Thanks Thanks:  1,277
Likes Likes:  419
Page 97 of 106 FirstFirst ... 47879596979899 ... LastLast
Results 1,441 to 1,455 of 1579

Thread: قرآن فہمی، آئیے مل کر پڑھیں ترجمہ قرآن

  1. #1441
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    سورت یونس

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    سورت یونس کا تعارف

    قرآن مجید کی دسویں سورت جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی۔
    اس سورت کا نام حسب دستور محض علامت کے طور پر آیت 98 سے لیا گیا ہے جس میں اشارتاً حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ سورت کا موضوع بحث حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ نہیں۔
    زمانۂ نزول کے متعلق کوئی روایت ہمیں نہیں ملی۔ لیکن مضمون سے ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورت زمانۂ قیام مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی کیونکہ اس کے انداز کلام سے صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مخالفین دعوت کی طرف سے مزاحمت پوری شدت اختیار کرچکی تھی، وہ نبی اور پیروان نبی کو اپنے درمیان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
    موضوعِ دعوت، فہمائش اور تنبیہ ہے۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ ایک انسان کے پیغام نبوت پیش کرنے پر حیران ہیں اور اسے خواہ مخواہ ساحری کا الزام دے رہے ہیں، حالانکہ جو بات وہ پیش کر رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی نہ تو عجیب ہی ہے اور نہ سحر و کہانت ہی سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ تو دو اہم حقیقتوں سے تم کو آگاہ کر رہا ہے۔ ایک یہ جو خدا اس کائنات کا خالق ہے اور اس کا انتظام عملاً چلا رہا ہے صرف وہی تمہارا مالک و آقا ہے اور تنہا اسی کا یہ حق ہے کہ تم اس کی بندگی کرو۔
    دوسرے یہ کہ موجودہ دنیوی زندگی کے بعد زندگی کا ایک اور دور آنے والا ہے جس میں تم دوبارہ پیدا کیے جاؤ گے، اپنی موجودہ زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دو گے اور اس بنیادی سوال پر جزا یا سزا پاؤ گے کہ تم نے اسی خدا کو اپنا آقا مان کر اس کے منشا کے مطابق نیک رویہ اختیار کیا یا اس کے خلاف عمل کرتے رہے۔ یہ دونوں حقیقتیں، جو وہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے، بجائے خود امر واقعی ہیں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔ وہ تمہیں دعوت دیتا ہے کہ تم انہیں مان لو اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق بنا لو۔ اس کی یہ دعوت اگر تم قبول کروں گے تو تمہارا اپنا انجام بہتر ہوگا ورنہ خود ہی برا نتیجہ دیکھو گے۔
    اس تمہید کے بعد حسب ذیل مباحث ایک خاص ترتیب کے ساتھ سامنے آتے ہیں
    وہ دلائل جو توحیدِ ربوبیت اور حیات اخروی کے باب میں ایسے لوگوں کو عقل و ضمیر کا اطمینان بخش سکتے ہیں جو جاہلانہ تعصب میں مبتلا نہ ہوں اور جنہیں بحث کی ہار جیت کی بجائے اصل فکر اس بات کی ہو کہ خود غلط بینی اور اس کے برے نتائج سے بچیں۔
    اُن غلط فہمیوں کا ازالہ اور اُن غفلتوں پر تنبیہ جو لوگوں کو توحید اور آخرت کا عقیدہ تسلیم کرنے میں مانع ہو رہی تھیں (اور ہمیشہ ہوا کرتی ہیں)۔
    اُن شبہات اور اعتراضات کا جواب جو محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کے بارے میں پیش کیے جاتے تھے۔
    دوسری زندگی میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کی پیشگی خبر، تاکہ انسان اس سے ہوشیار ہو کر اپنے آج کے طرز عمل کو درست کرلے اور بعد میں پچھتانے کی نوبت نہ آئے۔
    اس امر پر تنبیہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی دراصل امتحان کی زندگی ہے اور اس امتحان کے لیے تمہارے پاس بس اتنی ہی مہلت ہے جب تک تم اس دنیا میں سانس لے رہے ہو۔ اس وقت کو اگر تم نے ضائع کر دیا اور نبی کی ہدایت قبول کرکے امتحان کی کامیابی کا سامان نہ کیا تو پھر کوئی دوسرا موقع تمہیں ملنا نہیں ہے۔ اس نبی کا آنا اور اس قرآن کے ذریعے تم کو علم حقیقت کا بہم پہنچایا جانا وہ بہترین اور ایک ہی موقع ہے جو تمہیں مل رہا ہے۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے اور بعد کی ابدی زندگی میں ہمیشہ کے لیے پچھتاؤ گے۔
    ان کھلی کھلی جہالتوں اور ضلالتوں پر اشارہ جو لوگوں کی زندگی میں صرف اس وجہ سے پائی جا رہی تھیں کہ وہ خدائی ہدایت کے بغیر جی رہے تھے۔
    اس سلسلے میں نوح علیہ السلام کا قصہ مختصراً اور موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے چار باتیں ذہن نشین کرنی مطلوب ہیں۔
    اول یہ کہ محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جو معاملہ تم لوگ کر رہے ہو وہ اس سے ملتا جلتا ہے جو نوح اور موسیٰ علیہما السلام کے ساتھ تمہارے پیشرو کرچکے ہیں اور یقین رکھو کہ اس طرز عمل کا جو انجام وہ دیکھ چکے ہیں وہی تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔
    دوم یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو آج جس بے بسی و کمزوری کے حال میں تم دیکھ رہے ہو اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ صورت حال ہمیشہ یہی رہے گی۔ تمہیں خبر نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پشت پر وہی خدا ہے جو موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی پشت پر تھا اور وہ ایسے طریقے سے حالات کی بساط الٹ دیتا ہے جس تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی۔
    سوم یہ کہ سنبھلنے کے لیے جو مہلت خدا تمہیں دے رہا ہے اسے اگر تم نے ضائع کر دیا اور پھر فرعون کی طرح خدا کی پکڑ میں آجانے کے بعد عین آخری لمحے پر توبہ کی تو معاف نہیں کیے جاؤ گے۔
    چہارم یہ کہ جو لوگ محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے تھے وہ مخالف ماحول کی انتہائی شدت اور اس کے مقابلے میں اپنی بیچارگی دیکھ کر مایوس نہ ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ ان حالات میں ان کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔ نیز وہ اس امر پر بھی متنبہ ہوجائیں کہ جب اللہ تعالٰیٰ اپنے فضل سے ان کو اس حالت سے نکال دے تو کہیں وہ اُس روش پر نہ چل پڑیں جو بنی اسرائیل نے مصر سے نجات پاکر اختیار کی۔ آخر میں اعلان کیا گیا ہے یہ عقیدہ اور یہ مسلک ہے جس پر چلنے کی اللہ نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کی ہے۔ اس میں قطعاً کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی، جو اسے قبول کرے گا وہ اپنا بھلا کرے گا اور جو اس کو چھوڑ کر غلط راہوں میں بھٹکے گا وہ اپنا ہی کچھ بگاڑے گا۔

  2. #1442
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    کتاب حکمت والی
    الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ

    الۗرٰ
    : الف لام را تِلْكَ : یہ اٰيٰتُ : آیتیں الْكِتٰبِ : کتاب الْحَكِيْمِ : حکمت والی

    الۤرٰ یہ آیات ہیں کتاب حکمت والی کی۔۱


  3. #1443
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    مشرکین کا ایک شبہ
    اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ

    اَكَانَ
    : کیا ہوا لِلنَّاسِ : لوگوں کو عَجَبًا : تعجب اَنْ : کہ اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی بھیجی اِلٰى : طرف۔ پر رَجُلٍ : ایک آدمی مِّنْھُمْ : ان سے اَنْ : کہ اَنْذِرِ : وہ ڈراتے النَّاسَ : لوگ وَبَشِّرِ : اور خوشخبری دے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے) اَنَّ : کہ لَھُمْ : ان کے لیے قَدَمَ : پایہ صِدْقٍ : سچا عِنْدَ : پاس رَبِّهِمْ : ان کا رب قَالَ : بولے الْكٰفِرُوْنَ : کافر (جمع) اِنَّ : بیشک ھٰذَا : یہ لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ : کھلا جادوگر

    کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرائیے اور ان لوگوں کو بشارت دیجئے جو ایمان لائے ، یہ کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا کہ بیشک یہ کھلا جادوگر ہے۔۲


  4. #1444
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    تخلیق کائنات کے چھ دن
    اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ

    اِنَّ : بیشک رَبَّكُمُ : تمہارا رب اللّٰهُ : اللہ الَّذِيْ : وہ جس نے خَلَقَ : پیدا کیا السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضَ : اور زمین فِيْ : میں سِتَّةِ : چھ اَيَّامٍ : دن ثُمَّ : پھر اسْتَوٰى : قائم ہوا عَلَي الْعَرْشِ : عرش پر يُدَبِّرُ : تدبیر کرتا ہے الْاَمْرَ : کام مَا : نہیں مِنْ : کوئی شَفِيْعٍ : سفارشی اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بعد اِذْنِهٖ : اس کی اجازت ذٰلِكُمُ : وہ ہے اللّٰهُ : اللہ رَبُّكُمْ : تمہارا رب فَاعْبُدُوْهُ : پس اس کی بندگی کرو اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : سو کیا تم دھیان نہیں کرتے

    بےشک تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا پھر قائم ہوا عرش پر، وہ ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں، وہ اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔۳


  5. #1445
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    دوسری زندگی
    اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۭوَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ

    اِلَيْهِ
    : اسی کی طرف مَرْجِعُكُمْ : تمہارا لوٹ کر جانا جَمِيْعًا : سب وَعْدَ : وعدہ اللّٰهِ : اللہ حَقًّا : سچا اِنَّهٗ : بیشک وہی يَبْدَؤُا الْخَلْقَ : پہلی بار پیدا کرتا ہے ثُمَّ : پھر يُعِيْدُهٗ : دوبارہ پیدا کریگا لِيَجْزِيَ : تاکہ جزا دے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اٰمَنُوْا : ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : نیک (جمع) بِالْقِسْطِ : انصاف کے ساتھ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو كَفَرُوْا : کفر کیا لَھُمْ : ان کے لیے شَرَابٌ : پینا ہے (پانی) مِّنْ : سے حَمِيْمٍ : کھولتا ہوا وَّعَذَابٌ : اور عذاب اَلِيْمٌ : دردناک بِمَا : کیونکہ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ : وہ کفر کرتے تھے

    اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو، وعدہ ہے اللہ کا سچا، و ہ پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جو کافر ہوئے ان کو پینا ہے کھولتا پانی اور عذاب ہے دردناک اس لئے کہ کفر کرتے تھے۔۴


  6. #1446
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    اللہ عزوجل کی عظمت وقدرت کے دوعظیم الشان ثبوت
    ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ

    ھُوَ
    : وہ الَّذِيْ : جس نے جَعَلَ : بنایا الشَّمْسَ : سورج ضِيَاۗءً : جگمگاتا وَّالْقَمَرَ : اور چاند نُوْرًا : نور (چمکتا) وَّقَدَّرَهٗ : اور مقرر کردیں اس کی مَنَازِلَ : منزلیں لِتَعْلَمُوْا : تاکہ تم جان لو عَدَدَ : گنتی السِّـنِيْنَ : برس (جمع) وَالْحِسَابَ : اور حساب مَا خَلَقَ : نہیں پیدا کیا اللّٰهُ : اللہ ذٰلِكَ : یہ اِلَّا : مگر بِالْحَقِّ : حق (درست تدبیر) ہے يُفَصِّلُ : وہ کھول کر بیان کرتا ہے الْاٰيٰتِ : نشانیاں لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : علم والوں کے لیے

    وہ (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا کیا سورج کو جگمگاتا، اور چاند کو چمکتا ہوا اور اس نے اس کی منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم لوگ معلوم کرسکو سالوں کی گنتی، اور حساب، اللہ نے یہ سب کچھ نہیں پیدا فرمایا مگر حق کے ساتھ، وہ کھول کر بیان کرتا ہے اپنی نشانیوں کو ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔۵


  7. #1447
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    دن رات کے ادل بدل میں دلائل قدرت وحکمت
    اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَّقُوْنَ

    اِنَّ
    : بیشک فِي : میں اخْتِلَافِ : اختلاف الَّيْلِ : رات وَالنَّهَارِ : اور دن وَمَا : اور دن خَلَقَ اللّٰهُ : اللہ نے پیدا کیا فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَالْاَرْضِ : اور زمین لَاٰيٰتٍ : نشانیاں ہیں لِّقَوْمٍ يَّتَّقُوْنَ : پرہیزگاروں کے لیے

    بیشک رات اور دن کے ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمان اور زمین میں پیدا فرمایا ہے ان میں ان لوگوں کے لئےنشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔۶


  8. #1448
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    نادان و محروم لوگ
    اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا وَالَّذِيْنَ ھُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ

    اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو لَا يَرْجُوْنَ : امید نہیں رکھتے لِقَاۗءَنَا : ہمارا ملنا وَرَضُوْا : اور وہ راضی ہوگئے بِالْحَيٰوةِ : زندگی پر الدُّنْيَا : دنیا وَاطْمَاَنُّوْا : اور وہ مطمئن ہوگئے بِهَا : اس پر وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ ھُمْ : وہ عَنْ : سے اٰيٰتِنَا : ہماری آیات غٰفِلُوْنَ : غافل (جمع)

    بیشک جو لوگ ہمارے پاس آنے کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا والی زندگی پر راضی ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔۷


  9. #1449
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    دوزخ اپنی کمائی کا صلہ وبدلہ
    اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ

    اُولٰۗىِٕكَ
    : یہی لوگ مَاْوٰىھُمُ : ان کا ٹھکانہ النَّارُ : جہنم بِمَا : اس کا بدلہ جو كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : وہ کماتے تھے

    یہی لوگ ہیں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اس کمائی کے بدلے میں جو یہ لوگ کرتے رہے تھے۔۸


  10. #1450
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    خوش انجام خوش نصیب لوگ
    اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ ۚ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ

    اِنَّ
    : بیشک الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : نیک يَهْدِيْهِمْ : انہیں راہ دکھائے گا رَبُّھُمْ : ان کا رب بِاِيْمَانِهِمْ : ان کے ایمان کی بدولت تَجْرِيْ : بہتی ہوں گی مِنْ : سے تَحْتِهِمُ : ان کے نیچے الْاَنْهٰرُ : نہریں فِيْ : میں جَنّٰتِ : باغات النَّعِيْمِ : نعمت

    بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں راہ بتادے گا ' ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی،نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔۹


  11. #1451
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    جنت میں داخل ہونے والوں کی دعا
    دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

    دَعْوٰىھُمْ
    : ان کی دعا فِيْهَا : اس میں سُبْحٰنَكَ : پاک ہے تو اللّٰهُمَّ : اے اللہ وَتَحِيَّتُھُمْ : اور ملاقات کے وقت کی دعا فِيْهَا : اس میں سَلٰمٌ : سلام وَاٰخِرُ : اور خاتمہ دَعْوٰىھُمْ : ان کی دعا اَنِ : کہ الْحَمْدُ : تمام تعریفیں لِلّٰهِ : اللہ کے لیے رَبِّ : رب الْعٰلَمِيْنَ : سارے جہان

    ان کی دعا اس جگہ یہ کہ پاک ذات ہے تیری یا اللہ اور وہاں ان کی آپس کی دعا ہوگی سلامتی ہو، اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا۔۱۰

  12. #1452
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    مہلت
    وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ

    وَلَوْ
    : اور اگر يُعَجِّلُ : جلد بھیجدیتا اللّٰهُ : اللہ لِلنَّاسِ : لوگوں کو الشَّرَّ : برائی اسْتِعْجَالَھُمْ : جلد چاہتے ہیں بِالْخَيْرِ : بھلائی لَقُضِيَ : تو پھر ہوچکی ہوتی اِلَيْهِمْ : ان کی طرف اَجَلُھُمْ : ان کی عمر کی میعاد فَنَذَرُ : پس ہم چھوڑ دیتے ہیں الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو لَا يَرْجُوْنَ : وہ امید نہیں رکھتے لِقَاۗءَنَا : ہماری ملاقات فِيْ : میں طُغْيَانِهِمْ : ان کی سرکشی يَعْمَهُوْنَ : وہ بہکتے ہیں

    اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔۱۱


  13. #1453
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    مصیبت میں فریاد
    وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ

    وَاِذَا
    : اور جب مَسَّ : پہنچتی ہے الْاِنْسَانَ : انسان الضُّرُّ : کوئی تکلیف دَعَانَا : وہ ہمیں پکارتا ہے لِجَنْۢبِهٖٓ : اپنے پہلو پر (لیٹا ہوا) اَوْ : یا (اور) قَاعِدًا : بیٹھا ہوا اَوْ : یا (اور) قَاۗىِٕمًا : کھڑا ہوا فَلَمَّا : پھر جب كَشَفْنَا : ہم دور کردیں عَنْهُ : اس سے ضُرَّهٗ : اس کی تکلیف مَرَّ : چل پڑا كَاَنْ : گویا کہ لَّمْ يَدْعُنَآ : ہمیں پکارا نہ تھا اِلٰى : کسی ضُرٍّ : تکلیف مَّسَّهٗ : اسے پہنچی كَذٰلِكَ : اسی طرح زُيِّنَ : بھلا کردکھایا لِلْمُسْرِفِيْنَ : حد سے بڑھنے والوں کو مَا : جو كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ کرتے تھے (ان کے کام)

    اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے لیٹے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے ' پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں تو وہ اس حال میں گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچ جانے پر پکارا ہی نہ تھا ' اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کیلئے ان کے اعمال مزین کر دئیے گئے ہیں۔۱۲


  14. #1454
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    دنیا میں سزا
    وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ وَجَاۗءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ

    وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا
    : اور ہم نے ہلاک کردیں الْقُرُوْنَ : امتیں مِنْ : سے قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے لَمَّا : جب ظَلَمُوْا : انہوں نے ظلم کیا وَجَاۗءَتْھُمْ : اور ان کے پاس آئے رُسُلُھُمْ : ان کے رسول بِالْبَيِّنٰتِ : کھلی نشانیوں کے ساتھ وَمَا : اور نہ كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا : ایمان لاتے تھے كَذٰلِكَ : اسی طرح نَجْزِي : ہم بدلہ دیتے ہیں الْقَوْمَ : قوم الْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کی

    اور کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں تم سے پہلے، جب کہ انہوں نے ظلم کیا حالانکہ ان کے پاس آچکے تھے ان کے رسول کھلے دلائل لے کر، مگر وہ (اپنے بغض وعناد کی وجہ سے) ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو۔۱۳


  15. #1455
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    2,025
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    يَعْتَذِرُوْنَ ۔ سورت یونس

    دنیاوی زندگی کی مہلت ابتلاء و آزمائش
    ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْن

    ثُمَّ
    : پھر جَعَلْنٰكُمْ : ہم نے بنایا تمہیں خَلٰۗىِٕفَ : جانشین فِي الْاَرْضِ : زمین میں مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لِنَنْظُرَ : تاکہ ہم دیکھیں كَيْفَ : کیسے تَعْمَلُوْنَ : تم کام کرتے ہو

    پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جانشین بنایا ہے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔۱۴


Page 97 of 106 FirstFirst ... 47879596979899 ... LastLast

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •