈریں الَّذِيْنَ : جو لوگ يُخَالِفُوْنَ : خلاف کرتے ہیں عَنْ اَمْرِهٖٓ : اس کے حکم سے اَنْ : کہ تُصِيْبَهُمْ : پہنچے ان پر فِتْنَةٌ : کوئی آفت اَوْ يُصِيْبَهُمْ : یا پہنچے ان کو عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک

    تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا نہ سمجھنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو ، بلاشبہ اللہ کو ان لوگوں کا علم ہے جو آنکھیں بچا کر نکل جاتے ہیں ، پس ان لوگوں کو جو آپ ﷺ کی حکم عدولی کر رہے ہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آجائے یا ان کو دردناک عذاب پہنچے۔۶۳


  7. #2977
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ نور

    سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے
    اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠

    اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ
    : یاد رکھو بیشک اللہ کے لیے مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَالْاَرْضِ : اور زمین قَدْ يَعْلَمُ : تحقیق وہ جانتا ہے مَآ : جو۔ جس اَنْتُمْ : تم عَلَيْهِ : اس پر وَيَوْمَ : اور جس دن يُرْجَعُوْنَ : وہ لوٹائے جائیں گے اِلَيْهِ : اس کی طرف فَيُنَبِّئُهُمْ : پھر وہ انہیں بتائے گا بِمَا : اس سے عَمِلُوْا : انہوں نے کیا وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر شے کو عَلِيْمٌ : جاننے والا

    یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حالت پر بھی ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور جس دن سب کو اس کے پاس لوٹایا جائے گا، اس دن وہ ان کو بتادے گا کہ انہوں نے کیا عمل کیا تھا، اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔۶۴


  8. #2978
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    الحمد للہ سورت نور مکمل ہوئی انشاءاللہ اب سورت فرقان شروع کرتے ہیں۔

  9. #2979
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    سورۂ فرقان کا تعارف
    مقامِ نزول
    سورہ ٔفرقان مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
    رکوع اور آیات کی تعداد
    اس میں 6 رکوع اور 77 آیتیں ہیں ۔
    ’’فرقان ‘‘نام رکھنے کی وجہ
    اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ ’’اَلْفُرْقَانَ‘‘ مذکور ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ فرقان‘‘ رکھا گیا ہے۔
    سورۂ فرقان کے مضامین
    اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے توحید، نبوت اور قیامت کے احوال کے بارے میں بیان فرمایا، نیز اس میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔

    اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تعریف و ثنا اس کی عظمت و شان، اولاد اور شرک سے رب تعالیٰ کے پاک ہونے کو بیان کیا گیا۔

    بتوں کے مجبور اور بے بس ہونے کو واضح کیا گیا۔

    قرآنِ پاک پر اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کفار کے اعتراضات ذکر کر کے ان کا رَد کیاگیا۔

    قیامت کے دن کو جھٹلانے والے کافروں کی ہولناک سزا بیان کی گئی۔
    مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے، کفار کے اعمال ضائع جانے اور شرک کرنے کی وجہ سے ان کے نادم ہونے کو بیان کیاگیا۔

    نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ،حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم، عاد، ثمود، اَصحابُ الرَّس اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے واقعات بیان کئے گئے کہ ان لوگوں نے بھی اپنے انبیاء عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بہت ستایا اور اذیتیں دیں، انہیں جھٹلایا اور ان کی نافرمانیاں کیں اس لئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی قوم کے کفار کے جھٹلانے سے غمزدہ نہ ہوں یہ کفار کا پُرانا دستور ہے۔

    اللہ تعالیٰ کی مختلف مصنوعات سے اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلائل قائم کئے گئے۔

    اللہ تعالیٰ پر تَوَکُّل کرنے والے اور اس کی راہ میں تکلیفیں برداشت کرنے والے مؤمنین کی تعریف بیان کی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ جھٹلانے والوں پر عنقریب عذاب نازل ہو گا۔

  10. #2980
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    بسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    اللّٰہ بڑی برکت والا
    تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ

    تَبٰرَكَ : بڑی برکت والا الَّذِيْ : وہ جو۔ جس نَزَّلَ الْفُرْقَانَ : نازل کیا فرق کرنیوالی کتاب (قرآن) عَلٰي عَبْدِهٖ : اپنے بندہ پر لِيَكُوْنَ : تاکہ وہ ہو لِلْعٰلَمِيْنَ : سارے جہانوں کے لیے نَذِيْرَۨا : ڈرانے والا

    بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کردینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ سارے جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔۱


  11. #2981
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ
    اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا

    الَّذِيْ لَهٗ
    : وہ جس کے لیے مُلْكُ : بادشاہت السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَلَمْ يَتَّخِذْ : اور اس نے نہیں بنایا وَلَدًا : کوئی بیٹا وَّلَمْ يَكُنْ : اور نہیں ہے لَّهُ : اس کا شَرِيْكٌ : کوئی شریک فِي الْمُلْكِ : سلطنت میں وَخَلَقَ : اور اس نے پیدا کیا كُلَّ شَيْءٍ : ہر شے فَقَدَّرَهٗ : پھر اس کا اندازہ ٹھہرایا تَقْدِيْرًا : ایک اندازہ

    وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔۲

  12. #2982
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    اللہ کے سوا کئی اور معبود
    وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا

    وَاتَّخَذُوْا
    : اور انہوں نے بنا لیے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے علاوہ اٰلِهَةً : اور معبود لَّا يَخْلُقُوْنَ : وہ نہیں پیدا کرتے شَيْئًا : کچھ وَّهُمْ : بلکہ وہ يُخْلَقُوْنَ : پیدا کیے گئے ہیں وَلَا يَمْلِكُوْنَ : اور وہ اختیار نہیں رکھتے لِاَنْفُسِهِمْ : اپنے لیے ضَرًّا : کسی نقصان کا وَّلَا نَفْعًا : اور نہ کسی نفع کا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ : اور نہ وہ اختیار رکھتے ہیں مَوْتًا : کسی موت کا وَّلَا حَيٰوةً : اور نہ کسی زندگی کا وَّلَا نُشُوْرًا : اور نہ پھر اٹھنے کا

    اور انھوں نے اس (اللہ)
    کے سوا کئی اور معبود بنالیے، جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔۳

  13. #2983
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    منکرین کی طرف سے قرآن حکیم پر افتراء ہونے کا الزام
    وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ

    وَقَالَ
    : اور کہا الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا : وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (کافر) اِنْ ھٰذَآ : نہیں یہ اِلَّآ : مگر۔ صرف اِفْكُ : بہتان۔ من گھڑت افْتَرٰىهُ : اس نے سے گھڑ لیا وَاَعَانَهٗ : ور اس کی مدد کی عَلَيْهِ : اس پر قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ : دوسرے لوگ (جمع) فَقَدْ جَآءُوْ : تحقیق وہ آگئے ظُلْمًا : ظلم وَّزُوْرًا : اور جھوٹ

    اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بےشک وہ ایک ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔۴


  14. #2984
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    کہانیاں پہلوں کی
    قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا

    وَقَالُوْٓا
    : اور انہوں نے کہا اَسَاطِيْرُ : کہانیاں الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگ اكْتَتَبَهَا : اس نے انہیں لکھ لیا ہے فَهِيَ تُمْلٰى : پس وہ پڑھی جاتی ہیں عَلَيْهِ : اس پر بُكْرَةً : صبح وَّاَصِيْلًا : اور شام

    اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کو اس نے لکھوا لیا ہے۔ پھر وہی صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنادی جاتی ہیں۔۵

  15. #2985
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    قد أفلح۔ سورۂ ٔفرقان

    معترضین کے اعتراض کا جواب
    قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا

    قُلْ
    : فرما دیں اَنْزَلَهُ : اسکو نازل کیا ہے الَّذِيْ : وہ جو يَعْلَمُ : جانتا ہے السِّرَّ : راز فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَالْاَرْضِ : اور زمین اِنَّهٗ كَانَ : بیشک وہ ہے غَفُوْرًا : بخشنے والا رَّحِيْمًا : نہایت مہربان

    کہہ دو کہ اُس نے اُس کو اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔۶

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •